مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے انٹرڈسپلینری سنٹر فار آرٹیفیشیئل انٹلی جنس کے زیر اہتمام اے آئی پر مبنی دو ہفتہ کا فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا
علی گڑھ، 12 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انٹرڈسپلینری سنٹر فار آرٹیفیشیئل انٹلی جنس کے زیر اہتمام دو ہفتوں پر مشتمل فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام بعنوان ”سبھی کے لئے اے آئی: پائیدار ترقی کے لئے حقیقی دنیا کے مسائل کا بین موضوعاتی حل“ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔ یہ پروگرام انڈیا اے آئی مشن کے تحت مجوزہ اے آئی امپیکٹ سمّٹ 2026سے قبل کی تقریب کے طور پر منعقد ہوا، جس میں ماہرین نے 20 الگ الگ سیشن میں شرکاء کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کی جامع سمجھ فراہم کی اور بنیادی تصورات سے لے کر جدید موضوعات جیسے ڈیپ لرننگ، کمپیوٹر وژن، ٹرانسفارمر آرکیٹیکچرز، نیچرل لینگویج پروسیسنگ، پرامپٹ انجینئرنگ اور ملٹی ماڈل اے آئی تک کا احاطہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی اخلاقی پہلوؤں، سماجی اثرات اور پائیدار ترقی کے تناظر میں اے آئی نظاموں کے ذمہ دارانہ استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔
سیاسیات، تعلیم، ریموٹ سینسنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ اور طب سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز نے پروگرام میں شرکت کی۔ انٹرایکٹیو لیکچرز اور عملی تربیتی نشستوں کے ذریعے شرکاء کو تدریس، تحقیق اور جدت طرازی سے متعلق جدید اے آئی ٹولز اور طریق ہائے عمل سے روشناس کرایا گیا۔
پروگرام کے اختتام پر 20 سوالات پر مشتمل ایک تشخیصی امتحان بھی منعقد کیا گیا۔ اختتامی تقریب میں پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ، پروفیسر ارمان رسول فریدی، پروفیسر راشد علی، ڈاکٹر ندیم اختر، ڈاکٹر تمیم احمد اور ڈاکٹر اشرف الحق نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت مس عائشہ خان نے کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں قومی یوم سائنس پر خصوصی خطبات کا اہتمام کیا جائے گا
علی گڑھ، 12 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا شعبہ طبیعیات آئندہ 17 فروری کو قومی یوم سائنس کے موقع پر مختلف علمی مذاکروں اور خطبات کا اہتمام کرے گا۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گی، جبکہ ہیم وتی نندن بہوگنا گڑھوال یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ایس کے سنگھ مہمان اعزازی ہوں گے۔اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف میتھ میٹیکل سائنسز، چنئی کی پروفیسر ڈی اندومتی کا خصوصی خطبہ ہوگا۔ 17، 18 اور 19 فروری کو کوانٹم میکینکس اور خصوصی نظریہ اضافیت پر تین خصوصی خطبات منعقد کیے جائیں گے۔
اس دوران فزکس بلیٹن2026 کا اجراء عمل میں آئے گا اور تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوگی۔ یہ پروگرام قومی یومِ سائنس تقریبات کے کنوینر ڈاکٹر جے پرکاش کی نگرانی اور پروفیسر محمد سجاد اطہر کی قیادت میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے اساتذہ نے مولانا آزاد میڈیکل کالج، نئی دہلی میں منعقدہ تھائرائیڈ سی ایم ای میں اپنی تحقیق پیش کی
علی گڑھ، 12 فروری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فزیالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انور حسن صدیقی اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد فراز نے مولانا آزاد میڈیکل کالج، نئی دہلی میں منعقدہ تھائرائیڈ سی ایم ای 2026 میں اپنی تحقیق پیش کی۔
