علمِ حدیث میں علماءِ بہار کی درخشاں خدمات کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت

 

بہار اردو اکیڈمی میں آل انڈیا ملی کونسل اور ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد سیمینار میں علماء و دانشوران کی رائے

پٹنہ(پریس ریلیز) ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن اور آل انڈیا ملی کونسل، بہار کے اشتراک سے آج بہار اردو اکیڈمی، اشوک راج پتھ، پٹنہ میں ’’علمِ حدیث میں علماءِ بہار کی خدمات‘‘ کے عنوان سے ایک اہم قومی سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت ملک کے ممتاز عالمِ دین، فقیہِ عصر اور آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر مفکر ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے فرمائی، جنہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں علمِ حدیث کی عصری اہمیت اور علماء کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے علم حدیث میں بہار کے علماء کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ علماءِ بہار کی خدمات صیانتِ حدیث کے عظیم کارواں میں نہایت درخشاں اور قابلِ فخر رہی ہیں۔ بہار کی سرزمین صدیوں سے علم و تحقیق، تدریس و تصنیف اور حدیثِ رسول ﷺ کی خدمت کا ایک مضبوط مرکز رہی ہے۔ حضرت مخدوم شرف الدین احمد یحیٰ منیریؒ، علامہ شوق نیموی، مولانا شمس الحق عظیم آبادی، شاہ سلمان پھلواروی، عبدالعزیز محدث رحیم آبادی، فضل اللہ مونگیری، ظفیر الدین بہاری، علامہ جعفر پھلواروی، علامہ عثمان غنی، مناظر احسن گیلانی اور دیگر اکابر علماء کی علمی خدمات نہ صرف بہار بلکہ پورے برصغیر میں علمِ حدیث کے فروغ کا باعث بنیں۔ آپ نے کہا کہ موجودہ دور میں اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ حدیث نبوی کو محض نصابی یا تحقیقی سطح تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے منظم اور موثر اقدامات کیے جائیں ، انہوں نے علم حدیث کی نشر و اشاعت میں خواتین کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا انہوں نے علمِ حدیث کی نشر و اشاعت میں خواتین کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دورِ اوّل سے ہی جلیل القدر محدثین کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی علمِ حدیث کی ترویج و اشاعت میں نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سمیت دیگر ازواجِ مطہرات اور صحابیاتِ کرام رضی اللہ عنہن نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے احادیثِ مبارکہ روایت کر کے امت تک منتقل کیں، فقہی و حدیثی مسائل میں رہنمائی فرمائی اور آنے والی نسلوں کے لیے اس عظیم علمی وراثت کو محفوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بھی خواتین کے لیے علمِ حدیث کی باقاعدہ تعلیم، تخصص، تحقیق اور ریسرچ نہایت ضروری ہے۔ مدارس، جامعات اور تحقیقی اداروں میں خواتین کو علمِ حدیث کے مطالعہ، تحقیقِ اسناد و متون اور معاصر مسائل کے تناظر میں حدیث فہمی کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، تاکہ وہ مستند علمی کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے لیے علمی و تحقیقی پلیٹ فارم، تربیتی پروگرام اور عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، تاکہ سنتِ نبوی ﷺ کے تحفظ، اس کی صحیح تعبیر اور اشاعت میں خواتین بھی مؤثر اور فعال کردار ادا کر سکیں۔ افتتاحی خطا ب میں آل انڈیا ملی کونسل بہار کے صدر حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی صاحب نے سیمینار کے اغراض و مقاصد کے ذکر کے ساتھ ساتھ بہار کے ممتاز علماء حدیث ، شارحین حدیث اور علم حدیث میں علماء بہار کی تصنیفات کا تفصیلی ذکر کیا۔ انہو ں نے کہا کہ بہار کے کئی ایسے جلیل القدر محدثین ہیں جن کی خدمات ابھی تک گوشۂ گمنامی میں ہیں۔ اس سیمینار کا ایک اہم مقصد ان بھولی بسری علمی شخصیات کی خدمات کو سامنے لانا، تاریخی مواد کو یکجا کرنا اور نئی نسل کو اس عظیم علمی وراثت سے روشناس کرانا ہے۔خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ آیت اللہ قادری دامت برکاتہم کے نہایت وقیع پیغام کو ان کے صاحبزادے جناب سید یمین اللہ قادری مجیبی نے پیش کیا،اس پیغام میں حضور زیب سجادہ نے سیمینار کے انعقاد پر آل انڈیا ملی کونسل اور ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سیمینار بلا شبہ نہایت اہم اور قابل تحسین اقدام ہے ، جو نئی نسل کو بہار میں علم حدیث کی خدمات سے روشناس کرانے اور حدیث نبوی کی عظمت کو اجاگر کرنے کا ایک بہتر ین ذریعہ ہے۔انہوں نے اپنے پیغام کے ذریعہ منتظمین سے اپیل کی کہ اس طرح کے پروگراموں کو محض اسلاف کے تعارف تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ حدیث کی امہات الکتب، ان کے اسالیب تصنیف ، طریقۂ استدلال اور محدثین کے مناہج کو سادہ اور عوامی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔مرکزی جمیعۃ اہل حدیث کے امیر فضیلۃ الشیخ اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنے برقی پیغام میں فرمایا کہ یقینا ہر خطہ ارضی کو کچھ خاص امتیازات حاصل ہیں ، ان میں صوبہ بہار بھی ہے ، جس کا علوم قرآن و حدیث کی خدمت میں ہر دور میں مثالی کردار رہا ہے ۔جہاں تک فن حدیث میں بہاری علمائے اہل حدیث کی خدمات جلیلہ کا تعلق ہے تو علی مر العصور ان کے تذکرے کتب رجال و تراجم میں بھرے پڑے ہیں ۔ انہوں نے خاص طور پراپنے پیغام میں علماء صادق پور کی علمی و تحریکی کاوشوں کا کا تذکرہ کیا۔سیمینار کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد دیتے ہوئے سیمینار کے کامیاب اور با مقصد ہونے کی امید ظاہر کی ۔ مولانا ناظم صاحب ناظم اعلیٰ جمیعۃ علماء بہار نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ، علم حدیث کی اہمیت و افادیت اور آج کے دور میں اس کی نشر و اشاعت کی ضرورت پر توجہ مبذول کرائی ۔ مولانا سید شاہ مشہو د احمد قادری مجیبی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ نے اپنے خطاب میں خانقاہ مجیبیہ ، خانقاہ منیر شریف کے اکابر علماء حدیث کے علاوہ بہار کے نامور اساطین علماء حدیث اور ان کی تصنیفات کا تفصیلی تذکرہ کیا۔مولانا امان اللہ نستوی ناظم و بانی مدرسہ اسلامیہ قاسم العلوم لکھمنیاں نےمولانا ڈاکٹر شکیل منصور قاسمی حال مقیم یو ایس اے کا تحقیقی مقالہ فن حدیث میں علماء بہار کی خدمات پیش کیا۔

