اپریل فول: اعتماد کے قتل کی ایک روایت

 

(حافظ)افتخاراحمدقادری

انسانی معاشرہ ہمیشہ سے اقدار و روایات اور اخلاقی اصولوں کے سہارے قائم و دائم رہا ہے۔ جب تک سچائی، دیانت، خیر خواہی اور باہمی احترام جیسے اوصاف معاشرتی زندگی میں زندہ رہتے ہیں تب تک انسانیت اپنی اصل پہچان برقرار رکھتی ہے۔ مگر جب یہی اقدار کمزور پڑنے لگیں اور ان کی جگہ جھوٹ، فریب، تمسخر اور بے حسی لے لے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ اندر ہی اندر کھوکھلا ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے آج کا دور اسی اخلاقی انحطاط کی تصویر پیش کر رہا ہے جہاں برائی کو برائی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے جدیدیت، خوش مزاجی اور تفریح کا نام دے کر قابلِ قبول بنا دیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک رسم "اپریل فُول” ہے جو ہر سال یکم اپریل کو نہایت اہتمام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک ہلکی پھلکی دل لگی اور مزاح کا موقع سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ جھوٹ، دھوکہ دہی اور دوسروں کی دل آزاری کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو نہ صرف انسانی اخلاق کے منافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی صریحاً متصادم ہے۔ اس دن لوگ مختلف حیلوں بہانوں سے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، انہیں پریشان کن اور جھوٹی خبریں سناتے ہیں اور جب حقیقت ظاہر ہوتی ہے تو ان کی بے بسی اور پریشانی پر قہقہے لگاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا عکاس ہے کہ ہم نے تفریح کے مفہوم کو کس قدر مسخ کر دیا ہے۔ اسلام میں مزاح اور خوش طبعی کی ممانعت نہیں بلکہ شریعت نے اسے ایک حد کے اندر رہتے ہوئے پسند بھی کیا ہے مگر وہ مزاح جو سچائی پر مبنی ہو جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو اور جو کسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ سچائی پر مبنی مزاح فرمایا اور کبھی کسی کو تکلیف پہنچانے والا رویہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس اپریل فُول کا پورا تصور ہی جھوٹ اور فریب پر قائم ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ جھوٹ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے جو نہ صرف انسان کی شخصیت کو داغدار کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب جھوٹ کو معمولی سمجھ لیا جائے اور اسے ہنسی مذاق کا حصہ بنا دیا جائے تو پھر سچ اور جھوٹ کے درمیان حد فاصل مٹنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے جھوٹ سے ہر حال میں بچنے کی تاکید فرمائی ہے حتیٰ کہ مذاق میں بھی جھوٹ بولنے کو ناپسند فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ یہی چھوٹا سا جھوٹ آہستہ آہستہ انسان کی عادت بن جاتا ہے اور پھر وہ بڑے بڑے جھوٹ بولنے سے بھی نہیں جھجکتا۔

