مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے ایم بی اے (ہاسپٹل ایڈمنسٹریشن) کے طلبہ نے سر گنگا رام اسپتال کا تعلیمی دورہ کیا
علی گڑھ، 19 فروری: فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، علی گ ڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے ایم بی اے (ہاسپٹل ایڈمنسٹریشن) کے طلبہ کے لیے نئی دہلی کے سر گنگا رام اسپتال کا ایک تعلیمی دورہ کا اہتمام کیا، جس کا مقصد طلبہ کو اسپتال مینجمنٹ کے نظام اور صحت خدمات کے عملی آپریشنز کا براہِ راست عملی تجربہ فراہم کرنا تھا۔
دورے کے دوران طلبہ کا استقبال ڈاکٹر پری نیتی کور اور ڈاکٹر ہمانشو نے کیا۔ انہوں نے ایک تعارفی سیشن منعقد کیا، جس کے بعد طلبہ کو اسپتال کا دورہ کرایا گیا۔ طلبہ نے ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کے تنظیمی ڈھانچے کا مشاہدہ کیا اور یہ جانا کہ مختلف شعبے باہمی تعاون کے ذریعے کس طرح مریضوں پر مرکوز مؤثر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ انہیں جدید ہاسپٹل انفارمیشن سسٹمز اور ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ کے طریقہ کار سے بھی روشناس کرایا گیا، جس سے درستگی، کارکردگی اور مربوط مریض ڈیٹا نظام کو برقرار رکھنے میں ٹکنالوجی کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا۔
طلبہ کوپیشنٹ فلو مینجمنٹ، او پی ڈی اور آئی پی ڈی کے باہمی ربط سے بھی آگاہ کیا گیا۔ معیار کی یقین دہانی اور نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ہاسپٹلز اینڈ ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کے معیارات پر گفتگو نے صحت کی خدمات میں اعلیٰ معیار اور مریضوں کی حفاظت کی اہمیت کو مزید واضح کیا۔ شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔ پروگرام کے رابطہ کار اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر طارق عزیز اور ڈاکٹر لمے بن صابر تھے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں صنفی مساوات اور محفوظ کیمپس کلچر کے فروغ کے لئے ایک روزہ بیداری پروگرام منعقد
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ادارہ جاتی شکایات کمیٹی (آئی سی سی) نے خواتین کی سلامتی کے موضوع پر ایک روزہ بیداری پروگرام شعبہ انگریزی کی رالے لٹریری سوسائٹی کے اشتراک سے منعقد کیا۔
آئی سی سی لان میں منعقدہ اس پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر شاہینہ ترنم، چیئرپرسن شعبہ انگریزی نے ڈیجیٹل سلامتی کے موجودہ چیلنجوں پر روشنی ڈالی اور طلبہ کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی ایک اہم معاون نظام ہے جو نہ صرف شکایات کے ازالے کا فورم ہے بلکہ ایک احتیاطی اور حفاظتی پلیٹ فارم بھی ہے جو کیمپس میں باوقار اور محفوظ ماحول کو یقینی بناتا ہے۔
اپنے افتتاحی کلمات میں آئی سی سی کی چیئر اور پریزائڈنگ آفیسر پروفیسر ثمینہ خان نے یونیورسٹی کو ایک شمولیتی اور محفوظ تعلیمی مقام بنانے میں کمیٹی کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جنسی ہراسانی سے متعلق آگہی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی، کمیٹی کے دائرہ اختیار کی وضاحت کی اور اس کے ہمدردانہ اور رازداری پر مبنی طریقہ کار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے جینڈر چیمپئنز اور آئی سی سی اراکین کی لگن اور خدمات کو بھی سراہا۔
اس پروگرام کے تحت مضمون نویسی، تخلیقی تحریر اور پوسٹر سازی کے مقابلوں میں 300 سے زائد طلبہ نے شرکت کی، جس سے صنفی حساسیت اور ڈیجیٹل ذمہ داری جیسے موضوعات میں طلبہ کی بھرپور دلچسپی ظاہر ہوئی۔ پروگرام کی نظامت ادبہ فاطمہ نے کی۔ اس موقع پر فیکلٹی کوآرڈینیٹرز، آئی سی سی اراکین اور طلبہ نمائندگان موجود تھے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو این ایس ایس یونٹ کا سات روزہ تعلیمی کیمپ کمیونٹی آگہی سرگرمیوں کے ساتھ اختتام پذیر
