ماہ رمضان کے مبارک ایام اور امام نووی رحمہ اللہ کے علمی معمولات
مولانا مجیب الرحمن عتیق ندوی
ناظم تعلیمات دار العلوم امام ربانی
رمضان المبارک کا مہینہ اور اس کے ایام اپنی قدر وقیمت، برکت و فضیلت میں پورے سال کا سب سے قیمتی سرمایہ، اصل جوہر، ’’بیت الغزل‘‘اور بے بدل ایام ہوتے ہیں، انسان ان قیمتی ایام ولمحات کو جس طرح گذارتا ہے پورے سال پر اس کے ظاہری و روحانی اثرات مرتب ہوتے ہیں،بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رمضان المبارک کے تربیتی قالب میں انسان کی سیرت وکردار ،اخلاق وصلاح کی ایسی تعمیر وتشکیل ہوتی ہے جو پورے سال پر اثر انداز ہوتی ہے، غالبا اس کا اشارہ حدیث نبوی نے الفاظ سے سمجھا جاسکتا ہے ’’ ورمضان إلى رمضان، مكفرات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر ‘‘ اگر معاصی وگناہوں سے بچنے کا اہتمام ہو، اور حسن عمل کے ساتھ رمضان گذارا جائے تو آئندہ رمضان تک پورے سال کے گناہوں کا کفارہ ومعافی کا ذریعہ بن جاتاہے،
آنحصرت ﷺ اس ماہ میں عبادت وتلاوت، اور اعمال خیر کا خاص اہتمام فرماتے تھے، حضور ﷺ کے بارے میں صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں، ” كان أجود الناس بالخير، وكان أجود ما يكون في رمضان ” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعمال خیر کے معاملہ اور لوگوں کی نفع رسانی میں بے انتہا سخی وفیاض تھے، ماہ رمضان میں آپ کی یہ صفت فیاضی، اعمال خیر کا جذبہ اورسخاوت عروج پر ہوتا تھا”
سلف صالحین کا حال یہ تھا کہ وہ اس ماہ میں اعمال خیر کے اہتمام، طاعت وعبادت، دعا وذکر، اور تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہونے کو ترجیح دیتے تھے، بلکہ ان کاموں کے لئے اپنی دیگر مشغولیات کو ترک دیتے تھے، مشہور محدث امام محمد بن شہاب زہری ؒکے بارے میں منقول ہے ، "كان يقول إذا دخل رمضان، إنما هو تلاوة القرآن واطعام الطعام ” جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا توامام زہری ؒ فرماتے تھے کہ اس ماہ میں اب صرف دو اہم کام ہیں، تلاوت قرآن اور لوگوں کو کھانا کھلانا” یعنی اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت، اور لوگوں کو کھانا کھلانے کا اہتمام کرناچاہئیے، روایت میں مذکور سخاوت، اور جود وکرم کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ لوگوں کے مالی تعاون، ضرورت مندوں کی امداد، اورمہمان نوازی وغیرہ امور میں بے انتہا کرم و سخاوت کا معاملہ فرماتے تھے، اور یہ بھی مراد ہے کہ جملہ اعمال خیر، طاعات و عبادت کا معمول عام دنوں کے مقابلہ رمضان المبارک میں فزوں تر ہوتا تھا،
امام ابن رجبؒ حنبلی نے امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا ہے،امام شافعیؒ فرماتے ہیں ” أحب للرجل الزيادة بالجود في شهر رمضان المبارك اقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم، ولحاجة الناس فيه إلى مصالحهم، ولتشاغل كثير منهم بالصوم والصلاة عن مكاسبهم” میں یہ بہتر سمجھتا ہوں کہ رمضان المبارک میں انسان زیادہ سے زیادہ مالی سخاوت اختیار کرے،لوگوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے فیاضی کا معاملہ کرے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی معمول تھا، اس عمل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء واتباع بھی ہے،اورانسانوں کے ساتھ باہمی تعاون وہمدردی ،سخاوت وخیر سگالی بھی ہے،بہت سے لوگ رمضان کی عبادت، نماز ، روزہ کی مشغولیت کی وجہ سے مالی امور اور تعاون کے ضرورت مند ہوتے ہیں،وہ عبادت کی مشغولیت کی وجہ سے اپنے ذریعہ معاش میں مشغول ہونے کا موقع نہیں پاتے ہیں”
