اسرائیل – ایران جنگ: انتقامِ الٰہی کی بھڑکتی آگ
گریٹر اسرائیل اور نئے ساسانی امپائر کے خوابوں کا تصادم
ابوتراب محمد احسن ندوی
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین صدیوں سے طاقت، عقیدے اور سلطنتوں کے تصادم کا میدان رہی ہے۔ آج ایک بار پھر اسی خطے میں ایک نئی جنگ بھڑک اٹھی ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ بظاہر یہ جنگ اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک عسکری تصادم معلوم ہوتی ہے، مگر جب ہم اس کے پس منظر میں کارفرما نظریات، تاریخی محرکات اور عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کو دیکھتے ہیں تو یہ محض دو ریاستوں کی جنگ نہیں رہتی بلکہ عقائد، خوابوں اور سیاسی عزائم کے ایک خطرناک تصادم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
مشرق وسطی کی حالیہ جنگ میں ہمیں یہ سارے پہلو پوری طرح عیاں نظر آتے ہیں ، ایک خاص بات یہ ہے کہ جاری جنگ دیکھتے ہی دیکھتے بڑی عالمی طاقتوں کی جنگ بھی بن گئی ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل کی طرف سے اس جنگ کی قیادت کر رہا ہے تو چین اور روس بھی، گویا کوریا اور ویتنام کی جنگوں کی داستان دہرانے کے لیے، میدان میں اتر آئے ہیں۔
مشرق وسطی کی یہ نئی جنگ 28 فروری 2026 کو دن کے پہلے پہر تقریبا 9 بجے ایک ایسے خطرناک حملے سے شروع ہوئی جس میں ایران کے دینی و سیاسی رہنما ، مرشدِ اعلیٰ آیۃ اللہ علی خامنہ ای مارے گئے۔
اس غیر معمولی واقعے نے جہاں اس جنگ کو ابتدا ہی سے نہایت خطرناک صورتِ حال سے دوچار کر دیا، وہیں غیر عرب مسلم ممالک میں جذبات کا ایک طوفان بھی برپا کر دیا۔ اس طوفان میں بہت سے سنّی علما اور قائدین بھی بہہ گئے۔ بعض لوگوں نے اسے عہدِ حاضر میں اسلام دشمن طاقت اسرائیل کی جانب سے کسی مسلم ریاست کے خلاف پہلی باقاعدہ جنگ قرار دیا، جبکہ کچھ حلقوں نے خامنہ ای کو شہادت کا درجہ دیا۔
نوزائیدہ کسروی سلطنت کے اس بے تاج بادشاہ کا اس طرح، جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی، رخصت ہو جانا ہمیں بھی اچھا نہیں لگا۔ دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں ان کی رحلت زوال اسرائیل کی اس جنگ کو یک طرفہ یا ناکام نہ بنادے۔ مگر ہمارے خدشات کے برعکس ان کی وفات ایک طرح کی بشارت ثابت ہوئی۔ ان کے نظام کے باقی ماندہ مہروں نے سر دھڑ کی بازی لگانے کا عزم کر لیا۔ چنانچہ جلد مصالحت کے امکانات معدوم ہو گئے اور یوں ہماری امیدیں جاگ اٹھیں کہ شاید ربانی اشاروں کی ہماری فہم درست ثابت ہو اور ہم بیک وقت شام اور فلسطین کے مظلوموں کے لیے الٰہی انتقام کی آگ کو پوری شدت کے ساتھ بھڑکتے ہوئے دیکھ سکیں۔ اللہ کے وعدوں کی سچائی کا مظہر بلا تاخیر ہمارے ایمان کو جلا بخشے:
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ (ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے)۔
یہ کیسی جنگ ہے!
یہ ایک عجیب جنگ ہے؛ ایسی جنگ جس میں مسلمانوں پر ناقابلِ بیان مصائب کے پہاڑ توڑنے والے اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کا عزمِ مصمم رکھنے والے مجرم آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
یہ جنگ اس لیے حیران کن اور غیر معمولی محسوس ہوتی ہے کہ یہ انسانوں کی نہیں بلکہ قدرت کی برپا کی ہوئی جنگ معلوم ہوتی ہے: وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿البقرۃ251﴾
اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے دھکے نہ دیتا رہے تو روئے زمین برباد ہوکر رہ جائے ، مگر اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔
اب ذرا اس میدانِ جنگ میں آراستہ فوجوں پر ایک نظر ڈالیے، جنہیں گویا قدرت نے خود اس معرکے میں کھینچ کر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف وہ درندہ صفت اسرائیل ہے جو غزہ کے معصوموں پر آگ کی بارش کرتا رہا، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو عمارتوں کے ملبوں تلے زندہ دفن کرتا رہا اور لوگوں کو بھوک سے مارنے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھا—اور اس کے پیچھے کھڑا ہے اس کا سرپرست اور پشت پناہ امریکہ۔
دوسری طرف وہ طاقت ہے جو کل تک مشرقِ وسطیٰ میں سنّی مسلمانوں کے سر نیزوں پر اٹھائے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ولایتِ فقیہ کی فتح و نصرت کے نعرے بلند کرتی پھر رہی تھی۔
اور ان دونوں کے درمیان خلیجی ممالک ہیں، جو غزہ کے معاملے میں اپنی مجرمانہ خاموشی کے سبب آج قدرت کے عتاب کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہو سکتی ہے کہ مسلمان اس جنگ کی ماہیت، اس کی حقیقت اور اس کے پس پردہ کارفرما قدرت کی منشا کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ مسلمانوں کی تاریخ فراموشی اور اس سے ناآشنائی اس وقت نہایت صدمہ انگیز صورت اختیار کر لیتی ہے جب وہ اپنی تاریخ کے ایک خطرناک خونی ڈکٹیٹر کو شہیدِ اسلام کا سرٹیفکیٹ عطا کرنے لگتے ہیں، اور اس حقیقت سے بالکلیہ صرفِ نظر کر لیتے ہیں کہ اسی فقیہ ڈکٹیٹر کی شریعت انہیں کبھی شہید کا درجہ نہیں دے سکتی۔
اگر کسی کو اس کا یقین نہ آئے تو کوئی سنّی جا کر ان سے اپنے لیے شہادت کا حق مانگ لائے، یا کم از کم ان کے دربار سے اپنے مسلمان ہونے کا پروانہ ہی حاصل کر لے—وہ پروانہ جو حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے علاوہ صحابۂ کرام کی پوری جماعت بھی ان سے حاصل نہ کر سکی۔
یہ وہ حقیقت ہے جس کے کرب سے عالمِ اسلام کے نہایت معتدل سمجھے جانے والے عالمِ دین حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ بھی تڑپ اٹھے تھے، اور جسے بے نقاب کرنے کی ذمہ داری سے حضرت مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ نے کبھی غفلت نہیں برتی۔
ہماری سستی اور غفلت کا حال یہ ہے کہ اگر ہمیں روافض کے دین و عقائد پر سنجیدگی سے نظر ڈالنے کی دعوت دی جائے تو اس کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ ہم ان کے نامۂ اعمال کے چند اوراق الٹنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ چنانچہ اپنے ذہن و دل کی تاریکی میں جو چاہیں سوچ لیتے ہیں اور اپنے خیال کے مطابق کبھی خوشی اور کبھی غم منا کر بیٹھ رہتے ہیں۔
