نفرت کے عہد میں عام شہری جمہوریت کی بقاء کیلئے حصار بنے
جاوید جمال الدین
ہندوستانی جمہوریت کی اصل طاقت صرف آئین کی دفعات، پارلیمانی تقاریر یا انتخابی عمل میں نہیں، بلکہ ان عام شہریوں میں پوشیدہ ہے جو مشکل اور خوف کے ماحول میں بھی اپنے ضمیر، سچ اور انصاف کا ساتھ دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاستی ادارے کمزور پڑے، طاقت ور طبقات کے سامنے جھک گئے یا خاموش تماشائی بنے، تب تب عام انسانوں نے جمہوریت کو سہارا دیا۔ حالیہ دنوں میں اتراکھنڈ کے کوٹ دوار اور اتر پردیش کے متھرا سے سامنے آنے والے واقعات، اور ان کے پس منظر میں پارلیمنٹ، دیہات اور عوامی اجتماعات میں اٹھنے والی آوازیں، اسی حقیقت کو ایک بار پھر آشکار کرتی ہیں۔
یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ اگرچہ نفرت، تعصب اور طاقت کا شور بہت بلند ہے، لیکن اس شور کے بیچ اب بھی کچھ آوازیں ایسی ہیں جو آئین کی روح، انسانی وقار اور جمہوری اقدار کی حفاظت کر رہی ہیں۔
26 جنوری 2026، یومِ جمہوریہ کے دن، جب پورا ملک آئین اور جمہوریت کا جشن منا رہا تھا، اتراکھنڈ کے شہر کوٹ دوار میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس جشن پر گہرا سوالیہ نشان لگا دیا۔ پٹیل مارگ پر واقع بابا اسکول ڈریس اینڈ میچنگ سینٹر—جس کے مالک وکیل احمد اور شعیب احمد سلمانی ہیں—کو بجرنگ دل کے کارکنوں نے نشانہ بنایا۔
ظاہری اعتراض دکان کے نام پر تھا، مگر حقیقت میں نشانہ ایک مذہبی شناخت تھی۔ ہجوم کی صورت میں آئے افراد نے نہ صرف دکاندار پر دباؤ ڈالا بلکہ ایک بزرگ شہری کو سرِعام ذلیل کیا، حکم صادر کیے، اور خوف کا ماحول پیدا کیا۔ یہ سب کچھ قانون، پولیس اور انتظامیہ کی موجودگی میں ہوا، مگر ریاستی طاقت نے مداخلت کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی۔
یہ واقعہ محض ایک دکان یا ایک دن کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو آئین کو نعروں کے تابع اور قانون کو ہجوم کی مرضی کے سپرد دیکھنا چاہتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ دکان کا نام کیا ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی غیر ریاستی گروہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خود کو عدالت، انتظامیہ اور قانون سب کچھ سمجھ لے؟
اسی ہجوم، خوف اور خاموشی کے بیچ ایک چہرہ ایسا تھا جو امید کی علامت بن کر ابھرا—محمد دیپک (دیپک کمار کشیپ)۔ ایک غیر مسلم شہری، جس نے نہ اپنی شناخت چھپائی، نہ کسی مذہب کے خلاف زبان استعمال کی، اور نہ ہی اشتعال انگیزی کا سہارا لیا۔ انہوں نے بس اتنا کہا:
“میں پہلے ہندوستانی ہوں۔”
یہ ایک سادہ سا جملہ تھا، مگر اس میں پورے آئین کی روح سمٹی ہوئی تھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج کے ہندوستان میں یہی جملہ جرم بنتا جا رہا ہے۔ دیپک نے جب ہجوم کے سامنے سوال اٹھایا تو ریاست کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، مگر ہوا اس کے برعکس—انہیں قانونی تحفظ کے بجائے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک وائرل ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کا بجرنگ دل کے کارکنوں کے سامنے جھک جانا، اور دیپک سے معافی منگوانے کو ہی مسئلے کا حل قرار دینا، صرف ایک فرد کی تذلیل نہیں بلکہ ریاستی غیر جانبداری کی موت کی علامت بن گیا۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ جب قانون طاقتور کے سامنے جھک جائے تو عام شہری کا سہارا صرف اس کا ضمیر رہ جاتا ہے۔
جمہوریت میں خاموشی کبھی غیر جانبداری نہیں ہوتی، خاص طور پر جب ظلم واضح ہو۔ کوٹ دوار کے معاملے میں نہ صرف فوری اور سخت کارروائی کا فقدان نظر آیا، بلکہ نامزد شکایت کے باوجود ایف آئی آر میں ملزمان کو “نامعلوم” لکھا جانا، انصاف کے پورے عمل کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
یہ خاموشی محض نااہلی نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے—نفرت کے عناصر کے لیے حوصلہ افزا پیغام کہ وہ بے خوف آگے بڑھیں، اور انصاف کے خواہاں شہریوں کے لیے خوف کا اشارہ کہ سوال اٹھانے کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
