اسرائیلی عسکری بحران: اُمّتِ مسلمہ، غزّہ اور ایران کے تناظر میں ایک تجزیاتی مطالعہ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال ایک نہایت پیچیدہ اور تغیر پذیر مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں عسکری، سیاسی اور نظریاتی عوامل باہم گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایال زمیر کی جانب سے جاری کردہ انتباہ نے نہ صرف اسرائیلی فوجی تیاریوں پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے بلکہ پورے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل جنگی دباؤ، ریزرو فوجیوں کی کمی، اور کثیر محاذی مصروفیات نے اسرائیلی فوج کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں اس کی داخلی ساخت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
موجودہ علاقائی صورتِ حال کو اگر بین الاقوامی تعلقات کے اہم نظریات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ایک وقتی بحران نہیں بلکہ ایک گہرے اسٹرٹیجک عمل (strategic process) کا حصّہ ہے۔ اس ضمن میں حقیقت پسندی (Realism)، غیر متوازن جنگ (Asymmetric Warfare)، اور حد سے زیادہ پھیلاؤ (Overstretch) کے نظریات باہم مربوط ہو کر ایک جامع توضیح فراہم کرتے ہیں۔ حقیقت پسندی کے مطابق عالمی نظام میں ہر ریاست اپنی بقاء (survival) اور طاقت (power) کے حصول کے لیے کوشاں ہوتی ہے۔ اس تناظر میں اسرائیل کی مسلسل عسکری سرگرمیاں اور کثیر محاذی حکمتِ عملی اسی بقاء کی کشمکش کا اظہار ہیں، جہاں طاقت کا استعمال ایک ناگزیر ذریعہ بن جاتا ہے۔
تاہم جب یہی طاقت ایک ایسے فریق کے خلاف استعمال ہوتی ہے جو روایتی جنگی اصولوں کے بجائے غیر متوازن جنگی حکمتِ عملی (Asymmetric Warfare) اختیار کرتا ہے، تو صورتِ حال پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ کمزور فریق اپنی محدود عسکری صلاحیتوں کے باوجود غیر روایتی حربوں، طویل مزاحمت، اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے طاقتور فریق کو ایک ایسی جنگ میں الجھا دیتا ہے جو فیصلہ کن نہیں بلکہ مسلسل اور تھکا دینے والی ہوتی ہے۔
یہی مسلسل دباؤ بالآخر ریاست کو اس مقام پر لے آتا ہے جسے Paul Kennedy نے Overstretch Theory کے تحت بیان کیا ہے، یعنی جب ایک ریاست اپنی عسکری اور اسٹرٹیجک ذمّہ داریوں کو اپنی حقیقی صلاحیت سے زیادہ وسیع کر دیتی ہے تو اس کی طاقت بتدریج کمزور ہونے لگتی ہے۔ متعدد محاذوں پر بیک وقت مصروفیت، افرادی قوت کی کمی، اور داخلی دباؤ اس Overstretch کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ یوں حقیقت پسندی سے شروع ہونے والا طاقت کا حصول، غیر متوازن جنگ کے ذریعے چیلنج ہوتا ہے، اور بالآخر Overstretch کی صورت میں اپنی حدود سے متجاوز ہو کر کمزوری میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ یہی تسلسل موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ایک مربوط نظریاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
یہ صورتِ حال محض ایک وقتی عسکری کمزوری نہیں بلکہ ایک گہرے اسٹرٹیجک بحران کی علامت ہے، جسے وسیع تر علاقائی اور اُمّتِ مسلمہ کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
عسکری برتری کا تصور اور اس کی تحدید
اسرائیل کو طویل عرصے سے ایک ناقابلِ تسخیر عسکری قوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جس کی بنیاد جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس برتری، اور تیز رفتار جنگی حکمتِ عملی پر قائم تھی۔ تاہم نفتالی بینٹ کی جانب سے 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا اعتراف اور یائر لاپڈ کی تشویش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ برتری اب غیر مشروط نہیں رہی۔ عسکریات کے اصولوں کے مطابق، کسی بھی فوج کی کامیابی کا انحصار صرف اسلحہ یا ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ افرادی قوت، مورال، اور مسلسل جنگ کی صلاحیت (sustainability) پر ہوتا ہے۔ جب ایک فوج طویل عرصے تک غیر روایتی جنگ (asymmetric warfare) میں الجھ جائے تو اس کی برتری بتدریج تحلیل ہونے لگتی ہے اور یہی کچھ موجودہ حالات میں نظر آ رہا ہے۔
تاریخِ جدید اس حقیقت کی متعدد مثالیں فراہم کرتی ہے کہ بڑی عسکری طاقتیں بھی طویل اور غیر روایتی جنگوں میں الجھ کر اپنی برتری کھو سکتی ہیں۔ ویتنام جنگ کے دوران امریکہ کو ایک نسبتاً کمزور مگر پُرعزم مقامی مزاحمت کے سامنے طویل جنگی تھکن (war fatigue) کا سامنا کرنا پڑا، جس نے نہ صرف اس کی عسکری حکمتِ عملی کو ناکام بنایا بلکہ داخلی سطح پر بھی شدید سیاسی و سماجی دباؤ پیدا کیا۔ اسی طرح سوویت یونین کا افغانستان میں جنگ ایک اور نمایاں مثال ہے، جہاں ایک سپر پاور مقامی مزاحمت، جغرافیائی پیچیدگیوں اور طویل جنگی دباؤ کے باعث بالآخر پسپائی پر مجبور ہوئی، اور یہ جنگ اس کے زوال کے اسباب میں شامل ہو گئی۔
