عقبہ بن نافع رحمہ اللہ؛ وہ مجاہد جس نے سمندرتک جہاد کا راستہ ہموار کیا

 

محمد انعام الحق قاسمی

ریاض، سعودی عرب

پیدائش اور پرورش

قریش کے ایک عرب گھرانے میں ایک دبلا پتلا مگر پختہ ارادوں والا لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام عقبہ بن نافع تھا۔وہ بچپن سے ہی فتوحات کی کہانیاں سنتا اور مشرق و مغرب میں اسلام کے جھنڈے بلند ہوتے دیکھتا تھا۔اس کا دل جہاد کی طرف مائل تھا، اور اس کی روح چاہتی تھی کہ وہ نئی سرزمینوں میں اسلام کا پیغام پہنچائے اور اسلام کا جھنڈا بلند کرے۔وہ نبی کریم ﷺ سے نہیں ملا، مگر صحابہ کے دور میں پلا بڑھا اور پروان چڑھا، ان کے علم اور شجاعت سے فیض پایا، یہاں تک کہ وہ بڑے تابعین میں شمار ہونے لگا۔

افریقہ کا سفر

جب مسلمانوں کی فوجیں شمالی افریقہ کی طرف بڑھنے لگیں تو عقبہ بن نافع صفِ اوّل کے مجاہدین میں شمار کئے جاتے ہیں۔وہ جانتا تھےکہ راستہ طویل ہے، زمین اجنبی ہے، اور قبائل اور ان کے باشندے طاقتور ہیں، مگر انہیں کوئی چیز روک نہیں سکتی تھی۔وہ اپنے لشکر کو سخت صحراؤں سے گزارتے، پیاس، گرمی اور درندوں کا سامنا کرتے، اور ہمیشہ اپنے سپاہیوں سے کہتے کہ

"ہم اللہ کے سپاہی ہیں… ہم صرف اسی سے ڈرتے ہیں”اور سپاہی اس کے پیچھے پورے اعتماد سے چلتے۔

قیروان کا معجزہ

عقبہ بن نافع ایک گھنے جنگل جیسے علاقے میں پہنچے، جہاں درندے ، سانپ اور خونخوار جانور بہت بڑی تعداد میں رہتے تھے۔وہاں وہ مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط شہر بنانا چاہتا تھے، مگر سپاہی خوفزدہ تھے۔عقبہ اکیلے آگے بڑھے، وادی میں کھڑا ہوے اور بلند آواز میں کہا:

"اے وادی کے رہنے والو! ہم یہاں اترنے والے ہیں، نکل جاؤ”

مورخین لکھتے ہیں کہ درندے ایسے نکل گئے جیسے وہ ان کا حکم سمجھتے ہوں۔پھر تعمیر شروع ہوئی…پتھر پر پتھر رکھا گیا…یہاں تک کہ قیروان وجود میں آیا، جو بعد میں علم اور جہاد کا عظیم مرکز بنا۔

فتوحات کا سلسلہ جاری

عقبہ بن نافع نے قیروان پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ تیر کی طرح آگے بڑھتے گئے۔لیبیا فتح کیا، پھر تیونس، پھر الجزائراور پھر چلتے چلتے مغربِ اقصیٰ تک پہنچ گئے۔وہ بہادری سے لڑتے، حکمت سے صلح کرتے، اور عدل کے ساتھ اسلام پھیلاتے۔

بحرِ ظلمات کے کنارے

عقبہ چلتے رہے یہاں تک کہ وہ بحرِ اوقیانوس تک پہنچ گئے، جسے قدیم زمانے میں بحرِ ظلمات کہا جاتا تھا۔وہ سمندر کے کنارے کھڑا ہوئے، اپنی تلوار اٹھائی اور کہا:

"اے اللہ! گواہ رہ کہ میں اپنی پوری کوشش کر چکا ہوں، اگر یہ سمندر نہ ہوتا تو میں تیرے راستے میں آگے بڑھتا رہتا”

یہ لمحہ اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام مغرب کی آخری سرحد تک پہنچ چکا ہے۔

آخری گھات

مگر دشمن ان کی فتوحات کو بھولے نہیں تھے۔بہت سے قبائل متحد ہوئے اور انہی میں سے ایک عورت جو ایک خبیث کاہنہ تھی اس کی قیادت میں تہوذة نامی مقام پر ان کے لیے گھات لگا دی۔عقبہ بن نافع نے بہادروں کی طرح لڑائی کی، یہاں تک کہ 63 ہجری میں شہید ہوگئے۔ان کا جسم تو گر گیا، مگر اس کا نام زندہ رہا، اور وہ صبر، عزم اور فتح کی علامت بن گئے۔

ایک نہ مٹنے والا ورثہ

ان کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے جہاد کی جدوجہد جاری رکھی، اور اسلام پورے مغرب میں پھیل گیا۔قیروان آج بھی اس کی عظمت کی گواہ ہے۔اور اس کی کہانی نسل در نسل سنائی جاتی ہے۔

قیروان شہر

قیروان آج کے دور میں تونس (Tunisia) کا ایک تاریخی اور معروف شہر ہے، جو ملک کے وسطی حصے میں واقع ہے۔ یہ شہر اسلامی تاریخ میں اپنی عظیم حیثیت کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔

قیروان آج کہاں واقع ہے؟

• ملک: تونس (شمالی افریقہ)

• علاقہ: وسطی تونس

جغرافیائی محلِ وقوع:

o عرض البلد: 35.68° شمال

o طول البلد: 10.10° مشرق

قریب ترین بڑا شہر: تیونس (تونس العاصمۃ ۔دارالحکومت) سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب میں

قیروان کی اہمیت

1. اسلامی دنیا کی قدیم ترین اور مقدس ترین شہروں میں سے ایک۔

2. 670ء میں عقبہ بن نافع رحمہ اللہنے اس کی بنیاد رکھی۔

3. شمالی افریقہ میں اسلام کی پہلی بڑی فوجی و دینی مرکز یہی شہر تھا۔

آج کا قیروان

1) تونس کا ایک فعال، آباد اور سیاحتی شہر۔

2) جامع عقبہ بن نافع رحمہ اللہ اور برکۂ اغلَبہ جیسے تاریخی مقامات یہاں موجود ہیں۔

3) 1988 سے یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کیا گیا۔

برکۂ اغلَبہ

(برکۂ اغلَبہ (یا برکۂ غلبہ) ایک فقہی اصطلاح ہے جو زیادہ تر فقہِ حنفی میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کا تعلق وضو یا غسل کے لیے پانی کے احکام سے ہے۔

برکۂ اغلَبہ کیا ہے؟

برکۂ اغلَبہ اس تالاب یا حوض کو کہتے ہیں:

جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو۔اور اگر اس میں کوئی ناپاک چیز گر جائے تو

پانی پر اس کا اثر غالب نہ آئےیعنی:

رنگ نہ بدلے، بو نہ بدلے، ذائقہ نہ بدلے۔ایسا پانی پاک اور پاک کرنے والا شمار ہوتا ہے۔

سادے الفاظ میں

اگر پانی اتنا زیادہ ہو کہ ناپاکی گرنے کے باوجود اس کا اثر پانی پر غالب نہ ہو تو اسے برکۂ اغلَبہ کہتے ہیں۔یہ برکئہ اغلبہ جامع عقبہ بن نافع رحمہ اللہ میں موجود ہے۔

Comments are closed.