مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر یو پی ٹراما ٹاسک فورس میں نامزد
علی گڑھ، 30 مارچ: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اینستھیسیالوجی و کریٹیکل کیئر کے پروفیسر قاضی احسان علی کو حکومت اتر پردیش کی جانب سے ریاست میں ٹراما و ایمرجنسی مینجمنٹ کے اقدامات میں تعاون کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
یہ نامزدگی محکمہ طبی صحت و طبی تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کی جانب سے یو پی ٹراما ٹاسک فورس کے سینئر اراکین کی سفارش پر عمل میں آئی جو پروفیسر قاضی احسان علی کی علمی و طبی مہارت کا اعتراف ہے۔
ریاست میں ٹراما اور ایمرجنسی خدمات کو مضبوط بنانے کے منصوبے کے تحت، جس میں سہولیات کو لیول-1 ٹراما سینٹرز تک اپ گریڈ کرنا اور نئے مراکز قائم کرنا شامل ہے، پروفیسر علی نے 17 مارچ کو کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی، لکھنؤمیں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی نشست میں شرکت کی۔ اس سلسلے کی ایک میٹنگ 28 مارچ کو ایس جی پی جی آئی، لکھنؤ میں منعقد ہوئی، جہاں پروفیسر علی کو بطور شریک رکن مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ اسکیم کے نفاذ سے متعلق اپنی آراء پیش کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے جے این ایم سی میں ٹراما اور ایمرجنسی خدمات کی بلندکاری پر زور دیتے ہوئے تعاون کی درخواست کی، جس میں ٹراما مریضوں کے لیے ایک مخصوص ہیماٹولوجی لیبارٹری کا قیام، دو آرٹیریل بلڈ گیس (اے بی جی) مشینوں کی فراہمی اور ضروری لاجسٹک معاونت کے ساتھ ایمرجنسی بیڈ کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو ملاپورم میں ادبی فیسٹیول ’روایت‘ کا اہتمام
علی گڑھ، 30 مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ملاپورم سینٹر کے لٹریری اینڈ کلچرل کلب نے اپنے ادبی فیسٹیول ”روایت: ایکوز آف ٹریڈیشن اینڈ ایکسپریشن“ کا انعقاد کیا، جس میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔
یہ پروگرام کلب کے کنوینر ڈاکٹر فیروز احمد کی رہنمائی میں منعقد ہوا، جنہوں نے فیسٹیول کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ تہنیتی خطبات اسسٹنٹ رجسٹرار جناب محمد اعظم خان اور ٹیچر اِنچارج جناب سید احمد سعد نے پیش کیے، جنہوں نے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ثقافتی وابستگی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیسٹیول کا افتتاح کرتے ہوئے پروفیسر ایم شاہ الحمید، ڈائریکٹر، اے ایم یو ملاپورم سینٹر نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جدید تخلیقی اظہار کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر عمران احمد نے شرکاء کی فنی کاوشوں، خصوصاً فوٹوگرافی اور السٹریشن میں ان کی شرکت کو سراہا۔ پروگرام کی نظامت کلب کے سکریٹری رضا خان نے کی، جبکہ اختتام ڈاکٹر دیبا خانم کے کلمات تشکر پر ہوا۔
تقریب میں ایک فلم اسکریننگ سیشن ڈاکٹر شَیلی وکٹر کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔ اس سیشن نے طلبہ کو سینما کے ذریعے سماجی موضوعات پر غور و فکر کی ترغیب دی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ڈپٹی لائبریرین ڈاکٹر منور اقبال کو ایوارڈ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 30 مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ڈپٹی لائبریرین ڈاکٹر منور اقبال کو میدھا ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی (میوز)، علی گڑھ کی جانب سے ”عمدہ ترین لائبریری و انفارمیشن پروفیشنل ایوارڈ 2026“ سے نوازا گیا ہے۔
انھیں یہ ایوارڈ بین الاقوامی کانفرنس اِنٹیلی لِب 2026 کے دوران پیش کیا گیا، جس کا انعقاد شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، اے ایم یو نے کیا تھا۔
یہ اعزاز ڈاکٹر اقبال کی لائبریری خدمات، علمی سرگرمی، ڈیجیٹل وسائل کے بندوبست اور تحقیق پر مبنی علمی ماحول کے فروغ میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ دو دہائیوں سے زائد پیشہ ورانہ تجربے کے حامل ڈاکٹر اقبال نے لائبریری نظام کی جدید کاری، اوپن سورس ٹیکنالوجیز کے فروغ اور صارفین پر مرکوز خدمات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں خاتون نوبل انعام یافتگان پرمبنی کتاب کی رونمائی
