مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے نوجوان ریسرچر، جی ٹی آئی آئی ٹی، چین میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ کے لئے منتخب

 

علی گڑھ، 10 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ طبیعیات کے ڈاکٹر عبدالقادر نے چین کے گوانگ ڈونگ ٹیکنیون–اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (جی ٹی آئی آئی ٹی) میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ کا موقع حاصل کیا ہے، جو ایک نمایاں علمی دستیابی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں اے ایم یو سے ڈاکٹر حیدر ایچ جعفری کی نگرانی میں فزکس میں پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔

 

جی ٹی آئی آئی ٹی میں ڈاکٹر عبدالقادر شعبہ ریاضی و کمپیوٹر سائنس سے وابستہ ہوں گے اور پروفیسر نکیتا کلینن کے ہمراہ تحقیق کریں گے۔ ان کی پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ کا محور سینڈ پائل ماڈلز اور سیلف آرگنائزڈ کریٹیکل سسٹمز ہوں گے، جو پیچیدہ اور غیر متوازن مظاہر کے مطالعے کے اہم شعبے ہیں۔

 

تعلیمی میدان میں مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ڈاکٹر عبدالقادر نے 2016 میں آئی آئی ٹی- جیم، 2018 میں سی ایس آئی آر نیٹ، 2019 میں سی ایس آئی آر جے آر ایف اور 2019 میں ہی گیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ پی ایچ ڈی کے دوران انہیں 2019 میں انسپائرجونیئر ریسرچ فیلوشپ اور 2021 میں انسپائر سینئر ریسرچ فیلوشپ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل وہ 2013 سے 2018 تک اپنی انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے دوران انسپائر شی اسکالرشپ بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

 

ان کی تحقیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں جاپان کے کیوٹو میں واقع یوکاوا انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس کے دورے کے لیے سی ایس آئی آر ٹریول گرانٹ بھی عطا کی گئی۔ انہوں نے اگست 2024 میں یونیورسٹی آف ٹوکیو میں لیکچر دیا اور سوئز نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی معاونت سے یونیورسٹی آف جنیوا میں بھی تحقیق مکمل کی۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں مینجمنٹ طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت سازی کے لیے اکیڈمیا–انڈسٹری مکالمہ کا اہتمام

 

علی گڑھ، 10 فروری: فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے دو روزہ اکیڈمیا–انڈسٹری انٹرفیس کا اہتمام کیا، جس میں ماہرین اور صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد نے ایم بی اے طلبہ کے ساتھ ابھرتے ہوئے کاروباری رجحانات، انتظامی چیلنجوں اور بدلتے ہوئے دفتری ماحول پر تبادلہ خیال کیا اور مینجمنٹ تعلیم کو عملی صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بامعنی مکالمہ کیا۔ یہ پروگرام وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔

 

اکیڈمیا کی جانب سے پروفیسر سیف صدیقی (جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے بلند قدروں اور خسارے میں چلنے والے اسٹارٹ اپ پر اظہار خیال کیا، جبکہ پروفیسر نصرت خان (جی ڈی گوئنکا یونیورسٹی، گروگرام) نے انسانی وسائل کے ابھرتے رجحانات اور کام کے مستقبل پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر دیبارشی مکھرجی (جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کوانٹم مارکیٹنگ پر لیکچر دیا، اور پروفیسر مونیکا اروڑا (ایمٹی بزنس اسکول، ہریانہ) نے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ کے بندوبست کی حکمت عملیوں کو اجاگر کیا۔ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن، اے ایم یو کے پروفیسر ولید احمد انصاری نے صنعتی دور میں تنازعات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ بدلتے ہوئے کاروباری منظرنامے کا تنقیدی جائزہ لیں۔

 

صنعتی نقطہ نظر سے ڈاکٹر اشوتوش سریواستو، سابق سینئر وائس پریسیڈنٹ، ہیرو گروپ نے مستقبل رخی سپلائی چینز پر گفتگو کی۔ مسٹر بپل چندرا، منیجنگ ڈائریکٹر، ڈوکاٹی انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے مینجمنٹ پیشہ وروں سے صنعت کی اہم توقعات بیان کیں جبکہ مسٹر مسرت حسین، ہیڈ–ایچ آر، سوزوکی آر اینڈ ڈی نے عصری انسانی وسائل کے چیلنجوں اور افرادی قوت میں تبدیلی کے رجحانات پر روشنی ڈالی۔

 

