طیارہ اغواہ معاملہ:سپریم کورٹ آف انڈیا 26/ سالوں سے جیل میں مقید ملزم کی اپیل پر 11/ فروری کو سماعت کریگی، جمعیۃعلماء مہاراشٹر(ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کی پیروی
نئی دہلی(پریس ریلیز)
طیارہ اغواہ معاملے میں گذشتہ 26/ سالوں سے زائد عرصہ سے جیل کی صعوبتیں جھیلنے والے عبدالطیف آدم مومن کی اپیل پرحتمی سماعت سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ 11/ فروری کو کریگی۔ دو رکنی بینچ کے جسٹس احسان الدین امان اللہ اور جسٹس مہادیون اس اہم مقدمہ کی سماعت کریں گے۔ملزم کو قانونی امداد جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) دے رہی۔جمعیۃ علماء کی درخواست پر سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال عبدالطیف آدم مومن کے دفاع میں بحث کریں گے۔
گذشتہ دسمبر کو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس دیوملیاباگچی نے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کے دلائل کی سماعت کے بعد عبدالطیف آدم مومن کی جانب سے عمر قید کی سزا کو چیلنج کرنے والی اپیل پر فروری 2026/ میں سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ عبدالطیف آدم مومن کے مقدمہ کی پیروی ایک دہائی سے زائد عرصے سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کررہی ہے۔ عبدالطیف آدم مومن نے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں 2014/ میں چیلنج کیا تھا۔عبدالطیف آدم مومن کو ممبئی کی سیشن عدالت نے دیگر مفرور ملزمین کی مدد کرنے اور ان کے نام پر جعلی پاسپورٹ تیار کرنے کے الزام سے باعزت بری کردیا تھا لیکن چندی گڑھ کی سیشن عدالت نے طیارہ اغواہ معاملے میں مجرم قرارد یتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا دی تھی جسے ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔
واضح رہے کہ ملزم عبدالطیف کو چندی گڑھ کی نچلی عدالت نے طیارہ اغواہ معاملے کی سازش میں شامل ہونے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی، ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت نے ملزم کو پھانسی دیئے جا نے کا مطالبہ کیاتھاجسے پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے مسترد کردیا تھا اور ملزم کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا،اسی طرح ممبئی ہائی کورٹ میں بھی ریاستی حکومت نے عبدالطیف کی مقدمہ سے باعزت رہائی کو چیلنج کیا تھاجہاں ممبئی ہائی کورٹ نے بھی ریاستی حکومت کی عرضداشت کو مسترد کردیا تھا۔
Comments are closed.