ڈاکٹر صدیقی نے اپنی پیشکش میں ٹائپ 2 ذیابیطس ملیٹس کی پیچیدگیوں کی ابتدائی تشخیص پر زور دیا اور دل کی دھڑکن میں تغیر (ایچ آر وی) اور نرو کنڈکشن ویلاسٹی (این سی وی) اسٹڈیز کے کردار کو اجاگر کیا۔ انھوں نے ابتدائی تشخیص اور کلینیکل نتائج بہتر بنانے میں نان انویزیو اور الیکٹرو فزیولوجیکل ٹولز کی افادیت کا ذکر کیا۔
ڈاکٹر احمد فراز نے تھائرائیڈ عوارض میں نرو کنڈکشن اسٹڈیز کی تشخیصی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ الیکٹروفزیالوجیکل اسسمنٹ تھائرائیڈ کے نقص سے وابستہ پیریفیرل نیوروپیتھی کی شناخت اور مؤثر کلینیکل مینجمنٹ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
شعبہ فزیالوجی کے چیئرمین پروفیسر محمد اسلم اور پروفیسر گل آر نبی خاں نے دونوں اساتذہ کو مبارکباد پیش کی اور قومی سطح کے علمی فورمز میں وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ یونیورسٹی کی تحقیقی رسائی کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے پروفیسر حماد عثمانی نے قومی کانفرنس میں جدیدترین طبی تکنیک کا عملی مظاہرہ کیا
علی گڑھ، 12 فروری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اینستھیسیالوجی کے پروفیسر حماد عثمانی،کنسلٹنٹ انجارچ، پین کلینک نے حال ہی میں حیدرآباد میں منعقدہ انڈین سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف پین کی قومی کانفرنس میں شرکت کی اور جدید ریڈیو فریکوئنسی نیوروموڈیولیشن پر ویڈیو پرزنٹیشن کیا، جس میں ٹرائیڈنٹ کینیولا کا استعمال کرکے وجع المفاصل کے مریضوں میں گھٹنے کے درد کے علاج کا طریقہ کار کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ ہندوستان میں ٹرائیڈنٹ کینیولا تکنیک کا پہلا عملی مظاہرہ تھا، جسے کانفرنس میں خاصی توجہ ملی۔
انہوں نے اس طبی طریقے کی مرحلہ وار تفصیل بیان کی اور مریضوں کے لیے اس کے ممکنہ فوائد پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر عثمانی نے بتایا کہ اس طبی پروسیجر کے لیے درکار جدید ریڈیو فریکوئنسی مشین حال ہی میں جے این میڈیکل کالج، اے ایم یو نے حاصل کی ہے، تاکہ ناقابل علاج درد میں مبتلا مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ نفسیات میں ٹیچ فار انڈیا کے ساتھ مکالماتی سیشن کا اہتمام
علی گڑھ، 12 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات نے رضاکار تنظیم ٹیچ فار انڈیا کے ساتھ ایک مکالماتی سیشن منعقد کیا، جس کا مقصد طلبہ کو ہندوستانی نظامِ تعلیم میں درپیش عصری چیلنجوں سے آگاہ کرنا اور بامعنی پیشہ ورانہ شمولیت کے مواقع پر غور و خوض کرنا تھا۔
سیشن کا افتتاح شعبہ کے چیئرمین پروفیسر شاہ عالم نے کیا، جبکہ نظامت ٹیچ فار انڈیا کی ریکروٹمنٹ مینیجر محترمہ شردھا ڈی نے کی۔ انہوں نے ہندوستان میں تعلیمی عدم مساوات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً پانچ کروڑ بچے بنیادی خواندگی اور حساب کی مہارتوں سے محروم ہیں، جبکہ صرف تقریباً 25 فیصد طلبہ اعلیٰ تعلیم تک پہنچ پاتے ہیں۔
تنظیم کے اس وژن کی وضاحت کرتے ہوئے کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے، محترمہ شردھا نے ٹیچ فار انڈیا فیلوشپ کا تعارف کرایا، جو دو سالہ، کل وقتی اور با معاوضہ قیادت سازی پروگرام ہے۔ اس کے تحت منتخب فیلو حضرات کو نو بڑے شہروں کے کم وسائل والے اسکولوں میں تعینات کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس فیلوشپ کو ایسے قائدین کی تیاری کا مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا جو نظامِ تعلیم میں بنیادی اصلاحات کے تئیں پرعزم ہوں۔
اس سیشن میں ایم اے اور بی اے کے طلبہ نے شرکت کی اور اس کے لئے درخواست دینے کے طریقہ کار، فیلڈ کے تجربات، تعلیمی اقدامات میں نفسیاتی تربیت کے کردار، اور سماجی شعبے میں طویل مدتی پیشہ ورانہ مواقع جیسے موضوعات پر تفصیلی گفت و شنید کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں ضلع سطح کے اسپورٹس مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کے لئے تہنیتی تقریب منعقد
