کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان: ڈگریوں کا بوجھ، بےروزگاری کی زنجیر اور ادھورے خواب

 

 

ندیم خان / بارہمولہ کشمیر

رابطہ / 9596571542

 

کشمیر آج ایک ایسے المیے سے گزر رہا ہے جس پر جتنا کم بات کی جائے، اتنا ہی یہ ناسور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں لاکھوں لڑکے اور لڑکیاں برسوں کی محنت کے بعد بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں کوئی پی ایچ ڈی، کوئی ایم اے، کوئی ایم فل اور کوئی ایم کام مگر انجام کار بےروزگاری کے اس دلدل میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ تعلیم جو کبھی باعزت روزگار اور بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، آج محض فائلوں اور اسناد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔سرینگر کے مصروف بس اسٹینڈ پر روزانہ ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔ شور، دھواں، گاڑیوں کی آوازیں اور روزگار کی تگ ودو یہ سب کچھ عام سا منظر ہے۔ مگر اسی ہجوم میں ایک ایسا منظر بھی ہے جو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

ایسی ہی ایک کہانی حجاب پوش لڑکی، جو مومو، بریانی اور آملیٹ بیچتی ہے، مگر اس کے خواب یہاں ختم نہیں ہوتے۔ وہ اسی بس اسٹینڈ پر رزقِ حلال کما کر UPSC سول سروسز جیسے مشکل ترین امتحان کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ یہ لڑکی سرینگر کی رہنے والی ہے، شادی شدہ ہے اور دو بچوں کی ماں بھی۔ غربت، سماجی دباؤ، گھریلو ذمہ داریاں اور حالات کی سختیاں یہ سب اس کے راستے کی دیواریں تھیں، مگر اس نے ہار ماننے کے بجائے ان دیواروں کو سیڑھیاں بنا لیا۔ اس لڑکی کا کہنا ہے کہ اسے بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتی تھی، مگر گھر کی مالی حالت کمزور تھی۔ اس کے باوجود اس نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کوشش کی۔ مگر ہمارے سماج کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ غربت میں لڑکیوں کے خواب اکثر قربان کر دیے جاتے ہیں۔ کم عمری میں اس کی شادی کر دی گئی۔ شادی کے بعد زندگی آسان ہونے کے بجائے مزید مشکل ہو گئی۔ نئی ذمہ داریاں، مالی پریشانیاں اور ماں بننے کا سفر یہ سب ایک ساتھ اس پر آ گرا۔ وہ خود اعتراف کرتی ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ شدید ذہنی دباؤ اور ٹروما کا شکار ہو گئی۔ مگر اسی لمحے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ حالات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔ روزگار کی تلاش میں اس نے وہ راستہ چنا جسے ہمارے معاشرے میں اکثر حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس نے سرینگر بس اسٹینڈ پر کھانے پینے کا چھوٹا سا اسٹال لگایا۔ مومو، بریانی اور آملیٹ سادہ مگر محنت کی کمائی۔ یہ کام اس کے لیے آسان نہیں تھا۔ وہ بتاتی ہے کہ کئی بار جب وہ مدد مانگنے نکلتی تو لوگ ہمدردی کے بجائے وحشی نظروں سے دیکھتے۔ ان لمحات نے اسے توڑنے کے بجائے مضبوط کیا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گی۔ حجاب اس کے لیے صرف لباس نہیں بلکہ خودداری اور تحفظ کی علامت ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اس نے ہمیشہ حجاب کا انتخاب کیا اور اللہ پر توکل رکھا۔ یہی توکل اسے ہر دن نئے حوصلے کے ساتھ کام پر لے آتا ہے۔ دن بھر محنت کرنے کے بعد جب اکثر لوگ تھکن سے نڈھال ہو جاتے ہیں، وہ لڑکی کتابیں کھولتی ہے۔ UPSC سول سروسز کی تیاری جو بڑے بڑے کوچنگ سینٹرز اور مالی وسائل مانگتی ہے وہ اسے اپنی محدود آمدنی میں ممکن بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ محض امتحان کی تیاری نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے کہ علم کسی عمر، کسی حالت یا کسی مجبوری کا محتاج نہیں۔ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتی ہے اور خود بھی معاشرے میں باوقار آج کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لے کر نوکری نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض تو زندگی سے ہی بیزار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں سرینگر کی یہ لڑکی ایک خاموش مگر طاقتور سوال بن کر کھڑی ہے کیا محنت صرف سفید کالر نوکری تک محدود ہے؟ کیا خودداری صرف دفتر کی کرسی پر بیٹھنے سے آتی ہے؟ یہ لڑکی بتاتی ہے کہ عزت رزقِ حلال میں ہے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ “یہاں کوئی کسی کا نہیں” تلخ مگر سچ اس کا ایک جملہ دل کو چھو جاتا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ “مجھے سمجھ آ گیا کہ یہاں کوئی کسی کا نہیں۔ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاؤ، صرف محنت اور اللہ پر بھروسہ کرو۔” یہ الفاظ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے سماج کا آئینہ ہیں۔ جہاں کمزور کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، مگر محنت کرنے والے کو آخرکار راستہ مل ہی جاتا ہے۔ مکمل حجاب، آنکھوں میں بڑے خواب اور دل میں اٹل عزم بٹ مالو کی سڑکوں پر مومو اور آملیٹ بیچ کر زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اعلٰی تعلیم صرف مکمل کرنے کے بعد اب یو پی ایس سی کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے، مگر حالات نے اسے محنت کی کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ خصوصاً ہماری مسلم کمیونٹی کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے بااثر افراد، ہمارے تعلیمی و فلاحی ادارے اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں آخر کہاں ہیں؟ کیا یہ قبول کر لیا جائے کہ ہماری ہونہار، تعلیم یافتہ بیٹیاں سڑکوں پر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوں اور ہم محض تماشائی بنے رہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ آج کا دور اس قدر مشکل اور خود غرض ہو چکا ہے کہ بیشتر لوگ صرف اپنے مفادات تک محدود ہو کر اجتماعی درد سے بے حس، بلکہ منافقانہ رویے اختیار کر چکے ہیں۔کشمیر میں یہ کہانی کوئی واحد مثال نہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو وادی کے طول و عرض میں ایسی ہزاروں کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ سڑکوں کے کنارے، چوراہوں اور بس اسٹینڈز پر ریڑیوں پر کھڑے وہ لڑکے اور لڑکیاں نظر آتے ہیں جو پڑھے لکھے ہیں، ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں، مگر حالات نے انہیں مومو، بریانی، روٹی، آملیٹ اور چائے بیچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ منظر محض غربت کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، روزگار کی پالیسیوں اور معاشی ناہمواریوں پر ایک خاموش سوال بھی ہے۔ یہ نوجوان ہارے ہوئے نہیں، بلکہ حالات سے نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے بے روزگاری کے اندھیرے میں بھی محنت کا چراغ جلائے رکھا ہے۔ اگرچہ ان میں سے اکثر نے اعلیٰ تعلیم اس امید کے ساتھ حاصل کی تھی کہ انہیں باعزت نوکری ملے گی، مگر جب برسوں کی کوششوں کے باوجود دروازے بند نظر آئے تو انہوں نے خودداری کے ساتھ روزی کمانے کا راستہ چنا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کشمیر کی سڑکیں صرف آمدورفت کے راستے نہیں رہیں بلکہ جدوجہد، صبر اور حوصلے کی گواہ بن چکی ہیں۔ یہ منظر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کیا ہمارا نظام نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دے رہا ہے یا ان کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے؟ اور کیا ہم محنت کو اس کے حقیقی معنوں میں عزت دے پا رہے ہیں؟ کشمیر کے یہ نوجوان ہمیں سکھاتے ہیں کہ کام کوئی بھی ہو، اگر وہ محنت اور خودداری سے کیا جائے تو قابلِ فخر ہے۔ سری نگر کی اس تعلیم یافتہ بیٹی کا بٹ مالو کی سڑک پر ریڈی لگانا محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہ لڑکیاں ہیں جن کے ہاتھ میں قلم ہونا چاہیے تھا، فائلیں اور کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، مگر حالات نے انہیں سڑک کے کنارے کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور ہم اجتماعی طور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

