پیام رمضان ۔۔۔۔بیماری کا بہانہ بناکر روزہ نہ رکھنا

 

محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

 

شریعت اسلامی میں انسان کو اتنا ہی مکلف بنایا گیا ہے ،جتنی اس کے اندر سکت اور قوت و استطاعت ہے ، شریعت کسی کو اس کی طاقت اور قدرت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا ، ارشاد خدا وندی ،، ،،لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا،، یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا ۔

دین اسلام کا عمومی مزاج یسر و سہولت پر ہے ، آسانی اس دین کی فطرت ہے ۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر ،،

اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے مشکل اور دشواری کو پسند نہیں کرتا ۔

یہی وجہ ہے کہ اقامت کی حالت میں عصر ظہر اور عشاء میں چار چار رکعتیں فرض ہیں، لیکن جب انسان شرعی مسافر ہوتا ہے، تو پھر اس ان نمازوں میں قصر لازم ہے ، یعنی وہ یہ نمازیں دو رکعت ہی پڑھے گا ۔

اسی طرح رمضان المبارک کا روزہ عاقل بالغ مرد و عورت پر فرض ہے ، لیکن اگر انسان سفر میں ہے اور روزہ رکھنے میں اس کو دقت ہو رہی ہے ،تو اس کے لیے افطار کی گنجائش ہے کہ وہ سفر میں روزہ نہ رکھے ، بعد میں وہ قضا کرلے ۔

اسلام میں عام حالات اور مشکل حالات میں فرق رکھا گیا ہے ۔ اس کے لیے ایک جامع اصول ہے کہ لیس علی المریض حرج ،، ۔۔

لیکن کون سی حالت نارمل ہے اور کون سی حالت مشکل ہے ، کس کو حقیقت میں مرض مانا جائے گا اور کس کو نہیں ؟

اس کے فیصلے کے لیے کچھ اصول و ضوابط طے کئے گئے ہیں ، جس کی روشنی میں انسان کو رخصت کی اجازت دی جائے گی ۔

آج کل بہت سے لوگ رمضان المبارک میں معمولی سی بیماری کا بہانہ بنا کر روزہ نہیں رکھتے اور فدیہ ادا کر دیتے ہیں ۔ جو درست نہیں ہے ۔

قرآن مجید نے اس کی وضاحت کردی ہے کہ روزہ نہ رکھنے کی گنجائش کب ہے، اور کس کو کب بیمار اور معذور سمجھا جائے گا ۔

آئیے اس کی تفصیلات قرآن مجید سے معلوم کرتے ہیں ۔

ارشاد خدا وندی ہے:

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿۱۸۴﴾ ترجمہ: گنتی کے چند دنوں ( ہی کے روزے فرض ہیں ) ، (۱) پھر تم میں سے جو بیمار ہو ، (۲)یا سفر پر ہو (۳)تو دوسرے دنوں میں اتنے ہی دن روزے رکھ لے (۴)اور جو لوگ بہ مشقت ہی روزے رکھ سکتے ہوں ، (۵) ان پر فدیہ — ایک محتاج کا کھانا — (۶) ہے ، پھر جو اپنی خوشی سے ( مزید ) نیکی کرے ، تو یہ اس کے لئے (ہی ) بہتر ہے ، اور اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو تمہارے حق میں بہتر یہی ہے کہ روزے رکھ لو۔ (۷) تفسیر: (۱) یعنی روزہ کے دن مقرر ہیں ، ایک ماہ ، آپ ﷺ نے انگلیوں کے اشارہ سے بھی فرمایا : ۲۹ یا ۳۰ دن ، ( بخاری ، باب قول النبی لانکتب الخ ، حدیث نمبر : ۱۹۱۳) اس میں روزہ کی ترغیب بھی ہے کہ محض چند دنوں کا تو روزہ ہے ؛ اس لئے پست ہمت نہیں ہونا چاہئے ۔

 

(۲) بیماری اور سفر ایسا عذر ہے ، جس کی وجہ سے وقتی طور پر روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ، بیماری سے ایسی بیماری مراد ہے کہ جس میں روزہ سے نقصان کا اندیشہ ہو ، یعنی اگر روزہ رکھے ، تو بیماری بڑھ جائے گی یا طول پکڑلے گی یا مریض کے اندر بھوک کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہ ہو ، جس کا فیصلہ ماہر معتبر معالج کے مشورہ سے اور خود مومن کے ضمیر کی آواز پر ہوگا ، کوئی ایک ہی حد ہر مریض کے لئے متعین و مقرر نہیں ؛ کیوں کہ قویٰ ، عمر ، موسم اور ہمت و حوصلہ کے فرق کے اعتبار سے ہر انسان کے اندر قوتِ برداشت مختلف ہوتی ہے ۔

 

