آبنائے ہرمز(Strait of Hormuz) 

 

محمد نفیس خان ندوی

 

دو بڑے سمندری علاقوں کے درمیان واقع تنگ پانی کی گزرگاہ کو آبنائے (Strait) کہا جاتا ہے، جیسے آبنائے باسفورس، آبنائے ملاکا اور آبنائے ہرمز وغیرہ۔

 

آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ میں واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جو خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور آگے بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ عالمی تیل کی تجارت، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، اسی لیے اسے عالمی معیشت کی “شہ رگ” بھی کہا جاتا ہے۔

 

عالمی سمندری قانون کے مطابق آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ اس پر مکمل کنٹرول کسی ایک ملک کا نہیں ہے، تاہم جغرافیائی لحاظ سے اس پر سب سے زیادہ اثر ایران اور عمان کا ہے، کیونکہ یہ آبنائے انہی دونوں ممالک کے درمیان واقع ہے۔

 

بین الاقوامی سمندری گزرگاہ ہونے کی وجہ سے اسے قانونی طور پر مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں۔ تاہم عسکری ماہرین کے مطابق ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور فوجی صلاحیتوں کی بنا پر اس راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ سمندری بارودی سرنگیں، ساحلی میزائل سسٹم، آبدوزیں وغیرہ استعمال کر سکتا ہے۔

 

بالفرض ایران کسی ہتھیار کا استعمال نہ بھی کرے اور صرف دھمکی پر اکتفا کرے تو بھی اس راستے سے آمدورفت شدید متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ کشیدگی اور خطرے کی صورتحال دیکھ کر جہازران کمپنیاں اپنے جہاز آگے بڑھانے سے ہچکچانے لگتی ہیں۔

 

اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، تجارت اور سیاست متاثر ہوگی، کیونکہ دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار (تقریباً 20 فیصد) اسی راستے سے گزرتی ہے۔

روزانہ کروڑوں بیرل تیل کے ٹینکر یہاں سے گزر کر یورپ، ایشیا اور امریکہ تک پہنچتے ہیں۔

اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی ترسیل رک سکتی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ پر پڑے گا۔

 

اسرائیل براہِ راست اس آبنائے پر واقع نہیں، لیکن اگر ایران اسے بند کرتا ہے تو اس کے اثرات اسرائیل اور اس کے اتحادیوں تک ضرور پہنچیں گے کیونکہ امریکہ اور مغربی ممالک کی معیشت تیل پر منحصر ہے.

 

ہمارا ملک ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ ان میں سے تقریباً 50 فیصد تیل خلیجِ فارس کے ممالک—جیسے سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات—سے آتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو ان ممالک سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے..

 

خلاصہ کلام یہ کہ ایران اور اسرائیل کی کشیدگی میں آبنائے ہرمز ایک اہم اسٹریٹیجک کارڈ اور عالمی "جیو پولیٹکس” (Jeo Politics ) کا مرکزی نقطہ ہے۔

Comments are closed.