پیام رمضان ۔۔۔۔۔قرآن مجید سے حقیقی استفادہ کی صورت
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
علامہ حافظ ابن القیم الجوزیہ رح لکھتے ہیں:
قرآنِ مجید سے حقیقی فائدہ اٹھانا محض تلاوتِ الفاظ کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی باطنی کیفیت کا تقاضا کرتا ہے ،جس میں انسان اپنا دل، اپنی سماعت اور اپنی پوری توجہ یکجا کر دے۔ قاری کو یہ شعور تازہ رکھنا چاہیے کہ وہ اس ذاتِ باری تعالیٰ کا کلام سن رہا ہے جس نے اسے نازل فرمایا ہے، اور یہ خطاب رسولِ اکرم ﷺ کی زبانِ مبارک کے واسطے سے براہِ راست اسی کی طرف متوجہ ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں سمیٹا ہے: “بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لئے جس کا دل زندہ ہو یا وہ کان لگا کر سنے اور حاضر دل ہو۔”
کلامِ الٰہی کا اثر اس وقت کامل طور پر ظاہر ہوتا ہے جب تین عناصر جمع ہو جائیں: ایک مؤثر سبب، ایک قابلِ قبول محل، اور موانع کا زائل ہو جانا۔ مؤثر سبب خود قرآن ہے؛ قابلِ قبول محل زندہ اور بیدار دل ہے؛ اور شرط یہ ہے کہ انسان پوری یکسوئی سے سننے اور غور کرنے والا ہو۔ جب دل غفلت، بے توجہی ،انتشار اور دوسری مشغولیات سے آزاد ہو جاتا ہے تو کلام کا نور اس میں اترتا ہے، اور یہی انتفاع و تذکیر کی اصل صورت ہے۔
لوگوں کے قلوب اس تاثیر کو قبول کرنے میں ایک درجے پر نہیں ہوتے۔ کچھ دل ایسے ہوتے ہیں جو فطرتاً زندہ، بیدار اور کامل استعداد کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جب قرآن پر غور کرتے ہیں تو ان کا دل اور عقل اس کی صداقت کی شہادت دیتے ہیں۔ قرآن کا نور ان کے اندر موجود نورِ فطرت پر اضافہ کر دیتا ہے — گویا نورٌ علیٰ نور۔ وہ قرآن کے معانی کو اس طرح پاتے ہیں جیسے وہ پہلے ہی ان کے دل میں ثبت تھے، اور اب صرف پردہ اٹھ گیا ہو۔
اس کے مقابلے میں بعض دل زندہ تو ہوتے ہیں، مگر ابھی کامل بصیرت کو نہیں پہنچے ہوتے۔ انہیں حق و باطل میں امتیاز کے لیے خارجی رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے شخص کے لیے ہدایت کا راستہ یہ ہے کہ وہ پوری توجہ سے کلام کو سنے، اس پر تدبر کرے اور اس کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس تدبر کے ذریعے اس پر حق واضح ہو جاتا ہے۔
یہاں انسانوں کی دو کیفیتیں سامنے آتی ہیں: ایک وہ جو حقیقت کو براہِ راست دیکھ لیتا ہے — یہ مقامِ احسان ہے؛ اور دوسری وہ جو خبر دینے والے کی صداقت پر کامل اعتماد کرتے ہوئے اس کی خبر کو قبول کر لیتا ہے — یہ مقامِ ایمان ہے۔ پہلی کیفیت علمُ الیقین سے بڑھ کر عینُ الیقین کی سرحدوں کو چھوتی ہے، جبکہ دوسری کیفیت قطعی تصدیق کے ذریعے انسان کو کفر سے نکال کر اسلام کے دائرے میں داخل کرتی ہے۔
عینُ الیقین کی بھی دو جہتیں ہیں: ایک دنیا میں اور ایک آخرت میں۔ دنیا میں دل کی بصیرت کے ذریعے جو یقین حاصل ہوتا ہے، وہ دل کے لیے ویسا ہی ہے جیسا آنکھ کے لیے مشاہدہ۔ آخرت میں یہی حقائق آنکھوں سے دیکھے جائیں گے۔ یوں دنیا میں دل کی شہادت اور آخرت میں بصری مشاہدہ — دونوں ایک ہی یقین کے دو مظاہر ہیں۔
صاحبِ دل وہ ہے جو اپنے قلب اور قرآن کے معانی کے درمیان ایسا ربط قائم کر لیتا ہے کہ کلامِ الٰہی اس کے باطن کی آواز معلوم ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں قرآن محض پڑھا نہیں جاتا بلکہ جیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن اصولِ ایمان کو اس جامعیت کے ساتھ سمیٹ دیتا ہے، جو انسان کے لیے کافی، شافی اور ہدایت بخش ہے — اور یہی قرآن سے حقیقی انتفاع کی معراج ہے۔
(الفوائد لابن القیم)
دوستو !