کاش کہ اس خونی مرشدِ اعلیٰ کو شہیدِ اسلام کی ڈگری دینے سے پہلے ہم ایران کے بلوچستان میں سنّی مسلمانوں پر انہی کے حکم سے ڈھائے جانے والے مظالم کو جاننے کی زحمت کر لیتے۔ کاش ہم کبھی ایران کے زیرِ قبضہ عرب علاقے اہواز کے سنّیوں پر نصف صدی سے ڈھائے جا رہے ظلم و ستم کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔
اگر حقیقت سے ناواقف لوگوں کو ان مظلوم مسلمانوں پر بیتنے والی بربریت کی داستانوں کا علم ہو جائے تو ان کے لیے ممکن نہ رہے کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کو نیتن یاہو کی صف سے الگ کر کے دیکھ سکیں۔
اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ اسی آیۃ اللہ علی خامنئی کی اسلامی ریاست میں کسی سنی کو صدارت کے عہدہ کی تمنا کرنے کے بھی اجازت نہیں توہ انہیں بی جے پی اور آر ایس کے خانوں سے نکال نہ سکیں جو ہندوستان میں اسی دستور کے لیے کوشاں ہیں ۔
آخر ہم یہ تفریق کیسے کر سکتے ہیں کہ اپنے ملک میں مسلم نوجوانوں کی قید و بند کو ظلم قرار دیں—اور وہ واقعی بدترین ظلم ہے—لیکن اسی جرم میں اہواز کی سڑکوں پر آئے دن مسلم نوجوانوں کو سرِعام پھانسی پر لٹکانے والوں کو اسلامی کاز کا چیمپئن سمجھنے لگیں ۔
عراق سے لے کر شام تک سنّی ماؤں اور بہنوں کی عصمت تار تار کرنے والے مجرموں کو ہم اس لیے معاف کر دیں کہ ستم کی ماری وہ مائیں اور بہنیں ہماری اپنی نہیں، اور ان کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے والے ہماری ناواقفیت کے باعث کسی نہ کسی طرح مسلمان ہی سمجھے جاتے ہیں۔
غزہ پر ظلم جاری ہے تو ہمارے سینوں میں سلگنے والی آگ بھڑک اٹھتی ہے، لیکن شام پر چند سال گزر جائیں تو ہم وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جس کا ارتکاب غزہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا۔
کوئی بتائے کہ شام اور غزہ میں بربادی کے مناظر آخر کس طرح مختلف ہیں؟
اگر نہیں، تو مسلمانوں کے خلاف یکساں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو مختلف خانوں میں کیسے رکھا جا سکتا ہے؟
کیا یہ حقیقت نہیں کہ غزہ پر جاری بربریت کی فلم سرزمینِ شام پر سب سے پہلے اسی مرشدِ اعلیٰ نے فلمائی، جس سے اسرائیل کو گویا یہ کھلا پیغام ملا کہ مسلمانوں کے قتلِ عام میں اب پردہ داری کی ضرورت باقی نہیں رہی ؟
یہ انتقامِ الٰہی کی آگ ہے
یہ جنگ دراصل ان تمام مجرموں سے اللہ کا انتقام ہے جو عالمِ اسلام کے قلب میں برسوں سے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے ہیں۔ آج ان جرائم کے ہر کردار پر قدرت کا شکنجہ کستا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
ایران کا رفیقِ بربریت، روس، برسوں سے یوکرین کی جنگ میں الجھا ہوا ہے اور گویا شام کے مسلمانوں کے زخموں کا حساب چکاتے چکاتے نڈھال ہو چکا ہے۔ دوسری طرف انقلابِ شام کی کامیابی نے پہلے ہی ایران کی قوت کو سخت دھچکا پہنچایا تھا، اور اب وہ بھی اپنے انجام اور کیفرِ کردار کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
ادھر دنیا نے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جو ظلم و بربریت دیکھی، اس نے ہر آہ کو اللہ کے حضور ایک فریاد میں بدل دیا۔ ہمیں کبھی یہ گمان نہیں گزرا کہ غزہ پر قہر ڈھانے والے مجرم عذابِ الٰہی سے بچ جائیں گے۔ چنانچہ وہ بھی ایک ایسی جنگ میں الجھ چکے ہیں جہاں ان کے سارے حساب الٹ پلٹ ہو کر رہ گئے ہیں۔
ہمیں اگر کسی چیز کا انتظار تھا تو وہ انتقامِ الٰہی کے ظہور کا تھا:
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ ﴿السجدہ: 22﴾ (بے شک ہم مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے)۔
البتہ یہ امید نہ تھی کہ یہ منظر اس قدر جلد ہماری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا۔
کیا اسرائیل ان مقاصد میں کامیاب ہو سکے گا جن کے حصول کے لیے اس نے یہ جنگ چھیڑی ہے؟
کیا امریکہ، جو اپنے پورے طمطراق اور لاو لشکر کے ساتھ میدان میں اترا ہے، اپنی ہیبت برقرار رکھ پائے گا؟
قانونِ فطرت یہی ہے کہ ظالم کا غلبہ آخرکار اس کے لیے ایک ایسا پُرفریب جال بن جاتا ہے جس میں وہ خود ہی پھنس کر اپنی قبر کھودنے لگتا ہے۔
ان شاء اللہ ہم اس جنگ میں ایک بار پھر اس حقیقت کو اس طرح نمایاں دیکھیں گے کہ ہمارے دلوں کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوگی۔ اگر اسرائیل مجرم ہے تو ایران بھی اس سے کم درجہ کا مجرم نہیں۔ اس جنگ میں وہ بھی قدرت کے شکنجے میں گرفتار نظر آتا ہے۔
ہماری تمنا یہی ہے کہ یہ جنگ اتنی طویل ہو کہ ان مجرموں میں سے کوئی صحیح و سالم باہر نہ نکل سکے۔
اے اللہ! ظالموں کو آپس میں ٹکرا کر ہلاک فرما اور ہمیں ان کے درمیان سے صحیح و سالم نکال لے۔
ان دونوں میں فرق ہی کیا ہے؟
ذرا یاد کیجیے، کل ہی کی بات ہے۔ 9 مارچ 2015 کو عالمی میڈیا نے ایک خبر نشر کی تھی۔ یہاں ہم اسے سی این این اور العربیہ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں:
ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر علی یونسی نے تہران میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا—جسے ایرانی طلبہ کی خبر رساں ایجنسی ایسنا (ISNA) نے نقل کیا—کہ ان کا ملک اپنی ابتدا سے ہی ایک سلطنت (امپائر) رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
"عراق نہ صرف ہمارے ثقافتی اثر و نفوذ کا حصہ رہا ہے بلکہ ہماری شناخت کا بھی حصہ ہے۔ آج وہ ہمارا دارالحکومت ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں، کیونکہ موجودہ جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یا تو اسے باہمی رضامندی سے تسلیم کر لیا جائے، ورنہ ہم اسے طاقت کے ذریعے منوا لیں گے۔”
یونسی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کا ملک خطے کو مسلم شدت پسندوں، وہابیوں اور نئے عثمانیوں (ترکیہ) سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ اب ذرا غور کیجیے کہ یہ کن کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ اس بیان میں کہیں اسرائیل کا نام تک نہیں آتا۔ اور یہ کس ایرانی سلطنت کی بات کر رہے ہیں؟
درحقیقت یہ اسی ساسانی سلطنت کا حوالہ دے رہے تھے جس کے بادشاہ کو کسریٰ کہا جاتا تھا اور جس کا دارالحکومت” مدائن” تھا، جو موجودہ عراق کے شہر بغداد کے جنوب مشرق میں واقع تھا۔ گویا وہ اسی دارالحکومت کو دوبارہ زندہ کرنے کی بات کر رہے تھے۔ یہ وہ سلطنت تھی جس کی سرحدیں ایران اور عراق کے علاوہ خلیجِ عربی کے بعض حصوں، شام، یمن اور افغانستان کے کچھ علاقوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دراصل یہ اسی کسریٰ کی سلطنت کی بحالی کا خواب تھا جس کے زوال کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی تھی اور فرمایا تھا: "إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ”
(جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا)۔ صحیح بخاری
اس بیان پر اس وقت بڑا ہنگامہ برپا ہوا۔ عراق نے بھی احتجاج کیا، مگر ایران کب ماننے والا تھا۔
انقلابِ اسلامی کا علمبردار ایران، آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں، اپنی ساسانی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے گویا آندھی اور طوفان کی طرح پورے عالمِ عرب کو روندتا ہوا شام تک جا پہنچا۔ خطے کا ہر ملک ہراساں تھا اور عالمِ اسلام دم سادھے یہ منظر دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ ارضِ حرمین پر قبضے کے خطرات کے چرچے ہونے لگے۔
اس کے باوجود ہم یہ کہتے رہے کہ ایران واحد مسلم ملک ہے جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے اور جس نے کبھی امریکہ کے سامنے خود سپردگی نہیں کی۔
ہم سادہ لوحوں کو کون سمجھائے کہ ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے انقلابِ اسلامی، حماس کی حمایت اور اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کے پرفریب نعرے بلند کیے جاتے رہے۔ حقیقت میں امریکہ کے مقابلے میں یہ سب اسلام کے لیے نہیں بلکہ ساسانی سلطنت کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے کیا جا رہا تھا۔
ایسا کیوں نہ ہو؟ جب دنیا میں مجوسی سلطنت کی واحد ریاست عالمی بساط پر اپنی حیثیت منوانے کے مشن پر گامزن ہو تو اپنی الگ پہچان بنانے کے لیے اسے یہ سب کرنا ہی پڑتا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ اس میں اور اسرائیل میں فرق ہی کیا ہے؟
غزہ میں نہتے لوگوں کو تہہ تیغ کرنے کے بعد اسرائیل کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ اس نے تورات کی بنیاد پر اسرائیلی ریاست کی سرحدوں کی بحالی کی بات شروع کر دی۔ یوں پورا مشرقِ وسطیٰ اس کے خواب کی زد میں آ گیا۔
بالکل اسی طرح جیسے کل ایران نے ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کا عملی نقشہ پیش کیا، جس میں عراق، یمن، لبنان اور شام سب اس کے زیرِ اثر آ گئے۔
ادھر نیتن یاہو بھی کیوں پیچھے رہتا؟ مغربی ممالک کی حمایت کے ساتھ اس نے بھی اپنے خوابوں کے نئے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ پیش کر دیا۔ غزہ کی جنگ کے دوران ایک اسرائیلی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے گریٹر اسرائیل کا نقشہ پیش کیا تو ہماری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں—مگر ہمارے حکمرانوں کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔
ایک طرف عظیم ساسانی سلطنت کا خواب ہے اور دوسری طرف عظیم اسرائیل کا خواب۔ آج جب یہ دونوں خواب آپس میں ٹکرا گئے ہیں تو آخر اس میں کون سی حکمت ہے کہ ہم ان خوفناک خوابوں میں سے کسی ایک کو اپنا سمجھ بیٹھیں؟
عقیدے کے جنون میں بھڑکتی ہوئی جنگیں
امریکہ میں اس وقت یہ بحث شدت کے ساتھ جاری ہے کہ یہ جنگ آخر کس کی ہے—اسرائیل کی یا امریکہ کی؟ اس جنگ کو شروع کرنے کا فیصلہ کس نے کیا؟
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ اس جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا اور امریکہ کو اس میں شامل ہونا پڑا۔ بعد ازاں ڈونالڈ ٹرمپ نے اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، مگر وہ امریکی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکا کہ یہ جنگ براہِ راست امریکی مفادات سے وابستہ ہے اور اس کی شروعات امریکہ نے کی ہے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ اسرائیل کی جنگ ہے۔ یہ نیتن یاہو کا وہ خبیث صہیونی جنون ہے جس نے اس قوم کو اللہ کی نظر میں پہلے ہی معتوب کر دیا ہے: وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ۔
"ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے۔”
اس جنگ کے پیچھے نہایت خطرناک یہودی اور مسیحی مذہبی عقائد کارفرما ہیں، جن سے دنیا—خصوصاً عالمِ اسلام—پہلے اس گہرائی کے ساتھ واقف نہ تھا۔
ان عقائد کے مطابق یہودیوں کا ماشیح (Mashiach) اور عیسائیوں کے مسیح کے جلد ظہور کے لیے فلسطین میں مکمل یہودی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ یہودی عقیدہ یہ بھی کہتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کا انہدام اور اس کی جگہ ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر اس عمل کے لازمی شرائط میں شامل ہے۔
تقریباً ایک صدی سے امریکہ اور یورپ اسی مقصد کے لیے فلسطین میں سرگرم رہے ہیں، جبکہ ہم اسے محض استعماری جنگیں سمجھتے رہے۔ اب جب یہ حقائق دنیا کے سامنے آ رہے ہیں تو خود امریکہ اور یورپ کی نئی نسل کے لیے بھی اسے سمجھنا آسان نہیں رہا۔
آخر یہ کیسا مذہب ہے جو ایسے بے بنیاد اور خود ساختہ عقائد کی بنیاد پر دنیا میں خونریزی کو جائز سمجھتا ہے؟
اس خطرناک عقیدے کے تحت یہودی یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ ان کی تورات کی پیش کردہ سرحدیں قائم ہوں گی، پورا مشرقِ وسطیٰ ان کے قبضے میں ہوگا اور وہ پوری دنیا پر غلبہ حاصل کریں گے۔
دوسری طرف پروٹسٹنٹ مسیحی عقائد کے مطابق یہودی ریاست کی تکمیل ان کے مسیح کے ظہور کی ضمانت ہوگی۔ ان کے خیال میں جب پورے فلسطین میں مکمل یہودی ریاست قائم ہو جائے گی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔
اس کے بعد دنیا بھر سے جمع ہونے والے یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا کر عیسائیت اختیار کر لیں گے اور پھر وہ دور شروع ہوگا جسے ہزار سالہ سنہرا عہد (Millennial Kingdom) کہا جاتا ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں مسیحی دنیا ترقی اور سعادت سے بہرہ ور ہوگی۔ (ان شاء اللہ راقم اپنی آئندہ کتاب میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کرے گا)۔
نیتن یاہو کا یہ جنگی جنون محض اس کی ذاتی سوچ نہیں بلکہ اسرائیلی ریاست کے بنیادی عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ اسرائیل کے ہر حکمران کو یہودی حاخام (ربی) اس مشن کو تیز رفتاری سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ اس مشن کا صاف مطلب یہ ہے کہ پورے فلسطین پر بلا شرکتِ غیرے قبضہ قائم کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اردن، عراق، شام، مصر اور سعودیہ کے بعض علاقوں تک توسیع کی جائے، نیز ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کو عملی شکل دی جائے۔
