معہد السلام میں باضابطہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز، منفرد نظام کے ساتھ 8 شوال سے درس کا اجراء
کٹہری مغربی چمپارن :31 مارچ(پریس ریلیز)مغربی چمپارن کے کٹہری، ساٹھّی میں قائم دینی و عصری تعلیم کے جامع مرکز معہد السلام میں باضابطہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 8 شوال 1447ھ مطابق 28 مارچ 2026ء سے ہو چکا ہے۔ فی الحال ادارہ میں ثانویہ کے مرحلہ سے تعلیم کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں طلبہ کے لیے دو سالہ مربوط نصاب ترتیب دیا گیا ہے۔
اس مرحلہ میں طلبہ کو قرآن و حدیث، فقہ، عربی ادب، عربی قواعد (گرامر) اور اردو زبان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہار اسٹیٹ ایجوکیشن بورڈ کے نصاب کے مطابق نویں اور دسویں جماعت کی تیاری کرائی جائے گی، تاکہ وہ میٹرک کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔ اس طرح طلبہ کو دینی اور عصری تعلیم کا حسین امتزاج ایک ہی نظام کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس ادارہ کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ایک ہی جگہ میں نرسنگ، لاء، پیرا میڈیکل، پولی ٹیکنک، آرٹس، سائنس اور کامرس کے ڈپلومہ یا ڈگری پروگراموں میں داخلہ دلانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ پچاس سے زائد ڈگری و ڈپلوما کورسز ایک ہی جگہ انہیں فراہم کیے جائیں گے ، اس کے لیے انہیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
معہد السلام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں عموماً مدارس میں شوال کا پورا مہینہ تعطیلات، داخلہ امتحانات اور دیگر انتظامی امور کی نذر ہو جاتا ہے، وہیں اس ادارہ نے ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے رمضان المبارک ہی سے داخلہ کی کارروائی شروع کر دی تھی اور ابتدائی شوال میں ہی داخلہ کے تمام مراحل مکمل کر لیے گئے۔ اسی کے نتیجہ میں 8 شوال سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ممکن ہو سکا، جس سے طلبہ شوال کے پورے مہینہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں صرف کریں گے۔
ادارہ کے سرپرست اور ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے باضابطہ درس کا افتتاح کیا اور طلبہ سے تفصیلی ابتدائی خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ: ’’آج کے دور میں امت کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو دینی علوم میں گہرائی و گیرائی کے ساتھ دنیاوی علوم پر بھی عبور رکھتے ہوں۔ آج کے ترقی یافتہ اور تکنیکی دور میں صرف یک رخی تعلیم سے نہ فرد کی شخصیت مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی ملت کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں ۔ معہد السلام کا یہ نظام اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جہاں طلبہ کا قیمتی وقت بچاتے ہوئے انہیں بیک وقت دینی بصیرت اور عصری مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ:’’طلبہ کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو غنیمت سمجھیں، محنت، نظم و ضبط اور اخلاص کے ساتھ اپنی تعلیم میں لگ جائیں، کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہے جو ان کے بہتر مستقبل کا تعین کرے گا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ادارہ میں روزانہ 12 گھنٹے کے تعلیمی نظام کو نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت 6 گھنٹے باقاعدہ درسی اوقات پر مشتمل ہوں گے، جبکہ 6 گھنٹے اساتذہ کی نگرانی میں سیلف اسٹڈی (مطالعہ) کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ اس دوران اساتذہ مسلسل طلبہ کی رہنمائی اور ان کے سوالات (ڈاؤٹ کلیریفکیشن) کے لیے موجود رہیں گے، تاکہ ہر طالب علم کو بہتر تعلیمی معاونت فراہم ہو سکے۔ ایک اور نمایاں خصوصیت اس ادارے کی یہ ہے کہ طلبہ کے لیے باقاعدہ اسمارٹ کلاس روم کا نظم کیا جارہا ہے جہاں وہ جدید تکنیک کے ساتھ آن لائن و آف لائن تعلیم سے بہرہ ور ہو سکیں گے ۔ اسمارٹ کلاس کے ذریعہ آن لائن ماہر اساتذہ و مختلف فنون کے ماہر ین کے لکچرز اور محاضرات سے طلبہ مستفید ہوں گے جس سے تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت سازی بھی ہو گی ۔
اس موقع پر علاقہ کے معروف عالم دین مولانا عبد الحق قاسمی، ادارہ کے تعلیمی نگراں مولانا جنید عالم ندوی، مولانا اعجاز احمد قاسمی اور ڈاکٹر پروفیسر اشونی کمار نے بھی مختلف مضامین کی تدریس کے ذریعے باقاعدہ تعلیمی سلسلہ کا آغاز کیا۔ اساتذہ نے طلبہ کو اپنے اپنے مضامین سے متعارف کراتے ہوئے سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
اہلِ علاقہ اور سنجیدہ حلقوں نے معہد السلام میں تعلیمی سرگرمیوں کے اس بروقت اور منظم آغاز کو ایک خوش آئند اور دور رس قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مربوط اور منظم تعلیمی ادارے نہ صرف نئی نسل کو بہتر رہنمائی فراہم کریں گے بلکہ علمی، فکری اور سماجی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
Comments are closed.