(۳) سفر سے مراد ’ سفر شرعی ‘ ہے ، جس کی مسافت کم سے کم ۴۸ میل (۷۷کیلو میٹر) ہو ، اس سے کم کے سفر میں روزہ چھوڑ دیناجائز نہیں ، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ﷡ سے جن اسفار میں روزہ چھوڑنا ثابت ہے ، وہ طویل اسفار ہی ہیں ، چند میل کے سفر پر روزہ توڑ لینا ثابت نہیں ، ائمۂ مجتہدین اور سلف صالحین قریب قریب اس پر متفق ہیں ، ( بدائع الصنائع :۲؍۲۴۵) — یہ بھی ذہن میں رہے کہ حالت سفر میں ہی قرآن نے روزہ توڑنے کی اجازت دی ہے ؛ اس لئے اگر کسی کی صبح گھر پر ہو تو روزہ توڑ کر سفر شروع کرنا جائز نہیں ؛ کیوں کہ یہ سفر سے پہلے ہی روزہ توڑنا ہوا ، اگر روزہ رکھ کر سفر شروع کرے اور سفر شروع کرنے کے بعد روزہ رکھنے میں ناقابل برداشت مشقت نہ ہوتو اس کو روزہ کو پورا کرنا چاہئے ؛ ( ہندیہ : ۱؍۲۰۶) کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اچھے کام کو شروع کرنے کے بعد توڑنے سے منع فرمایا ہے ، ’’ لا تبطلوا اعمالکم ‘‘۔ ( البقرۃ: ۲۶۴ )

 

(۴) یعنی وقتی بیماری اور سفر کی وجہ سے جو روزے فوت ہوجائیں ، ان کی قضاء واجب ہوگی ۔

 

(۵) ’ طاقت ‘ کے معنی مشقت کے ساتھ کسی چیز پر قادر ہونے کے ہیں ، اس لئے معنی یہ ہوئے : ’ جو لوگ بہ مشقت ہی روزہ رکھ سکتے ہوں ، وہ فدیہ ادا کرسکتے ہیں ‘ ( روائع البیان : ۱؍۲۰۸) — حضرت عبداللہ بن عباس ﷟ کی روایت کے مطابق اس سے بوڑھے اور بوڑھیاں مراد ہیں ، یعنی ان کے لئے روزہ کے بدلہ فدیہ ادا کردینے کی اجازت ہے ، اسی طرح جو لوگ مستقل بیمار ہوں اورمرض کے باعث روزہ رکھنے سے قاصر ہوں ؛ ان کے لئے بھی روزوں کے بدلہ فدیہ ادا کرلینا درست ہے ، ( روائع البیان : ۱؍۲۰۸ ) — اس تفسیر کے مطابق اس آیت کو منسوخ نہیں ماننا پڑے گا ؛ تاہم اکثر اہل علم نے اس آیت سے مراد یہ لیا ہے کہ : ’ جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ہے ‘ ایسی صورت میں یہ حکم منسوخ ہے ، ابتداء ًچوں کہ لوگ روزہ رکھنے کے عادی نہیں تھے ؛ اس لئے سہولت دی گئی تھی کہ روزہ رکھیں یا فدیہ ادا کردیں ، بعد کو روزہ ہی لازم کردیا گیا ، صرف معذوروں کے حق میں فدیہ کا حکم باقی رکھا گیا ۔

 

(۶) فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو دوپہر اور رات کا کھانا آسودگی کے ساتھ کھلا دیا جائے ، ( بدائع الصنائع : ۲؍۲۵۲) رمضان المبارک ہوتو افطار کے بعد کا اور سحری کا کھانا کھلا دینا کافی ہے ، اگر کھانا کھلانے کے بجائے غلہ دینا چاہے تو ایک روزہ کے بدلہ ایک ہی مسکین کو ’ نصف صاع گیہوں ‘ جدید اوزان کے مطابق ایک کلو چھ سواکانوے (۶۹۱ ) گرام دیدے( تفسیر آیات الاحکام : ۱؍۱۵۷، فتاویٰ خانیہ :۱؍۲۰۳) یا متوسط قسم کا کھلے بازار میں دستیاب گیہوں کی قیمت ادا کردے ؛ لیکن آج کل چوں کہ اتنے گیہوں کی قیمت سے دو وقت کا کھانا پورا ہونا دشوار ہے ؛ اس لئے احتیاطاً دو وقت کے کھانے کے بہ قدر پیسے ادا کردینا چاہئے۔

 

(۷) یعنی جہاں تک ممکن ہو روزہ رکھ لینا بہتر ہے ؛ اس لئے سفر کی حالت میں اگر روزہ رکھنے کی وجہ سے شدید مشقت نہ ہو تو روزہ رکھ لینا افضل ہے ۔ ( بدائع الصنائع: ۲؍۲۴۸)

(ملخص و مستفاد آسان تفسیر از خالد سیف اللہ رحمانی صاحب)

Comments are closed.