اس خواب کی تعبیر مسلمانوں کے لیے کتنی خوفناک ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس منصوبے پر اس قدر جنون کے ساتھ کام ہو رہا ہے کہ گویا ہر اسرائیلی اس مشن کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے۔5 مارچ کو اپنے ایک پروگرام میں معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) نے یوٹیوب پر نشر ہونے والے اپنے ایک پروگرام میں ایک حیرت انگیز کلپ پیش کیا۔ اس کلپ میں دکھایا گیا کہ 7 اکتوبر کے بعد غزہ پر کیے جانے والے اسرائیلی حملے "آہنی تلواریں” (Iron Swords) کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی وردیوں پر بازو کے ساتھ مختلف بیج (Badges) لگائے گئے تھے۔ ان بیجز پر مختصر عبارتوں میں اس جنگ کے مقاصد، یہودی ریاست کی تکمیل اور اس کی حتمی منزل کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔
گویا اسرائیل کا ہر وزیر، اس کا ہر فرد اور ہر فوجی اس مذہبی جنون کے تحت جنگ کے لیے کمر بستہ ہے۔
مذکورہ بالا صہیونی عقیدے کے حامل یہود و نصاریٰ گزشتہ صدی کے عالمی سیاسی واقعات اور حادثات کو اپنے عقیدے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور انہیں اپنے لیے نصرتِ غیبی اور تائیدِ الٰہی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ چند غیر معمولی تاریخی واقعات مندرجہ ذیل ہیں:
• 1917 میں اس وقت کی سپر پاور برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بالفور (Arthur Balfour) کی جانب سے فلسطین میں یہودی قومی وطن کے قیام کا وعدہ، جو تاریخ میں اعلانِ بالفور (Balfour Declaration) کے نام سے معروف ہے۔
• 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان۔
• 1967 کی چھ روزہ عرب۔اسرائیل جنگ، جس میں اسرائیل نے عرب ممالک کو شکست دے کر بیت المقدس سمیت پورے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔
• 2017 میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جانا بھی ان کے نزدیک ایک اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔
صہیونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ سب واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ اللہ مشیح / مسیح کے ظہور کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ اسی لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مسلسل کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
ان کے خیال میں اب صرف آخری مرحلہ باقی رہ گیا ہے—یعنی مسجدِ اقصیٰ کا انہدام اور اس کی جگہ ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر۔
ایران پر حملہ: ایک معمہ
تو کیا اسرائیل نے ایران کے خلاف یہ جنگ اپنے مذہبی عقائد اور ان کے مطابق اپنی آخری منزل کے حصول کے لیے چھیڑی ہے؟ اگر ایسا ہے تو بظاہر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ایران اسرائیل کے مقاصد کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسرے لفظوں میں مسلم ممالک کے درمیان ایران وہ واحد طاقت دکھائی دیتا ہے جو مسجد اقصیٰ کا حامی و ناصر ہے۔
مگر غالب کے بقول: "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں، کچھ”
حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس جنگ کے پس منظر میں صہیونی منصوبہ بندی کارفرما ہے، مگر جب ہم اس کے پس پردہ حقائق پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک مختلف اور مکمل تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران اور اسرائیل اپنی علاقائی بالادستی کی حکمت عملی میں ایک دوسرے کے وجود سےآج تک فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ عالم عرب میں اثر و نفوذ بڑھانے کے لیے دونوں نے بالواسطہ طور پر ایک دوسرے کے وجود کو اپنی سیاست میں استعمال کیا۔ کبھی ایک دوسرے کی مخالفت کی اور ضرورت پڑنے پر خفیہ تعاون بھی کیا ۔
اس کی بہت ساری مثالیں تاریخ میں واضح طور پر ملتی ہیں۔
1979 میں خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان شدید دشمنی کے اعلانات کیے گئے، مگر اسی کے چند سال بعد 1985–1986 میں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا جسے ایران–کونٹرا معاملہ (Iran–Contra Affair) کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ انکشاف ہوا کہ امریکہ نے خفیہ طور پر ایران کو اسلحہ فراہم کیا۔
امریکی تحقیقاتی وکیل لارنس ای والش (Lawrence E. Walsh) اپنی کتاب "حفاظتی دیوار: ایران–کونٹرا سازش اور اس کی پردہ پوشی ” میں لکھتے ہیں:
ایران–کونٹرا معاملے نے یہ حقیقت ظاہر کر دی کہ امریکی حکومت کے اندر ایک خفیہ نیٹ ورک موجود تھا جو سرکاری دشمنی کی پالیسی کے باوجود ایران کے ساتھ خفیہ معاملات کر رہا تھا (صفحہ 4)۔
اسی تحقیق میں اسرائیل کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: اسرائیل نے ایران تک امریکی ہتھیار پہنچانے میں ایک ثالث کا کردار ادا کیا (صفحہ 61)۔
والش مزید لکھتے ہیں: اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان عوامی بیانات دشمنی پر مبنی تھے، مگر خفیہ سفارتی رابطے جاری رہے (صفحہ 52)۔
اسی موضوع پر امریکی محقق میلکم برن (Malcolm Byrne) اپنی کتاب "ایران–کونٹرا اسکینڈل” میں لکھتے ہیں:
اس اسکینڈل نے امریکہ اور ایران کے تعلقات کی پیچیدگی کو ظاہر کیا جہاں دشمنی اور خفیہ روابط ایک ساتھ موجود تھے۔
یعنی بظاہر دشمنی کے باوجود خفیہ روابط برقرار رہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں تو مشرق وسطیٰ کی بہت سی سیاسی الجھنیں دور ہو جاتی ہیں۔
ایک عرصے تک بعض ایرانی مفکرین امریکی پالیسی سازوں کو یہ باور کراتے رہے کہ ان کا اصل دشمن سنی سیاسی قوتیں ہیں۔ اس بحث کی تمام تفصیلات اس مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں، مگر ان تحریروں کا مطالعہ کرنے والا شخص حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح مذہبی و سیاسی اختلافات کو عالمی سیاست کا حصہ بنایا گیا۔