دوسرا اہم واقعہ اتر پردیش کے متھرا ضلع سے سامنے آیا، جہاں نوہ جھیل پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر جان محمد کو بچوں سے زبردستی نماز پڑھوانے، قومی ترانہ نہ پڑھوانے اور مذہبی ذہن سازی جیسے سنگین الزامات کے تحت معطل کر دیا گیا۔
عام طور پر ایسے معاملات میں یکطرفہ بیانیہ غالب آ جاتا ہے، مگر اس بار کہانی نے ایک غیر معمولی رخ اختیار کیا۔ غیرجان محمد کے دفاع میں مسلم طلبہ، والدین، گاؤں کے لوگ اور ساتھی اساتذہ خود میدان میں آ گئے۔
تحقیقات اور زمینی حقائق نے جلد ہی واضح کر دیا کہ الزامات بے بنیاد تھے۔ اصل مسئلہ ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کارروائی سے جڑا تھا۔ جان محمد پر مسلم ووٹروں کے نام کاٹنے کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔ اسی انکار کی قیمت انہیں معطلی کی صورت میں چکانی پڑی۔
حقائق کے مطابق اسکول میں کل 8 اساتذہ ہیں، جن میں 7 غیر مسلم ہیں۔جبکہ
235 طلبہ میں اکثریت غیر مسلم بچوں کی ہے
کسی طالب علم یا والدین نے نماز یا ترانے سے متعلق الزام کی تصدیق نہیں کی
یہاں تک کہ پانچویں جماعت کی طالبہ پریانشی نے کیمرے کے سامنے قومی ترانہ سنا کر الزامات کی قلعی کھول دی۔
متھرا کے اس واقعے کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ سنجے پاٹھک، وجے کمار، سنتوش بھاردواج، پورن پاٹھک، دیارام، پروین کمار جیسے غیر مسلم دیہاتیوں نے ضلع کلکٹر کو میمورنڈم دے کر جان محمد کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
یہ وہ چہرے ہیں جو نفرت کے بیانیے کو عملی طور پر جھٹلاتے ہیں۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ خاموش رہنا آسان ہے، مگر انہوں نے سچ کا ساتھ دینے کا راستہ چنا۔ یہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔
اسی پس منظر میں راجیہ سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کی تقریر ایک اہم دستاویز بن کر سامنے آتی ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر پر شکریہ کی تحریک کے دوران، عمران پرتاپ گڑھی نے ایوانِ بالا میں ملک کے موجودہ حالات کا آئینہ رکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ کے گلیاروں میں صدر جمہوریہ کی آواز گونج رہی تھی، تب جسد یو کے جنگلوں میں قبائلیوں کی زندگی چھیننے والے درختوں پر کلہاڑی چل رہی تھی۔ ایک طرف آئین کی باتیں ہو رہی تھیں، دوسری طرف انکیتا بھنڈاری کو انصاف کے لیے اٹھنے والی آوازیں مدھم پڑ رہی تھیں۔
انہوں نے کوٹ دوار کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر سماجی انصاف کی بات کر رہی تھیں اور ادھر نفرت کے خلاف کھڑے دیپک پر مقدمہ درج ہو رہا تھا۔ ان کے الفاظ میں، “بی جے پی کے نئے ہندوستان میں ایف آئی آر فسادیوں پر نہیں، بلکہ امن و محبت کی بات کرنے والوں پر ہوتی ہے۔”
انہوں نے آسام، بریلی، مدھیہ پردیش، بنارس اور جموں و کشمیر کے واقعات گنواتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایوان میں ہنگامے کے باوجود انہوں نے اپنی بات مکمل کی، جو جمہوری جرات کی مثال ہے۔
اسی سلسلے میں مولانا ارشد مدنی کا اودھم پور سے دیا گیا پیغام بھی قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہمارا مشترکہ ورثہ ہے اور اس کا تحفظ تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے یہ ذمہ داری ادا نہ کی تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
انہوں نے اس بات پر امید ظاہر کی کہ حالیہ واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اکثریتی طبقے کے لوگ بھی نفرت کی سیاست کے خلاف بیدار ہو رہے ہیں، اور ایک دن نفرت، محبت کے سامنے ہار جائے گی۔
مایوسی، خوف اور نفرت کے اس دور میں محمد دیپک، متھرا کے گاؤں کے عام شہری، سچ بولنے والے بچے، پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے والے نمائندے اور سماج کو جھنجھوڑنے والے علما—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستان ابھی مکمل طور پر ہارا نہیں ہے۔
جمہوریت کی بقا کے لیے یہ چہرے یاد رکھے جائیں گے،
کیونکہ تاریخ ہمیشہ اقتدار والوں کو نہیں،
ضمیر والوں کو یاد رکھتی ہے۔
اگر آئین آج بھی زندہ ہے تو صرف اس لیے کہ کچھ عام لوگ اب بھی اس پر یقین رکھتے ہیں، اور نفرت کے اندھیرے میں چراغ جلانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
Comments are closed.