بڑائی کا اسلامی پیمانہ: نمائش نہیں، تقویٰ
مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اسلام نے انسانی عظمت اور فضیلت کا جو معیار متعین کیا ہے وہ نہایت واضح، عادلانہ اور باطنی ہے۔ قرآنِ مجید نے اعلان فرما دیا: اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات: 13)۔ یعنی اللّٰہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ یہ آیت دراصل تمام معاشرتی، نسلی، طبقاتی اور نمائشی پیمانوں کو باطل قرار دے کر ایک ایسا اصول پیش کرتی ہے جو انسان کو ظاہری چکاچوند سے نکال کر باطن کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اسلام کی نظر میں عظمت کا تعلق نہ تو ہجوم کی کثرت سے ہے، نہ پروٹوکول کی شان و شوکت سے، اور نہ ہی نعروں، پھولوں اور تشہیری استقبال سے۔ یہ سب چیزیں وقتی، فانی اور انسانوں کے بنائے ہوئے پیمانے ہیں، جن کا تعلق زیادہ تر نفسانی تسکین اور سماجی برتری کے احساس سے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تقویٰ ایک ایسی صفت ہے جو دل کی گہرائیوں میں جنم لیتی ہے، اللّٰہ کے حضور جواب دہی کے احساس سے پروان چڑھتی ہے، اور انسان کے کردار، اخلاق اور رویّوں میں ظاہر ہوتی ہے۔
تقویٰ کا مفہوم محض چند ظاہری عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔ یہ انسان کو غرور سے بچاتا ہے، عاجزی سکھاتا ہے، اور یہ شعور دیتا ہے کہ اصل مقام لوگوں کے دلوں میں نہیں بلکہ اللّٰہ کی رضا میں ہے۔ جو شخص اپنی مقبولیت، اپنے استقبال، یا اپنی ظاہری تعظیم کو اپنی فضیلت کا معیار سمجھنے لگے، وہ دراصل اس باریک مگر خطرناک نفسیاتی لغزش کا شکار ہو جاتا ہے جسے قرآن و سنّت نے بارہا تنبیہ کا موضوع بنایا ہے۔
نبی کریمﷺ کی سیرت اس باب میں روشن ترین مثال ہے۔ آپﷺ اللّٰہ کے محبوب ترین بندے تھے، مگر آپ نے کبھی اپنے لیے خاص پروٹوکول، تعظیمی قیام یا نمائشی استقبال کو پسند نہیں فرمایا۔ صحابہؓ کو آپﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ وہ آپ کے لیے کھڑے ہوں، تاکہ دلوں میں بڑائی اور تفاخر کا بیج نہ پڑے۔ یہ اس بات کا عملی اعلان تھا کہ عظمت جتائی نہیں جاتی، بلکہ تقویٰ کے ذریعے عطاء ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نمائشی استقبال اکثر اوقات انسان کو خود احتسابی سے غافل کر دیتا ہے۔ جب داد و تحسین معیار بن جائے تو اصلاحِ نفس پس منظر میں چلی جاتی ہے، اور انسان لاشعوری طور پر اپنے مقام کو "اللّٰہ کے ہاں” نہیں بلکہ "لوگوں کے درمیان” ناپنے لگتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں قرآنی معیار اور معاشرتی معیار میں واضح تصادم پیدا ہوتا ہے۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر کسی انسان کے عمل میں اخلاص ہو، اس کا دل اللّٰہ کے خوف سے زندہ ہو، اور اس کی زندگی عدل، دیانت اور خیر خواہی سے مزین ہو، تو وہ اللّٰہ کے نزدیک معزز ہے، چاہے دنیا اسے پہچانے یا نہ پہچانے۔ اور جو شخص لوگوں کی نگاہوں میں بڑا بننے کو ہی اصل کامیابی سمجھ لے، وہ بسا اوقات اللّٰہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاتا ہے، اگر اس کے اندر تقویٰ کا جوہر موجود نہ ہو۔ پس اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے استقبال کیسے ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اللّٰہ کے حضور کس حال میں حاضر ہوں گے۔ یہی وہ فکری انقلاب ہے جو قرآن انسان کے دل میں برپا کرنا چاہتا ہے: نمائش سے نجات، اور تقویٰ کی طرف واپسی۔ نبی کریمﷺ کا طرزِ عمل اپنی ذات میں ایک مکمل فکری و اخلاقی دستور ہے، جس کا مرکزی وصف سادگی، انکسار اور نفس کی نفی ہے۔ آپﷺ وہ ہستی تھے جن سے بڑھ کر کوئی محبوب، کوئی معزز اور کوئی مکرم نہیں، مگر اس کے باوجود آپﷺ نے کبھی اپنی ذات کے گرد تعظیم و تکریم کا مصنوعی حصار قائم نہیں ہونے دیا۔