علی گڑھ، 30 مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں منعقد ہونے والے پروگرام ”ارلی گول سیٹنگ: ڈریم بگ انیشیئیٹیو“کے دوران شعبہ نباتیات، اے ایم یو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ناصر اے انجم کی تصنیف ”دی نوبل ویمن: بایوگرافیکل ٹائم لائنز (1901–2023)“ کی رونمائی عمل میں آئی۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں طبیعیات، کیمسٹری، امن اور معاشیات جیسے شعبوں میں نوبل انعام حاصل کرنے والی 64 خواتین کی زندگیوں اور کارناموں کو بیان کیا گیا ہے۔ کیو مارک پبلیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے شائع ہونے والی اس کتاب میں ان خواتین کی جدوجہد اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے جنہوں نے رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے عالمی سطح پر شناخت قائم کی۔
ڈاکٹر انجم ایک ممتاز محقق ہیں جن کے 130 سے زائد ریسرچ پیپرز شائع ہو چکے ہیں اور وہ 20 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ انھیں پرتگال کی فاؤنڈیشن فار سائنس اینڈ ٹکنالوجی، کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور محکمہ بایوٹکنالوجی سمیت مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں سے تحقیقی معاونت حاصل ہوئی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
سیپی کیمی، اے ایم یو کے زیر اہتمام ادبی نشست منعقد
علی گڑھ، 30 مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سنٹر فار پروموشن آف ایجوکیشن اینڈ کلچرل ایڈوانسمنٹ آف مسلمس آف انڈیا (سیپی کیمی) کے زیرِ اہتمام ایک شاندار ادبی نشست منعقد کی گئی، جس میں شہر و بیرونِ شہر سے تشریف لائے معزز مہمانوں، یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر معید رشیدی کے شعری مجموعہ ”خواب مت پڑھا کرو“ کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق شیخ الجامعہ پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ سیپی کیمی یونیورسٹی کا ایک اہم ادارہ ہے، جو طلبہ کی ادبی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام طلبہ کی رہنمائی اور کردار سازی میں نہایت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ادبی و ثقافتی میدان میں قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک ممتاز شناخت رکھتی ہے، لہٰذا طلبہ پر لازم ہے کہ وہ اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتے ہوئے یونیورسٹی کا نام روشن کریں۔
مہمانِ خصوصی، معروف افسانہ نگار و ادیب جناب سید محمد اشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیپی کیمی کی سرگرمیوں اور یونیورسٹی کے علمی ماحول کو دیکھتے ہوئے یہ یقین ہوتا ہے کہ ادارے کا درخشاں ماضی تابندہ حال کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ انہوں نے طلبہ کی شعری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہمیشہ سے علم و فن اور فکری بیداری کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اجتماعی کاوشیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر معید رشیدی کی شاعری کو دورِ حاضر کی سادہ، رواں اور بامعنی شاعری قرار دیا، جو نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اس موقع پر سیپی کیمی کے ڈائریکٹر پروفیسر محب الحق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اس طرح کے بامقصد پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے پُرعزم ہے اور مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ ایسی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیپی کیمی یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی عکاسی بھی کرتا رہا ہے۔
پروگرام کی نظامت اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد مجتبیٰ نے کی۔ انہوں نے اپنے کلمات میں کہا کہ طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اساتذہ کی رہنمائی ناگزیر ہے اور اس قسم کی ادبی نشستیں طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پٹنہ سے تشریف لائے معروف مرثیہ نگار، فلم ساز اور اسکرپٹ رائٹر جناب سراج عفیف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ سے ادبی جواہر اور تخلیقی شاہکاروں کی آماجگاہ رہی ہے اور آج بھی اپنی روشن روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
