ایپسٹین فائلز: دجالیت کا ننگا چہرہ!
احساس نایاب
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن ۔۔۔
آپسٹین فائلس کوئی عام دستاویزات نہیں، یہ اس دور کی دجالیت کا وہ ننگا چہرہ ہے جس پر نگاہ پڑتے ہی انسان ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
یہ وہ سچ ہے جسے پڑھا نہیں جاتا، جھیلا جاتا ہے،
جسے دیکھا نہیں جاتا، سہا جاتا ہے۔ اسی لئے اس کا ذکر آتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور دل کسی انجانے خوف میں سمٹ جاتا ہے۔
یہ فائلیں کسی ایک مجرم کی داستان نہیں، یہ اس پورے نظام کا اعتراف جرم ہے جو طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کے بل پر معصومیت کو روندھ رہا ہے۔
یہاں جرم صرف فعل کا نہیں، خاموشی کا بھی ہے۔ اُس لالچ اور جھوٹ کا بھی ہے جو عدالتوں میں بولا گیا، اُس میڈیا کا بھی ہے جو ڈالرس کے آگے بگ گئی، اور معصوم ننھے بچوں کی چیخیں دفن کر دی گئی۔
آپسٹین فائلس صرف ایک نام نہیں ہے، یہ خوف و دہشت کی وہ داستان ہے جو انسان تو انسان، درندوں اور شیطان کو بھی شرما دے۔
اس کے اندر سیاست، معیشت، شاہی محلات، کارپوریٹ طاقتیں اور سینکڑوں نام نہاد معزز چہرے موجود ہیں ۔ وہ چہرے جو دن کے اجالے میں قانون کے رکھوالے اور رات کے اندھیروں میں انسانیت کے قاتل ہیں۔ فائلس اسی لئے بھی خوفناک ہیں کہ ان میں چہرے چھپے نہیں، پہچانے جاتے ہیں اور پہچانے جانے کے باوجود یہ کل بھی محفوظ تھے اور آج بھی محفوظ ہیں۔ اور عام انسانوں کے درمیان اب بھی گھوم رہے ہیں ۔۔۔۔
انسان جنگل کے درندوں سے بچنے کے لئے قانون، آگ اور گولیاں رکھتا ہے اور انہیں انسانی بستیوں سے دور رکھنے کی ہر تدبیر اختیار کرتا ہے
مگر ان آدم خور انسانوں کے لئے جو لاشعور نہیں، مکمل شعور کے ساتھ نوچتے ہیں، جو درندوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں، ان آدم خوروں کے لئے نہ کوئی قانون ہے نہ خوف نہ رکاوٹ ۔
یقین جانیں یہاں المیہ صرف استحصال نہیں، یہ انصاف اور انسانیت دونوں کی موت کا اعلان ہے۔
آپسٹین فائلس میں بچوں کے بارے میں جو بتایا گیا ہے، یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، اسے لکھنے کی کوشش بھی کریں تو الفاظ بھی کانپنے لگیں اور قلم لہولہان ہوجائے۔
وہ بچے جو کھیلنے کی عمر میں خوف کے سائے تلے ہر لمحہ موت کے قریب رہے،
جن کی معصوم ہنسی اُن کمروں میں دفن ہو گئی جہاں کی دیواروں سے آج بھی وحشت ٹپکتی ہے۔
ان کی تکلیف، ان کی اذیت، ان کی وہ کیفیتیں جن کے لئے زبان پر لفظ ہی نہیں ہیں۔
مگر سب کچھ فائلوں میں قید کر دیا گیا، تاکہ دنیا یہ نہ دیکھ سکے کہ ہمارے درمیان معصوموں کے ساتھ کس درجے کی درندگی جاری ہے۔
یہ وہ بچے تھے جن کے جسموں پر زخم لگے، اور روحوں پر خاموشی مسلط کر دی گئی۔
یہ نہ روئیں اس کے لئے ان معصوموں کے گلے گھونٹ دئے گئے،
ان کی چیخوں کو کاغذوں میں دفن کردیا گیا اور ان کی بربادی کو “نجی معاملہ” قرار دے دیا گیا۔
سوال یہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا ؟
سوال یہ ہے کہ جب بچوں کے ساتھ یہ درندگی یہ وحشت کا خوفناک کھیل چل رہا تھا، اُس وقت چائلڈ پروٹیکشن ایکٹس کہاں تھے ؟
عالمی ادارے کہاں مر گئے تھے ؟
وہ تنظیمیں جو کانفرنسوں میں بچوں کے حقوق پر تقریریں کرتی ہیں،
