تیل کی کمی اور گیس کا بحران!

 

(حافظ)افتخاراحمدقادری

عہدِ حاضر کی عالمی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں اقتصادی مفادات، جغرافیائی بالادستی اور توانائی کے وسائل ایک دوسرے میں اس طرح گتھم گتھا ہو چکے ہیں کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پوری دنیا کے نظامِ معیشت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ طاقتور ممالک اپنی سیاسی چالوں اور سفارتی حکمت عملیوں کے ذریعے نہ صرف عالمی منڈیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ ان حالات میں توانائی کے وسائل صرف اقتصادی ضرورت نہیں رہتے بلکہ وہ سیاسی ہتھیار کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی بڑی طاقتیں تیل و گیس کے ذخائر، ترسیلی راستوں اور سپلائی چین پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں اور اس کشمکش کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو توانائی کے معاملے میں خود کفیل نہیں ہیں۔ انڈیا بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور بیرونی انحصار نے ایک پیچیدہ صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ مسئلہ تیل اور گیس کی قلت کا دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک ہمہ جہت بحران ہے جس کے اندر عالمی سیاست، داخلی پالیسیوں کی کمزوریاں، معاشی دباؤ اور عوامی رویے سب شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایل پی جی اور دیگر ایندھن کی قلت نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ انڈیا کا توانائی نظام ایک نازک توازن پر قائم ہے جو معمولی جھٹکوں سے بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ انڈیا کی توانائی پالیسی کا سب سے بڑا المیہ اس کا بیرونی ممالک پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔ ملک اپنی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کے ذریعے پورا کرتا ہے خصوصاً ایل پی جی کے معاملے میں یہ انحصار نہایت نمایاں ہے۔ خلیجی ممالک جو دنیا کے بڑے تیل و گیس پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتے ہیں انڈیا کی توانائی ضروریات کے اہم ستون ہیں۔ لیکن یہی انحصار اس وقت کمزوری بن جاتا ہے جب اس خطے میں سیاسی یا عسکری کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دو چار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز جو عالمی سطح پر تیل و گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے اس کشیدگی کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف تیل و گیس کی سپلائی کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کر دیتی ہے۔ چونکہ انڈیا کی بڑی مقدار میں ایل پی جی اسی راستے سے آتی ہے اس لیے یہاں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے ملک کے اندر توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔ سمندری جہازوں کی آمد و رفت میں تاخیر، انشورنس اخراجات میں اضافہ اور بعض جہازوں کے پھنس جانے جیسے مسائل نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

داخلی سطح پر دیکھا جائے تو انڈیا میں توانائی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ بھی اس مسئلے کی ایک اہم وجہ ہے۔ حکومت کی جانب سے غریب گھرانوں کو ایل پی جی فراہم کرنے کی مختلف اسکیموں نے بلاشبہ عوامی فلاح میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی صارفین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں ملکی پیداوار کی رفتار سست رہی ہے جس کے نتیجے میں طلب اور رسد کے درمیان ایک واضح خلا پیدا ہو گیا ہے۔ مزید برآں ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انڈیا کے پاس تیل کے اسٹریٹجک ذخائر تو کسی حد تک موجود ہیں لیکن ایل پی جی کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی عالمی سطح پر سپلائی میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ ملک کے پاس فوری متبادل موجود نہیں ہوتا اور بحران شدت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ توانائی کے میدان میں طویل المدتی منصوبہ بندی کی شدید کمی ہے۔ عوامی سطح پر پھیلنے والا خوف اور غیر یقینی کیفیت بھی اس بحران کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب لوگوں کو قلت کا اندیشہ ہوتا ہے تو وہ معمول سے زیادہ ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں مختلف شہروں میں پٹرول پمپوں اور گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں اسی ذہنی اضطراب کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پر بارہا یقین دہانی کرائی گئی کہ سپلائی مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئی لیکن عوامی ردعمل نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ صنعتی شعبہ بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکومت نے گھریلو صارفین کو ترجیح دینے کے لیے صنعتی گیس کی فراہمی محدود کر دی جس کے نتیجے میں مختلف صنعتیں مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں۔ اسٹیل، ہوٹلنگ اور دیگر شعبے، جو توانائی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، پیداوار میں کمی اور مالی نقصان سے دو چار ہیں۔ بعض صنعتوں کے لیے تو یہ صورتحال بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ تیل کے شعبے میں اگرچہ مکمل قلت کی صورتحال نہیں لیکن عالمی قیمتوں میں اضافہ اور درآمدی انحصار نے حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات وقتی طور پر عوام کو ریلیف تو فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک بنیادی ڈھانچے اور پالیسیوں میں اصلاحات نہیں کی جاتیں، اس نوعیت کے اقدامات صرف وقتی مرہم ثابت ہوتے رہیں گے۔ موجودہ صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انڈیا کا توانائی بحران محض ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ساختیاتی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ بیرونی انحصار، عالمی سیاسی کشیدگی، بڑھتی ہوئی طلب، ناکافی پیداوار اور ذخیرہ اندوزی کے نظام کی کمزوریاں مل کر ایک ایسا پیچیدہ جال بناتی ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ انڈیا ایک جامع اور طویل المدتی توانائی پالیسی ترتیب دے۔ متبادل توانائی ذرائع، جیسے شمسی، ہوا اور برقی توانائی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ، درآمدی ذرائع کی تنوع اور مقامی پیداوار میں بہتری بھی ناگزیر ہیں۔ اگر ان پہلوؤں پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں اس سے بھی بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ تیل اور گیس کا بحران انڈیا کے لیے ایک تنبیہ ہے، ایک ایسا لمحہ فکریہ جو یہ باور کراتا ہے کہ توانائی کے میدان میں خود کفالت اور مضبوط پالیسی سازی کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ اگر اس موقع سے سبق سیکھ کر ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف معیشت بلکہ عوامی زندگی بھی مسلسل عدم استحکام کا شکار رہے گی اور یہ بحران وقتاً فوقتاً نئی شدت کے ساتھ سر اٹھاتا رہے گا۔