کتابِ ہدایت جب صرف الفاظ کی گونج بن کر رہ جائے تو دلوں میں انقلاب برپا نہیں ہوتا؛ اور جب وہی الفاظ شعور کی زمین میں اتر جائیں تو دل کی دنیا ہی نہیں ، تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ قرآن مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں، زندگی کی تشکیلِ نو کا منشور ہے؛ وہ انسان کو اپنے رب سے ہمکلام کرتا ہے، ضمیر اور قلب کو بیدار کرتا ہے اور فرد و معاشرہ دونوں کی سمت درست کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن سے حقیقی استفادہ کب، کیوں اور کیسے ممکن ہے؟ اور وہ کون سی شرائط ہیں جو تلاوت کو تدبر و تفکر کی کیفیت میں ڈھال دیتی ہیں—ایسی کیفیت کہ قاری یوں محسوس کرے گویا کلامِ الٰہی اسی پر نازل ہو رہا ہے؟
قرآن خود اپنے مقصد کی طرف رہنمائی کرتا ہے: ہدایت، تذکیر اور تزکیہ۔ لیکن ہدایت اُنہی کے لیے کارگر ہوتی ہے جو طلبِ صادق رکھتے ہوں۔ استفادہ کا پہلا زینہ نیت کی درستی ہے—قرآن کو محض ثواب یا رسم کے لیے نہیں، رہنمائی اور اصلاح کے لیے پڑھا جائے۔ جب قاری اپنے آپ کو مخاطَب سمجھے، اپنی کمزوریوں اور سوالوں کو سامنے رکھے، اور دل میں یہ عزم پیدا کرے کہ جو حکم واضح ہوگا اس پر عمل بھی ہوگا، تب آیات محض آواز نہیں رہتیں، پیغام بن جاتی ہیں۔ یہی وہ داخلی آمادگی ہے جو تلاوت کو اثر آفرینی میں بدل دیتی ہے۔
دوسری شرط فہم کی جستجو ہے۔ الفاظ کے معانی، سیاق و سباق، شانِ نزول اور باہمی ربط کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش—
یہ سب تدبر کی بنیاد ہیں۔ قرآن خود غور و فکر کی دعوت دیتا ہے؛ اس کی آیات میں سوال، استدلال اور مثالیں اسی لیے ہیں کہ عقل بیدار ہو اور دل روشن۔
لہٰذا ترجمہ و تفسیر سے ربط، اہلِ علم کی صحبت اور مسلسل مطالعہ وہ وسائل ہیں ،جو قاری کو لفظی قرأت سے نکال کر فہمِ عمیق کی طرف لے جاتے ہیں۔ تدبر کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق مفہوم گھڑ لے؛ بلکہ یہ کہ نص کی رہنمائی میں، علمی اصولوں کے ساتھ قرآن مجید کی تفسیر کے لیے جو مطلوبہ شرائط ہیں ان کی رعایت کرتے ہوئے، اپنی زندگی پر اس کا انطباق تلاش کرے۔
تیسری شرط قلبی کیفیت ہے—
خشوع و خضوع، حضورِ قلب اور توجہ۔ تلاوت اگر جلدی میں، شور و ہنگامہ میں یا محض معمول کی ادائیگی کے طور پر ہو تو اثر کم رہ جاتا ہے۔ جب قاری ٹھہر ٹھہر کر پڑھے، وقفوں پر غور کرے، آیاتِ رحمت پر امید اور آیاتِ وعید پر خوف محسوس کرے، اور دعا کے ساتھ آگے بڑھے تو کلام دل میں اترتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں الفاظ کی ظاہری تلاوت باطنی انقلاب میں تبدیل ہوتی ہے۔ اس کیفیت کی پرورش کے لیے گناہوں سے اجتناب، حلال و پاکیزہ زندگی اور نفس کی اصلاح ناگزیر ہیں؛ کیونکہ آلودہ دل آئینۂ حق کو صاف منعکس نہیں کر پاتا۔
چوتھی شرط عمل ہے۔ قرآن سے حقیقی استفادہ اُس وقت مکمل ہوتا ہے جب سنی ہوئی بات کردار میں ڈھل جائے۔ علم اگر عمل سے خالی ہو تو بوجھ بن جاتا ہے؛ اور عمل جب قرآن کے نور سے منور ہو تو فرد کی سیرت اور معاشرے کی صورت دونوں سنور جاتی ہیں۔ چنانچہ تدبر کا ثمر یہی ہے کہ انسان اپنی ترجیحات، تعلقات اور فیصلوں کو وحی کی روشنی میں ازسرِنو ترتیب دے۔
یہ تمام شرائط اپنی کامل صورت میں اُس مہینے میں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں جسے قرآن نے اپنا مہینہ قرار دیا—رمضان المبارک۔ یہی وہ زمانہ ہے جس میں نزولِ قرآن کی یاد تازہ ہوتی ہے، جب راتوں کی خلوت، تراویح کی اجتماعی تلاوت اور سحری و افطار کے روح پرور لمحات دلوں کو نرم کرتے ہیں۔ رمضان میں روزہ نفس کی سرکشی کو کم کرتا ہے، توجہ کو مجتمع کرتا ہے اور روح کو بیدار کرتا ہے؛ یوں تدبر کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اگر اس مہینے میں بھی ہم قرآن سے رشتہ مضبوط نہ کر سکیں تو پھر کب؟
یہ مضمون ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ قرآن سے حقیقی استفادہ ایک جامع عمل ہے: نیت کی اصلاح، فہم کی جستجو، قلبی کیفیت کی آبیاری اور عملی عزم کی تکمیل۔ جب قاری خود کو مخاطَب سمجھے، علمی اصولوں کے ساتھ غور کرے، خشوع کے ساتھ پڑھے اور عمل کے لیے اٹھ کھڑا ہو—تب تلاوت یوں محسوس ہوتی ہے گویا وحی اسی کے حال پر اتر رہی ہے۔ رمضان المبارک اس سفر کا سنہرا موقع ہے؛ لیکن اس کی برکتیں اُنہی کو ملتی ہیں جو قرآن کو زندگی کا مرکز بنانے کا فیصلہ کر لیں۔ آئندہ صفحات میں ہم انہی شرائط کی تفصیل، عملی طریقِ کار اور معاصر چیلنجز کے تناظر میں قرآن فہمی کی راہوں کا جائزہ لیں گے، تاکہ تلاوت رسم نہ رہے—انقلاب بن جائے۔
Comments are closed.