اس علمی اجتماع میں ملک و بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء، محققین، اساتذہ اور دانشوران نے شرکت کی اور علمِ حدیث کے مختلف پہلوؤں پر وقیع مقالات پیش کیے۔مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر مولانا سرور عالم ندوی پروفیسر شعبہ عربی پٹنہ یونیورسٹی(علامہ قادر بخش اور علم حدیث) ڈاکٹر حبیب الرحمن علیگ(علامہ فیض الرحمن اشرفی کی خدمت حدیث)مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی سابق مفتی امارت شرعیہ( امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی اور علم حدیث)، مولانا سید امانت حسین نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار(بہا ر کے اہل تشیع علماء اور خدمت حدیث) مولانا ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی اسسٹنٹ پروفیسر جی ڈی کالج بیگو سرائے(علامہ مناظر احسن گیلانی اور علم حدیث)، مولانا سجاد حسین قادری مجیبی خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف، پٹنہ (خانقاہ مجیبیہ اور خدمت حدیث) ، مولانا محب اللہ مصباحی خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ(حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری اور علم حدیث)، مولانا قمر عالم ندو ی ویشالی(ملک کے ممتاز جامعات میں بہار کے علماء محدثین)، مولانا ڈاکٹر سجاد حسین ندوی(جامعہ رحمانی مونگیر اور خدمت حدیث)، مولانا مظفر رحمانی (فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور علم حدیث)، مولانامحمد عادل فریدی(علامہ عبد العزیزی محدث رحیم آبادی کی خدمت حدیث)، مولانا طلحہ نعمت ندوی(مولانا فضل اللہ مونگیری کی فضل اللہ الصمد فی شرح الادب المفرد)، مولانا نجم الہدیٰ قاسمی(فتاویٰ علماء ہند میں احادیث کا اہتمام ؛ ایک تحقیقی مطالعہ)مولانا اسعد الرحمن تیمی (مولانا شمس الحق عظیم آبادی اور فن حدیث میں ان کی تالیفات)، مولانا مظہرا لکبریا صدیقی( بہار میں کتب حدیث کی شروحات)، مولانا فردوس حلیمی قاسمی بھاگل پور(بہار میں تدریس حدیث کے مرکزی ادارے )،مولانا صدر عالم ندوی ویشالی( مولانا سید شمس الحق رحمہ اللہ اور تدریس حدیث میں ان کے امتیازات)، جناب ڈاکٹر ذاکر حسین (علم حدیث میں اہل بہار کی خدمات)، مولانا رضاء اللہ قاسمی (خطبات جمعہ میں حدیث کا استعمال ایک جائزہ)، مولانا مفتی جمال الدین قاسمی(موجودہ دور کے بہار کے محدثین) کے نام شامل ہیں ۔آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا مفتی نافع عارفی کا مقالہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی علم حدیث میں تصنیف احادیث رسول عصر حاضر کی روشنی میں کے عنوان پر تھا، لیکن مولانا کی خالہ کے سانحہ وفات کی وجہ سے وہ شریک نہیں ہو سکے، مولانا کا مقالہ بھی جناب مولانا جاوید اختر حلیمی کے ذریعہ پیش کیا گیا۔ مقالہ نگاران کے علاوہ جن اہم شخصیات نے شرکت کی اور سیمینار کے وقار میں اضافہ کیاان میں جناب نجم الحسن نجمی سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل دہلی، مولانا محمد شبلی القاسمی ناظم امارت شرعیہ ، جناب پروفیسر ڈاکٹر شمس الحسین صاحب سرپرست آل انڈیا ملی کونسل بہار،جناب نوشاد اعظم صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل ضلع پٹنہ، جناب ڈاکٹر سید اشرف صاحب،جناب ڈاکٹر محمد امان صاحب، جناب محفوظ صاحب چھپرہ، جناب ضیاء الدین اشرف صاحب، جناب مولانا رفعت قاسمی صاحب بیگو سرائے، جناب انجینئر محمد حسین صاحب متولی جامع مسجد دریا پور، جناب شاہ عطاء الرحمن صاحب، جناب اسامہ خان صاحب بکسر، مولانا ارشاد احمد نسیم ندوی، مولانا شاہد حسین مظاہری ، محمد قمرعالم قادری، عمار احمد قادری، جناب شاہد اقبال صاحب ، جناب مولانا ڈاکٹر شاہد وصی قاسمی ، جناب فیروز عالم صاحب، جناب حافظ عاصم صاحب ، جناب کلیم اللہ سیفی کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ، ان کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں اہل ذوق علماء ، دانشوران اور طلبہ شریک سیمینار ہوئے۔

