علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایسوسی ایشن آف فزیولوجسٹس اینڈ فارماکولوجسٹس آف انڈیا کی دو روزہ کانفرنس 3اپریل سے
علی گڑھ، 2 اپریل:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی اور شعبہ فزیالوجی کے زیر اہتمام ایسوسی ایشن آف فزیولوجسٹس اینڈ فارماکولوجسٹس آف انڈیا، اترپردیش- اتراکھنڈ شاخ کی کانفرنس (یو پی یو کے-ایپی کون 2026)، 3 اور 4 اپریل کومنعقد کی جارہی ہے، جس کا مرکزی موضوع ہے: ’فزیالوجی اور فارماکولوجی کا امتزاج‘۔
یہ کانفرنس مضر ادویاتی اثرات (اے ڈی آر) کی رپورٹنگ کے 37 سال (1989–2026) کی تکمیل کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد طبی تحقیق اور کلینیکل پریکٹس میں بین شعبہ جاتی طریقہ عمل کو فروغ دینا ہے۔
دو روزہ پروگرام میں 37 ماہرین کے خطبات کے ساتھ چار پری کانفرنس ورکشاپ، اور 110 سے زائد پوسٹر اور اورل پرزنٹیشن ہوں گے جو آف لائن اور آن لائن دونوں طرز پر منعقد کئے جائیں گے۔ اس موقع پر پروفیسر ایم نصیرالدین بیسٹ پوسٹر ایوارڈ، پروفیسر کے سی سنگھل بیسٹ اورل ایوارڈ اور چار لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کئے جائیں گے۔ اس کانفرنس کو یو پی ایم سی کی جانب سے 6 سی ایم ای گھنٹوں کے مساوی تسلیم کیا گیا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، کانفرنس کی چیف سرپرست ہیں، جبکہ پروفیسر محمد خالد، ڈین فیکلٹی آف میڈیسن، اور پروفیسر انجم پرویز، پرنسپل و سی ایم ایس، جے این ایم سی سرپرست ہیں۔
یہ کانفرنس پروفیسر منیشا جندل (صدر، اے پی پی آئی، یو پی-یو کے)، پروفیسر محمد اسلم (آرگنائزنگ چیئرمین)، پروفیسر سید ضیاء الرحمن (آرگنائزنگ سکریٹری) اور ڈاکٹر تنوج ماتھر (جوائنٹ آرگنائزنگ سکریٹری) کی قیادت و رہنمائی میں منعقد ہورہی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی جانب سے علی گڑھ ڈویژن میں جل جیون مشن پر امپیکٹ اسٹڈی کی شروعات
علی گڑھ، 2 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سوشل ورک نے حکومتِ ہند کے ”ہر گھر جل“ اقدام کے تحت دیہی علاقوں میں جل جیون مشن (جے جے ایم) کے سماجی، معاشی اور صحت سے متعلق اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک امپیکٹ اسٹڈی کا آغاز کیا ہے۔
اس مطالعے کا مقصد گھریلو نل کنیکشن (ایف ایچ ٹی سی) کی فراہمی سے آنے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنا ہے، جس میں محفوظ پینے کے پانی تک بہتر رسائی اور گاؤوں میں معیارِ زندگی پر اس کے اثرات پر خاص توجہ دی جائے گی۔
فیلڈ ورک کے پہلے مرحلے کا آغاز دھنی پور بلاک کے بھوجپور گاؤں سے کیا گیا، جس سے قبل ضلعی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور یوپی جل نگم (دیہی) کے عہدیداران کے ساتھ ایک رابطہ میٹنگ منعقد کی گئی تاکہ مؤثر نفاذ اور مقامی سطح پر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ریسرچ ٹیم میں پروفیسر نسیم احمد خان، ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر شائنا سیف، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر، ڈاکٹر سمیرا خانم اور ڈاکٹر انم آفتاب شامل ہیں۔ ان کی معاونت ریسرچ اسسٹنٹ ڈاکٹر طہٰ فاطمہ اور محمد سمیر خان کر رہے ہیں، جبکہ فیلڈ انویسٹیگیٹرز میں محمد بلال خان، حمزہ علی، مظفر ہاشمی، عبد الحنان، معاذ فاروق اور محمد محسن شامل ہیں۔
یہ مطالعہ کثیر جہتی طریقہ کار پر مبنی ہے، جس میں گھریلو سروے، خصوصاً خواتین کے ساتھ فوکس گروپ مباحثے، اور مقامی گرام پردھان، آشا کارکنان اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ انٹرویو شامل ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد صحت عامہ میں بہتری، بالخصوص پانی سے ہونے والے امراض میں کمی، اور سماجی اثرات جیسے کہ پانی کے حصول میں صرف ہونے والے وقت میں کمی کے ذریعے خواتین کی اختیار دہی کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی پائیداری، دیہی آبی و صفائی کمیٹیوں کی کارکردگی، اور پانی کے معیار کی نگرانی کے نظام کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔
علی گڑھ مرحلے کے بعد اس منصوبے کو ہاتھرس، کاس گنج اور ایٹہ اضلاع تک توسیع دی جائے گی، جو جل جیون مشن کے مؤثر نفاذ اور محفوظ پینے کے پانی تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیڈ بیک میکانزم ثابت ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭
عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر اے ایم یو میں کوئز مقابلے کا اہتمام
علی گڑھ، 2 اپریل: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے زیر اہتمام عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر ایک کوئز مقابلہ منعقد کیا گیا، جس کا ہدف پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس میں تپ دق کے حوالے سے آگہی میں اضافہ تھا۔
یہ مقابلہ دو مراحل میں منعقد ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں 13 ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں سے پانچ ٹیمیں فائنل مرحلے کے لیے منتخب ہوئیں۔ فائنل راؤنڈ میں ایم سی کیو، بزر راؤنڈ، ویژول مسٹری اور ریپڈ فائر راؤنڈ شامل تھے۔ ان مراحل کے ذریعے وبائی امراض، تشخیص، علاج اور تپ دق سے متعلق قومی پروگراموں کے حوالے سے شرکاء کی علمی صلاحیتوں کو پرکھا گیا۔ ڈاکٹر محمد یاسر زبیر، ڈاکٹر سید صہیب ہاشمی اور ڈاکٹر سوریہ پرکاش ریڈی پیرم نے کوئز کو منعقد کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مباح دلشاد نے انجام دیے۔
فائنل راؤنڈ میں ڈاکٹر روہن کوشک اور ڈاکٹر شہالنَس کرم کنڈل پر مشتمل ٹیم نکشے ننجس نے پہلا مقام حاصل کیا، جب کہ ڈاکٹر آیوشی گپتا اور ڈاکٹر سی کے پربھاکرن پر مشتمل ٹیم مائیکو بسٹرز دوسرے مقام پر رہی۔
شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم اور ڈاکٹر ثمینہ احمد نے فاتحین میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے تپ دق کے خاتمے کی اہمیت اور اس ضمن میں طبی ماہرین کے کردار پر زور دیا۔ آخر میں ڈاکٹر دانش کمال نے اظہارِ تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
قومی کانفرنس میں اے ایم یو کے ڈاکٹر نے اورل پرزنٹیشن زمرہ میں تیسری پوزیشن حاصل کی
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سینئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر سید صہیب ہاشمی نے لکھنؤ کے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں منعقدہ انڈین سوسائٹی فار ایڈلٹ امیونائزیشن کی تیسری قومی کانفرنس میں مجموعی اورل پرزنٹیشن زمرے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ڈاکٹر ہاشمی نے ’ایچ آئی وی ویکسین کی تیاری میں رکاوٹیں اور چیلنجز: ایک اسکوپنگ ریویو‘کے عنوان پر اپنی تحقیق پیش کی، جسے اس کی سائنسی بنیادوں، منظم طریقہ کار اور صحت عامہ کی موجودہ ترجیحات سے مطابقت کے باعث سراہا گیا۔ اس تحقیق میں ایچ آئی وی ویکسین کی تیاری میں درپیش اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا، جن میں حیاتیاتی پیچیدگیاں، کلینیکل ٹرائلز کی حدود اور نفاذ سے متعلق چیلنجز شامل ہیں۔
شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم نے ڈاکٹر ہاشمی کو اس دستیابی پر مبارکباد پیش کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی
علی گڑھ، 2 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لائبریری سائنس کے زیر اہتمام ”لائبریریوں میں تازہ ابھرتے ہوئے رجحانات“ کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچی۔ یہ دو روزہ عالمی پروگرام، ٹکنالوجی سے متاثر عہد حاضر میں لائبریریوں کے بدلتے کردار پر مرکوز تھا۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین، پیشہ ور افراد اور محققین نے شرکت کی اور لائبریری و انفارمیشن سائنس میں ابھرتے رجحانات، جدت طرازی اور مستقبل کی سمتوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اختتامی اجلاس میں پرو وائس چانسلر، اے ایم یو، پروفیسر محمد محسن خان نے ڈیجیٹل دور میں لائبریریوں کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے لائبریری تعلیم و خدمات میں مسلسل جدت کی ضرورت پر زور دیا۔
مہمانِ خصوصی ایئر وائس مارشل (ڈاکٹر) دیویش وتس، مشیر،سائبر سکیورٹی اینڈ کریٹیکل ٹکنالوجیز، ڈیٹا سکیورٹی کونسل آف انڈیا (ڈی ایس سی آئی)، نے لائبریری نظام میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات پر روشنی ڈالی اور ڈیٹا سکیورٹی اور ڈیجیٹل ٹکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس موقع پر ممتاز ماہرین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔ پروفیسر ایس مصطفیٰ کے کیو زیدی اور پروفیسر پریتی مہاجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2026 سے سرفراز کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر منور اقبال، ڈپٹی لائبریرین، اے ایم یو، کو بیسٹ لائبریری اینڈ انفارمیشن پروفیشنل ایوارڈ 2026 دیا گیا۔ دیگر اعزاز یافتگان میں ڈاکٹر راجیش کمار (بیسٹ اکیڈمک لائبریرین)، ڈاکٹر محمد ناظم (بیسٹ ینگ ایل آئی ایس ٹیچر)، شمس الزماں خان (بیسٹ ایمرجنگ لائبریری پروفیشنل)، ڈاکٹر وپن کمار (بیسٹ ایمرجنگ لائبریری پروفیشنل)، اور امتیاز الحق (ایل آئی ایس تعلیم میں بیسٹ سوشل میڈیا انفلوئنسر) شامل تھے۔
تنظیمی کمیٹی کے اراکین بشمول پروفیسر ایم معصوم رضا، پروفیسر نشاط فاطمہ، پروفیسر نوشاد علی پی ایم، پروفیسر سدھرما ہری داسن، پروفیسر مہتاب عالم انصاری، ڈاکٹر محمد ناظم اور ڈاکٹر مزمل مشتاق کو بھی اعزازات پیش کئے گئے۔
اس سے قبل آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر نشاط فاطمہ نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ ڈاکٹر محمد ناظم نے کانفرنس کی رپورٹ پیش کی۔ اختتامی کلمات پروفیسر پریتی مہاجن نے ادا کئے اور اظہارِ تشکر پروفیسر ایم معصوم رضا نے کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج کی ریزیڈنٹ نے قومی کانفرنس میں پیپر پرزنٹیشن زمرہ میں دوسری پوزیشن حاصل کی
علی گڑھ، 2 اپریل: ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اورل میڈیسن اینڈ ریڈیولوجی کی جونیئر ریزیڈنٹ (جے آر 1) ڈاکٹر ثبات فاطمہ نے غازی آباد کے آئی ٹی ایس ڈینٹل کالج میں منعقدہ 23ویں نیشنل ٹرپل او کانفرنس میں پیپر پرزنٹیشن زمرہ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز ڈینٹل ماہرین، اساتذہ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ شریک ہوئے۔
ڈاکٹر فاطمہ نے ’ڈیسموپلاسٹک ایمیلو بلاسٹوما: اینٹیریئر مینڈیبل میں ایک تشخیصی چیلنج‘کے عنوان پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جس میں اس نادر ٹیومر کی تشخیص میں پیش آنے والی پیچیدگیوں اور درست کلینیکل و ریڈیوگرافک جائزے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ ان کی پیشکش کو ماہرین کے پینل نے بے حد سراہا، جس کے نتیجے میں انہیں پوسٹ گریجویٹ پیپر پرزنٹیشن زمرے میں دوسرا مقام حاصل ہوا۔ ڈاکٹر ثبات فاطمہ نے اپنی اس کامیابی پر اپنے اساتذہ اور شعبے کا رہنمائی اور تعاون کے لئے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یوکے ویمنس کالج میں قلیل مدتی ہنرمندی کورسز کے لیے درخواستیں طلب