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) یونٹ نے مسکان پبلک اسکول، راجا نگر، جمال پور میں سات روزہ تعلیمی کیمپ کا انعقاد کیا، جس میں سماجی رابطوں کے ذریعے سماجی اور قومی اہمیت کے مختلف موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد محسن خان کی نگرانی میں منعقدہ اس کیمپ میں پروگرام افسران اور این ایس ایس رضاکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ کیمپ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک سیفٹی، منشیات سے دوری، بچیوں کی تعلیم، ذہنی صحت، صفائی، خواندگی اور ووٹر بیداری جیسے موضوعات پر آگہی مہمات چلائی گئیں۔ ریلیوں، عوامی رابطہ سرگرمیوں اور براہِ راست عوامی گفتگو کے ذریعے رضاکاروں نے ذمہ دار شہری ہونے، سماجی اصلاح اور قومی ترقی کے پیغامات عام کیے۔ اختتامی مرحلے میں منعقدہ ووٹر آگہی مہم نے جمہوری عمل میں عوامی شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر محمد محسن خان نے رضاکاروں کے نظم و ضبط اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کیمپ نے طلبہ میں سماجی ذمہ داری اور قومی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام این ایس ایس کی بنیادی اقدار یعنی بامعنی سماجی شمولیت اور کمیونٹی خدمت کے فروغ کی بہترین مثال ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے سروجنی نائیڈو ہال میں صحت میلے کا انعقاد
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سروجنی نائیڈو ہال میں طالبات کے لئے ایک صحت میلہ منعقد کیا گیا اور احتیاطی صحت نگہداشت اور صحت سے متعلق آگہی پر زور دیا گیا۔
پرووسٹ پروفیسرعروس الیاس کی رہنمائی میں منعقدہ اس پروگرام میں یونیورسٹی ہیلتھ سروس کی سابق چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فرح اشہر اور شعبہ امراض خواتین، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کی پروفیسر شاہین انجم نے شرکت کی۔ ڈاکٹر فرح اشہر نے ہاسٹل میں مقیم طالبات کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن غذا کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ پروفیسر شاہین انجم نے ماہواری سے متعلق آگہی اور حفظانِ صحت کے موضوع پر گفتگو کی۔
صحت کیمپ میں مفت طبی معائنہ، بنیادی اسکریننگ اور طبی مشاورت کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ پروگرام کی کنوینر رہائشی وارڈن مس ایمن فہیم تھیں، جبکہ ڈاکٹر رقیہ افروز نے پروگرام کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اظہارِ تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یوکے شعبہ تاریخ میں ہڑپا کے آثارِ قدیمہ پر دو روزہ ورکشاپ منعقد
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، شعبہ تاریخ (آثارِ قدیمہ سیکشن) کے زیر اہتمام ”ہڑپا کے آثارِ قدیمہ“کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں ممتاز ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور اسکالرز نے شرکت کرتے ہوئے وادی سندھ کی تہذیب سے متعلق حالیہ دریافتوں پر تبادلہ خیال کیا۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سنجے کمار منجُل مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جبکہ جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اروِن منجُل مہمانِ اعزازی تھے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر سید علی ندیم رضاوی نے کی اور استقبالیہ کلمات پروفیسر حسن امام نے پیش کیے۔ آثارِ قدیمہ سیکشن کے کنوینر اور انچارج پروفیسر مانویندر کمار پنڈھیر نے ہندوستانی تاریخ میں ہڑپا مطالعات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ورکشاپ کے مقصد، یعنی جدید تحقیقی نتائج کو طلبہ اور محققین تک پہنچانے پر زور دیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر سنجے کمار منجُل نے ہڑپا کے مقامات کی حالیہ کھدائیوں میں سائنسی طریقوں اور جدید ٹکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا۔ صدارتی کلمات میں پروفیسر رضاوی نے ہڑپا کی تہذیب کی اصطلاح اور اس کی تشریحات سے متعلق جاری علمی مباحث پر گفتگو کی۔