عراق جنگ 2003ء نے یہ واضح کیا کہ ابتدائی عسکری کامیابی کے باوجود طویل المدتی استحکام (post-war stability) حاصل کرنا کس قدر دشوار ہوتا ہے، اور کس طرح ایک جنگی مہم وقت کے ساتھ ساتھ مالی، عسکری اور سیاسی بوجھ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ان تمام مثالوں میں ایک مشترک نکتہ یہ ہے کہ طاقت کا ابتدائی اظہار فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اصل امتحان طویل جنگ کو برداشت کرنے، مقامی مزاحمت کا سامنا کرنے، اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنے میں ہوتا ہے۔ یہی تاریخی تسلسل اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ کوئی بھی بڑی طاقت، خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر طویل اور پیچیدہ جنگی حالات میں الجھ جائے تو اس کی قوت بتدریج تحلیل ہو سکتی ہے۔
جدید جنگی حالات میں کسی بھی فوج کی کارکردگی کا دار و مدار محض اسلحہ یا ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کے انسانی و معاشی وسائل کے توازن پر ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں ریزرو فوجیوں کی تعداد میں کمی ایک بنیادی مسئلے کے طور پر سامنے آتی ہے، کیونکہ یہی ریزرو فورس طویل جنگ کے دوران فعال فوجی ڈھانچے کو سہارا فراہم کرتی ہے۔ جب یہ ذریعہ کمزور ہونے لگے تو جنگی تسلسل برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنگی اخراجات میں مسلسل اضافہ، جو براہِ راست قومی معیشت اور GDP پر اثر انداز ہوتا ہے، ریاست کی مجموعی صلاحیت کو محدود کرنے لگتا ہے۔ وسائل کا بڑا حصّہ دفاعی ضروریات پر صرف ہونے کے باعث دیگر شعبے متاثر ہوتے ہیں، جس سے داخلی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
طویل جنگی حالات کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا پہلو فوجیوں کی نفسیاتی کیفیت ہے، جہاں PTSD (Post-Traumatic Stress Disorder) اور combat fatigue جیسے مسائل شدّت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ عوامل نہ صرف انفرادی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر فوج کے مورال اور جنگی استعداد کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔ یوں افرادی قوت کی کمی، معاشی دباؤ، اور نفسیاتی تھکن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں جو مل کر کسی بھی فوج کی طویل المدتی جنگی صلاحیت کو بتدریج کمزور کر دیتے ہیں، اور بالآخر اسے ایک اسٹرٹیجک بحران کی طرف لے جاتے ہیں۔
غزّہ: مزاحمت سے اسٹریٹجک دباؤ تک
غزّہ اب صرف ایک محصور جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک فعال اسٹریٹجک عنصر بن چکا ہے۔ محدود وسائل، ناکہ بندی، اور شدید انسانی بحران کے باوجود وہاں کی مزاحمت نے اسرائیل کو ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا ہے جو نہ مکمل فتح پر منتج ہو رہی ہے اور نہ ہی فوری اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کو "war of attrition” یعنی تھکا دینے والی جنگ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں کمزور فریق اپنی محدود صلاحیتوں کے باوجود مضبوط فریق کو طویل عرصے تک مصروف رکھ کر اس کی قوت کو کمزور کرتا ہے۔ غزّہ کی یہی حکمتِ عملی اسرائیل کے عسکری ڈھانچے پر دباؤ کا سبب بن رہی ہے۔
عصرِ حاضر کی جنگیں محض عسکری تصادم تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ ایک ہمہ جہت (multi-layered) شکل اختیار کر چکی ہیں، جسے عموماً "Hybrid Warfare” کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ اس میں روایتی عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا وار، نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare)، اور معلوماتی جنگ (Information Warfare) کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ میڈیا وار کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جاتا ہے، جہاں بیانیہ (narrative) کی تشکیل بذاتِ خود ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔ اسی طرح نفسیاتی جنگ کا مقصد مخالف فریق کے حوصلے کو پست کرنا، خوف اور غیر یقینی کیفیت کو بڑھانا، اور اس کی داخلی یکجہتی کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔
معلوماتی جنگ میں خبروں، سوشل میڈیا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے حقائق کو مخصوص زاویے سے پیش کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف زمینی حقائق کی تعبیر بدلتی ہے بلکہ فیصلہ سازی کے عمل پر بھی اثر پڑتا ہے۔ یوں جدید جنگ ایک جامع عمل بن چکی ہے، جہاں گولی اور بارود کے ساتھ ساتھ خبر، تاثر، اور ذہن بھی میدانِ جنگ کا حصّہ بن جاتے ہیں، اور انہی عناصر کے باہمی امتزاج سے حقیقی اسٹرٹیجک برتری کا تعین ہوتا ہے۔
ایران اور کثیر محاذی چیلنج
ایران اس پورے منظرنامے میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ خطے میں اس کے اثرات براہِ راست یا بالواسطہ طور پر لبنان، شام اور غزّہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں اسرائیل کے لیے سب سے بڑا اسٹرٹیجک مسئلہ "multi-front engagement” ہے، یعنی بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف رہنا۔
عسکری نظریات کے مطابق، کسی بھی ریاست کے لیے بیک وقت متعدد فعال محاذ کھولنا اس کی قوت کو منتشر (overstretch) کر دیتا ہے۔ اگر افرادی قوت میں کمی اور اندرونی دباؤ بھی شامل ہو جائے تو یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کا بالواسطہ اثر اسرائیل کے لیے ایک مستقل اسٹریٹجک تشویش بن چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ اسٹرٹیجک حرکیات کو سمجھنے کے لیے "Axis of Resistance” کا تصور نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس سے مراد ایک ایسا غیر رسمی مگر مؤثر علاقائی نیٹ ورک ہے جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے مقابل ایک مشترکہ مزاحمتی حکمتِ عملی کے تحت عمل کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ایران کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جب کہ اس کے مختلف علاقائی حلقے لبنان، شام، اور غزّہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ لبنان میں موجود مزاحمتی قوتیں شمالی محاذ پر دباؤ برقرار رکھتی ہیں، شام جغرافیائی و اسٹرٹیجک گزرگاہ کے طور پر اس نیٹ ورک کو تسلسل فراہم کرتا ہے، جبکہ غزّہ جنوبی محاذ پر ایک فعال مزاحمتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح یہ پورا نظام ایک مربوط "multi-front pressure mechanism” تشکیل دیتا ہے، جس کے تحت کسی ایک محاذ پر کشیدگی دراصل پورے خطے میں اس کے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یوں "Axis of Resistance” کو محض ایک نظریاتی اتحاد کے بجائے ایک عملی اور جغرافیائی طور پر مربوط اسٹرٹیجک ڈھانچے کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہوگا، جو خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
داخلی سیاست اور عسکری ہم آہنگی کا بحران: ایک اسٹرٹیجک کمزوری
کسی بھی ریاست کی جنگی صلاحیت کا ایک اہم عنصر اس کی سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی ہوتا ہے۔ نفتالی بینٹ اور یائر لاپڈ کی جانب سے حکومت پر تنقید اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسرائیل کے اندر فیصلہ سازی کا عمل مکمل طور پر مربوط نہیں رہا۔ داخلی اختلافات نہ صرف پالیسی سازی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ فوج کے مورال پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ جب قیادت خود تقسیم کا شکار ہو تو میدانِ جنگ میں یکسوئی اور اعتماد متاثر ہونا فطری امر ہے۔
اسرائیل کی داخلی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وہاں سماجی و سیاسی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم (internal fragmentation) ایک سنجیدہ چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک جانب سیکولر اور مذہبی طبقات کے درمیان نظریاتی کشمکش شدّت اختیار کر رہی ہے، جہاں ریاست کے کردار، قانون سازی، اور شناخت کے بنیادی سوالات پر اختلافات نمایاں ہیں۔ دوسری جانب عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ہونے والے وسیع پیمانے پر احتجاجات نے نہ صرف سیاسی استحکام کو متاثر کیا بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان تناؤ کو بھی بڑھا دیا۔
ان عوامل کے ساتھ ایک اور اہم رجحان فوجی خدمات سے انکار (refusal trend) کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، جہاں بعض ریزرو فوجی حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً خدمات انجام دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسی داخلی فضا تشکیل دیتے ہیں جو نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کرتی ہے بلکہ براہِ راست فوج کے مورال، نظم و ضبط، اور آپریشنل استعداد پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ یوں داخلی تقسیم محض ایک سماجی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ایک اسٹرٹیجک کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو کسی بھی طویل جنگی صورتحال میں ریاست کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