تاریخِ انسانیت میں شاید ہی کوئی مثال ملے کہ جس شخصیت کے ماننے والے جان و مال قربان کرنے کو تیار ہوں، مگر وہی شخصیت اس محبت کے ظاہری مظاہر سے خود کو الگ رکھے۔ رسول اللّٰہﷺ کے لیے نہ قطاریں لگتی تھیں، نہ راستے بند کیے جاتے تھے، نہ آمد سے پہلے اعلانِ عام ہوتا تھا کہ "نبی آ رہے ہیں، تیاری کرو”۔ آپﷺ عام لوگوں کی طرح چلتے، بیٹھتے اور ملتے تھے، یہاں تک کہ اجنبی شخص مسجد میں آ کر پوچھ لیتا: تم میں محمدﷺ کون ہیں؟ یہ سوال خود اس بات کا اعلان تھا کہ آپﷺ نے اپنی ظاہری شناخت کو کبھی امتیاز کا ذریعہ نہیں بنایا۔ اسی مزاج کی عملی ترجمانی اس حدیث میں نظر آتی ہے جس میں آپﷺ نے واضح طور پر فرمایا: لا تقوموا لي كما تقوم الأعاجم يعظم بعضهم بعضاً۔ (ابو داؤد) یعنی میرے لیے اس طرح کھڑے نہ ہوا کرو جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ محض ایک نشست یا قیام کا حکم نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اور فکری اصول ہے۔ اس میں اس رویّے کی نفی ہے جس میں انسان اپنی ذات کو مرکز بنا کر دوسروں سے ظاہری تعظیم کا مطالبہ کرے، اور اپنے مقام کو رسمی آداب اور نمائشی حرکات سے بلند ثابت کرنے کی کوشش کرے۔
نبیﷺ نے اس رویّے کو اس لیے ناپسند فرمایا کہ یہ آہستہ آہستہ دل میں کبر، تفاخر اور طبقاتی فاصلے پیدا کرتا ہے۔ جب کسی کے لیے کھڑے ہونا، مخصوص نشستیں، ہار، بینر اور پروٹوکول لازم قرار پا جائیں، تو اصل پیغام پس منظر میں چلا جاتا ہے اور شخصیت مرکزِ توجہ بن جاتی ہے۔ رسول اللّٰہﷺ کی بعثت کا مقصد اس کے برعکس تھا: پیغام کو نمایاں کرنا، شخصیت کو نہیں۔ آج کا "اسٹیج، ہار، بینر اور فوٹو سیشن” کلچر دراصل اسی ذہنیت کی جدید صورت ہے جس سے نبیﷺ نے امت کو دور رکھنے کی کوشش فرمائی۔ جب دعوت، علم یا دین کے نام پر آنے والا شخص اپنی آمد کو ایک تقریب، ایک شو اور ایک ایونٹ میں بدل دے، تو یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ مرکز حق ہے یا ذات؟ اصلاح مقصود ہے یا تاثر؟
نبیﷺ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ داعی کا وقار اس کے پروٹوکول سے نہیں بلکہ اس کے اخلاص سے پہچانا جاتا ہے۔ آپﷺ کا احترام صحابہؓ کے دلوں میں تھا، نہ کہ رسمی قیام و قعود میں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آپﷺ کے ایک اشارے پر جان قربان کر دیتے تھے، مگر آپﷺ نے کبھی اس محبت کو اپنی عظمت کا مظاہرہ بنانے نہیں دیا۔ درحقیقت، جو شخص واقعی اپنے مقصد میں سچا ہوتا ہے، وہ اپنی ذات کو پسِ منظر میں رکھتا ہے اور پیغام کو آگے بڑھاتا ہے۔ نبیﷺ کی سادگی ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ عظمت جتائی نہیں جاتی، عظمت خود جھلک جاتی ہے۔ اور جو عظمت تقویٰ، تواضع اور اخلاص سے پیدا ہو، وہ نہ اسٹیج کی محتاج ہوتی ہے اور نہ بینر کی۔
