کتاب "اسلام:امن وسلامتی کا مذہب”حق کے متلاشی کے لئے "زاد راہ”

 

مصنف: مفتی عبد الکریم ندوی گنگولی

مبصر: _محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

 

جب افقِ عالم پر اسلام کے خلاف تعصب کی دھول کی وجہ سےنگاہیں دھندلا رہی ہوں اور سچائی کی پہچان مشکل ہوتی جا رہی ہو، جب انسانیت کے گلستاں میں نفرتوں کی آندھیاں اس شدت سے چل رہی ہوں کہ محبت کے نازک پھول مرجھانے لگیں، رواداری کے پتے جھڑنے لگیں اور اخوت کی شاخیں ٹوٹنے لگیں، ایسے وقت میں انسانیت نوازی اور اخوت و بھائی چارہ کی بات زبان پر لانا یا قلم و قرطاس پر بکھیرنا انسانیت کے تعلق سے فکرمندی کی بھی دلیل ہے اور ہمت وحوصلہ کی بات بھی، یہی فکر مندی اور حوصلہ وہمت مفتی عبد الکریم ندوی گنگولی نے دکھائی ہے اور ایک بڑی اہم کتاب تالیف کی ہے۔

یہ کتاب محض اوراق کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ عصرِ حاضر کے سلگتے ہوئے سوالات کے جواب میں ایک "خوشبوئے امن” ہے، جو قاری کے دل و دماغ کو معطر کر دیتی ہے۔

مصنف نے اسلام کو ایک ایسے شجرِ سایہ دار سے تشبیہ دی ہے، جس کی جڑیں وحیِ الٰہی میں پیوست ہیں اور جس کی شاخیں رہتی دنیا تک انسانیت کو امن و رواداری کا سایہ فراہم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، دشمنانِ اسلام کی سازشوں اور مستشرقین کے اعتراضات کو تاریک بادلوں کی مانند دکھایا گیا ہے، جوآفتابِ حقیقت کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

مصنف نے بڑے دلنشین پیرائے میں واضح کیا ہے کہ اسلام کی تاریخ "تلوار کی دھار” سے نہیں؛ بلکہ "اخلاق کی خوشبو” سے لکھی گئی ہے۔

اس کتاب کا ہر باب علم و حکمت کا ایک الگ جزیرہ ہے:

* پہلا باب عالمی امن کی ضمانت کے طور پر اسلام کو جدید تہذیب کے مقابلے میں ایک "مستحکم حصار” کے طور پر پیش کرتا ہے۔

* تیسرا اور چوتھا باب اسلامی تعلیمات کو انسانیت کے لیے ایک ایسے عالمگیر منشور کی صورت میں دکھاتے ہیں، جہاں مساوات کا زمزم بہتا ہے اور رنگ و نسل کے بت پاش پاش ہو جاتے ہیں۔

* سیرتِ طیبہ کا ذکر کتاب کا وہ حصہ ہے، جہاں مصنف کا قلم عقیدت کے پھول برساتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو "پیغمبرِ امن” کے طور پر پیش کرتے ہوئے آپ کے کریمانہ کردار اور غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کو ایک ایسی بارانِ رحمت قرار دیا گیا ہے، جو دوست اور دشمن، سب پر یکساں برستی ہے۔

کتاب کی زبان سادہ مگر پرتاثیر ہے، جس میں تحقیق کا سمندر بھی ہے اور تنقید کا توازن بھی۔ مصنف نے مغرب کی اسلام دشمنی کا جائزہ لیتے ہوئے "لوئی نہم کے وصیت نامے” سے لے کر "سر جادو ناتھ سرکار” کی کتب تک، ہر زہر آلود تیر کا جواب علمی ڈھال سے دیا ہے۔

یہ کتاب ایک ایسی حجتِ قاطع ہے، جو اسلام پر لگائے گئے دہشت گردی اور جبر کے الزامات کو دلائل کی آندھی میں خس و خاشاک کی طرح اڑا دیتی ہے۔

مفتی عبد الکریم ندوی کی یہ کاوش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسانیت کی بقا نہ تو مادیت پرستی میں ہے اور نہ ہی انتہا پسندی میں؛ بلکہ اس کا راز اسلام کے اس نظامِ حیات میں پوشیدہ ہے، جو امن، سلامتی اور عدل و انصاف کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔

یہ تصنیف ہر اس شخص کے لیے "زادِ راہ” ہے، جو حق کی تلاش میں ہے اور ہر اس لائبریری کی زینت بننے کے لائق ہے، جہاں فکر و شعور کی آبیاری کی جاتی ہے۔

میں مفتی عبد الکریم ندوی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے وقت کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک اہم علمی کام سرانجام دے کر طبقۂ علماء کی طرف سے ایک فرض کفائی کی ادائیگی کی ہے، مصنف جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور ، کرناٹک کے ممتاز خوشہ چینوں میں ہیں، پھر ندوۃ العلماء لکھنؤ سے عربی ادب میں اختصاص کیا، اس کے بعد جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور میں ایک سالہ تدریب افتاء وقضاء بھی کیا، پھر باقاعدہ قضاء کی تربیت کیلئے ملک کے معروف اور قدیم ادارہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ گئے اور وہاں سے قضاء کی تربیت حاصل کی، اس وقت موصوف اپنے مادر علمی جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ضلع اڈپی کے دارالقضاء میں نائب قاضی بھی ہیں، علاقہ کی ایک مسجد میں امامت وخطابت کے بھی فرایض انجام دے رہے ہیں، عزیز موصوف سے ہم تمام اساتذہ کو بہت توقعات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو ہمیشہ رواں دواں اور تعب نا آشنا رکھے، اس کتاب کو نافع بنائے، مصنف اوران کے اساتذہ کے لئے ذخیرۂ آخرت بنائے، آمین یا رب العالمین!

 

نام کتاب: *_اسلام – امن وسلامتی کا مذہب_*

مصنف: _مفتی عبدالکریم ندوی، گنگولی_

پیش لفظ: *_حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی دامت برکاتہم_*

مقدمہ: *_حضرت مولانا بلال صاحب حسنی ندوی حفظہ اللہ_*

تقریظ: *_مولانا عمرین محفوظ رحمانی حفظہ اللہ_*

کل صفحات:336

اصل قیمت: 500

رعایتی قیمت: 300 مع ڈاک خرچ

رابطہ:

واٹس ایپ ،فون پے 8105483322

کالنگ، گوگل پے 8105483322

*_اپنا پتہ مع پن کوڈ ارسال کیجیے_*

*_تعداد زیادہ ہو تو ان شاء اللہ مزید رعایت کی جائے گی_*

*_ادائیگی کے بعد سلپ واٹس ایپ ضرور کیجئے_*

 

محمد جمیل اختر جلیلی

پوچری، دھنباد

(جھارکھنڈ)

 

Comments are closed.