نشست میں شعراء نے اپنے کلام سے نوازا۔ منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
یوں گیا سینے سے دل خنجرِ سفاک کے ساتھ
دشت سے جیسے کہ جاتی ہے ہوا خاک کے ساتھ
سن تو لے گردشِ عالم کی حکایت ہم سے
ہم بھی گردش میں رہے ہیں خس و خاشاک کے ساتھ
(سراج عفیف)
صورت حال تو نہیں بدلی، حال بدلا، بدل گئی صورت
جب سے آنکھوں میں تو سمایا ہے، تجھ سے ملنے لگی میری صورت
(حنا صاحبہ، دبئی)
راستہ بھی ہم ہی لوگ تھے، راہی بھی ہم ہی تھے
اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہم ہی تھے
جو جنگ چھڑی تھی اسے جیتے بھی ہم ہی لوگ
رَن چھوڑ کے بھاگے وہ سپاہی بھی ہم ہی تھے
(پروفیسر نسیم عالم)
ڈاکٹر مشتاق صدف، ڈاکٹر معید رشیدی، نظام الدین نظامی، محمد کاظم اور ارمان خان ارمان نے بھی اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ تقریب میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آخر میں ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے اظہارِ تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
ے ایم یو کے شعبہ فائن آرٹس کی جانب سے آرٹ فیسٹیول و نمائش کا اہتمام
علی گڑھ، 30 مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فائن آرٹس نے ”آرٹ بیلیزا 2026“ کے عنوان سے ایک آرٹ فیسٹیول اور نمائش کا اہتمام کیا۔ پروگرام کا افتتاح مہمان خصوصی، سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے کیا۔ اس موقع پر مہمان اعزازی کے طور پر پروفیسر محمد رضوان خان، کوآرڈینیٹر سی ای سی، اے ایم یو اور ڈاکٹر عابد ہادی، چیئرمین، شعبہ فائن آرٹس و کنوینر پروگرام موجود تھے۔
اپنے خطاب میں پروفیسر گلریز نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا اور موجودہ دور میں آرٹ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فن صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باوقار پیشہ بھی ہے، طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی قدر کریں اور ان میں نکھار پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ اے ایم یو ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں فنی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے اور انہیں بامعنی سمت دی جاتی ہے۔
پروفیسر محمد رضوان خان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارم اور پروگرام طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور فن کو معاشرے سے بامعنی طور پر جوڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ڈاکٹر عابد ہادی نے بتایا کہ آرٹ بیلیزا ایک سالانہ تقریب ہے جو نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ طلبہ میں تخلیقی جدت اور پیشہ ورانہ ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے۔
فیسٹیول میں فن پاروں کی متنوع اقسام پیش کی گئیں، جن میں پینٹنگز، انسٹالیشنز، آرائشی نمائشیں اور انٹرایکٹیو سرگرمیوں کے زون شامل تھے۔ نمائش کا دائرہ گیلریوں سے آگے بڑھ کر کھلی جگہوں تک تھا، جس سے طلبہ کواپنی تخلیقی سرگرمیوں کی نمائش کا بھر پور موقع ملا۔ مختلف عمر کے شائقین نے انسانی جذبات، تخیل اور نفسیاتی گہرائی جیسے موضوعات پر مبنی فن پاروں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
فن پاروں کی ایک نمایاں خصوصیت پائیداری پر زور تھا۔ کئی فن پارے ری سائیکل شدہ مواد جیسے پرانے فرنیچر اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء سے تیار کیے گئے، جو ماحولیاتی ذمہ داری کا پیغام دیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی لاء فیکلٹی میں تیسرا سر سید نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا
علی گڑھ، 30 مارچ: فیکلٹی آف لاء، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی لاء سوسائٹی کے موٹ کورٹ سیل کے زیر اہتمام تیسرا سر سید نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔ اس مقابلے میں ملک بھر کے ممتاز قانونی اداروں نے شرکت کی اور اعلیٰ معیار کی قانونی تحقیق، وکالت اور تجزیاتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