اسلام نے انسانی نفس کے سب سے نازک اور خطرناک مرض خودنمائی اور تعظیمِ نفس پر نہایت سخت اور دوٹوک تنبیہات کی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ رویہ بظاہر آداب اور احترام کے لبادے میں ہوتا ہے، مگر باطن میں کبر، خودپسندی اور روحانی زوال کو جنم دیتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے ایک جامع اصول بیان فرمایا: مَن تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (ابو داؤد)۔ یعنی جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے، وہ انہی میں سے ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث محض لباس یا ظاہری وضع قطع تک محدود نہیں، بلکہ سوچ، مزاج اور اقدار کی مشابہت کو بھی اپنے دائرے میں لیتی ہے۔ جب کوئی مسلمان ایسی تہذیبی روایات اپناتا ہے جن کی بنیاد خود کو بڑا دکھانے، دوسروں سے ممتاز کرنے اور رسمی تعظیم کے مطالبے پر ہو، تو وہ غیر شعوری طور پر اسی فکری دھارے میں بہہ رہا ہوتا ہے جسے اسلام نے رد کیا ہے۔ اسی خطرے کو مزید واضح کرتے ہوئے نبیﷺ نے نہایت سخت وعید ارشاد فرمائی: "جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے” (ترمذی)۔
یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ وعید مطالبہ کرنے پر نہیں، بلکہ پسند کرنے پر ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص زبان سے کچھ نہ کہے، اشارہ بھی نہ دے، مگر دل کے اندر یہ خواہش رکھے کہ لوگ اس کے لیے قیام کریں، اس کے احترام میں کھڑے ہوں، یا اس کی آمد کو ایک امتیازی موقع سمجھیں تو یہی باطنی کیفیت اسے اس سخت تنبیہ کے دائرے میں لے آتی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام محض ظاہری اعمال کو نہیں، بلکہ دل کے رجحانات کو بھی میزانِ عدل میں تولتا ہے۔ خود کو بڑا سمجھنا یا بڑا مانا جانا پسند کرنا دراصل اس حقیقت کو فراموش کرنا ہے کہ اصل بڑائی صرف اللّٰہ کے لیے ہے۔ بندہ جتنا زیادہ اپنی ذات کے گرد تعظیم کا حصار قائم کرتا ہے، اتنا ہی وہ عبدیت کی روح سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
اسلامی فکر میں عظمت ایک امانت ہے، مطالبہ نہیں۔ جو شخص واقعی اللّٰہ کے نزدیک بلند ہوتا ہے، وہ لوگوں کے سامنے جھکنے سے زیادہ اللّٰہ کے سامنے جھکنے میں لذت پاتا ہے۔ اسی لیے سلف صالحین اس بات سے خوف کھاتے تھے کہ کہیں دل میں خودپسندی کا شائبہ بھی نہ آ جائے۔ بعض اکابر تو اس بات پر رنجیدہ ہو جاتے تھے کہ لوگ ان کے لیے راستہ چھوڑ دیں یا غیر معمولی ادب کا مظاہرہ کریں، کیونکہ وہ اسے اپنے نفس کے لیے آزمائش سمجھتے تھے، اعزاز نہیں۔ آج کے دور میں مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص دین، علم یا خدمت کے حوالے سے معروف ہو جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس شہرت کو کیسے قبول کرتا ہے۔ اگر شہرت کے ساتھ انکسار بڑھے، تو یہ نعمت ہے؛ اور اگر تعظیم کی طلب پیدا ہو جائے، تو یہی نعمت نقمت میں بدل جاتی ہے۔
نبیﷺ کی ان وعیدوں کا مقصد انسان کو ذلیل کرنا نہیں، بلکہ اسے باطنی بیماری سے بچانا ہے۔ کیونکہ خودنمائی کا انجام صرف اخلاقی نہیں، بلکہ روحانی تباہی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بڑے بننے کے بجائے چھوٹا بننے کو نجات کا راستہ قرار دیا، اور یہ یاد دہانی کروائی کہ جو اللّٰہ کے لیے جھکتا ہے، اللّٰہ اسے بلند کر دیتا ہے اور جو خود کو بلند سمجھتا ہے، وہ خود ہی گر جاتا ہے۔ یہی پیغام ہے، یہی میزان، اور یہی وہ فکری روشنی ہے جو انسان کو خودنمائی کے اندھیروں سے نکال کر اخلاص کے نور تک پہنچاتی ہے۔