علی گڑھ، 2 اپریل: ویمنس کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کریئر پلاننگ نے خواتین میں روزگار کے مواقع بڑھانے اور عملی مہارتوں کو فروغ دینے کے مقصد سے قلیل مدتی پیشہ ورانہ کورسز کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔
درخواست فارم 4 اپریل سے 30 اپریل تک سینٹر کے دفتر سے دفتری اوقات میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ بھی 30 اپریل ہے۔ داخلہ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔
قلیل مدتی کورسیز میں کمپیوٹر سے متعلق کورسز جیسے ورڈ پروسیسنگ، ٹائپنگ (انگریزی، ہندی اور اردو)، ٹیلی، الیکٹرانک ڈیٹا پروسیسنگ، ویب ڈیزائننگ و پبلشنگ اور پائتھن پروگرامنگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہنر پر مبنی کورسز جیسے بیوٹی کلچر، فیشن السٹریشن، گارمنٹ میکنگ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، کڑھائی، انٹیریئر ڈیکوریشن، کمرشل آرٹ اور ہینڈی کرافٹ بھی دستیاب ہیں۔ مزید برآں انگریزی بول چال اور شارٹ ہینڈ کے کورسز بھی کرائے جائیں گے۔ کلاسز کا آغاز 4 مئی سے ہوگا۔ ہفتے میں تین دن طے شدہ شیڈول کے مطابق کلاسیز ہوں گی۔
کمپیوٹر کورسز کے لیے 2000 روپے اور دیگر کورسز کے لیے 1000 روپے فیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ 150 روپے انرولمنٹ فیس علیحدہ ہوگی۔
دلچسپی رکھنے والی خواتین مزید معلومات کے لیے سینٹر سے رجوع کریں یا اے ایم یو کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں چار روزہ آرٹ بیلیزا، رنگارنگ تقریب کے ساتھ اختتام پذیر
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ فائن آرٹس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام چار روزہ آرٹ نمائش و فیسٹیول ”آرٹ بیلیزا 2026“ ایک رنگارنگ اختتامی تقریب کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔
مہمانِ خصوصی کے طور پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور مہمانِ اعزازی کے طور پر پروفیسر آذرمی دخت صفوی، بانی ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف پرشیئن ریسرچ، اے ایم یو شریک ہوئے۔ فیسٹیول میں فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنھوں نے متنوع فن پاروں کو سراہا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر نعیمہ خاتون نے شعبے کی اجتماعی کاوشوں اور تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کی اور اس کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ پروفیسر آذرمی دخت صفوی نے بھی اس اقدام کو سراہا۔
اس سے قبل معزز مہمانوں کا اساتذہ اور طلبہ نے خیرمقدم کیا۔ رضاکاروں اور ذمہ داران کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اسناد اور یادگاری نشان پیش کیے گئے۔
شعبے کے چیئرپرسن اور فیسٹیول کے کنوینر ڈاکٹر عابد ہادی نے اس طرح کے پلیٹ فارمز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات فنکارانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ فیسٹیول کوآرڈینیٹر عدنان خان نے طلبہ اور منتظمین کی محنت اور ٹیم ورک کو سراہا، جس کی بدولت یہ پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اختتامی تقریب میں وائس چانسلر کی توثیق سے فیسٹیول کو ایک دن کے لیے مزید توسیع دینے کا اعلان کیا گیاجس کا حاضرین نے جوش و خروش سے خیرمقدم کیا۔
٭٭٭٭٭٭
ایس ٹی ایس اسکول، اے ایم یو میں سائبر سکیورٹی سے متعلق آگہی پروگرام منعقد
علی گڑھ، 2 اپریل: ایس ٹی ایس اسکول (منٹو سرکل)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں طلبہ کو ڈیجیٹل تحفظ اور آن لائن خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے علی گڑھ پولیس کے سائبر سیل کے زیر اہتمام سائبر سکیورٹی پر ایک آگہی لیکچر منعقد کیا گیا۔
اسکول کے اے وی لیب میں سائبر سیل کے افسران، انسپکٹر پنکج کمار (انچارج سائبر سیل)، انسپکٹر سچن سنگھ اور مسٹر وپن کمار نے طلبہ کو محفوظ انٹرنیٹ استعمال اور سائبر خطرات سے بچاؤ کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر پنکج کمار نے آن لائن فراڈ اور شناخت کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کے باعث طلبہ خاص طور پر ان خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ’ڈیجیٹل ہائجین‘ برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں پاس ورڈز کو باقاعدگی سے تبدیل کرنا، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن کا استعمال اور مشکوک پیغامات و لنک سے ہوشیار رہنا شامل ہے۔
مسٹر وپن کمار نے انٹرنیٹ کے استعمال کے سماجی اور قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور سائبر بُلنگ اور پرائیویسی جیسے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آن لائن سرگرمیوں میں احتیاط برتیں، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویہ طویل مدتی ذاتی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے سائبر جرائم کی سرکاری ذرائع سے رپورٹنگ کے طریقوں سے بھی آگاہ کیا اور طلبہ کو ضرورت پڑنے پر قابلِ اعتماد سینئرز سے مدد لینے کی ترغیب دی۔
اس موقع پر ایس ٹی ایس اسکول کے پرنسپل مسٹر فیصل نفیس نے افسران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ میں ڈیجیٹل بیداری کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون نہایت اہم ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد عالمگیر (وائس پرنسپل)، ڈاکٹر الیاس میاں، مسٹر عبدالغفار، مسٹر محمد عدنان خان اور مسٹر فرحان حبیب موجود تھے۔ نظامت کے فرائض مسز غزالہ تنویر نے انجام دیے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں کمپیوٹیشنل انٹیلیجنس پر بین الاقوامی کانفرنس 4اور 5 اپریل کو منعقد ہوگی
