ممتا بنرجی، ووٹر لسٹ اور جمہوریت کا امتحان

   (حافظ)افتخاراحمدقادری
ہندوستان کی جمہوریت اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر آئینی ادارے کے کردار، نیت اور عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انتخابی سیاست اب محض عوامی خدمت یا نظریاتی کشمکش تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں اقتدار کے حصول کے لیے آئینی ضابطوں کی تشریح بھی طاقت کے توازن کے مطابق کی جا رہی ہے۔ اسی پس منظر میں جب کوئی منتخب عوامی نمائندہ براہِ راست عدلیہ کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو یہ ایک قانونی معاملہ نہیں رہتا بلکہ جمہوری روح کے مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔ گزشتہ 4 فروری کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کی پیشی نے ملک بھر کی سیاسی فضا میں ایک نئی سنجیدگی پیدا کر دی۔ معاملہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی سے متعلق تھا لیکن اس کیس کی نوعیت صرف انتخابی فہرستوں کی جانچ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سوال اب اس بات پر آ ٹھہرا ہے کہ آیا جمہوریت کے بنیادی ستون یعنی ووٹ کے حق کو واقعی محفوظ رکھا جا رہا ہے یا اسے خاموشی سے کمزور کیا جا رہا ہے؟ اس پورے معاملے میں سب سے غیر معمولی اور تاریخی پہلو یہ تھا کہ ممتا بنرجی نے خود سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر اپنے دلائل پیش کیے۔ سپریم کورٹ کی تاریخ میں کسی برسرِ اقتدار وزیرِ اعلیٰ کا اس طرح ذاتی طور پر مقدمہ لڑنا شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ معاملہ ان کے نزدیک سیاسی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کا ہے جہاں ریاست کے عوام کے جمہوری حقوق داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ عدالت کے روبرو ممتا بنرجی نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کیوں ووٹر لسٹ کی یہ خصوصی نظر ثانی صرف مغربی بنگال میں اس شدت کے ساتھ کی جا رہی ہے جبکہ دیگر ریاستوں میں اسی نوعیت کی کارروائی نظر نہیں آتی۔ ان کا موقف تھا کہ اس عمل کا اصل مقصد نئے ووٹروں کو شامل کرنا نہیں بلکہ پہلے سے موجود ووٹروں کو فہرست سے خارج کرنا ہے اور یہ ایک ایسی خاموش کارروائی ہے جو جمہوریت کی جڑوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ صرف انتظامی مشق نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ ہے۔ ممتا بنرجی کی اپیل قانونی زبان تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ایک گہرا اخلاقی اور جمہوری درد جھلکتا تھا۔ جب انہوں نے عدالت سے کہا کہ "جمہوریت کو بچائیں” اور یہ جملہ ادا کیا کہ "انصاف بند دروازوں کے پیچھے رو رہا ہے” تو یہ صرف ایک ریاست کی وزیرِ اعلیٰ کی آواز نہیں تھی بلکہ وہ کروڑوں ووٹروں کی نمائندگی کر رہی تھیں جو اپنے حقِ رائے دہی کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔ ان کے یہ الفاظ دراصل موجودہ ہندوستانی سیاست کے اس المیے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں عوام کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں اور اثرات کہیں اور پڑ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کیا اور ان سے جواب طلب کیا۔ اگرچہ عدالت نے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا لیکن نوٹس جاری ہونا بذاتِ خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ اس معاملے کو رسمی کارروائی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگلی سماعت 9 فروری کو ہوگی اور وہ عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی، نیز ضرورت پڑنے پر مزید وقت دینے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
   یہ کیس اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ آنے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بالکل قریب سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں ووٹر لسٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا نظر ثانی کے اثرات براہِ راست انتخابی نتائج پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے اپوزیشن حلقوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے جبکہ حکمراں طبقہ اسے محض ایک انتظامی ضرورت قرار دینے پر مصر ہے۔ دورِ حاضر کی ہندوستانی سیاست میں یہ معاملہ ایک نظیر بن سکتا ہے۔ اگر عدالت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کا عمل شفافیت اور مساوات کے اصولوں کے مطابق نہیں ہو رہا تو اس کے اثرات صرف مغربی بنگال تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک میں انتخابی عمل کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور اگر یہ خدشات نظر انداز کر دیے گئے تو جمہوریت کے سب سے بنیادی حق یعنی ووٹ کی معنویت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کیس کا انجام کیا ہوگا لیکن اتنا طے ہے کہ ممتا بنرجی کی سپریم کورٹ میں پیشی نے ایک بار پھر یہ بحث زندہ کر دی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس اعتماد کا نام ہے جو عوام کو اپنے اداروں پر ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو جمہوری عمارت محض ایک کھوکھلا ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ آنے والی سماعت نہ صرف ایک قانونی فیصلے کا تعین کرے گی بلکہ یہ بھی طے کرے گی کہ ہندوستانی جمہوریت اس نازک موڑ پر کس سمت آگے بڑھے گی۔