اس سے قبل فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ڈین پروفیسر محمد نوید خان نے اکیڈمیا اور انڈسٹری کے باہمی اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ صدر شعبہ پروفیسر سلمیٰ احمدنے اس طرح کے تعاملی نشست کو نہایت سودمند قرار دیا جس سے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فروغ ہوتا ہے۔ یہ پروگرام ڈاکٹر آصف علی سید اور ڈاکٹر اسدرحمن کے تعاون سے منعقد ہوا۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج میں قدرتی طریقہ علاج پر ایکسپرٹ لیکچر کا اہتمام

 

علی گڑھ، 10 فروری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی نے ”قدرتی طریقے سے شفا”کے عنوان پر ہائجین ہاسپٹل فار نیچروپیتھی،(چنمنگالور، کالی کٹ، کیرالہ) کے بانی ڈاکٹر پی اے کریم کے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا جس میں مہمان مقرر نے قدرتی علاج، طرزِ زندگی میں اصلاح اور انسدادی طب کے بنیادی اصولوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قدرتی علاج محض علامات کے نظم و نسق کے بجائے بیماری سے جڑے اسباب کی نشاندہی اور ان کے حل پر توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے غذا، صفائی، جسمانی سرگرمی اور دماغی صحت کے کردار کو نمایاں کیا۔

 

استقبالیہ خطاب میں پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن، چیئرمین، شعبہ فارماکولوجی نے موجودہ صحت نظام میں انضمامی اور طرزِ زندگی پر مبنی طریقہ علاج کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیچروپیتھی اور شواہد پر مبنی قدرتی علاج کے طریقے دنیا بھر میں بیماریوں کی روک تھام، صحت کے فروغ اور طرزِ زندگی سے وابستہ امراض میں کمی کے حوالے سے تیزی سے تسلیم کیے جا رہے ہیں۔

 

سوال و جواب کے سیشن کی نظامت ڈاکٹر سارہ موسوی، کمیونٹی بلڈر ہیلتھ کوچ، اوٹاوا، کینیڈا نے کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی پر مبنی صحت کی تعلیم اور مریضوں کو بااختیار بنانا پائیدار صحت کی فراہمی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے علمی مکالمے روایتی طب اور ہمہ جہتی فلاحی طریقہ علاج کے درمیان خلا کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

 

انجینئر مجیب اختر (کے این پی سی، کویت) نے ڈاکٹر کریم اور ڈاکٹر موسوی کے پیشہ ورانہ سفر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اس سیشن کو علمی اعتبار سے مفید اور طبی برادری کے لیے نہایت موزوں قرار دیا۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر جاوید اختر، سابق ڈین، فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ نے کہا کہ انٹرڈسپلینری تعلیم اور متبادل صحت نظاموں کے تئیں کشادہ نظری، علمی اداروں کو مضبوط بناتی ہے اور مستقبل کے طبی پیشہ وروں کی سوچ کو وسیع کرتی ہے۔ پروفیسر پرویز طالب نے اظہار تشکر کیا۔ ڈاکٹر اسنا رفعت خان، ریزیڈنٹ، شعبہ فارماکولوجی، پروگرام کی کوآرڈنیٹر تھیں۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں یونانی میگا سیل کا اہتمام، رمضان کی مناسبت سے توانائی بخش یونانی مشروب کی رونمائی

 

علی گڑھ، 10 فروری: دواخانہ طبیہ کالج (ڈی ٹی سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی جانب سے فیکلٹی آف آرٹس کے لان میں ایک روزہ یونانی میگا سیل کا اہتمام کیا گیا، جس میں، عملہ کے اراکین اور مقامی باشندوں حوصلہ افزا شرکت دیکھنے کو ملی۔

 

پروگرام کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، دواخانہ طبیہ کالج کے ممبر انچارج پروفیسر ریاض احمد اور قائم مقام منیجر شارق اعظم بھی موجود تھے۔

 

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نعیمہ خاتون نے طب کے روایتی نظاموں کے سائنسی ورثے کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے کفایتی، قدرتی اور انسدادی صحت سہولیات کو عوام تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے، ساتھ ہی دیسی علمی نظاموں پر اعتماد کو بھی فروغ ملتا ہے۔

 

یونانی میگا سیل کے موقع پر دواخانہ طبیہ کالج کے یونانی مشروب ”شربت دل زیل“ کی باضابطہ رونمائی بھی کی گئی۔ کھجور، سیب، انجیر اور کشمش جیسے قدرتی اجزاء سے تیار کردہ اس مشروب کو ماہِ رمضان کے لیے توانائی بخش مشروب کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