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ کمپیوٹر سائنس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام 4 اور 5 اپریل کو ”ایمرجنگ کمپیوٹیشنل انٹیلیجنس“ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس(آئی سی ای سی آئی-2026) منعقد کی جارہی ہے جس میں دنیا بھر سے تعلیمی و صنعتی ماہرین، اسکالرز اور طلبہ شرکت کریں گے۔
یہ کانفرنس، آئی ای ای ای اتر پردیش سیکشن کی تکنیکی سرپرستی میں منعقد کی جارہی ہے جس کا افتتاحی اجلاس یونیورسٹی پولی ٹیکنک کے اسمبلی ہال میں منعقد ہوگا۔ کانفرنس میں دس خصوصی موضوعات پر مبنی پلینری اور ٹیکنیکل سیشن منعقد کیے جائیں گے، جن میں بین الاقوامی، قومی اور مقامی اداروں کے شرکاء کی جانب سے تقریباً 75 تحقیقی مقالات پیش کیے جائیں گے۔
شعبے کے چیئرمین پروفیسر ارمان رسول فریدی کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد کمپیوٹیشنل انٹیلیجنس میں حالیہ پیش رفت اور اس کے پائیدار ڈیجیٹل نظاموں میں اطلاق پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ دوسرے دن خصوصی لیکچرز، پلینری سیشن اور اختتامی پروگرام منعقدہوں گے۔
کانفرنس میں ناروے کے پروفیسر ڈگ اویند میڈسن، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر عبد القیوم انصاری، ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے پروفیسر محمد ابواللیث، آسٹریلیا کے ڈاکٹر اقبال ایچ سرکر اور نئی دہلی کے پروفیسر ایم این ہدیٰ جیسے ممتاز ماہرین کے خطبات ہوں گے۔ اس کے علاوہ روس کی ڈاکٹر ماریہ لاپینا، امریکہ کے ڈاکٹر شاہد طفیل، مسٹر محمد سہیل اور نوئیڈا کے مسٹر مہروز علی پاشا کے خطبات بھی ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ماہرین، طبی پودوں پر الٹراوائلٹ شعاعوں کے اثرات کے تجزیہ میں مصروف، منفرد تحقیق سے امید افزا نتائج ملنے کی توقع
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ نباتیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے محققین نے ایک منفرد تحقیق کا آغاز کیا ہے، جس میں الٹرا وائلٹ اے، الٹرا وائلٹ بی اور الٹرا وائلٹ سی شعاعوں کے طبی پودوں پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس تحقیق سے ماحولیاتی تحفظ اور ادویاتی افادیت میں اضافے جیسے امید افزا نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔
اوزون کی تہہ کے اندمال کے باعث زمینی سطح پر یو وی شعاعوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر یہ تحقیق یو وی اے، یو وی بی اور یو وی سی شعاعوں کے مختلف اثرات پر مرکوز ہے۔ یو وی سی شعاعیں اوزون کی تہہ میں جذب ہو جاتی ہیں، جب کہ یو وی اے کی بڑی مقدار اور یو وی بی کا ایک نمایاں حصہ زمین کی سطح تک پہنچ کر حیاتیاتی نظاموں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ خصوصی لیبارٹری سیٹ اپ تیار کیے ہیں، جن کے ذریعے مختلف طبی پودوں جیسے اشوگندھا، کولیئس، ماکو (سولانم نائگرم)، پودینہ، گیندا، اسٹیویا اور رات کی رانی (سیسٹرم نوکٹرنم)کو کنٹرولڈ یو وی شعاعوں کے زیر اثر رکھا جا رہا ہے۔ اس مطالعے کا مقصد قدرتی یو وی شیلڈ کے طور پر ان پودوں کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے، ساتھ ہی فلیوونوائڈز اور الکالائیڈز جیسے حیاتیاتی طور پر مؤثر مرکبات کی پیداوار میں ممکنہ اضافے کو بھی پرکھنا ہے۔
یہ تحقیق پروفیسر ایم مسرور خان (ریٹائرڈ)، ڈاکٹر ایم نعیم اور بی ایس سی سال آخر کی طالبہ مس ماریہ خان کی قیادت میں جاری ہے، جبکہ شعبے کے چیئرمین پروفیسر ابرار اے خان کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو وی شعاعوں سے پیدا ہونے والا دباؤ پودوں کی ادویاتی خصوصیات کو بڑھا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ڈاکٹر امبیڈکر کے پائیدار اور جامع ترقی کے وژن پر قومی سمینار کا انعقاد
علی گڑھ، 2 اپریل: ڈاکٹر امبیڈکر چیئر آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام ”وکست بھارت ایٹ 2047: قانون و پالیسی کے تناظر میں امبیڈکر کا پائیداری اور جامع ترقی کا وژن“عنوان پر ایک روزہ قومی سمینار منعقد کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، اسکالرز اور پالیسی مفکرین نے اپنے خیالات ظاہر کئے اور شرکاء کو مستفید کیا۔
پروگرام کا آغاز پروفیسر ظفر احمد خان، چیئر پروفیسر، امبیڈکر چیئر کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے افکار کی موجودہ دور میں اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر کا وژن ہمیں ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور یہ آج بھی ایک جامع اور پائیدار قومی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر محمد نفیس انصاری نے 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے اہداف کے حصول میں قانون، حکمرانی اور سماجی انصاف کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس کی بنیاد شمولیت پر ہو، تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔
مہمانِ خصوصی، اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے پالیسی سازی اور قومی تعمیر میں علمی مباحث کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات بصیرت افروز خیالات کو عملی پالیسیوں میں ڈھالنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، جو ایک جامع اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔
