اسماعیل یوسف کالج کیمپس کی مسجد! جہاں معتکفین کی وجہ سے رمضان المبارک کی رونقیں دوبالا ہوجاتی ہیں

بصیرت آن لائن کی خصوصی رپورٹ

ممبئی کے مضافاتی علاقہ جوگیشوری ایسٹ میں ریلوے اسٹیشن سے متصل شہر ممبئی کا معروف تعلیمی ادارہ اسماعیل یوسف کالج کا کیمپس واقع ہے، یہ کیمپس تقریبا 50 ایکڑ کی وسیع و عریض رقبے میں پھیلا ہوا ہے، اسی کیمپس میں شاہی طرز تعمیر پر بنائی گئی ایک خوبصورت مسجد ہے جسے دیکھ کر یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ مسجد عروس البلاد ممبئی میں ہے، مسجد کی تعمیر بالکل شاہی طرز پر کی گئی ہے، مسجد کے حرم میں چار صف ہے جس میں ایک صف میں تقریبا 80 مصلیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، وسیع و عریض صحن ہے اور صحن کے دائیں بائیں دو طرفہ راہداری بنی ہوئی ہے جو مسجد کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی ہے،
اسماعیل یوسف کالج کی بنیاد 1930 میں رکھی گئی تھی، کالج میں ایک ہاسٹل بھی ہے اور ہاسٹل میں مقیم مسلم طلبہ ملازمین کی سہولت کے لیے یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی، اس اعتبار سے یہ مسجد بھی تقریبا اتنی ہی قدیم ہے جتنا یہ کالج، ابتدا میں ہاسٹل میں 100 سے زائد مسلم طلبہ مقیم رہتے تھے تو مسجد بھی طلبہ اور دیگر مسلم ملازمین کی وجہ سے آباد رہتی تھی لیکن آہستہ آہستہ مسلم طلبہ کی تعداد کم ہوتی گئی جس سے مسجد کو آباد رکھنا ایک چیلنج بن گیا، اتفاق سے یہ کیمپس جس جگہ واقع ہے اس کے اطراف میں مسلم آبادی بھی بہت کم ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسجد کا جائے وقوع کیمپس کے اندر ایسی جگہ پر ہے جہاں عموما لوگوں کی عام پہونچ نہیں ہے، جس کی وجہ سے مسجد آباد نہیں رہتی تھی. بالخصوص رمضان المبارک میں مسجد کو آباد رکھنا اور بھی اہم مسئلہ تھا، اس تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے شہر ممبئی کے معروف ملی و سماجی کارکن حافظ اقبال چوناوالا بتاتے ہیں کہ اس تاریخی مسجد کو آباد رکھنے کے لیے سب سے پہلے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند کے خلیفہ اور معروف بزرگ حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسجد میں اعتکاف کرنا شروع کیا، حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان کا اعتکاف کیا کرتے تھے، حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 30 سال سے زائد عرصے تک رمضان کے پورے مہینے کا اعتکاف فرمایا، حافظ اقبال چوناوالا مزید بتاتے ہیں کہ حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے اعتکاف کے دوران ان کے مریدین و متوسلین کی بڑی تعداد فیض حاصل کرنے آتی تھی جس کی وجہ سے مسجد کی رونق دوبالا ہوجاتی تھی ، مسجد میں مصلیان کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی، پھر مسجد میں افطار کا انتظام بھی شروع ہوا اور تقریبا روزانہ سوسے زائد افراد کے لیے مسجد میں افطار کا نظم ہونے لگا، اور اس میں زیادہ تر کشہ ڈراییور اور مزدور پیشہ افراد رہتے ہیں، حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی خداترس اور صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے، اور ان کی برکت سے شہر کے دوسرے علاقوں سے اور دور دراز سے لوگ اعتکاف میں آنے لگے جس میں ایک نمایاں نام اسلم بھائی بھیونڈی والے کا تھا، انہوں نے تقریباً 35 سالوں تک مسلسل اس مسجد میں اعتکاف کیا، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے، حافط اقبال چونا والا خود گذشتہ 28 سالوں سے اس مسجد میں تسلسل کے ساتھ اعتکاف کررہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ 1999 میں رمضان المبارک سے قبل حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا کہ اس رمضان میں تم کو میرے ساتھ اسماعیل یوسف کالج کی مسجد میں پورے مہینے کا اعتکاف کرنا ہے، میں نے والد صاحب سے اجازت حاصل کرلی، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا، 29 شعبان 1420 ھجری کو حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی اللہ کو پیارے ہوگئے، چونکہ میں نے حضرت سے وعدہ کرلیا تھا اس لیے میں نے اس سال حسب وعدہ پورے مہینے کا اعتکاف کیا یہ 1999 کا سال تھا، اس کے بعد سے میں نے رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف کو اپنا معمول بنالیا اور یہ میرا 28 واں سال ہے، الحمدللہ گذشتہ 28 سالوں سے اسماعیل یوسف کالج کی مسجد میں بلاناغہ مسلسل اعتکاف کررہا ہوں، یہ محض اللہ کا فضل اور بزرگوں کی خصوصی توجہات اور دعاؤں کا نتیجہ ہے. الحمد للہ ہرسال معتکفین کی اچھی تعداد رہتی ہے اس سال بھی 12 افراد اس مسجد میں معتکف ہیں اور اپنے ذکر و اذکار، تلاوت قرآن اور دیگر عبادات سے مسجد کی رونق کو دوبالا کئے ہویے ہیں.