اسلافِ امت کا مزاج اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ ہے: خوفِ آخرت، انکسارِ نفس اور دنیا سے بے نیازی۔ یہ وہ داخلی کیفیت تھی جس نے ان کے کردار کو عظمت بخشی، اور یہی وہ جوہر تھا جس نے انہیں اقتدار، علم اور مقبولیت کے باوجود لرزا دینے والی جوابدہی کا احساس عطاء کیا۔ حضرت عمر بن خطابؓ جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں کانپتی تھیں ایسے خلیفہ تھے جو نہ محافظوں کے حصار میں نظر آتے، نہ اعلانِ آمد کے محتاج تھے، نہ لباس میں کوئی امتیاز، اور نہ ہی طرزِ نشست میں کوئی شاہانہ رنگ۔ وہ عام کپڑوں میں، عام لوگوں کے درمیان، بازاروں اور گلیوں میں گھل مل کر چلتے تھے، تاکہ اقتدار ان کے اور عوام کے درمیان کوئی دیوار نہ بن سکے۔ ان کے نزدیک منصب اقتدار نہیں تھا، بلکہ امانت تھا، ایسی امانت جس کا حساب اللّٰہ کے سامنے دینا تھا۔ ان کا مشہور قول: "اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھے ڈر ہے کہ عمر سے سوال ہوگا”۔
یہ محض ایک جذباتی جملہ نہیں، بلکہ حکمرانی کے اسلامی تصور کا نچوڑ ہے۔ اس ایک فقرے میں اقتدار کی پوری فلسفیانہ بنیاد سمٹ آئی ہے: طاقت نہیں، ذمّہ داری؛ اعزاز نہیں، محاسبہ؛ استحقاق نہیں، خوفِ جوابدہی۔ حضرت عمرؓ اپنے دور کے ہر مظلوم، ہر محروم، حتیٰ کہ ایک بے زبان جانور کو بھی اپنی ذمّہ داری سمجھتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک خلافت اللّٰہ کے سامنے بندگی کا ایک سخت امتحان تھی۔ یہی خوف انہیں راتوں کو بستر سے اٹھا کر گلیوں میں لے آتا تھا، کبھی ایک عام فرد کی طرح اناج اٹھائے، کبھی ایک بے سہارا خاندان کی خبر لیتے ہوئے۔ انہیں یہ خوف لاحق نہ تھا کہ لوگ پہچان لیں گے، بلکہ یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی حق ادا ہونے سے رہ نہ جائے۔ یہی وہ انکسار تھا جس نے انہیں واقعی بڑا بنا دیا بغیر کسی اعلان، بغیر کسی استقبال، بغیر کسی تعریفی بینر کے۔
اسلاف کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ وہ لوگوں کی نظروں میں بلند ہونے سے زیادہ اللّٰہ کی نگاہ میں سرخرو ہونے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں تھا کہ لوگ ان کی قدر نہ کریں، بلکہ یہ تھا کہ کہیں اللّٰہ کے ہاں ان کا وزن کم نہ ہو جائے۔ اسی لیے وہ تعظیم سے گھبراتے، شہرت سے بچتے، اور نفس کی تعریف کو زہر سمجھتے تھے۔ اور آج کا منظرنامہ اس کے برعکس ایک تلخ سوال بن کر کھڑا ہے: کہاں وہ جوابدہی کا خوف جس میں ایک کتے کی بھوک بھی لرزا دیتی تھی، اور کہاں یہ کیفیت کہ انسان اپنی آمد پر استقبال نہ ہو تو خود کو محروم سمجھنے لگے؟ کہاں وہ اقتدار جو بوجھ تھا، اور کہاں یہ مقام جو اعزاز سمجھا جاتا ہے؟ اسلاف ہمیں یہ سبق دے گئے کہ جتنا بڑا منصب، اتنا ہی زیادہ جھکنا چاہیے۔ جو شخص اپنے مقام پر مطمئن ہو کر عاجزی اختیار کر لے، وہی دراصل تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔ اور جو استقبال، پروٹوکول اور تعظیمِ نفس میں کھو جائے، وہ وقتی شور تو پیدا کر لیتا ہے، مگر دائمی وزن کھو دیتا ہے۔ یہی اسلاف کا مزاج تھا: خوف جو بیدار رکھتا تھا، انکسار جو سنوارتا تھا، اور بے نیازی جو انہیں واقعی آزاد بنا دیتی تھی۔