امریکہ ان دلائل سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے عالم اسلام میں اپنی؎ پالیسیوں میں اسی زاویے کو اختیار کیا یعنی جہاں کہیں بھی موقع ملا سنیوں کو بے دخل کرکے شیعوں کو اقتدار سونپ دیا گیا یا انہیں بے جا حصہ داری دلانے کی کوشش کی گئی۔ عالم عرب میں شیعی ملیشیا ؤںکو طاقتور بنانا اور عرب حکومتوں بالخصوص خلیجی ممالک کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑدینا بھی اسی پالیسی کا حصہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال 2003 میں عراق پر امریکی حملہ اور اس کے بعد کی سیاسی تبدیلیاں ہیں۔
عراق میں امریکی عبوری حکومت کے سربراہ پاول بریمر (Paul Bremer) نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا:
"جب ہم نے صدام حسین کو اقتدار سے ہٹایا تو اس کے ساتھ ہی ہم نے عراق میں سنیوں کی ایک ہزار سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ خلافت عباسیہ سے لے کر ترکوں کے دور اور پھر ہاشمی بادشاہت تک سنی اقتدار کی ایک طویل تاریخ کا باب بند ہو گیا” ۔
بریمیر کا یہ انٹرویوں آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے جسے سننا ہے محض حاشیہ میں دی گئی عبارت ٹائپ کرکے خود اپنی کانوں سے سن لے۔
امریکی محقق ولی نصر (Vali Nasr) اپنی کتاب "شیعوں کا احیا (The Shia Revival)” اور امریکی تجزیہ نگار کینتھ ایم پولک (Kenneth M. Pollack) اپنی کتاب "فارسی معمہ (The Persian Puzzle)” میں عراق جنگ کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان عملی تعاون کا ذکر کرتے ہیں۔
امریکی سفارت کار جیمز ڈوبنز (James Dobbins) اپنی کتاب "طالبان کے بعد: افغانستان میں ریاست سازی ” میں لکھتے ہیں: بون کانفرنس میں ایرانی سفارت کاروں نے تعمیری کردار ادا کیا اور طالبان کے بعد افغانستان میں نئی حکومت قائم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔
اسی موقع پر امریکی وزیر خارجہ کولن پاول (Colin Powell) نے بھی کہا تھا: ایران کے ساتھ تعاون کے مزید امکانات تلاش کرنے کے لیے ہم تیار ہیں۔
یہاں تک کہ اسرائیلی فوج کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شلومو گازیت (Shlomo Gazit) نے لکھا:
"موجودہ دشمنی کے باوجود ایران تاریخی طور پر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا ایک فطری اسٹریٹجک اتحادی رہا ہے”۔
ان تمام حوالوں کا مقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست محض ظاہری دشمنیوں سے نہیں سمجھی جا سکتی۔ بلکہ اس کے پیچھے متحارب طاقتوں کا اپنے اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کبھی تعاون تو کبھی جنگ کے کھیل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
ایران کے کردار پر ممتاز ترک صحافی قرہ غول کے ایک بیان کو "ترک پریس” نے 5 دسمبر 2017 کو اپنے ایک نشریہ میں یوں بیان کیا :
ماہرِ امورِ مشرقِ وسطیٰ ابراہیم قرہ غول نے اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے کہ ایران کی توسیع پسندانہ حکمتِ عملی اور اس کے جغرافیائی و سیاسی اہداف، جنہیں وہ خطے میں مسلکی کشیدگیوں کے ذریعے آگے بڑھا رہا ہے، درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کے لیے صورتِ حال کو آسان بنا دیتے ہیں۔
ترک اخبار "ینی شفق” کے مدیرِ اعلیٰ قرہ غول کے مطابق ایرانی طرزِ عمل وہ نفسیاتی بنیاد فراہم کرتا ہے جس کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادی سنی عرب ممالک کو ایرانی خطرے کے مقابلے میں تحفظ کی پیشکش کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ پیشکش دراصل عرب حکومتوں کو ایسے منظرنامے میں جکڑ دیتی ہے جو بالآخر ان کے اپنے ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
معروف ترکیہ نیوز اور تجزیاتی آرا نشر کرنے کے لیے معروف اسی ترک پریس کے ایک مقالہ نگار فہد الرداوی ایران کی اسرائیل دوستی اور سنی مخالف پالیسی پرروشنی ڈالتے ہوئے اپنے مقالہ کے اختتام پر لکھتے ہیں:
اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا 2015 کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا:
"ایران نے تاریخ میں تین مرتبہ یہودیوں کو بچایا ہے؛ پہلی مرتبہ بابل میں کورشِ اعظم کے زمانے میں، دوسری مرتبہ دوسری عالمی جنگ کے دوران، اور تیسری مرتبہ شام میں اسد حکومت کے سقوط کو روکنے کے لیے مداخلت کر کے”۔
فہد الرداوی کے مطابق اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی تصادمات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو تاریخ کے صفحات میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ ہوئی ہو، نہ ہی یہ ریکارڈ موجود ہے کہ کسی ایرانی گولی نے کسی اسرائیلی کو ہلاک کیا ہو یا کسی اسرائیلی گولی نے کسی ایرانی کو قتل کیا ہو۔
بلکہ اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے باہر یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی ایران میں پائی جاتی ہے، جس کی تعداد تقریباً پچاس ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہ لوگ تہران، ہمدان اور اصفہان جیسے شہروں میں آباد ہیں، جہاں انہیں اپنے قبرستانوں، زیارت گاہوں اور عبادت گاہوں کی آزادی حاصل ہے۔ اس کے مقابلے میں تہران میں ایک بھی سنی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جاتی ۔
حالیہ جنگ پر عام تاثر اور ایمانی موقف
آج الیکٹرونک میڈیا کے دور میں معلومات کی اس قدر فراوانی ہے کہ عام آدمی بھی اس جنگ کے ظاہری اسباب، روز بدلتے ہوئے حالات اور دنیا بھر کے بے شمار ماہرین کے تجزیوں سے بڑی حد تک واقف ہے۔ اس جنگ کے ہر لمحہ بدلتے حالات اور ممکنہ نتائج پر بھی مختلف زاویوں سے گفتگو کی جا رہی ہے۔
اگر کسی چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے تو وہ روحِ اسلامی سے سرشار اور امتِ مسلمہ کے مستقبل کے حوالے سے گہرے اور بصیرت افروز تجزیوں کی ہے۔
کون نہیں جانتا کہ اس جنگ کے پس منظر میں “طوفانِ اپسٹین” جیسے عوامل کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کی تلوار امریکی صدر کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور وہ اسرائیل کے ہر حکم کی تعمیل پر مجبور ہے۔ اس رائے کے حامل افراد کے مطابق اپسٹین کا معاملہ دراصل ایک ایسی پیچیدہ سازش کا حصہ تھا جس کے ذریعے دنیا کے بااثر حکمرانوں کو اپنے اثر و نفوذ میں لینے کی کوشش کی گئی۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی امریکی وزارتِ انصاف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف وقتاً فوقتاً ایسے دستاویزات اور معلومات سامنے لاتی رہتی ہے جو ماضی میں پوشیدہ رکھی گئی تھیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جب بھی جنگ کے حوالے سے پسپائی کا تصور ابھرتا ہے تو امریکی صدر کو بالواسطہ دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ امریکی سیاسی و عدالتی نظام پر اسرائیلی اثرات غیر معمولی حد تک گہرے ہیں۔