 

پروفیسر محمد گلریز نے موجودہ دور میں طبِ یونانی کی افادیت پر زور دیا، جبکہ پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ عوام کی جانب سے مثبت ردِ عمل قدرتی طریقہ علاج پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

 

پروفیسر ریاض احمد نے بتایا کہ اس میگا سیل میں مختلف یونانی ادویات اور صحت افزا مصنوعات رعایتی نرخ پر دستیاب کرائی گئیں، جبکہ مستند حکماء کی جانب سے مفت طبی مشورے بھی دیے گئے۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے محقق کو آئی سی ایس ایس آر کی سینئر فیلوشپ سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 10 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ جغرافیہ کے سابق چیئرمین اور موجودہ وقت میں انٹر ڈسپلینری ڈپارٹمنٹ آف ریموٹ سینسنگ اینڈ جی آئی ایس ایپلی کیشنز، اے ایم یو سے بطور محقق وابستہ ڈاکٹر نظام الدین خاں کو تعلیمی سال 2025–26 کے لیے آئی سی ایس ایس آر، حکومت ہند کی مؤقر سینئر فیلوشپ سے نوازا گیا ہے۔

 

ڈاکٹر نظام الدین خاں دو سالہ تحقیقی پروجیکٹ بعنوان ”علی گڑھ ضلع میں دیہی آبادی کی سماجی و معاشی تبدیلی پر دیہی منڈیوں کے اثرات کا جیواسپیشیل ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے تجزیہ“ پر کام کریں گے۔ اس پروجیکٹ کا ہدف جدید جغرافیائی مکانی آلات اور طریقہ کار کے ذریعے سماجی و معاشی تبدیلی میں دیہی منڈیوں کے کردار کا تجزیہ کرنا ہے۔ آئی سی ایس ایس آر کی سینئر فیلوشپ اسکیم کے تحت قومی اہمیت کی اعلیٰ معیار کی سماجی سائنس تحقیق کی سرپرستی کی جاتی ہے۔ اس کے تحت ماہانہ 45,000 روپے کا وظیفہ دیا جائے گا۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر نے دبئی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش کیا

 

علی گڑھ، 10 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے ریسرچ اسکالر مسٹر محمد خالد نے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع یونیورسٹی آف وولونگونگ میں مالی خواندگی اور فراڈ کی نشاندہی کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔

 

پروفیسر جاوید اختر کی نگرانی میں کام کرنے والے مسٹر محمد خالد نے بالخصوص مالی خدمات کی تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں مالی فراڈ میں اضافے اور مالی خواندگی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اپنی پیشکش میں انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اور سوشل انجینئرنگ تکنیکوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے مالی فراڈ کی نوعیت کو بدل دیا ہے، جس کے باعث افراد کے لیے باخبر اور درست مالی فیصلے کرنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں مالی خواندگی ایک نہایت اہم صلاحیت بن چکی ہے، جو مالی مصنوعات کو سمجھنے، فریب دہی پر مبنی طریقوں کی شناخت کرنے اور بدلتے ہوئے مالی خطرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

 

تحقیقی مقالہ پیش کرنے کے علاوہ محمد خالد نے کانفرنس کی ایک نشست بعنوان ”بین الاقوامی مالیات، اکاؤنٹنگ اور کارپوریٹ گوورننس“کی صدارت بھی کی، جہاں انہوں نے مختلف ممالک سے آئے ہوئے محققین کے ساتھ علمی نشستوں کی نظامت کی۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو گرلز اسکول میں یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے تخلیقی مقابلوں کا انعقاد

 

علی گڑھ، 10 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) گرلز اسکول میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقدہ انٹراسکول مضمون نویسی مقابلے بعنوان ”قوم کی تعمیر اور جمہوریت کے استحکام میں نوجوانوں کا کردار“ میں علینہ انصاری (اے ایم یو جی ایس) نے پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ عائزہ فاطمہ (اے ایم یو جی ایس) اور عریبہ پرویز (ایس ایس ایس جی) مشترکہ طور پر دوسرے مقام پررہیں۔ عبداللہ دانش صدیقی (ایس ایس ایس بی) اور تیا سنگھ (اے ایم یو جی ایس) نے مشترکہ طور پر تیسرا مقام حاصل کیا، جبکہ محمد معراج وارثی (ایس ٹی ایس) کو حوصلہ افزائی انعام دیا گیا۔

