دنیاوآخرت کی کامیابی کاراز اتباع سنت ہے:حضرت امیرشریعت
مشکل حالات میں بھی امارت شرعیہ نے امت کی صحیح سمت میں رہنمائی کی :ناظم امارت شرعیہ
امارت شرعیہ کی سالانہ مجلس شوریٰ میں کئی اہم تجاویزوقرارداد منظور
پٹنہ (پریس ریلیز ) دنیاوی کامیابی مختلف طریقے سے حاصل کی جاسکتی ہے ؛لیکن اصل کامیابی اتباع سنت کے ذریعہ ہی مل سکتی ہے اور مسلمانوں کے تمام انفرادی واجتماعی مسائل اسی کے ذریعہ حل ہوسکتے ہیں، یہ باتیں امیر شریعت مفکرملت حضرت مولانااحمدولی فیصل رحمانی مدظلہ نے مجلس شوریٰ میں کہی،مجلس شوریٰ کایہ اجلاس ۸؍فروری ۲۰۲۶ء کوالمعہدالعالی ھال امارت شرعیہ میں منعقد ہوا،جس میں بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈومغربی بنگال سے تشریف لانے والے معزز ارکان شوریٰ ، اصحاب فکرودانش ،قضاۃ،مدعوئین کرام سمیت ڈھائی سوسے زیادہ دانشورحضرات نے شرکت کی، اپنے صدارتی خطاب میں حضرت نے فرمایاکہ آپ سب امت مسلمہ کے لئے مغز کی حیثیت رکھتے ہیں ،آپ کی ذمہ داریاں دوسروں سے بڑھی ہوئیں ہیں،اس لئے امارت شرعیہ کے اسلامی تصورکوگہرائی سے سمجھیں اوراس کوعوام تک پہونچانے کی کوشش کریں بغیروحدت واجتماعیت کے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے ؛اس لئے ہم سب سنت بنوی کی اتباع کرتے ہوئے ایثار اور قربانی کے جذبہ کے ساتھ وحدت کوہرحال میں قائم رکھیں ،اوراتباع سنت ہی دنیاوآخرت میں کامیابی کارازہے، نائب امیرشریعت حضرت مولاناشمشاد رحمانی قاسمی صاحب نے فرمایاکہ اسلام کی روح اوربنیادوحدت واجتماعیت پرقائم ہے ،نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃ تمام عبادتوں میں اجتماعیت کارفرماہے ،اسی اسلامی نہج پرزندگی گذارنے کانام اطاعت وفرمانبرداری ہے جوسراپارحمت اورباعث نجات ہے، خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعدبرصغیر میں حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجاد علیہ الرحمہ نے اسی کی طرح ڈالی اور آج یہ نظام کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے ،ہم سب لوگوں کو امیرکے ماتحت ایک منظم ومربوط زندگی گذارناہے تاکہ اس کے ذریعہ اللہ ورسول کی خوشنودی حاصل ہو،ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانامفتی محمدسعیدالرحمن قاسمی صاحب نے کہاکہ امارت شرعیہ نے ملت کومشکل حالات میں بھی ہمت وحوصلہ کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے صحیح سمت میں رہنمائی کی ہے ،ہم سب لوگوں کوصبر وتحمل کے ساتھ حالات کامقابلہ کرناہے اورامارت شرعیہ کو مضبوط ومستحکم بنانے کی جدجہدکرنی ہے،امارت شرعیہ کے صدرقاضی شریعت مولاناانظارعالم قاسمی نے کہاکہ دارالقضاء کی بنیاداسلامی اصولوں پرقائم ہے،اس سے مظلوموں کوانصاف اورمستحق کوان کاحق ملتاہے ،اس نظام کومزید وسعت بخشنے کی ضرورت ہے،جناب مولاناآفتاب عالم ندوی صاحب نے امارت شرعیہ کی یک سالہ کارکردگی اوررپورٹ پراطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ نظام قضاء کومزیدوسعت بخشنے کے لیے گاؤں گاؤں، قصبہ قصبہ لوگوں کواس کی اہمیت سے واقف کرایاجائے ۔