کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے؟!

 

از: محمد ارمغان بدایونی ندوی

 

اس میں شبہ نہیں کہ کسی بھی قوم کا عروج وزوال اس کے نوجوانوں پر منحصر ہوتا ہے، اگر کسی قوم کا نیا خون گرم اور متحرک ہے، اس کے اندر مقصدیت اور عمل کا جذبہ ہے اور اس کے اندر سرفروشی کی تمنا اور کچھ کر گذرنے کا حوصلہ ہے تو اس قوم کا ستارۂ اقبال طلوع ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور اللہ کا قانون بھی یہی ہے کہ اگر اس دنیا میں کوئی محنت کرے گا تو اس کی کوشش رائیگاں نہیں جاسکتی، ارشاد ہے:

{وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى}(النجم: ۳۹)

(اور انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے محنت کی۔)

 

عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں جب یہ کوشش ہوئی تو دنیا نے حیرت انگیز کارنامے دیکھے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی وفات سے قبل صحابہ کے ایک لشکر کا امیر حضرت اسامہؓ بن زید کو بنایا، وہ ایک نوجوان تھے اور غالباً ان کی عمر سترہ یا اٹھارہ سال تھی، حضرت زید بن ثابتؓ جنھوں نے تدوین قرآن کی خدمت سب سے بڑھ کر انجام دی، وہ بھی ایک نو عمر صحابی تھے اور ان کی عمر سولہ یا سترہ سال سے متجاوز نہ تھی، اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی شخصیت اور ان کی کم عمری سے کون ناواقف ہوگا، ان کے علاوہ بھی ایک بڑی تعداد ان حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی ہے جنھوں نے شرک وکفر کا قلع قمع کیا اور عرب وعجم میں اسلام کا پھریرا لہرایا۔ بلاشبہ ان کی نظیر پیش کرنے سے آج بھی دنیائے انسانیت عاجز ہے۔

 

سچی بات یہ ہے کہ تاریخ اسلامی کے مختلف ادوار میں ایسے نوجوان اور افراد کار پیدا ہوتے رہے ہیں جنھوں نے زمانہ کا رخ موڑ دیا اور وقت کا دھارا تبدیل کردیا تھا، اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ برصغیر میں بھی جو اسلام پھلا اور پھولا‘ وہ ایک نوجوان ہی کے آہنی عزم اور عاقلانہ نظم کا نتیجہ تھا، محمد بن قاسم ثقفی تقریباً اٹھارہ سال کی عمر میں یہاں فاتحانہ داخل ہوئے اور انھوں نے صرف جسموں ہی پر نہیں بلکہ دلوں پر بھی حکومت کی۔ تاریخ میں سلطان محمد فاتح کا نام بھی مٹایا نہیں جاسکتا جنھوں نے غالباً اکیس یا بائیس سال کی عمر میں اپنی زبردست حکمت عملی سے قسطنطنیہ پر فتح کا علم نصب کیا تھا۔

 

اخیر دور میں حضرت سید احمد شہیدؒ کی مجاہدانہ زندگی بھی ایک غیر معمولی مثال ہے جن کے متعلق بعض اہل دل نے یہ گواہی دی ہے کہ ہم انہی کی تجدید کے زیر سایہ جی رہے ہیں، انھوں نے ہندوستان میں سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا، حج کے فریضے اور بے شمار متروک سنتوں کا احیاء کیا اور ان کی ذات سے ایک عالم کو فیض پہنچا لیکن ان کی پوری مدتِ عمر مشکل سے 45؍ سال رہی جس میں انھوں نے ایمان کی بادِ بہاری چلا دی۔

 

موجودہ دور میں اگر ہم نوجوان طبقے کا جائزہ لیں تو پندرہ سے پچیس سال تک کی عمر والے یا اس سے بھی متجاوز نوجوانوں کا حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے، عام طور پر یہ عمر پڑھنے لکھنے، ڈگری حاصل کرنے، ہنر سیکھنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بعد شادی کے لائق ہونے کی سمجھی جاتی ہے، اگر کسی کا کوئی بہت بڑا ٹارگیٹ ہے تو زیادہ سے زیادہ اتنا کہ وہ کوئی افسر بن جائے یا بڑا تاجر وغیرہ، غرض کہ اگر ایک ایک علاقے کا سروے کیا جائے تو شاید ایسے نوجوان انگلیوں پر گنے جاسکتے ہوں جن کے اندر اپنی ذات سے آگے بڑھ کر قوم وملت کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ اور احساس ہو۔

 

بلاشبہ یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے، جب قوم کا نیا خون ہی سرد پڑ جائے اور تیز وتند ہواؤں بلکہ طوفانوں سے بھی اس کا ضمیر بیدار نہ ہو تو اس قوم کو برباد کرنے کے لیے کسی خارجی دشمن یا ایٹمی طاقت کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود قعر مذلت میں دھنستی چلی جائے گی۔ حیرت کی بات ہے کہ جس عمر میں تاریخ اسلامی کے ممتاز نوجوانوں نے ملت اسلامیہ کا سر فخر سے بلند کیا تھا، اس عمر میں آج کا نوجوان طبقہ اپنے مستقبل کو سنوارنے اور بنانے سے بھی قاصر نظر آتا ہے۔