یہ پہلو بلاشبہ سب سے زیادہ نازک، فکری طور پر خطرناک اور روحانی اعتبار سے تشویشناک ہے۔ اس لیے کہ یہاں معاملہ محض کسی فرد کی ذات یا اس کے ذوقِ تعظیم کا نہیں رہتا، بلکہ علم اور خدمت جیسے مقدس تصورات کو استعمال کر کے اپنی بڑائی کی نمائش کا بن جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں خرابی گہری اور دیرپا ہو جاتی ہے۔ علم کا مقصد ہمیشہ سے عاجزی پیدا کرنا رہا ہے۔ قرآن نے واضح کیا کہ علم انسان کو غرور نہیں بلکہ خشیت عطاء کرتا ہے: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ۔ یعنی علم کا حقیقی ثمر یہ ہے کہ دل میں اللّٰہ کا خوف بڑھ جائے۔ اسی طرح خدمت کا مفہوم خودسپردگی، بے لوثی اور ایثار تھا، اپنے آپ کو پیچھے رکھ کر دوسروں کو آگے لانا۔ مگر جب طلبہ اور خدام کو قطاروں میں کھڑا کر کے، ترتیب دے کر، ہدایات جاری کر کے کسی شخصیت کے استقبال یا تشخص کی نمائش کا ذریعہ بنایا جائے، تو یہ دونوں قدریں الٹ جاتی ہیں۔
یہاں طالبِ علم سیکھنے والا نہیں رہتا، بلکہ ایک علامتی وسیلہ بن جاتا ہے؛ اور خادم، خلوص کی علامت نہیں بلکہ پروٹوکول کا پرزہ۔ اس عمل میں سب سے پہلا زخم اخلاص پر لگتا ہے، کیونکہ عمل کا رخ اللّٰہ سے ہٹ کر لوگوں کی نگاہوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جو ہاتھ علم کے احترام میں اٹھنے تھے، وہ اب شخصیت کے جلال کو بڑھانے کے لیے استعمال ہونے لگتے ہیں۔ یوں علم، جو نور تھا، آہستہ آہستہ اقتدار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک اور خطرناک تبدیلی کو جنم دیتا ہے: دعوت، تعلیم اور خدمت کا دائرہ مرکزیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصل مقصد یعنی حق کی ترسیل پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور مرکز میں وہ ذات آ جاتی ہے جس کے گرد قطاریں بن رہی ہیں۔ دین جو دلوں کو جوڑنے آیا تھا، وہ اسٹیج، نظم و ضبط، سیکیورٹی لائن اور فوٹو فریم میں قید ہو جاتا ہے۔ یوں پیغام "سنو” کے بجائے پیغام بن جاتا ہے: "دیکھو!” اس عمل کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سے نئی نسل کی تربیت ہوتی ہے لیکن کس مزاج پر؟ طالبِ علم یہ سیکھتا ہے کہ بڑائی علم سے نہیں، بلکہ تعظیم کے مناظر سے ثابت ہوتی ہے۔
خادم یہ سمجھنے لگتا ہے کہ خدمت کا مقصد سہولت دینا نہیں، بلکہ شخصیت کو نمایاں کرنا ہے۔ اور آہستہ آہستہ ایک ایسا دینی کلچر جنم لیتا ہے جس میں سادگی کمزوری، اور انکسار غیر مؤثر سمجھا جانے لگتا ہے۔ حالانکہ اسلاف کا طریقہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ استاد شاگردوں کے درمیان گھل کر بیٹھتا تھا، خادم خدمت میں گم رہتا تھا، اور کسی کو یہ احساس دلانا مقصد ہی نہ تھا کہ یہاں کون بڑا ہے۔ بڑائی کا انداز یہ تھا کہ نظر نہ آئے، اور اثر یہ تھا کہ دلوں میں اتر جائے۔ جب طلبہ اور خدام کو اپنی عظمت کی نمائش کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ صرف ایک انتظامی غلطی نہیں رہتی، بلکہ اخلاقی انحراف بن جاتی ہے۔ یہ علم کو روحانیت سے کاٹ دیتی ہے، خدمت کو روح سے خالی کر دیتی ہے، اور دین کو نعوذ باللّٰہ ایک منظم مگر بے جان مظاہرہ بنا دیتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ قطار کتنی منظم ہے، اصل سوال یہ ہے کہ نیت کس کے لیے کھڑی ہے؟ اگر قطار اللّٰہ کے لیے ہو تو خاموشی بھی عبادت ہے، اور اگر قطار ذات کے لیے ہو تو نظم بھی فتنہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جسے پہچاننا اہلِ علم، اہلِ دعوت اور اہلِ خدمت سب پر لازم ہے کیونکہ دین کی اصل قوت نمائش میں نہیں، اخلاص میں ہے۔
