علی گڑھ پبلک اسکول سے متعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انتظامی موقف کی وضاحت
علی گڑھ، یکم اپریل:(پریس ریلیز)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے حالیہ معاملات اور عوامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط بیانیوں کے پیش نظر علی گڑھ پبلک اسکول (اے پی ایس) سے متعلق بعض اہم حقائق کی وضاحت کی ہے۔
علی گڑھ پبلک اسکول کا قیام 1977 میں اُس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر اے ایم خسرو کی پہل پر عمل میں آیا تھا۔ اپنے قیام کے آغاز ہی سے اے ایم یو نے اس کے فروغ میں بنیادی اور مسلسل کردار ادا کیا ہے۔ یونیورسٹی نے ایک اہم مقام پر زمین فراہم کی، بنیادی ڈھانچے کی سہولتیں مہیا کیں اور ادارے کی ترقی اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے مسلسل ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا۔
قیام کے بعد سے یہ اسکول ملکیت اور انتظامی نگرانی کے اعتبار سے اے ایم یو کے ماتحت رہا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بطور خاص صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں، جبکہ رجسٹرار بطور عہدہ منتظم اور فائننس آفیسر بطور خازن فرائض انجام دیتے ہیں۔ تمام انتظامی اور مالی معاملات روایتی طور پر یونیورسٹی کے آئینی دفاتر کے ذریعے انجام پاتے رہے ہیں، جس سے جوابدہی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی برقرار رہی ہے۔
سن 2006 میں پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی (جو ویمنس کالج، اے ایم یو کی سبکدوش پرنسپل تھیں) کو موجودہ انتظامی ڈھانچے کے تحت علی گڑھ پبلک اسکول میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، 27 مارچ 2026 کو پروفیسر صدیقی سے منسوب ایک مراسلہ یونیورسٹی کو موصول ہوا ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب اے پی ایس کو علی گڑھ پبلک اسکول شکشا سمیتی کے تحت چلایا جائے گا، جو مبینہ طور پر اے ایم یو کی منظوری کے بغیر قائم کی گئی ایک سوسائٹی ہے، اور یہ کہ یونیورسٹی کا موجودہ انتظامی نظام ختم ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی واضح طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی یکطرفہ دعوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ قائم شدہ قوانین، انتظامی اصولوں اور ادارہ جاتی اختیارات کے خلاف ہے۔
اے ایم یو اس امر کو غیر قانونی اور ناقابل قبول سمجھتی ہے کہ کسی بھی مناسب قانونی عمل کے بغیر اسکول کی حیثیت میں تبدیلی کی کوشش کی جائے یا اس کی ادارہ جاتی شناخت، اثاثوں یا وراثت پر قبضہ کیا جائے۔ یونیورسٹی نے اسکول کے منظم اور مسلسل عمل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامی اقدامات پہلے ہی روا رکھے ہیں، جن میں انتظامی نگرانی کے لیے او ایس ڈی اور ایسوسی ایٹ او ایس ڈی کی تقرری شامل ہے۔
مزید برآں، اس معاملے میں سنگین مالی اور قانونی پہلو بھی شامل ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تقریباً 4.80 کروڑ روپے کی رقم سابق رجسٹرار کے جعلی دستخط کی بنیاد پر منتقل کی گئی ہے، جو ایک سنگین مالی بے ضابطگی ہے اور اس کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ قانون کے مطابق ضروری کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
اے ایم یو اپنی جائیدادوں، اثاثوں، عمارات اور ادارہ جاتی وراثت بشمول علی گڑھ پبلک اسکول کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ یونیورسٹی تمام متعلقہ فریقین، طلبہ، والدین، عملے اور انتظامی وابستگان کو یقین دلاتی ہے کہ اے پی ایس بدستور منظم اور مؤثر طریقے سے کام کرتا رہے گا، اور اس کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیاں مستحکم، بلا تعطل اور اعلیٰ ترین ادارہ جاتی معیار کے مطابق جاری رہیں گی۔
Comments are closed.