لوک سبھا اسپیکر کے خلاف تحریکِ برطرفی: سیاسی ضرورت یا محض علامتی احتجاج؟
تحریر: منظر بلال قاسمی
ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں اسپیکر کا عہدہ ایک "امپائر” کا ہوتا ہے، جسے غیر جانبدار رہ کر ایوان کی کارروائی چلانی ہوتی ہے۔ ان دنوں پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن جاری ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تلخی دیکھنے کو مل رہی ہے۔عام طور پر اسپیکر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلے تاکہ ایوان اور اسپیکر کے منصب کی عظمت بر قرار رہے۔ مگر اپوزیشن کا الزام ہے کہ موجودہ اسپیکر اپنے آئینی منصب کے وقار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کا جھکاؤ مکمل طور پر حکمران جماعت کی طرف ہے۔ اسی دوران اپوزیشن کے 125 سے زائد ارکان نے اسپیکر اوم برلا کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اکثریت کے بغیر تحریک کا فائدہ کیا؟
یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جب اپوزیشن کو معلوم ہے کہ حکومت کے پاس واضح اکثریت ہے اور اسپیکر کو ہٹانا ممکن نہیں، تو پھر اس مشق کا فائدہ کیا ہے؟اس کا جواب سیاسی نفسیات اور پارلیمانی روایات میں چھپا ہے۔
(1)ناانصافی کے خلاف آواز: اس تحریک کا پہلا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اپوزیشن خاموش نہیں بیٹھے گی۔ یہ جمہوری نظام میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔
(2)عہدے کا وقار اور اخلاقی دباؤ: اسپیکر کا عہدہ انتہائی باوقار ہوتا ہے۔ جب اس منصب پر بیٹھی شخصیت کو ہٹانے کے لیے ووٹنگ کی نوبت آئے، تو یہ ان کے لیے ایک بڑی اخلاقی سبکی کا سبب بنتا ہے۔ یہ تحریک اسپیکر کو یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ ایوان صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے۔
(3) نفسیاتی جنگ: سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اس طرح کی تحریک ایک "نفسیاتی جنگ” ہے۔ جس سے کسی آئینی عہدیدار کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی ساکھ داؤ پر ہے، اس کا طرزِ عمل سوالوں کے گھیرے میں ہے، تویہ اس کے لئے ایک دھچکا ہوتا ہے اور وہ اپنی بقا کے لیے توازن قائم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
آئینی پہلو: آرٹیکل 94 اور 96
بھارتی آئین کے آرٹیکل 94(c) کے تحت لوک سبھا کے اسپیکر کو ہٹانے کے لیے ایوان کے ارکان کی اکثریت سے قرارداد منظور کرنا ضروری ہے، جس کے لیے 14 دن کا پیشگی نوٹس دینا لازمی ہے۔
مزید برآں، آرٹیکل 96 کے مطابق، جب اسپیکر کو ہٹانے کی قرارداد زیرِ غور ہو، تو وہ ایوان کی صدارت نہیں کر سکتے۔ وہ ایک رکن کی حیثیت سے بحث میں حصہ لے سکتے ہیں اور ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں، لیکن برابر ووٹ ہونے کی صورت میں فیصلہ کن ووٹ (Casting Vote) دینے کا حق کھو دیتے ہیں۔
ایسی تحریکیں بعض اوقات بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں۔ ماضی قریب میں راجیہ سبھا کے چیئرمین کے خلاف لائی گئی تحریک نے ان کے رویے میں واضح تبدیلی پیدا کی۔ وہ اپوزیشن کے تئیں نرم رویہ اختیار کرنے لگے اور انہیں اپنے چیمبر میں مشاورت کے لیے بلانے لگے۔یہ الگ بات ہے کہ اپوزیشن سے ان کی قربت حکمراں جماعت کے لئے بی چینی کا سبب بنی اور بالآخر نائب صدر صاحب کو اس کی قیمت اپنے عہدہ سے استعفی کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔
مختصر یہ کہ لوک سبھا اسپیکر کے خلاف تحریکِ برطرفی لانا محض ایک سیاسی چال نہیں، بلکہ جمہوریت کو زندہ رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اگرچہ عددی طاقت حکومت کے حق میں ہے، اور فوری طور پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے منصب کو خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ لیکن یہ تحریک اسپیکر کو تاریخ کے کٹہرے میں ضرور کھڑا کر تی ہے، ان کے وقار ، ساکھ اور ادرہ جاتی حیثیت پر سوال کھڑا کر تی ہے۔ اٹھارھویں لوک سبھا کی تاریخ اور روداد میں اسپیکر کے خلاف اس ترتیک کا ذکر ضرور ہوگا جو اس عد ہ پر فائز شصی کے لئے ہمیشہ ذہنی تناؤ کا سبب رہے گا۔ مزید بر آن یہ اقدام اس حقیقت کا اعلان ہے کہ پارلیمنٹ کی دیواریں صرف قانون سازی کے لیے نہیں، بلکہ اختلافِ رائے کے احترام کے لیے بھی بلند کی گئی تھیں۔ اس تحریک کا اصل فائدہ ووٹوں کی گنتی میں نہیں، بلکہ اس اخلاقی دباؤ میں ہے جو اسپیکر کو اپنے منصب کی عظمت اور غیر جانبداری کی طرف لوٹنے کاکم سے کم احساس دلا سکتا ہے۔
Comments are closed.