مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کے لیئے سپریم کورٹ تیار، اڑیسہ سرکار کو نوٹس جاری، جمعیۃ علمامہاراشٹر(ارشد مدنی) کی قانونی پیروی
نئی دہلی6؍ فروری(پریس ریلیز)
گذشتہ دس سالوں سے زائد عرصے سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے دارالعلوم دیوبند کے فارغ مولانا عبدالرحمن (کٹکی) کی ضمانت عرضداشت پر گذشتہ کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی ،جس کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے عرض گذار کی ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہو ئے اڑیسہ حکومت کو نوٹس جاری کیا، دو رکنی بینچ نے اڑیسہ حکومت کو حکم دیا کہ وہ چار ہفتوں کے اندر ملزم کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر اپنا اعتراض داخل کرے۔
جمعیۃ علما مہاراشٹر(ارشد مدنی) قا نونی امدادکمیٹی کی جانب سے ملزم کے دفاع میں سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ ملزم گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جیل میں مقید ہے ، ملز م پر جس نوعیت کےالزاما ت عائد کیئے گئے ہیں اس کا عدالت میں ثابت ہوپانا مشکل ہے ،اس کے باوجود ملزم کو جیل میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے ، کٹک سیشن عدالت میں ملزم کے مقدمہ کی سماعت انتہائی سست رفتاری سے چل رہی ہے، مہینوں عدالت میں کوئی گواہ حاضر نہیں ہوتا ہے ۔ سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کے خلاف تین مقدمات قائم کیئے گئے تھے جس میں سے اسے ایک میں سزا اور ایک مقدمہ سے وہ بری ہوچکا ہے نیز جس مقدمہ میں سزا ہوئی تھی اس کی سزا بھی وہ پوری کرچکا ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس دیوملائی باگچی نے استغاثہ کو نوٹس جاری کیا اور مقدمہ کی سماعت 12؍ مارچ کو کیئے جانے کا حکم دیا۔ دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کی معاونت ایڈوکیٹ صارم نوید اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے کی۔
واضح رہے کہ ملزم مولانا عبدالرحمن کٹکی کو 17؍ دسمبر 2015 کو گرفتار کیا گیا تھا جب سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے اور اس درمیان دہلی اور جمشید پورمیں قائم مقدمات کا فیصلہ ہوا۔ ملزم عبدالرحمن کو قومی تفتیشی ایجنسی نے اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گائوں سے گرفتار کیا تھا اور اسے بذریعہ طیارہ دہلی لایا گیا تھا ۔ ملزم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ہندوستان میں القاعدہ کےلیئے کام کرنے کے لیئے نوجوان لڑکوں کی ذہن سازی کررہا تھا اور انہیں ملک سے باہر دہشت گردانہ ٹریننگ حاصل کرنے کے لیئے بھیجنے کا کام کر رہا تھا ۔ملزم پر یہ بھی الزام عائد کیاگیا ہے کہ اس نے جذبانی اور جہادی تقاریر بھی کی تھی۔دہلی مقدمہ میں ملزم عبدالرحمن کٹکی کو ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی تھی جسے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، دہلی ہائی کورٹ نے خصوصی این آئی اے عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل داخل کی گئی ہے جو زیر سماعت ہے۔ملزم عبدالرحمن کٹکی کی اگر سپریم کورٹ آف انڈیا ضمانت منظور کرلیتی ہے تو ان کی جیل سے رہائی ممکن ہوپائے گی کیونکہ ان کے خلاف قائم دیگر مقدمات کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
Comments are closed.