علی گڑھ، 12 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں مختلف ضلعی سطح کے کھیل مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کے اعزاز میں ایک تہنیتی تقریب منعقد کی گئی۔
وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن نے کامیاب طالبات میں میڈلز اور ٹرافیاں تقسیم کیں اور ان کی محنت، لگن اور کھیل کے جذبے کو سراہا۔ قابل ذکر ہے کہ اسکول کی فٹبال ٹیم نے علی گڑھ فٹبال اکیڈمی میں منعقدہ اوپن ٹورنامنٹ میں پہلی رنر اپ پوزیشن حاصل کی۔ ٹیم میں ثنا، یوگیتا، ونشیکا، انزیلا، عمرہ، وریشا، فائزہ، دوّیانشی، عائشہ اور زوفاشان شامل تھیں۔
دوسری طرف نمائش گراؤنڈ میں منعقدہ آرم ریسلنگ مقابلے میں عمرہ نے دوسرا مقام جبکہ روشی نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ تائیکوانڈو میں آرچی یادو نے پہلا مقام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ روشی نے مہارانی اہلیابائی ہولکر اسٹیڈیم میں منعقدہ شاٹ پُٹ مقابلے میں تیسرا مقام حاصل کیا۔
ڈاکٹر صبا حسن نے کھیل مقابلوں کے لیے طالبات کی تیاری میں اسپورٹس ٹیچرز ذیشان نواب اور شمشاد نثار کی رہنمائی کو سراہا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ نسواں و قبالت میں قبل از پیدائش جنین کی نگرانی پرمبنی قومی ورکشاپ منعقد
علی گڑھ، 12 فروری: اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ نسواں و قبالت نے یو جی سی ایم ایم ٹی ٹی سی آڈیٹوریم میں ”قبل از پیدائش جنین کی نگرانی: مبادیات سے لے کر جدید مانیٹرنگ تک“ کے موضوع پر ایک قومی ورکشاپ منعقد کی جس میں اساتذہ، ریزیڈنٹس اور طبی ماہرین شریک ہوئے۔
ورکشاپ میں جنین کی منظم نگرانی اور جدید زچگی امیجنگ پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ کلینیکل فیصلہ سازی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر سمرین ظہیر، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ ریڈیالوجی، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی ایچ) نے پہلے سیشن میں فیٹل بایومیٹری، ایمنیٹک فلوئیڈ اسسمنٹ، بایوفزیکل پروفائل اسکورنگ اور زیادہ خطرہ والے حمل میں ڈوپلر اسٹڈیز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پی سی پی این ڈی ٹی ایکٹ کے تحت اخلاقی و قانونی ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا۔
پروفیسر مہتاب احمد، چیئرمین، شعبہ ریڈیو ڈائیگنوسس، جے این ایم سی ایچ نے دوران حمل ڈوپلر الٹرا سونوگرافی کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ویوفارم کی تشریح اور جنین کو لاحق خطرات کی ابتدائی تشخیص میں اس کے کردار پر تفصیل سے گفتگو کی۔ اس کے علاوہ ایچ آئی ایم ایس آر، نئی دہلی کی ڈاکٹر لبنیٰ انعام نے جنین کی نگرانی کی حکمت عملیوں اور زیادہ خطرہ والے حمل کی فوری نشاندہی کی اہمیت پر اظہارخیال کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں لیپروسکوپک اناٹومی پر توسیعی خطبہ کا اہتمام
علی گڑھ، 12 فروری: جے این میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اناٹومی کے چیئرمین پروفیسر فضل الرحمان کی رہنمائی میں ”پیٹ کی لیپروسکوپک اناٹومی“ کے موضوع پر ایک توسیعی خطبہ کا اہتمام کیا گیا۔
ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، نئی دہلی کے ڈین پروفیسر مشرف حسین نے اپنے توسیعی خطبہ میں کم از کم مداخلتی سرجری (منیملی اِنویزیو سرجری) کے دور میں علم تشریح الاعضاء (اناٹومی) کی کلینیکل اہمیت کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کلاسیکی اناٹومی کو جدید جراحی تخصصات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ کلینیکل مہارت اور درستگی میں اضافہ ہو سکے۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے شعبے کی اس کاوش کو سراہا اور مسلسل علمی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد اور پرنسپل جے این میڈیکل کالج پروفیسر انجم پرویز نے طلبہ اور اساتذہ کو ایسے علمی فورمز میں فعال شرکت کی ترغیب دی۔ مہمانِ مقرر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر فضل الرحمٰن نے کم مداخلتی جراحی کے تناظر میں اناٹومی کے تصورات کی ازسر نو تفہیم کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر سینئر اساتذہ، پوسٹ گریجویٹ اور انڈرگریجویٹ طلبہ موجود رہے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر وسوانی اور ڈاکٹر پربین نے کی، جبکہ ڈاکٹر نیما عثمان نے کلمات تشکر ادا کیے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو وائس چانسلر کے بدست دو علمی کتابوں کا اجراء
علی گڑھ، 12 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اجمل خاں طبیہ کالج، اے ایم یو کے شعبہ کلیات میں انگریزی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ناز مصطفیٰ کی تدوین کردہ دو علمی کتابوں کا اجراء اپنے دفتر میں کیا۔
پہلی کتاب ”پریکٹس بُک اِن انگلش گرامر اینڈ کمپوزیشن“ خاص طور پر پری طب کے طلبہ کے لیے تیار کی گئی ہے۔ دوسری کتاب ”ایکوز آف دی ارتھ: نیریٹیوز آن سسٹینبلیٹی اینڈ انوائرمنٹل چینج“ ایک مرتب شدہ مجموعہ ہے، جسے ڈاکٹر احتشام کے اشتراک سے مدوّن کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ماحولیاتی پائیداری اور ماحولیاتی ذمہ داری سے متعلق عصری مباحث کا احاطہ کرتی ہے۔
کتابوں کی رونمائی کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ان علمی کاوشوں کو سراہا اور اس امر پر زور دیا کہ ایسی تحقیقی و تدریسی خدمات نہ صرف زبان کی ترقی میں معاون ہوتی ہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم عالمی مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر ناز مصطفیٰ نے کہا کہ گرامر اور کمپوزیشن کی کتاب پری طب کے طلبہ میں خاص طور سے بنیادی لسانی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ سائنسی افکار کو وضاحت اور اعتماد کے ساتھ پیش کر سکیں۔
رسم اجراء تقریب میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، ڈین فیکلٹی آف یونانی میڈیسن پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف، شعبہ انگریزی کے پروفیسر محمد رضوان خان، چیئرمین شعبہ کلیات پروفیسر ایف ایس شیرا نی، مصنفہ ڈاکٹر ناز مصطفیٰ اور شریک مدیر ڈاکٹر احتشام سمیت اساتذہ اور دیگر معززین موجود تھے۔
٭٭٭٭٭٭
”ماحولیاتی تعلیم اور تحفظ“ پر اے ایم یو کی پروفیسر کا تیار کردہ سویم کورس،ایف وائی یو پی کے طلبہ کے لیے شروع
علی گڑھ، 12 فروری: شعبہ وائلڈ لائف سائنسز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پروفیسر عروس الیاس کی جانب سے چار سالہ انڈرگریجویٹ پروگرام (ایف وائی یوپی) کے چھٹے سمسٹر کے طلبہ کے لیے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ”ماحولیاتی تعلیم اور تحفظ“ کے عنوان پر تیار کردہ آن لائن کورس، سویم پورٹل پر لازمی دو کریڈٹ پیپر کے طور پر لانچ کر دیا گیا ہے۔ یہ کورس 16 فروری سے شروع ہوگا اور سویم پورٹل پر مفت اندراج 28 فروری تک جاری رہے گا۔ جو طلبہ آن لائن امتحان میں شرکت کرنا چاہیں گے، انہیں مقررہ فیس ادا کرکے رجسٹریشن کرانا ہوگا۔
یہ پیپر سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایات اور یو جی سی رہنما خطوط کے مطابق انڈرگریجویٹ سطح پر ماحولیاتی تعلیم کو لازمی قرار دینے کی تعمیل میں متعارف کرایا گیا ہے۔”ماحولیاتی تعلیم اور تحفظ“کے عنوان سے یہ پیپر چھٹے سمسٹر کے طلبہ کے لئے ہے،جس میں بی اے، بی ایس سی، بی کام، بی ٹیک کے طلبہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ کم از کم اہلیت بارہویں جماعت ہے۔