حکومتِ وقت، خاص طور پر عمر سرکار، نے الیکشن سے پہلے لاکھوں نوکریاں دینے کے جو وعدے کیے تھے، وہ وعدے آج بھی تقاریر اور منشور کی حد تک محدود نظر آتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ نہ سرکاری نوکریاں دستیاب ہیں اور نہ ہی نجی شعبے میں ایسے مواقع پیدا کیے گئے ہیں جو تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کر سکیں۔ حکومت کے کانوں تک جیسے جوں تک نہیں رینگتی، جبکہ ایک پوری نسل مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ آج کشمیر کا نوجوان پڑھ لکھ کر بھی مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ سوال یہ نہیں کہ محنت کرنا برا ہے محنت ہر حال میں قابلِ احترام ہے سوال یہ ہے کہ کیا برسوں کی تعلیم، وسائل اور خوابوں کا یہی انجام ہونا چاہیے؟ کیا ایک ایم فل یا پی ایچ ڈی ہولڈر کا مقدر یہی رہ گیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے ہٹ کر محض پیٹ پالنے کی جنگ لڑتا رہے؟ یہ صورتحال صرف حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے سماج، اداروں اور بااثر طبقے کی اجتماعی ناکامی بھی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے، فلاحی تنظیمیں اور صاحبِ حیثیت افراد کہاں ہیں؟ کیا ان کی ذمہ داری صرف تقریبات اور بیانات تک محدود ہے؟ اگر ہم اپنی ہونہار بہن بیٹیوں اور نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے تو ہمیں اپنی اجتماعی غیرت اور ذمہ داری پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ بےروزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی اور ذہنی بحران بھی ہے۔ یہ نوجوانوں کو مایوسی، اضطراب اور بعض اوقات غلط راستوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر شفاف اور قابلِ عمل روزگار پالیسی متعارف کرائے، تعلیمی اداروں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرے، اور نجی شعبے کو فروغ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماج کے بااثر افراد اور اداروں کو بھی محض ہمدردی کے بیانات سے آگے بڑھ کر عملی تعاون کرنا ہوگا۔ سرینگر بس اسٹینڈ پر کھڑی یہ حجاب پوش لڑکی کسی شہ سرخی کی محتاج نہیں، مگر وہ خود ایک خبر ہے۔ وہ ان تمام خواتین کے لیے مثال ہے جو حالات کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔ وہ ان نوجوانوں کے لیے سبق ہے جو ناکامی کے بعد ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تعلیم، محنت اور ایمان یہ تینوں مل جائیں تو بس اسٹینڈ بھی خوابوں کی درسگاہ بن سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل یہی تعلیم یافتہ بےروزگاری ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سوال بھی اٹھائیں، جواب بھی مانگیں اور حل کے لیے اجتماعی جدوجہد بھی کریں—کیونکہ خاموشی اب جرم بنتی جا رہی ہے۔

Comments are closed.