ہائبرڈ طرز پر منعقدہ اس سمینار میں پانچ تکنیکی نشستیں شامل تھیں، جنہوں نے فکری تبادلے کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ کانفرنس میں مختلف شعبہ جات جیسے کہ قانون، سماجی علوم اور بین الاقوامی تعلقات سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے مجموعی طور پر 41 تحقیقی مقالات پیش کیے، جو امبیڈکر کے وژن کی کثیر جہتی نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ نشستوں کی نظامت ڈاکٹر محمد ناصر، ڈاکٹر صائم فاروقی اور ڈاکٹر سید محمد یاور نے کی۔
سمینار کے دوران پائیدار اور جامع ترقی کے حصول کے لیے درکار عصری چیلنجوں اور پالیسی فریم ورک پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ماہرین نے سماجی مساوات، قانونی اصلاحات اور ترقی کے عالمی تناظر جیسے موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب کا اختتام علمی استفادہ اور باہمی تعاون کے عزم کے ساتھ ہوا، جس نے قومی اہمیت کے موضوعات پر تنقیدی مکالمے اور تحقیق کے فروغ کے تئیں اے ایم یو کے عزم کو مزید مستحکم کیا۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ، 2 اپریل:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی اور شعبہ فزیالوجی کے زیر اہتمام ایسوسی ایشن آف فزیولوجسٹس اینڈ فارماکولوجسٹس آف انڈیا، اترپردیش- اتراکھنڈ شاخ کی کانفرنس (یو پی یو کے-ایپی کون 2026)، 3 اور 4 اپریل کومنعقد کی جارہی ہے، جس کا مرکزی موضوع ہے: ’فزیالوجی اور فارماکولوجی کا امتزاج‘۔
یہ کانفرنس مضر ادویاتی اثرات (اے ڈی آر) کی رپورٹنگ کے 37 سال (1989–2026) کی تکمیل کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد طبی تحقیق اور کلینیکل پریکٹس میں بین شعبہ جاتی طریقہ عمل کو فروغ دینا ہے۔
دو روزہ پروگرام میں 37 ماہرین کے خطبات کے ساتھ چار پری کانفرنس ورکشاپ، اور 110 سے زائد پوسٹر اور اورل پرزنٹیشن ہوں گے جو آف لائن اور آن لائن دونوں طرز پر منعقد کئے جائیں گے۔ اس موقع پر پروفیسر ایم نصیرالدین بیسٹ پوسٹر ایوارڈ، پروفیسر کے سی سنگھل بیسٹ اورل ایوارڈ اور چار لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کئے جائیں گے۔ اس کانفرنس کو یو پی ایم سی کی جانب سے 6 سی ایم ای گھنٹوں کے مساوی تسلیم کیا گیا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، کانفرنس کی چیف سرپرست ہیں، جبکہ پروفیسر محمد خالد، ڈین فیکلٹی آف میڈیسن، اور پروفیسر انجم پرویز، پرنسپل و سی ایم ایس، جے این ایم سی سرپرست ہیں۔
یہ کانفرنس پروفیسر منیشا جندل (صدر، اے پی پی آئی، یو پی-یو کے)، پروفیسر محمد اسلم (آرگنائزنگ چیئرمین)، پروفیسر سید ضیاء الرحمن (آرگنائزنگ سکریٹری) اور ڈاکٹر تنوج ماتھر (جوائنٹ آرگنائزنگ سکریٹری) کی قیادت و رہنمائی میں منعقد ہورہی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی جانب سے علی گڑھ ڈویژن میں جل جیون مشن پر امپیکٹ اسٹڈی کی شروعات
علی گڑھ، 2 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سوشل ورک نے حکومتِ ہند کے ”ہر گھر جل“ اقدام کے تحت دیہی علاقوں میں جل جیون مشن (جے جے ایم) کے سماجی، معاشی اور صحت سے متعلق اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک امپیکٹ اسٹڈی کا آغاز کیا ہے۔
اس مطالعے کا مقصد گھریلو نل کنیکشن (ایف ایچ ٹی سی) کی فراہمی سے آنے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنا ہے، جس میں محفوظ پینے کے پانی تک بہتر رسائی اور گاؤوں میں معیارِ زندگی پر اس کے اثرات پر خاص توجہ دی جائے گی۔
فیلڈ ورک کے پہلے مرحلے کا آغاز دھنی پور بلاک کے بھوجپور گاؤں سے کیا گیا، جس سے قبل ضلعی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور یوپی جل نگم (دیہی) کے عہدیداران کے ساتھ ایک رابطہ میٹنگ منعقد کی گئی تاکہ مؤثر نفاذ اور مقامی سطح پر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ریسرچ ٹیم میں پروفیسر نسیم احمد خان، ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر شائنا سیف، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر، ڈاکٹر سمیرا خانم اور ڈاکٹر انم آفتاب شامل ہیں۔ ان کی معاونت ریسرچ اسسٹنٹ ڈاکٹر طہٰ فاطمہ اور محمد سمیر خان کر رہے ہیں، جبکہ فیلڈ انویسٹیگیٹرز میں محمد بلال خان، حمزہ علی، مظفر ہاشمی، عبد الحنان، معاذ فاروق اور محمد محسن شامل ہیں۔
یہ مطالعہ کثیر جہتی طریقہ کار پر مبنی ہے، جس میں گھریلو سروے، خصوصاً خواتین کے ساتھ فوکس گروپ مباحثے، اور مقامی گرام پردھان، آشا کارکنان اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ انٹرویو شامل ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد صحت عامہ میں بہتری، بالخصوص پانی سے ہونے والے امراض میں کمی، اور سماجی اثرات جیسے کہ پانی کے حصول میں صرف ہونے والے وقت میں کمی کے ذریعے خواتین کی اختیار دہی کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی پائیداری، دیہی آبی و صفائی کمیٹیوں کی کارکردگی، اور پانی کے معیار کی نگرانی کے نظام کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔
علی گڑھ مرحلے کے بعد اس منصوبے کو ہاتھرس، کاس گنج اور ایٹہ اضلاع تک توسیع دی جائے گی، جو جل جیون مشن کے مؤثر نفاذ اور محفوظ پینے کے پانی تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیڈ بیک میکانزم ثابت ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭
عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر اے ایم یو میں کوئز مقابلے کا اہتمام
علی گڑھ، 2 اپریل: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے زیر اہتمام عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر ایک کوئز مقابلہ منعقد کیا گیا، جس کا ہدف پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس میں تپ دق کے حوالے سے آگہی میں اضافہ تھا۔
