۲۲ رمضان یوم وفات حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ: کچھ یادیں کچھ باتیں!

 

✍️ازقلم پرویز نندیالی

ادیب کامل جامعہ علی گڑھ

 

یہ وہی نابغۂ عصر شخصیت ہے جس سے مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا تھا ”آپ جہاں بھی جاتے ہیں انقلاب برپا کردیتے ہیں“۔

مفتی شفیع عثمانیؒ جسے "موفق من الله” سمجھتے، اور مولانا یوسف بنوریؒ جسے "آیة من آیات الله” قراردیتے تھے۔

جسے مولانا اشرف علی تھانویؒ نے "مجمع الکمالات” کے لقب سے سرفراز کیا تھا۔

جسے مولانا الیاس کاندھلویؒ ”گوہر تاباں“ ”معدن سیادت“ ”مخدوم و محترم“ ”سیدی و سید عالم“ سے خطاب کرتے تھے، اور تنہا انہیں کو اپنی بات کا سمجھنے والا اور اپنی دعوت کا بار اٹھانے والا قرار دیتے تھے۔

جسکے رفع درجات کے لئے مولانا احمد علی لاہوریؒ نے حرم کی مسجد خیف میں خصوصی دعا کی اور قبولیت کی بشارت بھی دی، مزید اسکے متعلق فرماتے "مجھے آپ کی ترقی سے اتنی خوشی ہوتی ہے جتنی خود اپنے لڑکے حبیب اللہؒ کی ترقی سے بھی نہیں ہوتی”۔

جسکے شیخ مولانا عبد القادر رائے پوریؒ نے اسکے اندر وہ جوہر محسوس کیا کہ قبل از بیعت ہی اسے چاروں سلسلوں کی اجازت عطا کردی، اور اسے اپنی خانقاہ کا دولہا قرار دیتے تھے۔

شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ جس سے تعلق کو "وسیلۂ نجات” جانتے اور اسکی ذات کو "مجموعۂ حسنات” قراردیتے تھے، حتی کہ اساطین علم کی موجودگی میں باصرار اس سے اپنی متعدد کتابوں (مثلا "اوجز المسالک” "لامع الدراری” "الکوکب الدرری” "عمارات النبی” وغیرہ) پر مقدمے لکھوائے۔

جسے اسکے استاذ سید سلیمان ندویؒ نے بڑا عالم قرار دیا اور فرمایا تھا کہ "آپکی نسبت سے مجھے بزرگی ملتی ہے”۔

جسے پہلی ہی ملاقات میں شاہ وصی اللہؒ نے اپنے ہاتھ سے لقمہ بناکر کھلایا اور فرمایا "میں نے سب کے دل دیکھ لئے لیکن علی میاں جیسا آئینہ کہیں نظر نہیں آیا”۔

جس سے مولانا عبد الماجد دریابادیؒ اپنی باطنی ترقی کیلئے توجہ خاص کی درخواست کرتے، اور اسے تاروں کی جھرمٹ میں مانند آفتاب سمجھتے، حتی کہ اپنی نماز جنازہ کیلئے اسکے حق میں وصیت فرماگئے۔

سخت ٹھنڈک میں جسکے انتظار میں اسٹیشن پر گزاری ایک رات کو شاہ یعقوب بھوپالیؒ نے ایک مبارک رات قراردیا۔

علامہ یوسف القرضاویؒ جسکے متعلق فرماتے ”حب الشیخ من علامات الایمان“(علی مياں سے محبت کرنا ایمان کی علامت ہے)۔

جسکی خیریت نہ معلوم ہونے پر مولانا محمد احمد پھولپوریؒ مضطرب و متفکر رہتے تھے اور فرماتے کہ مولانا علی میاںؒ اللہ کے محبوب ہیں، اللہ نے انکو علم کے پردے میں چھپا رکھا ہے، اگر وہ اپنے آپ کو ظاہر کردیں تو دوسرے پیروں کو مرید نہ ملیں، اسی طرح مولانا کلیم صدیقی صاحب نے فرمایا اگر لوگوں کو انکے دل کا حال معلوم ہوجائے تو پیروں کو مرید نہ ملیں۔

مولانا یوسف کاندھلویؒ جسے خود اپنا امیر و رہبر سمجھتے تھے، اور تبلیغ کی امارت کا انہیں کو حقدار قراردیتے تھے۔

قاری صدیق باندویؒ عقیدت و محبت سے جسکا ہاتھ چومتے تھے اور اسکی موجودگی میں ایک نماز جنازہ کی امامت کو ”نازیبا حرکت“ سے تعبیر کیا تھا۔

جی ہاں یہ وہی در نایاب ہے جس نے رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینہ کی ۲۲ تاریخ کو اس دنیا سے رحلت فرمائی اور ایک عالم کو سوگوار کرگیا، جسے دنیا ”حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ“ کے نام سے جانتی ہے اور دانشوران کے درمیان وہ ”مفکر اسلام“ کے لقب سے معروف ہیں۔

کچھ یادیں!

حرم شریف کے خطیب نے خطبۂ جمعہ میں جسکا نام لے کر اسکی کتاب کی عبارت پیش کی، جسکی کتاب ”السیرۃ النبویۃ“ کا درس میدان بدر میں ہوا، کعبۂ مقدسہ میں جسکا داخلہ ہوا حتی کہ اسکے کہنے پر بہت سے لوگوں کو یہ شرف ملا، جسے کلید کعبہ عطاء کی گئی کہ آپ اپنے دست مبارک سے اسے کھولیں، جسکی ایک تقریر سن کر آر ایس ایس کے ایک بڑے ذمہ دار نے کہا تھا ”یقینا آپ کو ہم سے زیادہ اس ملک کی فکر ہے“، جسنے مغربی تہذیب کی کھلی تنقید کی اور عالم اسلام کو اسکے چنگل سے بچانے کیلئے کوشاں رہا، جسنے قومیت عربیہ کے فتنہ کی سرکوبی اسوقت کی جبکہ بڑے بڑے علماء اسکے سحر انگیز نعروں کی زد میں آچکے تھے، اسنے عربوں کو للکار کر کہا ”تم کو جو کچھ ملا ہے محمدﷺ کے واسطہ سے ملا ہے، اگر محمد عربیﷺ کو عالم عربی کے نقشہ سے الگ کیا جائے تو ایک منٹ کیلئے عربوں کا وجود باقی نہیں رہ سکتا“، جسنے ہندوستان کے انتہا پسندوں کے مسموم ارادوں کے خلاف ”پیام انسانیت“ کی تحریک چلائی اور انسان دوستی، امن و آشتی اور بھائی چارے کا سبق دیا،

جی ہاں دنیا اسے ”سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ“ کے نام سے جانتی ہے اور دانشوران کے درمیان وہ ”مفکر اسلام“ کے لقب سے معروف ہے۔

خدا کی رحمتیں ہو اس پر بے شمار، اور بلند اسکے درجات ہوں بے حد و حساب، اور مسلمانوں کو مل جائے اسکا نعم البدل۔

آمین یارب العالمین۔

نوٹ! مندرجہ بالا مضمون میں کوئی بھی بات بغیر حوالہ کے نہیں کی گئی ہے، البتہ حوالہ نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ تحریر کی سلاست و روانی مجروح ہوجاتی۔

Comments are closed.