اسی طرح بہت سے باخبر حلقوں کو اس پہلو کی بھی کسی نہ کسی حد تک خبر ہے کہ اس جنگ کے پس منظر میں جھوٹی توراتی تعبیرات بھی کارفرما ہیں، جن کی پشت پر عیسائی صہیونیت کھڑی ہے۔ اس موضوع پر ہم پہلے ہی اختصار کے ساتھ روشنی ڈال چکے ہیں۔
لیکن ایک پہلو ایسا بھی ہے جو اکثر لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہ جاتا ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی تدبیر۔ یہی وہ پہلو ہے جسے نظر انداز کر دینے سے واقعات کا حقیقی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا، حالانکہ طوفانِ اقصیٰ سے لے کر شام کے میدانوں تک رونما ہونے والے واقعات میں اللہ کی تدبیر کے آثار نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (آل عمران: 54)
حالیہ جنگ اور طوفان اقصی
طوفانِ اقصیٰ امتِ مسلمہ کی تاریخ کا ایک ایسا اہم موڑ ہے جس سے امت یوں ہی گزر نہیں سکتی۔ اس واقعے کے پس منظر میں کئی اسرار پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ شہیدِ ملت یحییٰ السنوارؒ اسرائیل کے عزائم اور منصوبوں سے بخوبی واقف تھے۔ اس اعتبار سے طوفانِ اقصیٰ کو ایک استباقی اقدام بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر اسرائیل کو طوفانِ اقصیٰ کا بہانہ ہاتھ نہ بھی آتا تو بھی وہ اپنی اس مہم کو شروع کرنے والا تھا، کیونکہ اسرائیلی ریاست کی تکمیل یہودا و سامرہ (Judea and Samaria) یعنی مغربی کنارہ (West Bank) کے بغیر ممکن نہیں سمجھی جاتی۔
حماس نے مغربی کنارے کے مسئلے کا بوجھ اپنے سر لے کر اس منصوبے کے کئی تار و پود بکھیر دیے۔ یوں توراتی حدود کے خواب کو غزہ کی تنگ پٹی میں اس طرح الجھا دیا کہ اسرائیل اس دلدل سے نکلنے میں ناکام دکھائی دینے لگا۔
نیتن یاہو اور صہیونی نظریات سے سرشار اسرائیلی قیادت کے لیے اس حقیقت کو سمجھنا آسان نہ تھا۔ غزہ کے مجاہدین، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پوری دنیا کے سامنے اسرائیل کے خوفناک چہرے سے نقاب اٹھا دیا۔ اس کے باوجود اسرائیلی قیادت اپنی سابقہ منصوبہ بندی کے مطابق اپنی مہم پر گامزن رہی۔
طوفانِ اقصیٰ کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی تھی کہ اس نے فتح شام کا راستہ کھول دیا ۔ اگر طوفانِ اقصیٰ نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ شام کے حالات علاقائی اور عالمی سیاست کے دھندلکوں میں ہی دب کر رہ جاتے۔
ادھر اسرائیل غزہ کو مٹا دینے کے اپنے منصوبے میں بظاہر کامیابی کے نشے میں مغربی کنارے پر مکمل قبضے کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا۔ لیکن وہ اس حقیقت سے چشم پوشی کرتا رہا کہ طوفانِ اقصیٰ نے عالمی رائے عامہ کی سطح پر اس کی بنیادیں اس قدر ہلا دی ہیں کہ اب اسے پہلے جیسا استحکام حاصل نہیں رہ سکتا۔
طوفانِ اقصیٰ کے پس منظر میں شام اور لبنان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بعد اسرائیل کو یہ گمان ہونے لگا کہ پورے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اب اسے ایران کے کندھوں کو استعمال کرنے ضرورت نہیں رہی چنانچہ اس سوچا کہ ایران کو براہِ راست کمزور کر کے پورے خطے کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی جائے۔ جون 2025 میں ایران کے ساتھ ہونے والی بارہ روزہ جنگ اسی حکمتِ عملی کا ٹریلر تھی۔
اسی دوران خلیجی اور متعدد عرب ممالک پہلے ہی ابراہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر چکے تھے۔ اس طرح بظاہر ایسا منظر بن گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی سربراہی کا اعلان ہونے والا ہے۔
ایران اور اسرائیل دونوں اپنے اپنے منصوبوں پر گامزن تھے۔ کل تک ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ایران پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی ساسانی طرز کی بالادستی قائم کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے، اور آج ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل ایران کو پسپا کر کے اپنے غلبے کے خواب میں مست ہے۔
لیکن تاریخ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بڑی قوتوں کے منصوبے ہمیشہ ویسے پورے نہیں ہوتے جیسے وہ چاہتے ہیں۔ جس طرح ایرانی منصوبے اللہ کی تدبیر کے سامنے ناکام ہوئے، اسی طرح ایران کے ساتھ جنگ میں الجھ کر اسرائیل بھی خطے کے پیچیدہ حالات میں پھنستا ہوا نظر آتا ہے۔
طوفانِ اقصیٰ کے دوران ایران اپنی عرب ملیشیاؤں، خصوصاً حزب اللہ اور حوثیوں کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ تاہم اس کے ساتھ اسے اس حقیقت کا بھی سامنا تھا کہ شام اور لبنان میں اس کی پوزیشن پہلے جیسی نہیں رہی۔ اسی تناظر میں ایک موقع پر آیت اللہ خامنہ ای نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حماس نے یہ کارروائی کس سے مشورہ کر کے کی۔
اس پورے پس منظر میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام کی حقیقی آزادی اور خود مختاری کے لیے خطے میں ان دونوں طاقتوں کا خاتمہ ضروری ہے جو امت کے وسائل اور مستقبل کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔
طوفانِ اقصیٰ نے عالمی سطح پر اسرائیل کی ایسی تصویر پیش کر دی کہ وہ انسانی ضمیر کے لیے ایک سنگین سوال بن گیا۔ مغربی دنیا میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسرائیلی پالیسیوں سے علانیہ اختلاف کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔
اسی وجہ سے آج یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جنگ کے نعروں کے باوجود امریکہ کو عالمی سطح پر پہلے جیسی حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔ امریکی عوام کے ایک بڑے طبقے میں بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید بڑھتی جا رہی ہے، اور اسرائیلی لابی کے اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگر طوفانِ اقصیٰ کے دوران اسرائیل کی کارروائیاں عالمی سطح پر اس شدت سے منظر عام پر نہ آتی تو ممکن تھا کہ اس جنگ کا نقشہ بالکل مختلف ہوتا۔ ایسے حالات میں بہت سے مغربی ممالک کھل کر اس جنگ میں شامل ہو جاتے اور عرب و خلیجی ممالک اس جنگ کا صرفہ اٹھاتے نظر آتے ۔