پانچ تکنیکی نشستوں کے دوران ماہرین نے حالیہ کھدائیوں اور نئی تعبیرات پر مبنی لیکچرز پیش کیے۔ ڈاکٹر اروِن منجُل نے ہڑپا کی اہم کھدائیوں اور ان کے نتائج کا جائزہ پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر سنجے کمار منجُل نے راکھی گڑھی میں ہونے والی حالیہ کھدائیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، لکھنؤ کے ڈاکٹر سدرشن چکردھاری نے خانک میں کھدائی کی تکنیک اور ہڑپاکی بستیوں سے متعلق دھاتوں کی دستیابی پر گفتگو کی۔ کولکاتا کی ڈاکٹر بنانی بھٹاچاریہ نے ہڑپا دور کی دستکاریوں کا سائنسی تجزیہ پیش کیا، جبکہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ڈاکٹر وکاس کمار سنگھ نے وسطی گنگا وادی اور ہڑپا کی تہذیب کے درمیان آثارِ قدیمہ کے روابط کا جائزہ لیا۔
ورکشاپ کے دوران دو نمائشوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں ایک علی گڑھ خطے (ہاتھرس) کے مجسموں پر اور دوسری کیمرے کی نظر سے شاہجہان آباد کی السٹریٹیڈ تاریخ کے عنوان پر تھی۔ شرکاء نے موسیٰ ڈاکری میوزیم کا دورہ بھی کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ میں آئی ای ای ای امپیکٹ کانفرنس کا انعقاد
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ کے زیر اہتمام ”انٹرنیشنل کانفرنس آن ملٹی میڈیا، سگنل پروسیسنگ اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز (آئی ای ای ای امپیکٹ2026)”کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک اور بیرون ملک سے کثیر تعداد میں ماہرین و محققین نے شرکت کی۔
کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز، پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان، پروفیسر آر کے ملک، پروفیسر نثار احمد، پروفیسر محمد مزمل، پروفیسر طاہرہ پروین، پروفیسر انور سادات، پروفیسر ایم حسن، پروفیسر ایم ریحان اور سینئر اساتذہ شریک ہوئے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد گلریز نے کانفرنس چیئر پروفیسر انور سادات کی قیادت میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ 570 سے زائد تحقیقی مقالوں کی آمد اس کانفرنس کی علمی اہمیت اور وسیع رسائی کی عکاس ہے۔ پروفیسر ایم محسن خان نے بھی منتظمہ کمیٹی کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ پروفیسر آر کے ملک نے انفارمیشن ٹکنالوجی کے ابھرتے رجحانات اور حالیہ پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر طاہرہ پروین نے استقبالیہ خطاب پیش کیا۔ پروفیسر انور سادات نے یونیورسٹی انتظامیہ کے ادارہ جاتی تعاون پر اظہارِ تشکر کیا، انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کی مالی معاونت کا اعتراف کیا اور آئی ای ای ای اتر پردیش سیکشن کی جانب سے فراہم کردہ تکنیکی سرپرستی پر بھی شکریہ ادا کیا۔ دو روزہ اس کانفرنس نے محققین اور ماہرین کو ملٹی میڈیا سسٹمز، سگنل پروسیسنگ اور کمیونیکیشن ٹکنالوجیز میں جدید پیش رفت اور معاصر رجحانات پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ انگریزی میں بی اے کے طالب علم محمد ارسلان کے انتقال پر تعزیتی جلسہ کا اہتمام
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں بی اے (انگریزی) چہارم سمسٹر کے طالب علم محمد ارسلان کے ناگہانی انتقال پر ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں مرحوم کی تعلیمی زندگی اور ان کی شخصی خوبیوں کے تذکرے کے ساتھ انہیں ایک محنتی اور بااخلاق طالب علم کے طور پر یاد کیا گیا۔ شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر شاہینہ ترنم نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبہ سے دلی تعزیت کی۔
سینئر اساتذہ پروفیسر ایم رضوان خان، پروفیسر ایم عاصم صدیقی، پروفیسر ثمینہ خان اور ڈاکٹر ادیبہ فیاض نے مرحوم طالب علم کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ مقررین نے انہیں اخلاص اور شائستہ مزاجی کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جانے والا طالب علم قرار دیا۔ ان کے ایک قریبی ہم جماعت نے بھی اظہار خیال کیا اور گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کیا۔ پروگرام کے اختتام پر مرحوم کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر محمد رضوان خان اے ایم یو کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر مقرر
