رمضان المبارک – ایک روحانی تحفہ

 

✒️ محمد نفیس خان ندوی

 

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ زمان و مکان کی ظاہری قید سے بلند ایک ایسا روحانی مظہر ہے جو انسان کو اس کے باطن سے آشنا کرتا ہے۔ یہ مہینہ محض ایام کی گردش یا دنوں کی گنتی نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور روحانی سفر ہے، ایک ایسا سفر جس میں دل کی ویران سرزمین پر رحمت الہی کی بارش برستی ہے اور ایمان و اخلاق کی سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔

 

یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں بندہ مؤمن کا دل تقویٰ کے نور سے منور اور اس کی ہر سانس اطاعت و بندگی کی خوشبو سے معطر ہو اٹھتی ہے، اور اس کی ذات اللہ کی طرف رجوع وانابت کا ایک حسین پیکر بن جاتی ہے۔

 

اس ماہ میں انسان اپنی ذات کے شور و ہنگامہ سے نکل کر رب کائنات کی بارگاہ میں سرا پا نیاز و التجا بن کر حاضر ہوتا ہے، ایسی حضوری جس میں احتساب نفس کی سختی بھی شامل ہے اور بخشش و مغفرت کی جگمگاتی امید بھی !

 

رمضان المبارک رحمتوں کا موسم بہار ہے؛ جیسے خشک زمین پر موسلا دھار بارش برستی ہے تو مردہ دلوں میں حیات تازہ پھوٹ پڑتی ہے، گناہوں کی راکھ اڑ جاتی ہے اور اعمال کی سرسبزی چھا جاتی ہے۔

 

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمايا: ” إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة وَغلَقَتْ أَبْوَاب جَهَنَّمَ وَسلْسِلَتِ الشياطين” یعنی جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔

 

یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمتوں کا مظہر ہے، جو بندوں کو گناہوں کی گندگی اور بد اعمالیوں کی آلائش سے پاک کرنے اور تقویٰ کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے نازل ہوتی ہیں۔

 

رمضان کا مہینہ بندہ کو اس کی اصل فطرت سے روبرو کراتا ہے کہ وہ نہ خواہشات کا اسیر ہے اور نہ شہوت کا بے لگام جانور، بلکہ وہ ایک با مقصد اور باوقار وجود ہے۔ ایک ایسا قالب ہے جس میں ایک حساس دل دھڑکتا ہے اور ایک بیدار روح سانس لیتی ہے، جسے خدائی امانت کا امین بنایا گیا ہے۔

 

یہ مہینہ سرکش و بے لگام نفس پر ضبط کی لگام ڈالنے اور روح کی باگ خدا کے سپرد کرنے کا ہنر سکھاتا ہے، جہاں بندہ اپنے ظاہری اعمال ہی نہیں بلکہ اپنے باطنی احساسات ورجحانات کا بھی محاسبہ کرتا ہے۔

 

اس کے دن صبر وضبط کی روشن علامت- اس کی راتیں ذکر و فکر کی خاموش سر گوشیاں – سحر کی ساعتوں میں اٹھنے والی آئیں۔ افطار کے وقت بہنے والے آنسو ۔ اور نمازوں میں جھکتے ہوئے سر۔ یہ سب مل کر دل کے اندر ایک نئی دنیا آباد کر دیتے ہیں، جہاں تکبر پگھل جاتا ہے، اناٹوٹ جاتی ہے اور بندہ اپنی کامل محتاجی کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔

 

روزے کے ایام میں ایک بندہ یقیناً بھوکا اور پیاسا رہتا ہے، پیاس کی شدت سے اس کا حلق سوکھ جاتا ہوگا اور بھوک کی سختی سے اس کی آنتیں لپٹ بھی جاتی ہوں گی لیکن خدا کے نزدیک اس جسمانی تکلیف کی کوئی اہمیت نہیں اگر اس کے دل و دماغ میں ایمان کا نور اور احتساب نفس کی کیفیت موجود نہ ہو، کیونکہ رمضان کے روزے بھوک اور پیاس کی مشق نہیں، بلکہ نفس کی تربیت، دل کی پاکیزگی اور روح کی بلندی کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

 

یہی وجہ ہے کہ روزہ صرف جسم کو بھوکا رکھنے کا نام نہیں، بلکہ زبان، آنکھ، کان اور دل سمیت تمام اعضاء کو گناہوں سے روکنے کی جامع تربیت ہے۔

 

نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا:

مَنْ لَمْ يَدَع قَوْلَ الزورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةً فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ۔

یعنی جو شخص جھوٹ بولنا، جھوٹے کام کرنا اور جہالت نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ کر بھوکا پیاسار ہے۔

 

كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَش یعنی کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

 

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک ایسا نورانی تحفہ ہے جو وقتی طور پر نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے دلوں کو بدل دینے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو دل میں ایک عجیب سی بے کلی ، ایک خاموش سی کسک اور ایک میٹھی سی اداسی اتر آتی ہے! گویا کوئی محبوب مہمان دل کے آنگن سے اٹھ کر جا رہا ہو۔ مگر رمضان کا جانا دراصل اختتام نہیں بلکہ آغاز ہوتا ہے’ ایک نئی زندگی کا آغاز ، جس میں دل زیادہ نرم، ضمیر زیادہ بیدار اور نگاہ زیادہ پاکیزہ ہو جاتی ہے۔ ☆☆

 

تکیہ کلاں، رائے بریلی

Comments are closed.