اُمّتِ مسلمہ کے داخلی اور عالمی امتحانات
اُمّتِ مسلمہ کے لیے موجودہ صورتحال بیک وقت ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک کڑی آزمائش بھی۔ موقع اس اعتبار سے ہے کہ ایک مضبوط سمجھی جانے والی عسکری طاقت کی کمزوریاں اب نمایاں ہو رہی ہیں، جس سے عالمی توازن میں تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن یہ آزمائش بھی ہے، کیونکہ ان حالات سے مؤثر فائدہ اٹھانے کے لیے محض جذباتی ردِّعمل کافی نہیں، بلکہ بصیرت، حکمتِ عملی، اتحاد اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلم دنیا نے اپنے داخلی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی، تو وہ بڑی اور مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنی۔ اس کے برعکس جب انتشار، باہمی نزاع اور وقتی جذباتیت کو فوقیت دی گئی، تو سنہری مواقع ضائع ہو گئے اور کمزوریوں نے مزید گہرائی اختیار کر لی۔
آج کے حالات میں سب سے بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ اُمّتِ مسلمہ اپنے فکری، سیاسی اور معاشی میدانوں میں ازسرِ نو خود احتسابی کرے۔ محض ردِّعملی سیاست کے بجائے ایک مثبت اور تعمیری بیانیہ تشکیل دیا جائے، جو نہ صرف اپنے داخلی مسائل کا ادراک کرے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک متوازن اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ علمی و تعلیمی ترقی کو ترجیح دینا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ پائیدار قوت کا سرچشمہ صرف عسکری یا معاشی برتری نہیں بلکہ فکری بالیدگی اور علمی خودکفالت ہے۔ جب تک علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری پیدا نہیں کی جائے گی، اُس وقت تک حقیقی معنوں میں خودمختاری حاصل کرنا دشوار رہے گا۔
اُمّت کے اندر اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مسلکی، لسانی اور علاقائی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ اہداف پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ یہ اتحاد محض نعروں تک محدود نہ ہو بلکہ عملی تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر استوار ہو۔ آخر میں، یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہر آزمائش اپنے اندر ایک نیا موقع بھی رکھتی ہے۔ اگر اُمّتِ مسلمہ نے اس موقع کو حکمت، صبر اور دوراندیشی کے ساتھ استعمال کیا تو یہ نہ صرف موجودہ چیلنجز پر قابو پا سکتی ہے بلکہ ایک مضبوط، باوقار اور بااثر عالمی قوت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ لیکن اگر جذباتیت، باہمی اختلافات اور قلیل المدتی سوچ کو ترجیح دی گئی تو یہ موقع بھی ماضی کی طرح ضائع ہو سکتا ہے۔
موجودہ شواہد کی روشنی میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل فوری طور پر زوال پذیر ہو رہا ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ مسلسل جنگی دباؤ، افرادی قوت کی کمی، اور کثیر محاذی مصروفیات نے اس کی عسکری برتری کو سنجیدہ چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ یہی عوامل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بظاہر مستحکم نظر آنے والی طاقتیں بھی اندرونی و بیرونی دباؤ کے تحت بتدریج کمزور پڑ سکتی ہیں۔ یہ مرحلہ خطے میں طاقت کے توازن (balance of power) میں تدریجی تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ فریقین اس بدلتی ہوئی صورتِ حال کو جذباتیت کے بجائے فہم و فراست کے ساتھ سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی حکمتِ عملی وضع کریں۔
اگر اس موقع کو محض وقتی ردِّعمل تک محدود رکھا گیا تو اس کے دیرپا اثرات ضائع ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اسے ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا گیا تو یہ ایک نئے توازن اور زیادہ منصفانہ نظام کی تشکیل کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ بالآخر، یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تاریخ کا دھارا صرف عسکری قوت کے بل پر متعین نہیں ہوتا، بلکہ حکمت، صبر، اور اجتماعی شعور اس کی اصل سمت طے کرتے ہیں۔ وہ اقوام جو ان اوصاف کو اپناتی ہیں، وہی آزمائشوں کو مواقع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ جذباتی ردِّعمل سے آگے بڑھ کر ایک متوازن، مدبرانہ اور طویل المدتی نقطۂ نظر اختیار کیا جائے، کیونکہ یہی عناصر مستقبل کی سمت کا حقیقی تعین کریں گے۔
Comments are closed.