اس اہم نکتہ کو سمجھنا امت کے لیے نہایت ہی اہم ہے کہ عالم اسلام کی آزادی و خود مختاری کے لیے اسرائیل و ایران دونوں کازوال ضروری ہے۔ لیکن ایران کا زوال اسرائیل کے زوال سے پہلے قدرت کا فیصلہ تھا۔ ایران نے آج تک اپنی ملیشیاؤں اور ہمنوا گارڈوں سے اسرائیل کی حفاظت کا کام کیا جیساکہ اس سے پہلے ہم مشہور ترک صحافی "فہد الرداوی” کے بیان میں دیکھ چکے ہیں۔
خلیجی ممالک اور اللہ کا عتاب
یہ جنگ مسلمانوں کے لیے طوفانِ اقصیٰ کی خیرات و برکات کی ایک ایسی بشارت لے کر آئی ہے جس کا احسان پورا عالمِ اسلام ادا کرنے سے عاجز ہے۔
ذرا تصور کیجیے: ایک طرف غزہ میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، لوگ آگ اور خون میں لت پت تھے، اور دوسری طرف سرزمینِ حرمین پر لہو و لعب کے ایسے مناظر پیش کیے جا رہے تھے جن سے نہ صرف امتِ مسلمہ بلکہ پوری انسانیت شرم سے سر جھکائے کھڑی تھی۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمران اور ان کے گرد جمع مفاد پرست عناصر کو سمجھانے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔
عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں سے یہ آوازیں بلند ہوئیں کہ کم از کم غزہ کے مظلوموں اور ان کی قربانیوں کے احترام میں ہی ان تفریحی پروگراموں کو روک دیا جائے، مگر ان اپیلوں کو کوئی اہمیت نہ دی گئی۔
ان تقریبات پر عالمی فنکاروں کو جو خطیر رقوم ادا کی جا رہی تھیں، اگر مغربی میڈیا میں اس پر ہونے والی بحث کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہی وسائل غزہ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے کافی تھے۔
اسی دوران سعودی عرب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بھی غیر معمولی تشہیر کے ساتھ پیش کیا جا رہا تھا، حالانکہ بہت سے ماہرینِ معیشت اور سنجیدہ مبصرین کے نزدیک ان منصوبوں کے کئی پہلو قابلِ سوال تھے۔ اس کے باوجود ان منصوبوں کے حامی یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے تھے کہ سعودی عرب کو ایسی ترقی کی سمت میں لے جایا جا رہا ہے جس کا ماضی میں صرف تصور کیا جا سکتا تھا۔
لیکن حالات نے جلد ہی ایک مختلف منظر پیش کر دیا۔ بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود خطے کی سیاسی و عسکری کشیدگی نے ایسی صورت پیدا کر دی کہ سعودی قیادت کو اپنے کئی منصوبوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑی اور علاقائی سلامتی کے خدشات نمایاں ہو گئے۔
ان شاء اللہ اگر موقع ملا تو اپنی آئندہ کتاب میں میں ان امور پر مزید تفصیل سے روشنی ڈالوں گا کہ کس طرح خطے کی سیاست میں بعض ایسے اقدامات بھی کیے گئے جنہوں نے وسیع پیمانے پر بحث و تنقید کو جنم دیا۔ انہی میں ایک واقعہ اس اسرائیلی حاخام (ربی) کی سرگرمیوں کا بھی تھا جو جزیرۂ عرب میں خود کو” حاخامِ جزیرۂ عرب” کے طور پر متعارف کراتا تھا اوریہودی مذہبی علامات کے ذریعے اپنی شناخت ظاہر کرتا تھا۔ جب غزہ کی جنگ شروع ہوئی تو یہ ربی فوجی جزیرۂ عرب سے بھاگا اور وردی پہن کر جنگ میں کود پڑا، ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد سعودی حکومت کے لیےمنہ چھپانا آسان نہ رہا۔ ایک امریکی سروے نے بھی حکمران حلقوں کو چونکا دیا جس کے مطابق سعودی عوام کی بھاری اکثریت غزہ کے مظلوموں کے ساتھ ہمدردی رکھتی تھی۔ اس کے بعد حکومتی بیانات اور لہجوں میں بتدریج تبدیلی محسوس کی جانے لگی۔
خلیجی حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایران کو عالمِ اسلام کی سیاست میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا تو اس میں سعودی حکومت کی ملت فروشی اور اقتدار کے ساتھ عیش وطرب کے وطیرہ کا بڑا رول رہا ہے، جنہوں امریکہ کے ساتھ سودا کو عزیز جانا اور ملت کے دفاع کے محاذ پر کوئی کوشش نہیں کی۔
نئے سعودی حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کی فہرست میں یہ نکات بھی شامل ہیں کہ علماء، دانشوروں اور صحافیوں کو پابند سلاسل کرکے سماج کو دینی رہنمائی سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ، جبکہ مذہبی اداروں اور مساجد کے نظام میں بھی کئی نئی پابندیاں متعارف کرائی گئیں۔ مثال کے طور پر خطباتِ جمعہ کے اوقات کو محدود کرنا اور بعض مذہبی سرگرمیوں پر روک لگاکر معاشرہ کو اسلام سے دور کرنے کے مقاصد پر عمل پیرا ہونا۔
ان تمام حالات کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ شاید حالیہ جنگ سعودی حکمرانوں کو اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دے۔ سعودی حکومت تفریحی سرگرمیوں اور سیاحت کے منصوبوں کے بجائےسلامتی اور دفاع کے تقاضوں پر زیادہ توجہ دینے لگے ۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ خطے کی قیادت اس صورتحال کو کس طرح سمجھتی ہے اور آیا وہ اس سے کوئی مثبت سبق حاصل کرتی ہے یا نہیں۔ تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ دنیا ایک غیر یقینی دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں بڑے تنازعات کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں امتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لے اور اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے سنجیدہ تیاری کرے۔
اسلام دشمنی کا دوسرا نام: متحدہ عرب امارات
خلیجی حکمرانوں کی اقتدار پرستی اور ملت فروشی کے درپردہ کرداروں کا علم ماضی میں صرف چند باخبر حلقوں تک محدود تھا۔ وہی لوگ ان حکمرانوں کے اقدامات کے پس پردہ حقائق کو جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ غیر مسلم تجزیہ نگار بھی حیران ہو کر یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کیا یہ حکمران واقعی اسلامی اقدار کے نمائندہ ہیں؟
گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے ابوظبی کا حکمران محمد بن زاید عالم اسلام میں جو کردار ادا کر رہاہے، وہ اسلام دشمنی کے اسرائیلی کردار سے کسی طرح کم نہیں۔ غزہ میں مسلمان بھوکوں مر رہے تھے، اور جب اسرائیل کا بحری راستہ بند ہوا تو اس نے اسرائیل کے لیے دوا اور غذا کی سپلائی کا نیا زمینی راستہ کھول دیا۔