اپریل فُول کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں دوسروں کو خوف زدہ کیا جاتا ہے، ان کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے اور ان کی نفسیاتی کیفیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کسی کو اچانک کوئی بری خبر سنا دینا، اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کر دینا اور پھر اس کی کیفیت پر ہنسنا یہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ایک طرح کی ظلم و زیادتی بھی ہے۔ ایک مہذب اور باوقار معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں نہ کہ اسے اپنی تفریح کا ذریعہ بنائیں۔ مزید برآں یہ رسم معاشرتی اعتماد کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اعتماد کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے اور جب یہی بنیاد متزلزل ہو جائے تو تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کی باتوں پر یقین نہ کریں، ہر خبر کو شک کی نگاہ سے دیکھیں تو اس کا نتیجہ بدگمانی اور بے اعتمادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اپریل فُول جیسے معمولات اسی بے اعتمادی کو فروغ دیتے ہیں، کیونکہ اس میں جھوٹ کو وقتی طور پر جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ آج ہم نے اپنی اصل تہذیبی و دینی شناخت کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کی اندھی تقلید کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر وہ چیز جو دنیا میں رائج ہو، ہمارے لیے بھی قابلِ قبول ہے؟ کیا ہمیں اپنی اقدار، اپنے دین اور اپنی اخلاقی حدود کو نظر انداز کر کے محض وقتی خوشی کے لیے ایسے اعمال اختیار کر لینے چاہئیں؟ ایک باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو ہر چیز کو اپنی اقدار کے پیمانے پر پرکھتی ہے نہ کہ آنکھیں بند کر کے ہر رسم کو اپنا لیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اپریل فُول کوئی معصوم تفریح نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو جھوٹ، فریب، بے حسی اور دوسروں کی دل آزاری کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی عادت کو فروغ دیتا ہے جو رفتہ رفتہ انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ سچائی، اعتماد اور باہمی احترام پر قائم ہو تو ہمیں ایسی تمام رسومات سے دور رہنا ہوگا جو ان اقدار کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کریں، انہیں سچ بولنے، دوسروں کا خیال رکھنے اور مثبت طرزِ زندگی اپنانے کی تعلیم دیں۔ ہمیں خود بھی اپنے اعمال سے یہ پیغام دینا ہوگا کہ حقیقی خوشی دوسروں کو خوش رکھنے میں ہے، نہ کہ انہیں پریشان کر کے ہنسنے میں۔ اگر ہم نے آج اس چھوٹی سی برائی کو نظر انداز کر دیا تو کل یہی برائی ایک بڑے اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ الغرض! اگر ہم سنجیدگی کے ساتھ اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہتی کہ اپریل فُول جیسی رسومات بظاہر جتنی ہلکی اور معمولی دکھائی دیتی ہیں حقیقت میں اتنی ہی گہری اخلاقی خرابیوں کی جڑ ہیں۔ یہ وہ دراڑ ہے جو آہستہ آہستہ انسانی کردار کی بنیادوں میں سرایت کر کے اسے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ابتدا ایک معمولی مذاق سے ہوتی ہے، مگر یہی مذاق رفتہ رفتہ جھوٹ، بے حسی اور دوسروں کے جذبات سے کھیلنے کی عادت میں بدل جاتا ہے اور پھر انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنے اور پرائے کے دکھ کا احساس بھی باقی نہیں رہتا۔ ایک باوقار اور مہذب معاشرہ محض عمارتوں، سڑکوں یا ظاہری ترقی سے نہیں بنتا بلکہ اس کی اصل روح اس کے لوگوں کے کردار، ان کے باہمی تعلقات اور ان کے اخلاقی معیار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب معاشرے میں سچائی کمزور پڑ جائے، جب لوگ ایک دوسرے پر اعتبار کھو دیں، جب ہنسی مذاق کے نام پر دل آزاری عام ہو جائے تو وہ معاشرہ بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی اپنی روحانی موت کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ اپریل فُول اسی زوال کی ایک علامت ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات کس قدر بدل لی ہیں۔ یاد رکھیں کہ ایک مسلمان کی زندگی کا ہر پہلو اس کے دین سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کی خوشی و غم، بات چیت، مزاح سب کچھ ایک دائرہ شریعت کے اندر ہوتا ہے۔ وہ اپنے کسی بھی عمل کو اس لیے اختیار نہیں کرتا کہ وہ عام ہو چکا ہے یا دوسروں میں رائج ہے بلکہ وہ ہر قدم پر یہ دیکھتا ہے کہ آیا یہ عمل اس کے رب کی رضا کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر ہم اس اصول کو اپنی زندگیوں میں جگہ دے دیں تو بہت سی برائیاں خود بخود ہم سے دور ہو جائیں گی اور جو قومیں اپنے اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں وہ دیرپا ترقی حاصل نہیں کر سکتیں۔ وقتی خوشیاں اور مصنوعی مسکراہٹیں کسی قوم کو مضبوط نہیں بنا سکتیں، بلکہ اس کے لیے سچائی، اعتماد اور باہمی احترام کی مضبوط بنیاد درکار ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے میں جھوٹ کو جگہ دیتے ہیں، چاہے وہ مذاق ہی کے پردے میں کیوں نہ ہو تو درحقیقت ہم اس بنیاد کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں جس پر ایک صحت مند اور خوشحال معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ آج نئی نسل کی فکر کرنی ہوگی کہ وہ ہم سے سیکھتی ہے، ہمارے رویّوں کو اپناتی ہے اور ہماری عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بناتی ہے۔ اگر ہم نے انہیں یہ سکھایا کہ دوسروں کو بے وقوف بنا کر ہنسنا ایک قابلِ فخر عمل ہے تو کل وہ اسی کو اپنی کامیابی سمجھیں گے۔ لیکن اگر ہم انہیں سچائی، شرافت اور دوسروں کے احترام کا درس دیں گے تو وہ ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بنیں گے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف خود ان برائیوں سے بچیں بلکہ اپنی نسلوں کی تربیت بھی ایسے انداز میں کریں کہ وہ ہر اچھے اور برے میں تمیز کر سکیں۔ یہ حقیقت ہے انسان کا ضمیر اسے ہمیشہ صحیح راستے کی طرف بلاتا ہے مگر جب وہ بار بار اس آواز کو نظر انداز کرتا ہے تو پھر یہ آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔ اپریل فُول جیسی رسومات اسی ضمیر کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، کیونکہ یہ ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ چھوٹا سا جھوٹ، معمولی سی دل آزاری یا وقتی دھوکہ کوئی بڑی بات نہیں۔ حالانکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں مل کر بڑے گناہوں اور سنگین اخلاقی مسائل کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ لہٰذا! وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بیدار ہوں، اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں اور اپنی زندگیوں کو ایسے اصولوں پر استوار کریں جو نہ صرف ہمارے دین کے مطابق ہوں بلکہ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوں۔ ہمیں اپنی زبان کو سچائی کا آئینہ بنانا ہوگا، اپنے دلوں کو دوسروں کے لیے نرم کرنا ہوگا اور اپنے اعمال کو خیر و بھلائی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ آئیے! ہم آج یہ پختہ عہد کریں کہ ہم کسی بھی ایسی رسم کا حصہ نہیں بنیں گے جو جھوٹ، فریب یا کسی کی دل آزاری پر مبنی ہو۔ ہم اپنی خوشی کا معیار بدلیں گے اور اسے دوسروں کی خوشی سے وابستہ کریں گے۔ ہم اپنے معاشرے میں محبت، اخوت اور اعتماد کو فروغ دیں گے تاکہ ایک ایسا ماحول پیدا ہو جہاں ہر فرد خود کو محفوظ، محترم اور باوقار محسوس کرے۔۔الله تعالیٰ ہمیں سچائی کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو ہر قسم کے فریب اور بے حسی سے پاک کرے اور ہمیں ایسا کردار نصیب فرمائے جو نہ صرف ہمارے لیے باعثِ فخر ہو بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے بھی روشنی کا مینار بن سکے۔ ہمیں اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے اور ہمیں ہر اس عمل سے محفوظ رکھے جو اس کی ناراضگی کا سبب بنے۔

*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت.یوپی

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.