’مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم‘ پر مانو سی ٹی ای دربھنگہ میں قومی کانفرنس کا انعقاد
وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کا آن لائن خطاب، تعلیم میں AI کے اخلاقی و انسانی پہلوؤں پر زور
جالے:(محمد رفیع ساگر )
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، دربھنگہ میں آج ایک روزہ قومی کانفرنس بعنوان ’مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم‘ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ یہ کانفرنس ہائبرڈ موڈ میں منعقد کی گئی، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ماہرین تعلیم، محققین، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔
اس پروگرام کا اہتمام سی ٹی ای دربھنگہ کے انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد تعلیم پر مصنوعی ذہانت کے اثرات، امکانات اور چیلنجز پر سنجیدہ علمی گفتگو کو فروغ دینا تھا۔ کانفرنس میں اس بات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت تدریسی و تعلیمی عمل کو نئی شکل دے رہی ہے، تاہم انسانی نقطۂ نظر اور اخلاقی اقدار کی اہمیت کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی۔
یہ کانفرنس پروفیسر سید عین الحسن (وائس چانسلر، مانو) اور پروفیسر اشتیاق احمد (رجسٹرار، مانو) کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جبکہ پروفیسر وناجا ایم (ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ) اور پروفیسر شیخ شاہین (صدر، شعبہ ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ) نے اس کی رہنمائی کی۔ پروفیسر محمد شاہد (کوآرڈینیٹر، مانو کیمپس دربھنگہ) نے انتظامات میں تعاون کیا۔

وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کانفرنس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک اہم تکنیکی وسیلہ ہے، مگر اس کا استعمال ضرورت اور انسانی ذہانت کی رہنمائی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کالج کو ۴ سالہ ITEP کورس کے لیے NCTE کی منظوری ملنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کا نفاذ مانو میں درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ پروفیسر وناجا ایم نے بھی تعلیم میں AI کے مخصوص استعمالات پر روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے کلیدی مقرر پروفیسر روی کانت (ڈین و صدر، اسکول آف ایجوکیشن، سینٹرل یونیورسٹی آف ساؤتھ بہار) تھے، جنہوں نے تحقیق میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت، اخلاقی استعمال اور اس کے تعلیمی امکانات پر گفتگو کی۔ مہمانِ اعزازی جناب محمد فیض عالم (ڈسٹرکٹ کمانڈنٹ، دربھنگہ، حکومت بہار) نے شرکت کی، جو سی ٹی ای دربھنگہ کے پہلے بیچ کے سابق طالب علم بھی ہیں۔ پروفیسر اشفاق انجم (سابق پرنسپل) نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس کی صدارت پروفیسر الیاس حسین (سابق پرو وائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں واضح کیا کہ AI اساتذہ کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی عمل میں معاون کردار ادا کر سکتا ہے۔
کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک، مانو ترانہ اور استقبالیہ گیت سے ہوا۔ پروفیسر محمد فیض احمد (پرنسپل، سی ٹی ای دربھنگہ اور کنوینر) نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ شریک کنوینرز پروفیسر ایڈم پال پٹیٹی، پروفیسر شفاعت احمد اور ڈاکٹر بیگ منتجیب علی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد افروز عالم نے کی جبکہ ڈاکٹر فخر الدین علی احمد نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔

پلینری سیشن کی نظامت جناب سونو رجک نے کی۔ مختلف ریسورس پرسن نے خطاب کیا جن میں ڈاکٹر ششی بھوشن رائے، ڈاکٹر اروند ملن، ڈاکٹر آفاق ہاشمی، ڈاکٹر سید توقیر امام، ڈاکٹر بختیار احمد، ڈاکٹر نہال انصاری، ڈاکٹر مکیش کمار مینا، ڈاکٹر عمران انصاری اور ڈاکٹر شیت لا پرساد شامل تھے۔
کانفرنس کے دوران کل آٹھ تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں چار آف لائن اور چار آن لائن تھے۔ اردو، ہندی اور انگریزی میں ۱۵۰ سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ موضوعات میں مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات، تعصب، رازداری، تدریسی سالمیت اور اساتذہ کی تربیت جیسے اہم پہلو شامل رہے۔
مشاورتی کمیٹی میں ڈاکٹر ظفر اقبال زیدی، ڈاکٹر مظفر اسلام اور ڈاکٹر محمد افروز عالم شامل تھے۔ آرگنائزنگ کمیٹی میں فیکلٹی ممبران اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے ساتھ ساتھ طلباء کی بڑی تعداد نے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ ملک بھر سے ۳۰۰ سے زائد مندوبین اور طلباء نے شرکت کی۔
اختتامی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر آفتاب عالم نے کی جبکہ ڈاکٹر مظفر الاسلام نے اظہار تشکر پیش کیا۔ کانفرنس کا اختتام قومی ترانہ کے ساتھ ہوا۔
Comments are closed.