یہ مقابلہ دو مراحل میں منعقد ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں 13 ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں سے پانچ ٹیمیں فائنل مرحلے کے لیے منتخب ہوئیں۔ فائنل راؤنڈ میں ایم سی کیو، بزر راؤنڈ، ویژول مسٹری اور ریپڈ فائر راؤنڈ شامل تھے۔ ان مراحل کے ذریعے وبائی امراض، تشخیص، علاج اور تپ دق سے متعلق قومی پروگراموں کے حوالے سے شرکاء کی علمی صلاحیتوں کو پرکھا گیا۔ ڈاکٹر محمد یاسر زبیر، ڈاکٹر سید صہیب ہاشمی اور ڈاکٹر سوریہ پرکاش ریڈی پیرم نے کوئز کو منعقد کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مباح دلشاد نے انجام دیے۔
فائنل راؤنڈ میں ڈاکٹر روہن کوشک اور ڈاکٹر شہالنَس کرم کنڈل پر مشتمل ٹیم نکشے ننجس نے پہلا مقام حاصل کیا، جب کہ ڈاکٹر آیوشی گپتا اور ڈاکٹر سی کے پربھاکرن پر مشتمل ٹیم مائیکو بسٹرز دوسرے مقام پر رہی۔
شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم اور ڈاکٹر ثمینہ احمد نے فاتحین میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے تپ دق کے خاتمے کی اہمیت اور اس ضمن میں طبی ماہرین کے کردار پر زور دیا۔ آخر میں ڈاکٹر دانش کمال نے اظہارِ تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
قومی کانفرنس میں اے ایم یو کے ڈاکٹر نے اورل پرزنٹیشن زمرہ میں تیسری پوزیشن حاصل کی
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سینئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر سید صہیب ہاشمی نے لکھنؤ کے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں منعقدہ انڈین سوسائٹی فار ایڈلٹ امیونائزیشن کی تیسری قومی کانفرنس میں مجموعی اورل پرزنٹیشن زمرے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ڈاکٹر ہاشمی نے ’ایچ آئی وی ویکسین کی تیاری میں رکاوٹیں اور چیلنجز: ایک اسکوپنگ ریویو‘کے عنوان پر اپنی تحقیق پیش کی، جسے اس کی سائنسی بنیادوں، منظم طریقہ کار اور صحت عامہ کی موجودہ ترجیحات سے مطابقت کے باعث سراہا گیا۔ اس تحقیق میں ایچ آئی وی ویکسین کی تیاری میں درپیش اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا، جن میں حیاتیاتی پیچیدگیاں، کلینیکل ٹرائلز کی حدود اور نفاذ سے متعلق چیلنجز شامل ہیں۔
شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم نے ڈاکٹر ہاشمی کو اس دستیابی پر مبارکباد پیش کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی
علی گڑھ، 2 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لائبریری سائنس کے زیر اہتمام ”لائبریریوں میں تازہ ابھرتے ہوئے رجحانات“ کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچی۔ یہ دو روزہ عالمی پروگرام، ٹکنالوجی سے متاثر عہد حاضر میں لائبریریوں کے بدلتے کردار پر مرکوز تھا۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین، پیشہ ور افراد اور محققین نے شرکت کی اور لائبریری و انفارمیشن سائنس میں ابھرتے رجحانات، جدت طرازی اور مستقبل کی سمتوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اختتامی اجلاس میں پرو وائس چانسلر، اے ایم یو، پروفیسر محمد محسن خان نے ڈیجیٹل دور میں لائبریریوں کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے لائبریری تعلیم و خدمات میں مسلسل جدت کی ضرورت پر زور دیا۔
مہمانِ خصوصی ایئر وائس مارشل (ڈاکٹر) دیویش وتس، مشیر،سائبر سکیورٹی اینڈ کریٹیکل ٹکنالوجیز، ڈیٹا سکیورٹی کونسل آف انڈیا (ڈی ایس سی آئی)، نے لائبریری نظام میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات پر روشنی ڈالی اور ڈیٹا سکیورٹی اور ڈیجیٹل ٹکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس موقع پر ممتاز ماہرین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔ پروفیسر ایس مصطفیٰ کے کیو زیدی اور پروفیسر پریتی مہاجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2026 سے سرفراز کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر منور اقبال، ڈپٹی لائبریرین، اے ایم یو، کو بیسٹ لائبریری اینڈ انفارمیشن پروفیشنل ایوارڈ 2026 دیا گیا۔ دیگر اعزاز یافتگان میں ڈاکٹر راجیش کمار (بیسٹ اکیڈمک لائبریرین)، ڈاکٹر محمد ناظم (بیسٹ ینگ ایل آئی ایس ٹیچر)، شمس الزماں خان (بیسٹ ایمرجنگ لائبریری پروفیشنل)، ڈاکٹر وپن کمار (بیسٹ ایمرجنگ لائبریری پروفیشنل)، اور امتیاز الحق (ایل آئی ایس تعلیم میں بیسٹ سوشل میڈیا انفلوئنسر) شامل تھے۔
تنظیمی کمیٹی کے اراکین بشمول پروفیسر ایم معصوم رضا، پروفیسر نشاط فاطمہ، پروفیسر نوشاد علی پی ایم، پروفیسر سدھرما ہری داسن، پروفیسر مہتاب عالم انصاری، ڈاکٹر محمد ناظم اور ڈاکٹر مزمل مشتاق کو بھی اعزازات پیش کئے گئے۔
اس سے قبل آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر نشاط فاطمہ نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ ڈاکٹر محمد ناظم نے کانفرنس کی رپورٹ پیش کی۔ اختتامی کلمات پروفیسر پریتی مہاجن نے ادا کئے اور اظہارِ تشکر پروفیسر ایم معصوم رضا نے کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج کی ریزیڈنٹ نے قومی کانفرنس میں پیپر پرزنٹیشن زمرہ میں دوسری پوزیشن حاصل کی
علی گڑھ، 2 اپریل: ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اورل میڈیسن اینڈ ریڈیولوجی کی جونیئر ریزیڈنٹ (جے آر 1) ڈاکٹر ثبات فاطمہ نے غازی آباد کے آئی ٹی ایس ڈینٹل کالج میں منعقدہ 23ویں نیشنل ٹرپل او کانفرنس میں پیپر پرزنٹیشن زمرہ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز ڈینٹل ماہرین، اساتذہ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ شریک ہوئے۔