سیمینار کی نظامت فرائض جناب مولانا مظفر رحمانی صاحب نے بہت ہی خوش اسلوبی سے انجام دیے ، سیمینار کا آغاز مولانا مفتی جمال الدین صاحب قاسمی کی تلاوت کلام اللہ شریف سے ہوا ، نعت شریف حافظ فردوس عالم اور حافظ مبشر سلمہ متعلمین مدرسہ مصباح العلوم دریا پور مسجد پٹنہ نے پیش کیا۔ خطبہ استقبالیہ مولانا سید محمد عادل فریدی سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار و سکریٹری ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن نے پیش کیا ، انہوں نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ علمِ حدیث دینِ اسلام کی اساس اور قرآنِ مجید کے بعد شریعتِ محمدی ﷺ کی تشریح و توضیح کا سب سے مستند ذریعہ ہے۔ محدثینِ کرام نے اس علم کی حفاظت کے لیے جو عظیم قربانیاں دیں وہ اسلامی علمی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ موجودہ دور میں فکری انتشار، غیر مستند روایات اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی غلط معلومات کے تناظر میں علمِ حدیث کی حفاظت اور صحیح سنت کے فروغ کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے، جس کے لیے اس نوعیت کے علمی سیمینار وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے سیمینار میں تشریف لائے تمام مقالہ نگاران، علماء، اساتذہ، محققین اور شرکائے سیمینار کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ علمی اجتماع علمِ حدیث کے فروغ، فکری اصلاح اور علماءِ بہار کی خدمات کے اعتراف میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔اس موقع پر اہم تجاویز بھی منظور ہوئیں جنہیں جناب مولانا نور السلام ندوی نے پیش کیا جس کی تمام شرکاء نے تائید کی ۔

