مسلمانو! ربّانی بنو، رمضانی نہیں” — رمضان کے بعد استقامت پر زور
نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)
مرکزی جمعیت علماء ہند کے ناظم، ڈاکٹر عزیر احمد قاسمی نے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے بعد بھی عبادات پر قائم رہنے اور زندگی بھر اللہ سے تعلق مضبوط رکھنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان صرف رمضان تک محدود نہ رہیں بلکہ مستقل مزاجی اختیار کریں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک ایک عظیم مہینہ ہے جو بندے کے اعمال کا گواہ بن کر رخصت ہوتا ہے، مگر اس کا مقصد یہ نہیں کہ عبادات بھی اسی کے ساتھ ختم ہو جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کسی ایک مہینے تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کا تقاضا ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو آخری سانس تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہنا چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض افراد رمضان میں تو عبادت کا اہتمام کرتے ہیں مگر بعد میں غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر قاسمی نے کہا کہ نماز، قرآن اور دعا کے ساتھ جو تعلق رمضان میں قائم ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو مستقل کیا جائے، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے مسلمانوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی نمازوں کی پابندی کریں، نوافل اور سنتوں کا اہتمام کریں، قرآن کریم کی تلاوت جاری رکھیں اور دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اخلاقی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زبان کو غیبت سے، نگاہوں کو حرام سے اور دل کو حسد، تکبر اور ریاکاری سے محفوظ رکھا جائے۔
خطاب میں انہوں نے مسنون روزوں، خصوصاً پیر و جمعرات اور ہر مہینے کے تین دن کے روزوں کی اہمیت بھی بیان کی، اور شوال کے چھ روزوں کو پورے سال کے روزوں کے برابر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ عید محض ظاہری خوشی کا نام نہیں بلکہ اصل کامیابی اس شخص کی ہے جس کی عبادتوں میں اضافہ ہو اور جس کے گناہ معاف ہو جائیں۔
آخر میں انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ فقراء و مساکین کی مدد کریں، صدقات دیں، رشتہ داریوں کو جوڑیں اور معاشرے میں بھلائی کو فروغ دیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو استقامت عطا فرمائے اور انہیں دین پر قائم رکھے۔
ڈاکٹر عزیر احمد قاسمی کے اس خطاب میں مسلمانوں کے لیے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ رمضان کے بعد بھی نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور مستقل عبادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
Comments are closed.