ذرا تصور کیجیے کہ جو لوگ ہمارے معصوم بچوں کو لقمہ لقمہ کو ترسانے پر کمر بستہ ہوں، ان کے اس گھناؤنے عمل میں اگر کوئی مسلمان اس طرح شانہ بشانہ کھڑا ہو جائے تو کیا وہ کسی طرح مسلمان کہلانے کا مستحق رہ جاتا ہے؟
اسلام دشمنی میں اس شخص نے ایسے راستے اختیار کیے جو تاریخ کے بدنام کرداروں کی یاد دلاتے ہیں۔ یہی وہ شخص ہے جس پر یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں علما کی گرفتاریاں، مساجد میں دینی سرگرمیوں پر پابندیاں اور دینی کتابوں کے مطالعہ پر قدغن جیسے اقدامات میں پس پردہ کردار ادا کیا۔
اسی کے ساتھ ترکی میں سفارت خانے کے اندر ایک محترم سعودی صحافی اور دانشور کے قتل جیسے ہولناک واقعے کے ارتکاب کا مشورہ سعودی شہزادے کو دینے کا الزام بھی جاتا ہے (جس سے ابھی حال فی الحال اپسٹن فائل نے پردہ اٹھایا)۔
یمن میں بھی اس نے سعودی عرب کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیا لیکن در پردہ ایسے اقدامات کیے کہ سعودی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہ گئے اور وہ پورے جنوبی یمن پر قابض ہو بیٹھا۔ یمن میں اس نے جو ابلیسی کردار ادا کیااس کے تحت یمن میں علما، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور دینی خدمات انجام دینے والوں کو چن چن کر شہید کیا جس کے خلاف انسانی حقوق کے مختلف اداروں نے توجہ دلائی۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں بی بی سی جیسے اسلام مخالف ذرائع ابلاغ نے بھی مختلف رپورٹس میں پیش کیا۔ اس کی گرفت سے بچ کر مغرب پہنچنے والے بعض یمنی اسکالرز کے پاس بھی ان واقعات کا تفصیلی ریکارڈ موجود بتایا جاتا ہے۔
سیاسی طور پر یمن کو جس طرح مختلف گروہوں کی کشمکش کا میدان بنایا گیا، اس نے وہاں کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یمن کےعلما و صلحا کے لیے معروف شہر "تعز "پرمثل غزہ طویل حوثی محاصرے کا راستہ اسی نے ہموار کیا۔
گزشتہ چند مہینوں میں سعودی عرب اور امارات کے درمیان یمن کے مسئلے پر پیدا ہونے والی کشیدگی اور بعض عسکری واقعات نے بھی ان حقائق کو عام لوگوں کے سامنے واضح کر دیا۔
یہ امارات ہی تھا جس نے عرب بہار کی تحریکوں کو مصر سے لے کر لیبیا تک ناکام بنانے کے لیے اپنے وسائل بے دریغ استعمال کیے۔ ترکیہ نے لیبیا کو سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی، مگر امارات نے وہاں بھی مداخلت کر کے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اسی طرح ترکی کے اندر اردغان حکومت کے خلاف ماضی میں ہونے والی بعض کوششوں میں بھی اماراتی کردار کے بارے میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
سوڈان میں بھی امارات کے کردار پر عالمی سطح پر شدید بحث ہوئی۔ جب غزہ کے بعد سوڈان کے حالات عالمی توجہ کا مرکز بنے تو دنیا حیران رہ گئی کہ وہاں کس طرح خانہ جنگی اور تباہی برپا کرنے میں امارات نے اپنا شیطانی رول ادا کیا ۔
ان تمام واقعات کے تناظر میں یہ جنگ متحدہ عرب امارات کے لیے سخت الہی عتاب بن کر نازل ہوئی۔ عالم اسلام کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مسلمانوں کے دلوں میں جو جذبات پیدا ہوئے وہ اس بات کی علامت ہیں کہ امت امارات کے ہاتھوں اپنے زخموں کو بھولی نہیں سکتی۔
آج امارات خود بھی ان جذبات سے بے خبر نہیں۔ اسی لیے وہ بار بار یہ بیان دیتا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔
مگر سوال یہ ہے کہ چند دہائی پہلے تک سمندر کے درمیان ریت کے ٹیلوں پر آباد ایک چھوٹی سی ریاست کب اور کیسے اس مقام پر پہنچ گئی کہ وہ پورے عالم اسلام کی سیاست میں مداخلت کرنے لگی؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ کمزور مسلم ممالک تھے جن کی گردنوں پر عالمی طاقتوں نے ایسے حکمران مسلط کر دیے۔ لیکن جب تاریخ کا پہیہ گھومتا ہے تو حالات بھی بدلتے ہیں۔ آج جب حالات نے کروٹ لی ہے تو بہت سے لوگوں کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ طاقت کے یہ توازن ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
خلاصہ بحث
حالیہ جنگ کے پس منظر میں ایران اور اسرائیل کے بارے میں مذکورہ بالا حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے قاری کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ اس جنگ کی اصل نوعیت کیا ہے۔ اگر اس جنگ سے ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی صحیح و سالم نکل آیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عالمِ اسلام کی آزادی کے خواب کو ایک بڑا دھچکا پہنچے گا۔
ہماری تمنا اور دعا یہی ہونی چاہیے کہ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کو ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے جو نہ صرف اس کے توراتی سرحدوں کے خواب کو بکھیر کر رکھ دے بلکہ غزہ اور مغربی کنارے میں بھی اسے دوبارہ مضبوطی سے کھڑا ہونے کے قابل نہ چھوڑے۔
اسی طرح یہ جنگ ایران کو بھی اس حد تک کمزور کر دے کہ وہ آئندہ کسی مسلم ملک کے لیے چیلنج نہ بن سکے، نہ ترکیہ کے عروج و طاقت سے حسد کرنے کی پوزیشن میں رہے اور نہ ہی عالمِ اسلام کے مستقبل، خصوصاً شام کی طرف اپنی ناپاک نظریں اٹھا سکے۔
عالمِ اسلام کو چاہیے کہ وہ ان دونوں قوتوں کے دباؤ سے آزاد ہو کر آنے والے زمانے کے چیلنجز اور ممکنہ جنگوں کے لیے سنجیدہ تیاری کرے۔ عرب ممالک بھی اس جنگ سے وہ سبق حاصل کریں جو انہیں عیش و عشرت کے عارضی خمار سے نکل کر حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر آمادہ کر دے۔
اگر آنے والے ہفتوں میں ہم ان تبدیلیوں کی جھلک دیکھ پائیں گے تو یقیناً دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں بڑی کمی آسکتی ہے اور عالمِ اسلام ایک نئی روح اور عزم کے ساتھ عالمی منظرنامے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
یہ جنگ خواہ جلد ختم ہو جائے، لیکن اس کے نتیجے میں کم از کم یہ امکان ضرور پیدا ہوگا کہ عالمِ اسلام کے قلب میں پیوست یہودی اور مجوسی دونوں خنجروں کا دباؤ کچھ کم ہو سکے۔ ان شاء اللہ اسی کے ساتھ عالمِ اسلام کی آزادی اور خود مختاری کی سمت میں ایک نئی پیش رفت کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (یوسف: 21)
اللہ اپنے فیصلے کو نافذ کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ اسے نہیں جانتے
و ما توفیقی الا باللہ
ابو تراب محمد احسن ندوی
نئی دلی 12 مارچ 2026
Comments are closed.