ڈاکٹر فاطمہ نے ’ڈیسموپلاسٹک ایمیلو بلاسٹوما: اینٹیریئر مینڈیبل میں ایک تشخیصی چیلنج‘کے عنوان پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جس میں اس نادر ٹیومر کی تشخیص میں پیش آنے والی پیچیدگیوں اور درست کلینیکل و ریڈیوگرافک جائزے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ ان کی پیشکش کو ماہرین کے پینل نے بے حد سراہا، جس کے نتیجے میں انہیں پوسٹ گریجویٹ پیپر پرزنٹیشن زمرے میں دوسرا مقام حاصل ہوا۔ ڈاکٹر ثبات فاطمہ نے اپنی اس کامیابی پر اپنے اساتذہ اور شعبے کا رہنمائی اور تعاون کے لئے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یوکے ویمنس کالج میں قلیل مدتی ہنرمندی کورسز کے لیے درخواستیں طلب
علی گڑھ، 2 اپریل: ویمنس کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کریئر پلاننگ نے خواتین میں روزگار کے مواقع بڑھانے اور عملی مہارتوں کو فروغ دینے کے مقصد سے قلیل مدتی پیشہ ورانہ کورسز کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔
درخواست فارم 4 اپریل سے 30 اپریل تک سینٹر کے دفتر سے دفتری اوقات میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ بھی 30 اپریل ہے۔ داخلہ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔
قلیل مدتی کورسیز میں کمپیوٹر سے متعلق کورسز جیسے ورڈ پروسیسنگ، ٹائپنگ (انگریزی، ہندی اور اردو)، ٹیلی، الیکٹرانک ڈیٹا پروسیسنگ، ویب ڈیزائننگ و پبلشنگ اور پائتھن پروگرامنگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہنر پر مبنی کورسز جیسے بیوٹی کلچر، فیشن السٹریشن، گارمنٹ میکنگ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، کڑھائی، انٹیریئر ڈیکوریشن، کمرشل آرٹ اور ہینڈی کرافٹ بھی دستیاب ہیں۔ مزید برآں انگریزی بول چال اور شارٹ ہینڈ کے کورسز بھی کرائے جائیں گے۔ کلاسز کا آغاز 4 مئی سے ہوگا۔ ہفتے میں تین دن طے شدہ شیڈول کے مطابق کلاسیز ہوں گی۔
کمپیوٹر کورسز کے لیے 2000 روپے اور دیگر کورسز کے لیے 1000 روپے فیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ 150 روپے انرولمنٹ فیس علیحدہ ہوگی۔
دلچسپی رکھنے والی خواتین مزید معلومات کے لیے سینٹر سے رجوع کریں یا اے ایم یو کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں چار روزہ آرٹ بیلیزا، رنگارنگ تقریب کے ساتھ اختتام پذیر
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ فائن آرٹس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام چار روزہ آرٹ نمائش و فیسٹیول ”آرٹ بیلیزا 2026“ ایک رنگارنگ اختتامی تقریب کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔
مہمانِ خصوصی کے طور پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور مہمانِ اعزازی کے طور پر پروفیسر آذرمی دخت صفوی، بانی ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف پرشیئن ریسرچ، اے ایم یو شریک ہوئے۔ فیسٹیول میں فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنھوں نے متنوع فن پاروں کو سراہا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر نعیمہ خاتون نے شعبے کی اجتماعی کاوشوں اور تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کی اور اس کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ پروفیسر آذرمی دخت صفوی نے بھی اس اقدام کو سراہا۔
اس سے قبل معزز مہمانوں کا اساتذہ اور طلبہ نے خیرمقدم کیا۔ رضاکاروں اور ذمہ داران کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اسناد اور یادگاری نشان پیش کیے گئے۔
شعبے کے چیئرپرسن اور فیسٹیول کے کنوینر ڈاکٹر عابد ہادی نے اس طرح کے پلیٹ فارمز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات فنکارانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ فیسٹیول کوآرڈینیٹر عدنان خان نے طلبہ اور منتظمین کی محنت اور ٹیم ورک کو سراہا، جس کی بدولت یہ پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اختتامی تقریب میں وائس چانسلر کی توثیق سے فیسٹیول کو ایک دن کے لیے مزید توسیع دینے کا اعلان کیا گیاجس کا حاضرین نے جوش و خروش سے خیرمقدم کیا۔
٭٭٭٭٭٭
ایس ٹی ایس اسکول، اے ایم یو میں سائبر سکیورٹی سے متعلق آگہی پروگرام منعقد
علی گڑھ، 2 اپریل: ایس ٹی ایس اسکول (منٹو سرکل)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں طلبہ کو ڈیجیٹل تحفظ اور آن لائن خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے علی گڑھ پولیس کے سائبر سیل کے زیر اہتمام سائبر سکیورٹی پر ایک آگہی لیکچر منعقد کیا گیا۔
اسکول کے اے وی لیب میں سائبر سیل کے افسران، انسپکٹر پنکج کمار (انچارج سائبر سیل)، انسپکٹر سچن سنگھ اور مسٹر وپن کمار نے طلبہ کو محفوظ انٹرنیٹ استعمال اور سائبر خطرات سے بچاؤ کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر پنکج کمار نے آن لائن فراڈ اور شناخت کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کے باعث طلبہ خاص طور پر ان خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ’ڈیجیٹل ہائجین‘ برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جس میں پاس ورڈز کو باقاعدگی سے تبدیل کرنا، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن کا استعمال اور مشکوک پیغامات و لنک سے ہوشیار رہنا شامل ہے۔
مسٹر وپن کمار نے انٹرنیٹ کے استعمال کے سماجی اور قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور سائبر بُلنگ اور پرائیویسی جیسے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آن لائن سرگرمیوں میں احتیاط برتیں، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویہ طویل مدتی ذاتی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے سائبر جرائم کی سرکاری ذرائع سے رپورٹنگ کے طریقوں سے بھی آگاہ کیا اور طلبہ کو ضرورت پڑنے پر قابلِ اعتماد سینئرز سے مدد لینے کی ترغیب دی۔