*تجاویز سیمینار*

1۔ بہار کے محدثین ، شارحین حدیث، اساتذہ حدیث اور مصنفین کی خدمات پر مشتمل ایک مستند ڈیٹا تیار کیا جائے جو اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے مرجع و ماخذ بن سکے۔

2۔ بہار کے مصنفین کی علم حدیث پر لکھی مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتابوں کو تلاش کیا اورجدید اسلوب میں تحقیق و تعلیق کے بعد ان کی اشاعت کا نظم کیا جائے ۔

3۔ ملک کے مختلف مدارس ، جامعات اور یونیورسٹیوں میں علم حدیث سے وابستہ اہل علم کے درمیان ربط قائم کیا جائے تاکہ ایک دوسرے کی تحقیق سے فائدہ اٹھانا آسان ہو ۔

4۔ علم حدیث سے وابستہ بہار کے ایسے گمنام اساتذہ و مصنفین جن کی تحقیقات اور کارنامے غیر معمولی رہے لیکن ان پر زیادہ محققین کی زیادہ توجہ نہیں ہو سکے ، ان کی تحقیقات اورکارناموں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی جائے۔

5۔ محدثین بہار کے نام سے ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا جائے اور علم حدیث میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اس سے نوازا جائے ۔

6۔ مردوں کے ساتھ بہار سے وابستہ خواتین محدثات کے علمی کارناموں کی بازیافت کی بھی کوشش کی جائے ۔

7۔ آج کے دور میں جب فکری انتشار، من گھڑت روایات اور سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات تیزی سے پھیل رہی ہیں، صیانتِ حدیث، حفاظتِ حدیث اور اس کی ترویج و اشاعت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ صحیح حدیث کو عام کرنا اور ضعیف و موضوع روایات سے لوگوں کو آگاہ کرنا دینی ذمہ داری بھی ہے اور امت کی فکری اصلاح کا ذریعہ بھی۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ علمِ حدیث کو جدید ذرائع کے ساتھ مؤثر انداز اور نئے اسلوب میں اردو ، ہندی اور انگریزی زبانوں میں پیش کیا جائے، تاکہ نئی نسل کا سنتِ نبوی ﷺ سے تعلق مضبوط ہو اور معاشرے میں بھی اخلاق ، میانہ روی، مساوات ،انصاف اور اتحاد کو فروغ ملے۔

8۔ علمِ حدیث سے متعلق بہار کے علمی ذخیرے کو محفوظ کرنے کے لیے ایک ڈیجیٹل آرکائیو اور آن لائن پورٹل قائم کیا جائے، جہاں کتب، مقالات، مخطوطات اور تحقیقی مواد محققین کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

9۔ نوجوان محققین اور طلبہ کے درمیان علمِ حدیث کے ذوق کو فروغ دینے کے لیے ریسرچ فیلوشپ، تربیتی ورکشاپس اور مختصر کورسز کا اہتمام کیا جائے، تاکہ ایک نئی تحقیقی نسل تیار ہو سکے۔

10- بہار کے مدارس جہاں دورۂ حدیث تک تعلیم ہوتی ہے وہاں تخصص فی الحدیث کے شعبے قائم کیے جائیں ، تاکہ طلبہ کے تحقیقی کام بھی سامنے آ سکیں۔

Comments are closed.