زکوة عبادت ہے، تماشا نہیں!
ذمہ داران قوم کے نام ایک سنجیدہ گزارش ۔۔۔
احساس نایاب شیموگہ۔۔۔۔
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن
ماہِ رمضان قریب ہے اور حسب معمول ہر طرف رمضان کی آمد کے حوالے سے پروگرام، جلسے اور خطابات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، روزہ، صبر، تقویٰ، نماز اور تلاوت قرآن پر تفصیل سے گفتگو ہو رہی ہے، زکوة، فطرہ اور صدقہ کی اہمیت بھی بار بار بیان کی جا رہی ہے،
مگر افسوس کہ زکوة کے اس اصل مقصد پر شاید ہی کسی نے سنجیدگی سے غور کیا ہو جو اسلام کے معاشرتی نظام میں عبادت کی بنیاد ہے۔
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے ذکوۃ کو نظام کے بجائے سڑک کا تماشہ کیوں بنادیا ؟؟؟
کیا کسی نے کتابوں سے نکل کر زمینی حقیقت کو دیکھنے کی کوشش کی ہے ؟
رمضان آتے ہی شہروں کی گلیوں، چوراہوں اور دروازوں پر وہی دل دہلا دینے والا منظر سامنے آتا ہے جہاں پردہ دار مسلم مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہاتھوں میں پھٹی پرانی
تھیلیاں لئے در در کی ٹھوکریں کھاتی نظر آتی ہیں اور چند سکوں کے لئے اپنی عزت نفس داؤ پر لگا دیتی ہیں،
یہ منظر صرف غربت نہیں دکھاتا ،
"یہ ہماری اجتماعی ناکامی کا اعلان ہے” ۔
افسوس کہ یہ منظر اب سالانہ معمول اور ایک طرح کا تماشا بن چکا ہے،
وہ مہینہ جو رحمت، برکت اور وقار کا ہونا چاہیے تھا آج غربت، ذلت اور بے بسی کی تصویر بن کر سامنے آ رہا ہے،
حالانکہ زکوة صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی ذمہ داری ہے جس کا اصل مقصد محتاج کو سہارا دینا ہے، اس کی عزت بحال رکھنا ہے، نہ کہ اسے رسوا کرنا،
زکوة کوئی خیرات یا احسان نہیں بلکہ یہ ہر یتیم، غریب، بیوہ اور بے سہارا کا شرعی حق ہے، جو ہر صاحب استطاعت کے مال میں اللہ کی امانت کے طور پر رکھا گیا ہے، مگر افسوس ہم نے اس حق کو مانگنے والی چیز بنا دیا ہے،
اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ عورتیں اور بچے سڑکوں پر نکل کر مانگیں، نہ ہی یہ تعلیم دی گئی کہ عزت کے ساتھ مدد لینے کے بجائے ذلت کے ساتھ ہاتھ پھیلایا جائے،
رمضان کا مہینہ جو رحمت، برکت، اور وقار کا مہینہ تھا، آج مسلم معاشرے میں غربت ، ذلت اور بےبسی کی علامت بنتا جارہا ہے۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر وہ ہے جب "نوجوان مائیں اپنی گود میں معصوم بچوں کو اٹھائے چند پیسوں کے خاطر در در بھٹکتی ہیں۔
خیال رہے یہ بچے قوم کی امانت ہیں، کل کے مسلمان ہیں، اور آج ہم انہیں مانگنے کی عملی تربیت دے رہے ہیں، ماں کی گود اولاد کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اور جہاں ماں خود سڑکوں پر مانگتی ہو وہاں بچے کے ذہن میں خودداری اور غیرت کیسے پنپ سکتی ہے ؟
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ایسے ماحول میں عزتوں کو بھی خطرہ ہے، یہاں نہ نظریں محفوظ ہیں، نہ زبانیں، اور مجبوری اکثر ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے جو کسی بھی شریف خاندان کے لئے تصور سے باہر ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ قوم اتنی غریب ، محتاج نہیں ہے،
ہم وہی قوم ہیں جو شادیوں میں لاکھوں اور کروڑوں خرچ کرتی ہے، جلسوں اور تقریبات میں دولت پانی کی طرح بہاتی ہے،
مزاروں پر قیمتی چادریں چڑھاتی ہے، ہر عید اور تقریب پر نئے کپڑے خریدتی ہے، گوشت کے بغیر جمعہ مکمل نہیں سمجھتی،
پھر آخر کیوں ؟
رمضان میں ہماری مائیں اور بہنیں فقیروں کی طرح گھر گھر زکوة اور فطرہ مانگتی پھریں ؟
یہ سوال صرف عوام سے نہیں ہے، یہ سوال مساجد، اداروں، تنظیموں، علما اور تمام ذمہ داران قوم سے ہے۔
کیوں خطبات میں زکوة کے اصل نظام پر بات نہیں ہوتی ؟
کیوں کوئی ایسا طریقہ نہیں بنایا جاتا جس میں عبادت بھی ہو اور عزت بھی محفوظ رہے ؟
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مستحقین کی فہرستیں بنوائیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے گھر گھر باعزت تقسیم کو یقینی بنایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انصاف اور امانت کو بنیاد بنایا،
مگر افسوس کہ آج ہم نے نہ وہ نظام باقی رکھا اور نہ وہ غیرت۔
یاد رکھیے!
مانگنے کی عادت انسان کی عزت نفس، خودداری اور شرم و حیا کو کھا جاتی ہے، ۔۔۔۔
قوم کے تمام ذمہ داران سے ہاتھ جوڑ کر ہماری مودبانہ مگر سنجیدہ اپیل ہے 🙏🏻
خدارا اس مسئلے کو صرف صدقے کا نہیں بلکہ غیرتِ اجتماعی کا مسئلہ سمجھیں، اور ایسا نظام قائم کریں جہاں کوئی مجبور نہ ہو، کوئی ذلیل نہ ہو، اور زکوة اپنی اصل روح کے ساتھ ادا ہو، ورنہ دین کو دنیا تک پہنچانے والی قوم خود مانگنے والوں کی صف میں محتاج بن کر کھڑی نظر آئے گی۔۔۔۔۔
Comments are closed.