آزاد ممالک کی خودمختاری خطرہ میں ہے
از قلم۔ ذوالقرنین احمد
اپیسٹین فائلز نے دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے حکمرانوں کی حقیقت واضح کردی ہیں ہم صرف اب تک یہ سمجھتے تھے کے پیسوں کے کرپشن، زمینوں کے غیر قانونی قبضوں کا خوف دلا کر دباؤ بنایا جاتا ہوگا ، لیکن عالمی سطح کے حالات کو دیکھے تو حقیقت بہت ہی ڈراؤنی ہے مغربی ممالک کے اقتدار پر قابض رہے انسان نما حیوانوں نے انسانی اقدار کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہے ریاستی ملکی سطح پر ہم سمجھتے رہے کہ صرف ایک دوسرے کو بد دیانتی کے سبب جیلوں میں ڈالنے کا خوف دلا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہوگا اور ان سے اپنے لیے کام کروانے کے لیے زیادتی کی جاتی ہوگی۔ لیکن معاملہ بہت آگے کا ہے ایپسٹین فائلز نے عالمی برادری کو ننگا کردیا ہے۔ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں یا جس ملک میں بستے ہیں اس ملک کے حکمرانوں کی باگ ڈور تو کسی اور ہی خوفیا ایجنسیوں کے ہاتھوں میں ہے اور اپنی غیر انسانی و غیر فطری کارکردگی کے سبب ان اداروں کی کٹھ پتلیاں اور کھلونا بن چکی ہے۔
وہ جب چاہے ان کے ذریعے اپنے مفاد کے لیے اور عالمی سطح پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے ان کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن بھی غالباً اسی خوفیا ایجنسیوں کے دباؤ کا حصہ رہا ہوگا۔ ان ملحدین کا یہ ماننا ہے کہ دنیا میں آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے دنیا میں بنیادی ضروریات زندگی جیسے پانی ، غذا، آکسیجن میں کمی واقع ہوسکتی ہے جو مستقبل میں مشکلات پیدا کرسکتا ہے اسی وجہ سے دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ لاک ڈاؤن ایک طرح کا مسلط کیا گیا ٹرائل ہوسکتا ہے کہ دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے اور عوام کو کیسے خوف کی نفسیات میں مبتلا کیا جاسکتا ہے۔ عام انسانوں کے بنیادی حقوق اور ویکسینیشن کے نام پر ان کی صحت کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا جارہا ہے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیونکہ جو لوگ معصوم بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے ہیں انسانوں کے گوشت کو اپنی غذ میں شامل کرتے ہیں وہ لوگ کیسے اتنے ہمدرد اور انسانیت دوست ہوسکتے ہیں کہ وہ مفت میں انسانوں کو وائرس سے تحفظ کے لیے ویکسین فراہم کریں’ ان سب کرتوتوں کے پیچھے ممکنہ طور پر اسرائیل اور اس کے حواریوں کا ہاتھ ہے یہ شیطانی کھیل کا حصہ ہے کیونکہ جب غزہ کے اندر مسلسل دو سال تک بے گناہ فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ چلتا رہا کسی ملک نے ہمت نہیں دکھائی سوائے چند ممالک کے کہ وہ ان حملوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرسکے یا اسرائیل پر حملہ کرنے کی جرأت کرسکے بے گناہ معصوم بچوں کو بموں سے اڑا دیا گیا شہری آبادیوں کو ختم کردیا گیا انسانیت سوز مظالم کیے گئے اسپتالوں ڈاکٹرز اور صحافی برادری کو تک نہیں بخشا گیا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن کوئی فلسطین کی آزادی و خودمختاری کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کے لیے پیس فارم کو تشکیل دیا جارہا ہے اور یہ شیطانی قوتیں ایک جگہ جمع ہورہی ہے تاکہ دنیا کو اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور رکردیا جائیں۔
Comments are closed.