فائنل راؤنڈ کا فیصلہ معزز ججوں کے ایک پینل نے کیا، جس میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے جسٹس راکیش تھپلیال، الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ستیہ ویر سنگھ، ضلع و سیشن جج علی گڑھ جناب پنکج کمار اگروال، حکومت اتر پردیش کے اسپیشل سکریٹری (قانون) ڈاکٹر کیشو گوئل، ایڈیشنل جج و اسپیشل جج (ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ) جناب گگن کمار بھارتی اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ جناب زہیب حسین شامل تھے۔
اختتامی تقریب کی صدارت اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے شرکاء کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے قانون کے طلبہ میں وکالتی مہارت، ناقدانہ فکر اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو فروغ دیتے ہیں، جو انہیں عملی میدان کے تقاضوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔
مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر شکیل احمد نے قانون کی تعلیم میں اے ایم یو کی شاندار روایت کو اجاگر کیا۔ جسٹس راکیش تھپلیال نے طلبہ کو محنت اور دیانت داری کی اقدار اپنانے کی تلقین کی، جبکہ جسٹس ستیہ ویر سنگھ نے معاشرے کے محروم طبقات کو بااختیار بنانے میں قانون کے کردار پر زور دیا۔
نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی، بنگلور کے وشنو شرما اور پورندر ایس کی ٹیم کو موٹ کورٹ مقابلے کا فاتح قرار دیا گیا، جبکہ ایشین لا کالج، نوئیڈا کی ٹیم، جس میں ہرمن پریت کور، دیوانش چودھری اور آدیتی گوتم شامل تھے، رنر اپ رہی۔ وشنو شرما کو بہترین مقرر اور آدیتی گوتم کو بہترین محقق قرار دیا گیا جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم کو بیسٹ میموریل ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس سے قبل موٹ کورٹ سیل کے سکریٹری محمد بلال نے پروگرام کی رپورٹ پیش کی، آدتیہ بھٹاچاریہ نے نتائج کا اعلان کیا، جبکہ پرنسی بھاردواج نے اظہارِ تشکر کیا۔ نظامت کے فرائض ویسالی تومر اور خوشی تومر نے انجام دیے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو نے اولمپین ظفر اقبال کو میجر دھیان چند لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملنے پر تہنیت پیش کی
علی گڑھ، 30 مارچ: ہندوستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور 1980 کے ماسکو اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ جناب ظفر اقبال کو ہاکی انڈیا کی سالانہ ایوارڈ تقریب میں میجر دھیان چند لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2025سے نوازا گیا، جو ہندوستانی ہاکی میں ان کی شاندار خدمات کااعتراف ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ممتاز سابق طالب علم ظفر اقبال 1980 کے ماسکو اولمپکس میں ہندوستان کی گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے اہم رکن تھے اور بعد ازاں قومی ٹیم کے کپتان بھی رہے، جنہوں نے 1984 لاس اینجلس اولمپکس میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت کی۔ انہوں نے کوچ، سلیکٹر اور مینٹور کے طور پر بھی ہندوستانی ہاکی کی خدمت کی ہے۔
اس باوقار اعزاز پر انھیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ یہ اعزاز پوری اے ایم یو برادری کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظفر اقبال کا مثالی کریئر، جو قیادت، لگن اور کھیل میں شاندار کارکردگی سے عبارت ہے، نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے باعث تحریک ہے۔
الومنئی افیئرز کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر سرتاج تبسم نے یونیورسٹی اور علیگ برادری کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ کھیل کے تئیں جناب ظفر اقبال کی تاحیات وابستگی کا بہترین اعتراف ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ظفر اقبال نے اے ایم یو سے ارضیات میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ انھیں اس سے قبل بھی کئی باوقار اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں ارجن ایوارڈ (1983)، یش بھارتی ایوارڈ (1994) اور پدم شری (2012) شامل ہیں۔
اے ایم یو برادری نے ان کی اس دستیابی پر فخر و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت و کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
٭٭٭٭٭٭
Comments are closed.