بعض سلف صالحین کا معمول تھا کہ وہ ذاتی عبادت وطاعت کے ساتھ اس ماہ کے اوقات کو خاص طور پر علمی معمولات، اور قرآن و حدیث کی تعلیم میں گذارتے تھے، میں اس مضمون میں مشہور محدث، نابغہ زمانہ امام محی الدین یحیی بن شرف نووی ؒکے بعض علمی معمولات کا تذکرہ کروں گا،
امام نووی کی ولادت محرم الحرام کے درمیانی عشرے میں 631 ہجری بمطابق 1233ء میں دمشق کے علاقے ’’حوران ‘‘ سے متصل ایک بستی’’ نوی ‘‘میں ہوئی، اسی وجہ سے آپ ’’نووی‘‘ کہلاتے تھے، امام نوویؒ 19 سال کی عمر میں دمشق تشریف لائے، وہاں مختلف اساتذہ سے علم حاصل کیا، پھر مختلف مدارس کی مسند ہائے درس کو زینت بخشی، تصنیف و تالیف کا نہایت وقیع کام کیا، جن میں صحیح مسلم کی شرح، ’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘، ’’کتاب الاذکار‘‘، اور’’ ریاض الصالحین‘‘، ’’منھاج الطالبین‘‘ جیسی نہایت اہم کتابیں ہیں جن سے ہزاروں نہیں، لاکھوں افراد فیضیاب ہوتے اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں، 28 سال دمشق میں گزارنے کے بعد امام صاحب اپنے مولد ’’نویٰ ‘‘میں واپس تشریف لے گئے اور اسی سال 676 ہجری میں کچھ عرصہ بیمار رہ کر وفات پاگئے، لیکن اپنی علمی خدمات کی وجہ سے علمی دنیا میں زندہ جاوید ہو گئے، شیخ یاسین یوسف مراکشی ؒ فرماتے ہیں : میں نے پہلی مرتبہ یحی بن شرف نووی ؒکو اس وقت دیکھا جب وہ تقریبا دس برس کے تھے، بچے انہیں اپنے ساتھ کھیلنے کے لیے بلا رہے تھے لیکن وہ کھیلنے کو تیار نہ تھے۔ جب بچوں نے زبردستی کی تو وہ روتے ہوئے قران پڑھنے لگے، میں نے یہ حالت دیکھی تو ان کے استاد سے ملاقات کی اور کہا :’’اس بچے پر خصوصی توجہ دیجئے! امید ہے کہ یہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم وزاہد بنے گا اور لوگ اس سے فیضیاب ہوں گے‘‘
امام نووی ؒ نے اپنی بعض قیمتی اور بے مثال کتابوں کی تالیف کا آغاز، یا ان کتابوں کی تکمیل رمضان المبارک کے اوقات کی برکت کی وجہ سے اس مہینہ میں فرمائی، اسی طرح علمی مجالس اور تدریس واجازت حدیث کی نورانی مجالس بھی منعقد فرماتے تھے، امام محترم رحمہ اللہ کی رمضان المبارک میں علمی مشغولیات کا مختصر تذکرہ ذیل میں پیش ہے،
1 امام نووی ؒکی ایک انتہائی مشہور و مقبول کتاب ” الاذکار” ہے، اس کتاب کا پورا نام ” حلية الأبرار وشعار الأخيار في تلخيص الدعوات والأذكار المستحبة في الليل والنهار” ہے اس کتاب میں امام نووی رحمہ اللہ نے مختلف مواقع کی مسنون دعائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات ِذکر، دعا و ذکر کے مقام و اہمیت، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاوں کا بے نظیر ذخیرہ جمع فرمایا ہے، اس کتاب کی تالیف کا آغاز امام نووی رحمہ اللہ نے رمضان المبارک میں فرمایا تھا، خود فرماتے ہیں "ابتدأت فيه يوم الخميس الرابع والعشرين من شهر رمضان المبارك سنة ست وستين وستمأة” میں نے اس کتاب کی تالیف کا آغاز بروز جمعرات 24 رمضان المبارک 666 ہجری میں کیا ہے”