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر محمد رضوان خان کو یونیورسٹی کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر (سی ای سی) کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار دو سال ہوگی۔
تین دہائیوں سے زائد کاتدریسی و تحقیقی تجربہ رکھنے والے پروفیسر خان سال 2006 سے شعبہ انگریزی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے تخصص کے شعبوں میں نصاب سازی، ترجمہ نگاری، ادبی تنقید، اساتذہ کی تربیت، فلم اور ثقافتی مطالعات شامل ہیں۔
وہ یونیورسٹی میں متعدد اہم انتظامی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں، جن میں چیئرمین شعبہ انگریزی، ڈائریکٹر انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل (آئی کیو اے سی)، کنوینر، نیک (این اے اے سی) اسیسمنٹ و ایکریڈیٹیشن کمیٹی، اور سینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن کے ڈائریکٹر کے عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے ترجمہ مطالعات کے تحت یو جی سی–ایس اے پی (ڈی آر ایس فیز ٹو) منصوبوں کی بھی نگرانی کی ہے اور تعلیمی منصوبہ بندی، معیار بندی اور ادارہ جاتی درجہ بندی سے متعلق سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
پروفیسر محمد رضوان خان اٹلی میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور اٹلی، عمان، انگلینڈ اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں بین الاقوامی علمی پروگراموں اور فیلوشپ میں شرکت کر چکے ہیں۔ انہوں نے معروف تعلیمی اداروں، بشمول کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی متعدد کتابوں کی تصنیف و ادارت کی ہے اور دو درجن سے زائد پی ایچ ڈی مقالات کی نگرانی کی ہے۔ وہ نیک اسیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور قومی و بین الاقوامی علمی فورمز پر کلیدی مقرر اور ریسورس پرسن کی حیثیت سے مدعو کیے جاتے رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر محمد محب الحق، اے ایم یو میں سیپی کیمی کے ڈائریکٹر مقرر
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر محمد محب الحق کو سینٹر فار پروموشن آف ایجوکیشنل ایڈوانسمنٹ آف مسلمز اِن انڈیا (سیپی کیمی) بشمول بِرج کورسز کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار دو سال ہوگی۔
پروفیسر محب الحق 23 سال سے زائد کا تدریسی و تحقیقی تجربہ رکھتے ہیں اور ان کے تخصص کے شعبوں میں اقلیتی حقوق، انسانی حقوق، سیاسی تشدد اور دہشت گردی، سیاست اور اسلام کا باہمی تعلق، بین الاقوامی تعلقات اور ہندوستانی سیاست شامل ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے موضوع پر، خصوصاً نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز کے کردار کے حوالے سے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
یونیورسٹی گولڈ میڈلسٹ اور صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر شنکر دیال شرما گولڈ میڈل برائے امتیاز پانے والے پروفیسر محب الحق ”انٹرنیشنل ٹیررزم اینڈ وائلنس: اے ہیومن رائٹس پرسپکیٹیو“کے مصنف ہیں۔ انہوں نے متعدد کتب میں ابواب تحریر کیے اور قومی و بین الاقوامی شہرت یافتہ جرائد میں تحقیقی مضامین شائع کیے ہیں۔ وہ کئی ریسرچ اسکالرز کی رہنمائی کر چکے ہیں اور مختلف قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں تحقیقی مقالات پیش کر چکے ہیں۔