اس منظر میں سب سے اہم سوال یہی ابھرتا ہے کہ اس بحران کی گھڑی میں عوام کا کردار کیا ہونا چاہیے اور وہ کس طرح اپنی ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی بحران کا مقابلہ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں بلکہ عوامی شعور، اعتدال اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے کیا جاتا ہے۔ اگر عوام خود بے صبری، خوف اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی کا راستہ اختیار کریں تو بحران کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جبکہ اگر وہ صبر و تحمل اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام سب سے پہلے افواہوں سے خود کو محفوظ رکھیں اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے کے بجائے ذمہ دار ذرائع پر اعتماد کریں۔ کیونکہ موجودہ دور میں اطلاعات کی تیز رفتار ترسیل جہاں ایک نعمت ہے وہیں ایک بڑی آزمائش بھی ہے اور یہی افواہیں اکثر خوف و ہراس کو جنم دیتی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ غیر ضروری خریداری کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے بلکہ حقیقی ضرورت مند افراد مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ توانائی کے استعمال میں اعتدال اور کفایت شعاری کو اپنائیں۔ روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی احتیاطیں جیسے غیر ضروری گیس یا بجلی کا استعمال کم کرنا، متبادل ذرائع کو اختیار کرنا اور وسائل کا محتاط استعمال، مجموعی طور پر بڑی بچت کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک انفرادی عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔۔مزید برآں اس موقع پر عوام کو حکومت کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ جب ریاست کسی بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی اقدامات کرتی ہے تو اس کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک عوامی تعاون پر ہوتا ہے۔ اگر عوام نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، قانون کی پابندی کریں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں تو بحران کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس بحران نے ہمیں ایک اہم سبق دیا ہے کہ وسائل کی بے جا فراوانی کا تصور محض ایک فریب ہے۔ ہمیں اپنی طرزِ زندگی میں سادگی، توازن اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔ ایک باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو مشکل حالات میں نہ صرف صبر کا دامن تھامے بلکہ اپنی اجتماعی حکمت سے مسائل کا حل بھی تلاش کرے۔۔موجودہ تیل اور گیس کا بحران محض ایک آزمائش نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ اپنے رویوں کو درست کرنے کا، اپنی ترجیحات کو ازسرِنو ترتیب دینے کا اور ایک ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کا۔ اگر عوام نے اس موقع پر شعور، اعتدال اور اتحاد کا مظاہرہ کیا تو نہ صرف یہ بحران کم ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ ورنہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جو قومیں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے غفلت برتتی ہیں، وہ مسائل کے بھنور سے نکلنے کے بجائے اس میں مزید الجھتی چلی جاتی ہیں۔

(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.