حافظ اقبال چوناوالا نے بتایا کہ جب انہوں نے اس مسجد میں اعتکاف شروع کیا تھا تو ان کے ساتھ کئی اللہ کے نیک بندے اعتکاف میں ہوا کرتے تھے جس میں سے بطور خاص ابراہیم بھائی کالوتر، امیر دادرکر، عبدالرحمن بھائی، ایوب بھائی، محی الدین بھائی وغیرہ قابل ذکرہیں، لیکن اب اس وقت ان میں سے کوئی بھی باحیات نہیں ہیں، سب اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، صرف مسجد کے امام صاحب باحیات ہیں اور اب بھی پابندی سے اعتکاف میں بیٹھ رہے ہیں. حافظ اقبال صاحب بتاتے ہیں کہ جب میں نے اس مسجد میں اعتکاف کرنا شروع کیا تھا اس وقت مصلیان کی تعداد بہت کم ہوا کرتی تھی لیکن اب الحمدللہ 100 سے زائد مصلیان رہتے ہیں اور رات میں بھی مسجد عبادت گزار بندوں سے بھری رہتی ہے.
اس مسجد میں ماشاءاللہ تراویح بھی بہت اہتمام سے ہوتی ہے گذشتہ 30 سالوں سے حافظ اسامہ صاحب تراویح میں قرآن مجید سنارہے ہیں اور میں بحیثیت سامع ان کے پیچھے رہتا ہوں، ختم تراویح کے دن مسجد میں بڑا مجمع ہوجاتا ہے اور بطور خاص دعا میں شرکت کے لیے قرب وجوار سے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں جس میں علاقے کے کئی سرکردہ ملی، سماجی و سیاسی شخصیات بھی شریک ہوتے ہیں.
اس سال اسماعیل یوسف کالج مسجد میں دیگر معتکفین کے ساتھ معروف صحافی اور بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر مولانا غفران ساجد قاسمی بھی حافظ اقبال چوناوالا کے ساتھ اعتکاف میں ہیں، مولانا قاسمی نے اعتکاف کے حوالے سے اپنے مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں تو گذشتہ چار پانچ سالوں سے رمضان المبارک میں دو تین دن افطار اور تراویح میں شرکت کی غرض سے حاضر ہوا کرتا تھا، خاص طور پر اس مسجد کے اعتکاف کے روحانی ماحول سے بہت متاثر تھا، اور یہی وہ روحانی ماحول تھا جس نے مجھے اس سال یہاں اعتکاف کرنے پر ابھارا، جب میں نے حافظ اقبال چوناوالا صاحب سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور الحمدللہ میں اس مسجد میں اعتکاف کرکے اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کررہا ہوں.
مولانا غفران ساجد قاسمی نے مزید بتایا کہ اعتکاف تو ہر مسجد میں ہوتا ہے اور یقینا اس کامقصد رب العالمین کا قرب حاصل کرنا اور رمضان کے مقصد تقوی کی تکمیل ہے، اور وہ ہر مسجد میں حاصل ہوجاتا ہے لیکن اس مسجد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں کا اعتکاف بہت ہی منظم ہوتا ہے اور ہر معتکف ہمہ وقت ذکر و اذکار تلاوت قرآن اور نفلی عبادات میں مشغول رہتے ہیں، ایک خاص بات جو میں نے محسوس کی جس کی وجہ سے اعتکاف کا پورا ماحول روحانی ہوجاتا ہے وہ ہے تہجد کی نماز ہے ، روزانہ تہجد کی نماز پھر تہجد کے بعد اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور دعا بھی حافظ صاحب ہی کراتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ تہجد کے وقت مانگی جانے والی دعا پورے دن کی عبادات کا نچوڑ ہوتی ہے، یہ دعا انتہائی جامع ہوتی ہے، دعا کے وقت کوئی ایسا شخص نہیں جس کے رونے کی آواز نہ آتی ہو، حافظ اقبال صاحب خود بھی بہت ہی رقیق القب واقع ہوئے ہیں، ان کی دعا سب کو رلادیتی ہے، تہجد کی نماز میں معتکفین کے علاوہ دیگر افراد بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں.
اسی طرح آخری عشرے میں تفسیر قرآن کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے، تفسیر قرآن کے لئے مرکز المعارف ممبئی کے استاذ مفسر قرآن مفتی محمد جسیم الدین قاسمی تشریف لاتے ہیں، تفسیر کے بعد حاضرین کو سوال و جواب کا بھی موقع دیا جاتا ہے جس میں مصلیان مختلف دینی مسائل معلوم کرتے ہیں اور مفتی صاحب تشفی بخش جواب سے ان کے مسائل حل کرتے ہیں.
مولانا غفران ساجد قاسمی کہتے ہیں کہ اس مسجد کی بہت ساری خصوصیات میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس مسجد میں روزہ افطار کرنے والوں میں بڑی تعداد رکشہ ڈرائیور اور مزدور پیشہ حضرات کی ہوتی ہے، اور ساتھ ہی نوجوانوں کی ایک بڑی ٹیم روزہ داروں اور معتکفین کی خدمت کے لئے ہمہ وقت موجود رہتی ہے، اس کے علاوہ آخری عشرے کی راتوں میں عموما پوری رات عبادت کرنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد کا مسجد میں آمدورفت جاری رہتا ہے اور 27 ویں شب کو تو اتنا ازدحام ہوتا ہے کہ جمعہ اور عید کا دن محسوس ہوتا ہے، یقینا یہ سب دیکھ کر دل سے یہی صدا نکلتی ہے کہ اس مسجد کو آباد رکھنے کے لیے حضرت مولانا عبدالمجید قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی خصوصی توجہات اور دعائیں اور موجودہ وقت میں حافظ اقبال چوناوالا صاحب کے خلوص نیت کو بڑا دخل ہے، اللہ اس مسجد کو ہمیشہ آباد رکھے اور اس کی کوشش کرنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے آمین.

Comments are closed.