انہوں نے مختلف تعلیمی اور انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالی ہیں، جن میں کوچنگ اینڈ گائیڈنس سینٹر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، یونیورسٹی ایکسٹینشن لیکچرز کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر، یونیورسٹی لٹریری اینڈ ڈیبیٹنگ کلب کے صدر، اور لیڈرشپ ڈیولپمنٹ پروگرامز کے کورس کوآرڈینیٹر کے عہدے شامل ہیں۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں، انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں اور علمی جرائد کے ادارتی بورڈز سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر قاضی احسان علی اے ایم یو کی میڈیکل اٹینڈنس اسکیم (ایم اے ایس) کے ڈائریکٹر مقرر
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ اینستھیسیالوجی و کریٹیکل کیئر کے پروفیسر قاضی احسان علی کو یونیورسٹی کی میڈیکل اٹینڈنس اسکیم (ایم اے ایس) کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار دو سال ہوگی۔
پروفیسر قاضی احسان علی شعبہ اینستھیسیالوجی و کریٹیکل کیئر میں 2012 سے بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں تدریس کا تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس وقت اے ایم یو کے پیرا میڈیکل کالج کے پرنسپل کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
رائل کالج آف فزیشنز، ایڈنبرا (برطانیہ) کے فیلو (ایف آر سی پی) پروفیسر علی کو متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں آئی ایس اے یو پی اسٹیٹ اوریشن ایوارڈ (2024) اور ایس رادھا کرشنن ڈسٹنگوئشڈ پروفیسر اینڈ ریسرچر ایوارڈ (2023) شامل ہیں۔ ان کے 69 تحقیقی مقالے قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور وہ مختلف علمی فورمز پر 70 سے زائد مدعو خطبات دے چکے ہیں۔
انہوں نے متعدد پوسٹ گریجویٹ تحقیقی مقالات کی نگرانی کی ہے اور مہارت کی ترقی و تربیت سے متعلق پروگراموں میں فعال کردار ادا کیا ہے، جن میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت لائف سیونگ اینستھیزیا اسکل (ایل ایس اے ایس) پروگرام میں کوآرڈینیٹر اور نوڈل آفیسر کی حیثیت سے خدمات شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر کو بین الاقوامی کانفرنس میں سکنڈ بیسٹ پرزنٹیشن کا ایوارڈ دیا گیا
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے اے ایم کے- بایولیب سے وابستہ پی ایچ ڈی اسکالر سندیپ کمار کوشل نے گجرات کے مہاراجا کرشن کمار سنگھ جی بھاونگر یونیورسٹی، بھاونگر میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”پینورما آف لائف سائنسز“ میں دوسرے عمدہ ترین پرزنٹیشن کا ایوارڈ حاصل کیا۔
مسٹر کوشل کی تحقیق خطرے سے دوچار انڈین پینگولن اور ریٹل کے تحفظ پر مرکوز تھی جسے ماہرین اور شرکاء کی جانب سے معیار، جدت اور واضح پیشکش کے باعث بے حد سراہا گیا۔ یہ اعزاز کسی بین الاقوامی کانفرنس میں ان کی مسلسل دوسری کامیابی ہے، جو جنگلاتی حیات کے میدان میں عملی تحقیق اور تحفظ کے حوالے سے ان کی مستقل خدمات کو ظاہر کرتا ہے۔
اس دستیابی پر مسٹر کوشل کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے سپروائزر ڈاکٹر احمد مسعود خان نے کہا کہ یہ اے ایم کے- بایولیب اور شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے لیے باعث فخر ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو گرلز اسکول میں ڈسپلن مانیٹرز کے اعزاز میں تقریب منعقد
علی گڑھ، 19 فروری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گرلز اسکول میں منعقدہ ایک تقریب میں تعلیمی سیشن 2025–2026 کے ڈسپلن مانیٹرز کی خدمات کے اعتراف میں انھیں یادگاری نشان اور اسناد پیش کی گئیں۔ڈسپلن مانیٹرز کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ آئندہ بھی اسی عزم اور جوش کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں۔
تقریب میں پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور نائب پرنسپل محترمہ الکا اگروال نے شرکت کی۔ کلچرل کوآرڈینیٹر محترمہ عرشی ظفر خان بھی اس موقع پر موجود تھیں، جبکہ پرو پروکٹرز محترمہ حما مختار، محترمہ بشریٰ کرمانی، جناب امتیاز عالم، جناب فرہاد علی، محترمہ انجم فاطمہ، ڈاکٹر وسیم رضا خان، محترمہ تعبیر اور جناب جاوید عالم بھی موجود رہے۔
Comments are closed.