 

دوسری طرف اندونِ اسکول ہونے والے مقابلوں میں قومی پرچم پر مبنی کیپ بنانے کے مقابلہ میں کاویہ بھاردواج پہلے، خوشبو سلیم اور نائلہ فاطمہ تیسرے مقام پر رہیں۔ قومی پرچم بیج سازی کے مقابلے (جماعت ششم تا ہفتم) میں علمہ نکہت، آرادھیا بھاردواج اور حمیرہ فاطمہ نے بالترتیب پہلا، دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کیا۔ پوسٹر سازی کے مقابلے میں جہانوی سنگھ اور ردھی سنگھ نے مشترکہ طور پر پہلا مقام، اذکا جمشید اور ازالیہ صادق نے دوسرا مقام اور خوشبو سلیم و کاویہ بھاردواج نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ جماعت اول تا سوم کی طالبات کے لیے کارڈ سازی کے مقابلے میں عالیہ نعیم انصاری نے پہلا مقام، فاطمہ انور نے دوسرا اور زنیرہ رحمان نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ علمہ ظہیر، زینب تبسم اور زویا کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔ حب الوطنی گیت کے مقابلے میں الپنا نے پہلا مقام، مائرہ نے دوسرا اور دیپتی چوہان اور فائقہ نے مشترکہ طور پر تیسرا مقام حاصل کیا۔

 

یہ پروگرام پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور وائس پرنسپل محترمہ الکا اگروال کی رہنمائی اور محترمہ عرشی ظفر خان کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

عالمی اردو کانفرنس میں اے ایم یو کے پروفیسر شمبھوناتھ تیواری کا لسانی ہم آہنگی پر خطاب

 

علی گڑھ، 10 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ہندی کے پروفیسر شمبھوناتھ تیواری نے نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (این سی پی یو ایل) کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ عالمی اردو کانفرنس میں تکنیکی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے درمیان گہرے جذباتی اور ادبی رشتوں کو اجاگر کیا۔

 

ہندوستان کی قومی شناخت پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر تیواری نے کہا کہ رام، کرشن، گنگا اور ہمالیہ جیسی مشترکہ تہذیبی و ثقافتی علامات ہندوستانی ادبیات میں جگہ جگہ موجود ہیں، جو ایک مشترکہ جذباتی اور ثقافتی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سنسکرت، ہندی اور اردو کے درمیان مسلسل ادبی تبادلے نے ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے اور ہندوستان کی کثیر لسانی و تکثیری روایت کو مستحکم کیا ہے۔

 

کانفرنس کے عنوان ”کئی زبانیں، ایک جذبہ“ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ زبانیں اپنی ساخت میں مختلف ہوتی ہیں، لیکن ان کے ذریعے بیان کیے جانے والے جذبات آفاقی ہوتے ہیں، اور اس طرح کے لسانی و ادبی تبادلے سماجی ہم آہنگی اور باہمی بھائی چارے کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے محقق نے قرآنی علوم میں یو جی سی نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی

 

علی گڑھ، 10 فروری: خلیق احمد نظامی مرکز برائے قرآنی علوم، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ریسرچ اسکالر مسٹر ابراہیم خان نے یو جی سی نیٹ دسمبر 2025 کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔

 

اس اہم کامیابی پر خلیق احمد نظامی مرکز برائے قرآنی علوم نے مسٹر ابراہیم خان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی آئندہ علمی کاوشیں اس شعبے کو مزید فروغ دیں گی اور مرکز کی علمی امتیاز کی روایت کو برقرار رکھیں گی۔

 

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں ہندوستانی لوک ادب پر دو روزہ قومی سمینار 11اور 12 فروری کو

 

علی گڑھ، 10 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ جدید ہندوستانی السنہ کے مراٹھی سیکشن کے زیر اہتمام ”ہندوستانی لوک ادب کے سماجی و ثقافتی پہلو“ کے عنوان پر آئندہ 11 اور 12 فروری کو دو روزہ قومی سمینار آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں منعقد کیا جائے گا۔

 

بین الاقوامی یوم مادری زبان کے موقع پر منعقد ہونے والے اس سمینار میں ہندوستانی لوک ادب کی بھرپور سماجی و ثقافتی جہتوں اور لسانی تنوع، اجتماعی یادداشت اور ثقافتی روایات کے تحفظ میں اس کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے ماہرین لوک کہانیوں، زبانی روایتوں اور ان کی عصری معنویت کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کریں گے۔

Comments are closed.