جناب مولانامفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب نے کہاکہ امارت شرعیہ کی تفصیلی یکسالہ کارکردگی رپورٹ سننے سے اندازہ ہواکہ اس کے کاموں میں وسعت آئی ہے ،اللہ مزید برکتیں عطاکرے ،انہوں نے قضاۃ حضرات کے لئے تعلیمی وتدریسی خدمات پربھی مامورکرنے کی تجویزرکھی،مولاناجمیل احمدمظاہری استاذجامعہ رحمانی مونگیرنے کہاکہ ملک میں غربت وافلاس کی وجہ سے ارتداد پھیل رہاہے،اگرشعبہ دعوت وتبلیغ کے ذریعہ چندمبلغین کواس پرمامور کردیاجائے،تومناسب رہے گا، مولانانوشادنوری صاحب استاذدارالعلوم وقف دیوبندنے کہاکہ امارت شرعیہ کاتنظیمی ڈھانچہ مضبوط ترہے ،اسلئے کسی مفروضہ ،پروپیگنڈا سے متاثر نہیں ہوناہے اورحضرت امیرشریعت کی دوراندیشی اوربصیرت ومعاملہ فہمی سے پورے طورپراستفادہ کرتے ہوئے اس کارواں کومزیدمضبوط کرنا ہے،جناب ولی الدین رحمانی کلکتہ نے کہاکہ امارت شرعیہ کاکام بہت پھیلاہوا ہے ،اس لئے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ کیاجاناچاہئے، مولاناخالدحسین نیموی قاسمی نے کہاکہ جوکام اخلاص وللہیت کے جذبہ کے ساتھ انجام دیاجاتاہے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکتیں ہوتی ہیں،اللہ کے فضل وکرم سے امارت شرعیہ کام رضاوللہیت کی خاطر ہورہاہے، مولانااکرام الحق عینی صاحب جھارکھنڈنے کہاکہ امارت شرعیہ کاپورانظام مضبوط قیادت کے ساتھ جڑا ہواہے؛ اس لئے یہ ترقی کی راہ پررواں دواں ہے،مولاناظفرعالم ندوی اڈیشہ نے کہاکہ اسلام کے نظام زکوٰۃ سے مسلمانوں کوواقف کرایاجائے،مولاناجاویداخترندوی استاذدارالعلوم ندوۃ العلماء نے کہاکہ اللہ کے فضل وکرم سے امارت شرعیہ ترقی کررہی ہے اوریہ سب مخلص قائدین کے اخلاص کاثمرہ ہے ،حاجی محمدعارف رحمانی صاحب نے امارت شرعیہ کے بیت المال کومستحکم کرنے کی طرف توجہ دلائی ،جناب ڈاکٹر ساجد صاحب نے کہا کہ امارت شرعیہ کی خدمات قابل ستائش ہیں ، جناب افروز صدیقی صاحب دہلی نے ہرطرح کے تعاون کاعدہ کیا۔مولاناعبدالسبحان صاحب دہلی نے کہاکہ دہلی میں امارت شرعیہ کے تعارف اورفراہمی مالیات کے لئے نمائندہ بھیجا جائے،ہم لوگ ہرطرح سے ان کاتعاون کریں گے۔مولاناطہٰ قاسمی صاحب نے کہاکہ ہماری بہت سی بہنیں سموہ لون میں پھنسی ہوئی ہیں ،انہیں اس پریشانی سے نکالنے کے لئے ہم لوگوں کو سوچنا چاہئے۔مفتی محب اللہ صاحب نئے کہاکہ بہت لوگ بچوں کووارثت میں حصہ نہیں دیتے ہیں،اس سلسلے میںبیداری مہم چلانی چاہئے۔مولاناانصاراللہ صاحب رانچی نے کہاکہ امارت شرعیہ نے جھارکھنڈ کے علاقہ میں ایس، آئی، آر بیداری مہم چلائی جس کابڑافائدہ ہوا ہم شکر گذار ہیں، اس مہم کوجاری رہناچاہئے۔جناب جاویداقبال صاحب نے کہاامارت شرعیہ ٹرسٹ کے ماتحت چلنے والاایک ادارہ ہے،اس لئے آپ حضرات کے تعاون سے ہی یہ ادارہ ترقی کرے گا۔جناب عبداللہ صاحب سابق ڈی آئی جی نے کہاکہ پٹنہ کے مخلصین ومعاونین کی ایک فہرست بنائی جائے اور ان کے ساتھ ایک میٹنگ رکھی جائے، جناب شمیم احمدکلکتہ نے کہاکہ اگر ہرآدمی فکرامارت سے وابستہ ہوجائے توان کی دنیاوآخرت دونوں سنورجائے گی۔