اسلامی فکر کا ایک بنیادی اور فیصلہ کن اصول یہ ہے کہ بڑائی کا سرچشمہ تقویٰ ہے، نہ کہ استقبال، پروٹوکول یا ظاہری تعظیم۔ قرآن نے انسان کی قدر و قیمت کا معیار دل کی کیفیت اور کردار کی پاکیزگی کو قرار دیا، نہ کہ لوگوں کے ہجوم اور نعروں کی گونج کو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ابتدا ہی سے انسان کو ظاہری تفاخر سے نکال کر باطنی اصلاح کی طرف متوجہ کیا۔ نبی کریمﷺ اور آپؓ کے تربیت یافتہ اسلاف نے اسی اصول کو اپنی زندگیوں میں عملی صورت دی۔ سادگی ان کا شعار تھی، اور انکسار ان کی پہچان۔ وہ جانتے تھے کہ جس دن انسان نے اپنی ذات کے گرد تعظیم کا حصار کھڑا کر لیا، اسی دن اس کی روحانی قوت کمزور ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے رسول اللّٰہﷺ نے رسمی تعظیم، قیام، اور نمایشی احترام سے گریز فرمایا، اور اسلافِ امت نے اقتدار، علم اور قیادت کے باوجود خود کو عام انسانوں سے ممتاز کرنے سے بچایا۔ ان کے نزدیک اصل اندیشہ یہ نہ تھا کہ لوگ کم احترام کریں گے، بلکہ یہ تھا کہ کہیں اللّٰہ کے ہاں ان کا وزن کم نہ ہو جائے۔
خود کو بڑا بنوانا چاہے وہ علم کے نام پر ہو، دعوت کے عنوان سے ہو یا قیادت کے پردے میں اسلامی مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ یہ رویہ بظاہر نظم و احترام کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ روحانی زوال کی علامت ہوتا ہے۔ کیونکہ جس لمحے انسان تعظیم کا طلبگار بنتا ہے، اسی لمحے اس کا رشتہ اخلاص سے کمزور پڑ جاتا ہے۔ تواضع کے بجائے مرکزیت جنم لیتی ہے، اور خدمت کے بجائے حیثیت نمایاں ہونے لگتی ہے۔ آج اگر یہ کلچر بغیر سوال اور احتساب کے جاری رہا تو اس کے اثرات محض ظاہری نہیں ہوں گے بلکہ نہایت گہرے ہوں گے۔ دعوت اپنا اثر کھو دے گی، کیونکہ داعی کا وقار پیغام سے زیادہ شخصیت کے گرد گھومنے لگے گا۔ قیادت خدمت کے بجائے اقتدار کی صورت اختیار کر لے گی، جہاں فیصلے اخلاص نہیں بلکہ تاثر کو دیکھ کر ہوں گے۔ اور علم جو دلوں کو جھکانے آیا تھا برتری اور امتیاز کا ذریعہ بن جائے گا، جس سے خشیت کی جگہ غرور پیدا ہوگا۔
اسلام جس قیادت کو جنم دیتا ہے وہ سامنے نہیں، ساتھ چلتی ہے؛ جس دعوت کو فروغ دیتا ہے وہ شور نہیں، اثر رکھتی ہے؛ اور جس علم کو معتبر مانتا ہے وہ تعظیم نہیں، تزکیہ پیدا کرتا ہے۔ اگر ان تینوں شعبوں میں سادگی اور تقویٰ کی جگہ نمائش نے لے لی، تو دین کا پیغام باقی تو رہے گا، مگر اس کی روح کمزور ہو جائے گی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآنی معیار کی طرف لوٹیں، نبوی مزاج کو پھر سے زندہ کریں، اور اسلاف کی طرح خود سے زیادہ اللّٰہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف پالیں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے: جو لوگ تقویٰ کے ساتھ جھکے، وہ خود بخود بلند ہو گئے؛ اور جو استقبال کے سہارے بلند ہونا چاہیں، وہ آخرکار خالی ہاتھ رہ گئے۔ یہی فکری توازن، یہی روحانی بصیرت، اور یہی اسلامی عظمت کا اصل راستہ ہے۔
Comments are closed.