2 ا مام نوویؒ کی دوسری اہم اور مشہور زمانہ کتاب ” روضة الطالبين ومنهاج المفتين” ہے، یہ فقہ شافعی کی اہم کتابوں اور مصادر میں ہے، اس کی تقریبا آٹھ جلدیں ہیں، اس میں امام محترم نے ’’رافعی‘‘ کی کتاب ” فتح العزیز” کا جامع اختصار کیا ہے، اس کی تالیف کا آغاز بھی امام محترم نے رمضان کے مبارک اوقات میں فرمایا تھا، حافظ جلال الدین سیوطی نے ” المنھاج السوی فی ترجمة الإمام النووي” میں لکھا ہے” رأيت بخطه فيها أنه ابتدأ في تأليفها يوم الخميس الخامس والعشرين من رمضان سنة ست وستين وستمأة” میں نے امام نوویؒ کی ایک قلمی تحریر دیکھی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے اس کتاب کی تالیف کا آغاز بروز جمعرات 25 رمضان المبارک 666ہجری میں کیا ہے” بہ ظاہر اوپر مذکور کتاب ’’الاذکار‘‘ اور اس کتاب کا آغاز ایک ہی دن ہوا ہے، اس لحاظ سے صحیح تاریخ 24 رمضان ہی ہونا مناسب معلوم ہوتا ہے،
3 امام نوویؒ کی ایک اور مشہور کتاب ” منھاج الطالبین ” ہے، یہ کتاب بھی فقہ شافعی کی اہم اور بنیادی کتابوں میں شمار ہے، اس میں امام نووی رحمہ اللہ نے رافعی کی ” المحرر” کا انتہائی جامع ومانع اور بہترین فاضلانہ اختصار کیا ہے، اپنی علمی شان، زبان وبیان، اور جامع تلخیص کی بنیاد پر یہ کتاب انتہائی مقبول ہوئی ہے، اس کی درجنوں شروحات وحواشی ہیں، اس کتاب کی تکمیل بھی امام نووی رحمہ اللہ نے رمضان المبارک کے مہینہ میں فرمائی، ارشاد فرماتے ہیں ” فرغت منه يوم الخميس التاسع عشر من رمضان سنة تسع وستين وستمأة ” میں اس کتاب کی تکمیل سے بروز جمعرات 19 رمضان المبارک 669 ہجری کو فارغ ہوا”
4 امام نووی ؒکی ایک بے مثال اور مشہور زمانہ کتاب ” ریاض الصالحین” ہے، یہ احادیث نبوی کا ایک جامع ومرتب مجموعہ ہے، اس کتاب کی شہرت ومقبولیت محتاج تعارف نہیں ہے، اس کو بھی امام نووی رحمہ اللہ رمضان المبارک کے مہینہ میں مکمل فرمایا ہے، فرماتے ہیں ” فرغت منه يوم الإثنين رابع عشر من رمضان المعظم سنة سبعين وستمأة” اس کتاب کی تکمیل سے میں بروز دوشنبہ 14 رمضان المبارک 670ہجری میں فارغ ہوا”
جس طرح رمضان المبارک کے ایام میں برکت و فضیلت کی وجہ سے اسلاف کا معمول تھا کہ وہ اپنی کتب کا آغاز یا تکمیل رمضان کی مبارک ساعتوں میں فرماتے تھے، اسی طرح اس ماہ مبارک کے مقدس وبابرکت لمحات کو عملی ، تدریسی مشاغل میں بھی گذارتے تھے، امام نووی رحمہ اللہ کے ہی چند معمولات ذیل میں ہم ذکر کرتے ہیں،
1 امام نوویؒ کی ایک مشہور کتاب ” الاربعین النووية” ہے، یہ چہل حدیث کا ایک مقبول و معروف مجموعہ ہے، اس کتاب کا اصل نام ” الاربعين في مباني الاسلام وقواعد الاحكام ” ہے ، علامہ علی بن العطارؒ نے امام نووی رحمہ اللہ سے یہ کتاب 12 رمضان المبارک 673 ھ کو ایک مجلس میں پڑھی ہے، اور امام موصوف نے ابن عطار ؒکو اس کی اجازت مرحمت فرمائی تھی، امام نووی رحمہ اللہ نے اپنے ایک نسخہ میں اس کی صراحت فرمائی ہے، ابن عطار نے ہی لکھا ہے کہ ” ریاض الصالحین ” کے درس کی مجالس بھی رمضان المبارک کے ایام میں ہوتی تھیں، اور انہوں نے امام نووی رحمہ اللہ سے یہ کتاب ایک جماعت کے ساتھ رمضان المبارک میں میں پڑھی ہے، جس کی آخری مجلس 28 رمضان المبارک 574 ھ کو منعقد ہوئی تھی،
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کہ سلف صالحین عبادت وطاعت، تلاوت ودعا کے ساتھ کس طرح علمی اور مفید مشاغل میں رمضان کے ایام گذارتے تھے، اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق اور ماہ مبارک کے قیمتی لمحات کی قدر نصیب فرمائے،
Comments are closed.