امارت شرعیہ کی اس مجلس شوریٰ میں تمام شعبہ جات کی رپورٹیں پیش ہوئیں ،مرکزی وذیلی دارالقضاء کی رپورٹ صدرقاضی شریعت مولاناانظارعالم قاسمی ،دارالافتاء کی رپورٹ مولانامفتی عقیل اخترقاسمی، شعبہ تبلیغ وتنظیم کی رپورٹ مولانامفتی محمدسہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ ، تعلیم وذیلی دفاترکی رپورٹ مولانامفتی محمدثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ،دارالعلوم الاسلامیہ کی رپورٹ مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت وسکریٹری دارالعلوم الاسلامیہ،شعبہ تحفظ مسلمین کی رپورٹ مولاناسہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ ،تحفظ اوقاف اور sirکی سرگرمیاں مولانااحمدحسین قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ،نے بیان کی ،شعبہ اصلاحات اراضی کی رپورٹ جناب عبدالوھاب انصاری صاحب شعبہ نشرواشاعت کی رپورٹ مولانارضوان احمدندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ،امارت پبلک اسکول کی رپورٹ مولاناابوالکلام شمسی قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ اورپروجیکٹ مینجمنٹ کی رپورٹ مولانامنہاج عالم ندوی نے پیش کی،امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈویلفیئرٹرسٹ اوراس کے ذیلی اداروں کی رپورٹ جناب شوکت جعفری اورجناب ڈاکٹرنثاراحمدصاحب نے پیش کیا،مولاناسجاد اسپتال کی یکسالہ کارکرکردگی رپورٹ ڈاکٹریاسرحبیب نے پڑھ کرسنائی،اورڈاکٹرعثمان غنی امارت شرعیہ گرلس کمپیوٹرانسٹی ٹیوٹ کی کارکردگی جناب انعام الحق خان صاحب نے بیان کی ،بیت المال امارت شرعیہ کے آمدوصرف کاگوشوارہ اورآئندہ کے لئے تخمینی بجٹ جناب عرفان الحسن صاحب انچارج بیت المال نے پیش کیا۔واضح رہے کہ اجلاس کاآغازمولانامفتی مجیب الرحمن قاسمی بھاگلپوری معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ کی تلاوت سے ہوا،جناب مولاناشمیم اکرم رحمانی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ نے بارگاہ رسالت مآب میں نذرانہ عقیدت پیش کیا،مولانامفتی محمدثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے حالیہ چنددنوں میں جن چنداہم شخصیات کاانتقال ہواان کے سلسلہ میں تجویزتعزیت پیش کی ،مولانامفتی محمدسہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اجلاس کی نظامت کے فرائض بحسن وخوبی انجام دیئے۔ اس موقع پر مولاناعین الحق امینی قاسمی اورقاری محفوظ الرحمن صاحب کی تازہ تصانیف کاحضرت امیرشریعت نے اجرا فرمایا،اخیر میں اس اجلاس شوریٰ کا حضرت امیرشریعت کی دعاپراختتام پذیرہوا۔مجلس شوریٰ میں اتفاق رائے سے درج ذیل تجاویزاورقراردادیں منظورہوئیں۔
مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کا یہ اجلاس حضرت امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی امارت وقیادت میںمختلف کاموں اور شعبہ جات کی کارکردگی کی تحسین کرتاہے اوران فیصلوں کی کی تائید وتوثیق کرتاہے جو امارت شرعیہ کی ترقی واستحکام کے لیے اٹھائے گئے ۔
۲ ۔ (الف) تحفظ اوقاف اورایس آئی آر سے متعلق امارت شرعیہ کی خدمات مثالی اور تاریخی ہے ، ایس آئی آر مہم کے اثرات مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ہوا اور بہت سارے لوگ شہریت سے باہر ہونے سے بچ گئے،اس مہم کو مضبوط انداز میں جاری رکھنے کی ضرورت مجلس شوریٰ محسوس کرتی ہے ، اسے جاری رکھا جائے اور مختلف ریاستوں میں اس کے دائرہ کارکو بڑھایاجائے۔
(ب) تحفظ اوقاف مہم سے مسلمانوں کے اندراوقاف کے سلسلہ میں بیداری آئی ہے اور اس سلسلہ میںمسلمانوں کے احساسات وخیالات سے حکومت کو واقف کرایاجاسکاہے ، البتہ حکومتی سطح پر اس قانون کو نافذ کردیا گیا ہے ، اس لیے مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اس سلسلہ میں تحفظ کی مہم کو جاری رکھنا چاہتی ہے ، اس کے لیے جو طریقۂ کار حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم طے فرمائیں گے ہم سب اس کو بروئے کار لانے کے سرگرم عمل ہوں گے ، مجلس شوریٰ کی خواہش ہے کہ امارت شرعیہ اس مہم کے لیے واضح طریقۂ کار کے ذریعہ مسلمانوں کی رہنمائی فرمائے ، ان شاء اللہ یہ مہم کامیابی سے ہم کنار ہوگی ۔
۳۔ ملکی پیمانہ پر ماب لنچنگ کاسلسلہ جاری تھا، بہار میں نئی حکومت کے آنے کے بعد ماب لنچنگ کاسلسلہ دراز ہواہے ، مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اس کی بھر پور مذمت کرتاہے اور حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ اس سلسلہ کو فوری طور پر روکے اورایسا طریقۂ کار وضع کرے کہ واقعات مزید سامنے نہ آئیں ،مجلس شوریٰ امارت شرعیہ حضرت امیر شریعت سے خواہش رکھتی ہے کہ آپ اس سلسلہ کی مختلف جزئیات کو سامنے رکھ کر ایسی قانونی اورسماجی طریقۂ کار کی طرف رہنمائی فرمائیں جس سے قانونی طورپر اس کو روکا جاسکے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزادلائی جاسکے ،تاکہ مارنے والے اور ان کے معاونین کو بھی عدالتی داروگیر کا خوف رہے ۔
۴۔ سماج مین تیزی سے پھیل رہی بے راہ روی ،فحاشی اورالحاد کے سد باب کے لیے امارت شرعیہ کو ایک میکانزم اورطریقۂ کار تیارکرکے عملی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ اس سیلاب بلاخیز،مغربی تہذیب کے مضر اثرات سے ہماری نئی نسل کو بچایا جاسکے اور ارتداد والحاد سے دوررہنے کی انہیں ترغیب ملے ۔
۵۔ مجلس شوریٰ کا احساس ہے کہ اتنے بڑے وسیع نظام کے لیے امارت شرعیہ کا بجٹ بہت کم ہے ، ہم اراکین شوریٰ حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس بجٹ کو پوراکرنے کے لیے کوشش کریں گے ،اگر اس کام کے لیے معاونین فراہم کیے جائیں گے تو مجوزہ رقم کی فراہیم آسان ہوگی۔
Comments are closed.