   اس پورے قضیے کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف مغربی بنگال، ممتا بنرجی یا الیکشن کمیشن تک محدود معاملہ نہیں رہتا بلکہ یہ ہندوستانی جمہوریت کے اس بنیادی سوال سے جڑ جاتا ہے کہ آیا عوام کا اعتماد اب بھی اداروں پر قائم ہے یا وہ آہستہ آہستہ متزلزل ہو رہا ہے؟ ووٹ کا حق محض ایک آئینی شق نہیں بلکہ وہ روح ہے جس پر پورا جمہوری نظام کھڑا ہے اور اگر اسی حق کے تحفظ پر سوال اٹھنے لگیں تو یہ ایک سنجیدہ وارننگ سمجھی جانی چاہیے۔ ممتا بنرجی کی سپریم کورٹ میں پیشی اسی وارننگ کی علامت ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں سیاست اور آئین آمنے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں، اور فیصلہ صرف ایک کیس کا نہیں بلکہ ایک روایت کا ہونا ہے۔ اس روایت کا جس میں الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں کی غیر جانبداری، عدلیہ کی آزادانہ مداخلت اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک کڑی میں بھی کمزوری آتی ہے تو اس کا اثر پورے نظام پر پڑتا ہے۔
   یہ حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں انتخابی عمل پر شکوک و شبہات کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ کہیں ای وی ایم پر سوالات ہیں، کہیں ووٹر لسٹ کی شفافیت پر اور کہیں انتخابی مہم کے دوران ریاستی مشینری کے استعمال پر۔ ایسے ماحول میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی جیسے اقدامات عوامی بے چینی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر جب یہ تاثر قائم ہوکہ یہ عمل یکساں طور پر پورے ملک میں نافذ نہیں ہو رہا بلکہ مخصوص ریاستوں یا علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے سامنے اب ایک نہایت نازک ذمہ داری آن کھڑی ہوئی ہے۔ اسے نہ صرف قانونی موشگافیوں کو سلجھانا ہے بلکہ اس اعتماد کو بھی بحال کرنا ہے جو عوام کے دلوں میں آئینی اداروں کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ اگر اس معاملے میں شفافیت، مساوات اور غیر جانبداری کے اصولوں کو مقدم رکھتی ہے تو یہ فیصلہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط مثال بن سکتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ خاموشی بھی ایک فیصلہ سمجھی جائے گی جس کے اثرات دیرپا اور گہرے ہوں گے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہندوستان جیسے کثیر الثقافتی اور کثیرالسانی ملک میں جمہوریت صرف اکثریت کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ اقلیتوں، حاشیے پر موجود طبقات اور کمزور آوازوں کے تحفظ کا ضامن بھی ہے۔ ووٹر لسٹ سے کسی ایک نام کا حذف ہونا بظاہر ایک معمولی انتظامی عمل لگ سکتا ہے مگر درحقیقت یہ کسی فرد کی سیاسی شناخت کے مٹنے کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل پر سوال اٹھانا دراصل جمہوریت کے دفاع کے مترادف ہے نہ کہ اس کی مخالفت۔ ممتا بنرجی کی اپیل میں جو اخلاقی کرب اور جمہوری درد جھلکتا ہے وہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاست اگر صرف عددی طاقت اور انتخابی حکمتِ عملی تک محدود ہو جائے تو وہ اپنے اصل مقصد سے بھٹک جاتی ہے۔ جمہوریت کا اصل حسن اسی میں ہے کہ اختلاف کو دبایا نہ جائے بلکہ سنا جائے اور ادارے طاقت کا نہیں بلکہ انصاف کا ذریعہ بنیں۔ اب جب اس معاملے کی اگلی سماعت قریب ہے تو پورے ملک کی نظریں سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں۔ یہ سماعت ایک قانونی کارروائی نہیں ہوگی بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہوگی کہ ہندوستانی جمہوریت اپنے اس نازک موڑ پر کس راستے کا انتخاب کرتی ہے۔ کیا وہ شفافیت، اعتماد اور مساوات کے اصولوں کو مضبوط کرے گی، یا پھر شبہات اور خدشات کو مزید گہرا ہونے دے گی؟ آخرکار یہ بات طے ہے کہ جمہوریت صرف بیلٹ بکس میں ڈالے گئے ووٹوں سے زندہ نہیں رہتی بلکہ اس یقین سے زندہ رہتی ہے کہ ہر ووٹ کی قدر ہے، ہر آواز کی اہمیت ہے اور ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر عوام کے حق میں کام کر رہا ہے۔ اگر یہ یقین کمزور پڑ جائے تو انتخابات ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی طرف یہ پورا مقدمہ اشارہ کرتا ہے اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ہندوستان کی جمہوری سمت کا تعین کرے گا۔
 *کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
   (مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

Comments are closed.