یہ پروگرام صنعت اور پیشہ ورانہ شعبوں، بالخصوص تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ ماحولیاتی آگہی اور پائیدار ترقی کے نظریات کو فروغ دیتا ہے۔ کورس 30 اپریل کو مکمل ہوگا، جبکہ امتحان 18 جون کو منعقد کیا جائے گا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو، ملاپورم سینٹر میں لیگل رائٹنگ پر آن لائن سیشن کا اہتمام
علی گڑھ، 12 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملاپورم سینٹر، کیرالہ کی لاء سوسائٹی نے بی اے ایل ایل بی (آنرز) پروگرام کے طلبہ کے لیے”لیگل رائٹنگ اور ریسرچ“ کے موضوع پر ایک آن لائن علمی سیشن کا اہتمام کیا، جس میں وِلّاکالج، مالدیپ کے ایڈجنکٹ سینئر لیکچرر مسٹر محمد عمران نے طلبہ کو اپنی قانونی تعلیم کے ابتدائی مرحلے ہی سے لکھنے کی مشق کرنے اور مسترد کیے جانے کے خوف پر قابو پانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے معتبر و مستند مآخذ کی شناخت، مدیران سے رابطہ، معقول اشاعتی پلیٹ فارمز کے انتخاب اور حوالہ جات کے معیارات کو برقرار رکھنے کے سلسلہ میں عملی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی پروجیکٹس میں تحقیقی معیار پر سختی سے عمل کرنا چاہئے تاکہ وہ قابل اشاعت ہوں۔
اے ایم یو، ملاپورم سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم شاہ الحمید نے کہا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں طلبہ کی تحقیقی و تحریری صلاحیتوں کو نمایاں طور پر فروغ دیتی ہیں۔ پروگرام کی نظامت لاء سوسائٹی کے جوائنٹ سکریٹری ذہین نے کی، جبکہ سکریٹری ندیم اختر نے کلمات تشکر ادا کیے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ اسلامی علوم میں اسلامی نظام وراثت پر لیکچر کا اہتمام
علی گڑھ، 12 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی علوم میں ”وراثت اور اسلام: ایک ریاضیاتی نقطہئ نظر“ کے عنوان پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت مفتی محمد زاہد علی خان نے کی۔ انہوں نے اسلامی نظامِ وراثت کو ایک متوازن اور خدائی رہنمائی پر مبنی نظام قرار دیا جو عدل و انصاف اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر ضیاء الدین فلاحی نے وراثت کے بڑھتے ہوئے تنازعات کے تناظر میں اس موضوع کی عصری اہمیت پر روشنی ڈالی۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں وراثت میں مسلم خواتین کے حصے پر گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت سے خواتین کو متعین اور محفوظ حصہ عطا کرتا ہے۔ انھوں نے وراثت کے قوانین کے سلسلہ میں صنفی ناانصافی سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کیا۔
کلیدی خطبہ انجینئر انور عالم، ڈائریکٹر، اسلامک انہیریٹنس ریسرچ سینٹر، نئی دہلی نے پیش کیا۔ انہوں نے عملی مثالوں اور عددی توضیحات کے ذریعے وراثت کی تقسیم کے سائنسی اور ریاضیاتی اصولوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے ہبہ اور وصیت کے تصورات پر بھی روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ قرآن کے مقررہ حصوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
اس موقع پر انجینئر انور عالم کی کتاب ”اِنہیریٹینس شیئرز آف مسلم ویمن“ کا پروفیسر ضیاء الدین فلاحی، پروفیسر آدم ملک خان (چیئرمین، شعبہ اسلامی علوم)، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی اور مفتی زاہد علی خان نے مشترکہ طور پر اجراء کیا۔
کلماتِ تشکر پیش کرتے ہوئے پروفیسر آدم ملک خان نے وراثت کے قوانین سے متعلق عوامی بیداری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔سوال و جواب کے سیشن پر پروگرام اختتام کو پہنچا۔
Comments are closed.