وہ قانون جو صرف کاغذوں پر زندہ اور زمین پر مردہ ہے
وہ سب اس وقت کیوں اندھے، بہرے اور گونگے ہو گئے ؟
یہ محض جرم نہیں تھا، یہ ایک پورے عالمی ضمیر کا اجتماعی زنا تھا۔
یہ وہ دجالیت ہے جہاں طاقت نے بچوں کو شکار بنایا، اور قانون نے طاقتور کے قدموں میں بیٹھ کر انصاف اور اخلاق کا گلا گھونٹ دیا۔
ایک طرف ہزاروں معصوم اپنا درد بول نہ سکے
دوسری طرف اُن کے آنسو این ڈی اے اور “رازداری” کے کاغذات میں جذب کردئے گئے۔
یہ فائلیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ طاقتور کے لئے قانون ایک ڈھال ہے، اور کمزور کے لئے ایک کوڑا ہے۔
یہاں سچ کو فحاشی کہہ کر دبایا گیا، اور جرم کو “نجی معاملہ” کہہ کر چھپا دیا گیا۔ یہی دجالیت ہے، جب برائی خود کو مہذب بنا لے، اور ظلم قانون کی زبان بولنے لگے۔۔۔۔
آپسٹین فائلس کا ایک اور خوفناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا انجام بھی اسی نظام نے لکھا جسے وہ بے نقاب کر رہی تھیں۔ سوال یہ نہیں کہ فائلس میں کیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا کچھ نہیں ہے جو جان بوجھ کر نکال دیا گیا ؟
اس میں اور کون، کون سے نام مٹا دئے گئے ؟
کون سی گواہیاں دفن کردی گئیں ؟ اور کن سچائیوں پر “قومی مفاد” کی مہر لگا دی گئی ؟
یہاں سوال صرف آپسٹین فائلس تک محدود نہیں۔
یہ تو منظرِ عام پر آ گئیں، مگر ہمارے ملک، ہمارے آس پاس، نہ جانے ایسی اور کتنی بند فائلیں ہیں جو اندھیروں میں چیختی، سسکتی دم توڑ دیتی ہیں۔ اور دن کے اجالوں میں نہ جانے کتنے مقامی آپسٹین شرافت کی چادریں اوڑھے گھوم رہے ہیں، اور کتنے ہی جان کر بھی انجان بنے بیٹھے ہیں۔
مگر یاد رہے، ہر گناہوں کا گھڑا ایک دن بھر کر چھلکتا ضرور ہے۔ جس دن یہ گناہ منظرِ عام پر آ گئے، نہ زمین میسر ہو گی نہ آسمان۔
انسانوں کی عدالت میں انصاف ہو نہ ہو
اللہ کی لاٹھی ان شاء اللہ ضرور پڑے گی، اور بہت جلد پڑے گی۔ اور ہر مظلوم کو انصاف ضرور ملے گا ۔۔۔
اسی یقین کے ساتھ ہم نے ان فائلوں کو سرچ کرنے سے خود کو روک لیا، کیونکہ انہیں دیکھنا تو دور،
ان کا تصور ہی دل پر بوجھ بن چکا ہے۔ کیونکہ بعض سچ آنکھوں کے ذریعہ روح پر حملہ کرتے ہیں۔۔۔
اور یقین جانیں ہم میں اتنا حوصلہ نہیں کہ اس خوفناک سچ کو مزید جانیں،
بہرحال
آپسٹین فائلس ہمیں ایک آئینہ دکھا رہی ہے، اور یہ آئینہ کسی ایک ملک، ایک ادارے یا ایک فرد کا نہیں،
بلکہ یہ پوری جدید تہذیب کا آئینہ ہے، جس میں ترقی کے پردے کے پیچھے چھپی ہوئی درندگی صاف نظر آتی ہے۔
چمکدار شیشے، شاندار سڑکیں، نام نہاد قوانین، اور حقوق انسانی کے بلند بانگ نعروں کے نیچے انسانی گوشت کی بو اب بھی زندہ ہے۔
اگر آج بھی ہم نے اس آئینے سے نظریں چرا لیں، اور اپنے نفس کا احتساب نہ کیا تو کل تاریخ ہمیں بھی مجرموں کی صف میں کھڑا کرے گی
اس لئے نہیں کہ ہم نے جرم کیا،
بلکہ اس لئے کہ ہم نے سچ کو جان کر بھی خاموشی کو اختیار کیا۔
ہم نے معصوم چیخوں کو نظرانداز کیا، ہم نے آنسوؤں کو فائلوں میں دفن ہونے دیا، اور ہم نے درندگی کو “نظام” کہہ کر قبول کر لیا۔
اور شاید…
ہماری یہی خاموشی انسانیت کی ہار ہے، اور یہی دجالیت کی سب سے بڑی، سب سے خوفناک فتح ۔۔۔۔
Comments are closed.