 

وقت کا ضیاع، بے مقصدیت، بے حسی اور لاشعوری وغفلت اس دور کا ایک بڑا مرض ہے، اسی مرض نے ہمارے نوجوانوں کی طاقت کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذہن ودماغ کی جو قوت اور صلاحیت لوگوں کو نفع پہنچانے کے لیے دی تھی، آج وہ طاقت بے محل خرچ ہو رہی ہے، نہ فرائض کا اہتمام ہے اور نہ حقوق وواجبات کا خیال بلکہ موبائل اور سوشل میڈیا سے دنیا شروع ہوکر اسی پر ختم ہوجاتی ہے، جس وقت کو دین اسلام کے تقاضوں اور اپنے روشن مستقبل کی تعمیر میں خرچ ہونا چاہیے تھا، آج وہ وقت نشے کی نذر ہورہا ہے اور یہ نشہ صرف شراب کا نہیں بلکہ اس ترقی یافتہ دنیا میں نشے کی بھی متعدد شکلیں ہیں جیسے: ویڈیوز اسکرولنگ کا نشہ، گیمنگ کا نشہ، بلاگنگ کا نشہ، صرف اچھا کھانے اور اچھا پہننے کا نشہ، بے مقصد گھومنے پھرنے کا نشہ، مہنگی سے مہنگی اشیاء خرید کر اپنے شوق پورے کرنے کا نشہ، بد نگاہی کا نشہ، فحش مناظر کا نشہ، نفس پرستی کا نشہ، حلال وحرام کے درمیان تمیز نہ کرنے کا نشہ وغیرہ۔

 

واقعہ یہ ہے کہ نشے کی یہ وہ شکلیں ہیں جن میں بعض مرتبہ وہ لوگ بھی گرفتار نظر آتے ہیں جن کو سماج میں دین دار طبقے کے اندر شمار کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ نشے کی وہ شکلیں جو صریح طور پر حرام اور تباہ کن ہے، ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان نشوں کی بھی بری طرح عادی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج نہ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تاب ناک ہے، نہ ان کے گھر والوں اور قوم والوں کو ان سے کوئی بڑی توقعات وابستہ ہیں اور نہ ہی خود ان کے اندر وہ حقیقی صحت وقوت باقی ہے جو ایک نوجوان کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے۔

 

قربان جائیں نبی ﷺ پر جنھوں نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو صحیح سمت عطا کی اور مردہ دلوں کی مسیحائی کا فریضہ انجام دیا، آپ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ خالق کو مخلوق سے جوڑنے کا کام کیا بلکہ اس دنیائے انسانیت کو ایک ایسا کامل ومکمل نظام بھی عطا فرمایا جو قیامت تک کے لیے کافی ہے اور ہر انسان کی تعمیر وتشکیل اور اس کی فلاح یابی کا راز اس میں مضمر ہے۔ نوجوانوں کے متعلق آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خاص طور پر یہ بات ارشاد فرمائی تھی:

’’نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِیہِمَا کَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ؛ الصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ۔‘‘(بخاری: 6412)

(دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے سلسلہ میں اکثر لوگ غفلت میں ہیں؛ ایک صحت اور دوسرے فرصت کا وقت۔)

 

یہ حدیث ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے زمانۂ صحت وقوت کو کار آمد بنائیں اور اپنی زندگی کو منظم ومرتب بنائیں، خوش قسمت ہے وہ نوجوان جس نے اپنی عمر عزیز کے ایک ایک لمحے کی قدر کی، اس سے نفع حاصل کیا اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔

 

*کسی مردِ دانا نے بڑی عارفانہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ اس وقت یہ امت بے دین بھی ہے اور بے بس بھی، ایسے حالات میں ضرورت ہے کہ اس ملت کا نوجوان طبقہ ناخدائی کا فریضہ انجام دینے کے لیے آگے آئے، دشمنان دین کی چالوں کو ناکام بنانے کا عزم کرے اور اس دین کو سربلند کرنے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دے، اس وقت ہر سطح پر کام کرنے کی شدید ضرورت ہے، ضرورت اسکولوں کے اندر دبے پاؤں ارتداد کا طوفان روکنے کی بھی ہے اور ضرورت مدارس کے اندر بڑھتی ہوئی غفلت اور بے مقصدیت کو ختم کرنے کی بھی ہے، ضرورت سرمایہ دار اور ملازم پیشہ طبقے میں دین پر اعتماد بحال کرنے کی بھی ہے اور ضرورت ہر شعبے میں اسلامائزیشن کرنے کی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ کام جس قدر مستعدی اور ہمہ گیری کے ساتھ نوجوان طبقہ انجام دے سکتا ہے، کوئی دوسرا شاید ہی اس کے بقدر انجام دے سکے۔

Comments are closed.