اس موقع پر ایس ٹی ایس اسکول کے پرنسپل مسٹر فیصل نفیس نے افسران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ میں ڈیجیٹل بیداری کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون نہایت اہم ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد عالمگیر (وائس پرنسپل)، ڈاکٹر الیاس میاں، مسٹر عبدالغفار، مسٹر محمد عدنان خان اور مسٹر فرحان حبیب موجود تھے۔ نظامت کے فرائض مسز غزالہ تنویر نے انجام دیے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں کمپیوٹیشنل انٹیلیجنس پر بین الاقوامی کانفرنس 4اور 5 اپریل کو منعقد ہوگی
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ کمپیوٹر سائنس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام 4 اور 5 اپریل کو ”ایمرجنگ کمپیوٹیشنل انٹیلیجنس“ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس(آئی سی ای سی آئی-2026) منعقد کی جارہی ہے جس میں دنیا بھر سے تعلیمی و صنعتی ماہرین، اسکالرز اور طلبہ شرکت کریں گے۔
یہ کانفرنس، آئی ای ای ای اتر پردیش سیکشن کی تکنیکی سرپرستی میں منعقد کی جارہی ہے جس کا افتتاحی اجلاس یونیورسٹی پولی ٹیکنک کے اسمبلی ہال میں منعقد ہوگا۔ کانفرنس میں دس خصوصی موضوعات پر مبنی پلینری اور ٹیکنیکل سیشن منعقد کیے جائیں گے، جن میں بین الاقوامی، قومی اور مقامی اداروں کے شرکاء کی جانب سے تقریباً 75 تحقیقی مقالات پیش کیے جائیں گے۔
شعبے کے چیئرمین پروفیسر ارمان رسول فریدی کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد کمپیوٹیشنل انٹیلیجنس میں حالیہ پیش رفت اور اس کے پائیدار ڈیجیٹل نظاموں میں اطلاق پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ دوسرے دن خصوصی لیکچرز، پلینری سیشن اور اختتامی پروگرام منعقدہوں گے۔
کانفرنس میں ناروے کے پروفیسر ڈگ اویند میڈسن، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر عبد القیوم انصاری، ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے پروفیسر محمد ابواللیث، آسٹریلیا کے ڈاکٹر اقبال ایچ سرکر اور نئی دہلی کے پروفیسر ایم این ہدیٰ جیسے ممتاز ماہرین کے خطبات ہوں گے۔ اس کے علاوہ روس کی ڈاکٹر ماریہ لاپینا، امریکہ کے ڈاکٹر شاہد طفیل، مسٹر محمد سہیل اور نوئیڈا کے مسٹر مہروز علی پاشا کے خطبات بھی ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ماہرین، طبی پودوں پر الٹراوائلٹ شعاعوں کے اثرات کے تجزیہ میں مصروف، منفرد تحقیق سے امید افزا نتائج ملنے کی توقع
علی گڑھ، 2 اپریل: شعبہ نباتیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے محققین نے ایک منفرد تحقیق کا آغاز کیا ہے، جس میں الٹرا وائلٹ اے، الٹرا وائلٹ بی اور الٹرا وائلٹ سی شعاعوں کے طبی پودوں پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس تحقیق سے ماحولیاتی تحفظ اور ادویاتی افادیت میں اضافے جیسے امید افزا نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔
اوزون کی تہہ کے اندمال کے باعث زمینی سطح پر یو وی شعاعوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر یہ تحقیق یو وی اے، یو وی بی اور یو وی سی شعاعوں کے مختلف اثرات پر مرکوز ہے۔ یو وی سی شعاعیں اوزون کی تہہ میں جذب ہو جاتی ہیں، جب کہ یو وی اے کی بڑی مقدار اور یو وی بی کا ایک نمایاں حصہ زمین کی سطح تک پہنچ کر حیاتیاتی نظاموں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ خصوصی لیبارٹری سیٹ اپ تیار کیے ہیں، جن کے ذریعے مختلف طبی پودوں جیسے اشوگندھا، کولیئس، ماکو (سولانم نائگرم)، پودینہ، گیندا، اسٹیویا اور رات کی رانی (سیسٹرم نوکٹرنم)کو کنٹرولڈ یو وی شعاعوں کے زیر اثر رکھا جا رہا ہے۔ اس مطالعے کا مقصد قدرتی یو وی شیلڈ کے طور پر ان پودوں کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے، ساتھ ہی فلیوونوائڈز اور الکالائیڈز جیسے حیاتیاتی طور پر مؤثر مرکبات کی پیداوار میں ممکنہ اضافے کو بھی پرکھنا ہے۔
یہ تحقیق پروفیسر ایم مسرور خان (ریٹائرڈ)، ڈاکٹر ایم نعیم اور بی ایس سی سال آخر کی طالبہ مس ماریہ خان کی قیادت میں جاری ہے، جبکہ شعبے کے چیئرمین پروفیسر ابرار اے خان کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو وی شعاعوں سے پیدا ہونے والا دباؤ پودوں کی ادویاتی خصوصیات کو بڑھا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ڈاکٹر امبیڈکر کے پائیدار اور جامع ترقی کے وژن پر قومی سمینار کا انعقاد
علی گڑھ، 2 اپریل: ڈاکٹر امبیڈکر چیئر آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام ”وکست بھارت ایٹ 2047: قانون و پالیسی کے تناظر میں امبیڈکر کا پائیداری اور جامع ترقی کا وژن“عنوان پر ایک روزہ قومی سمینار منعقد کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، اسکالرز اور پالیسی مفکرین نے اپنے خیالات ظاہر کئے اور شرکاء کو مستفید کیا۔
پروگرام کا آغاز پروفیسر ظفر احمد خان، چیئر پروفیسر، امبیڈکر چیئر کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے افکار کی موجودہ دور میں اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر کا وژن ہمیں ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور یہ آج بھی ایک جامع اور پائیدار قومی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر محمد نفیس انصاری نے 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے اہداف کے حصول میں قانون، حکمرانی اور سماجی انصاف کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس کی بنیاد شمولیت پر ہو، تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔
مہمانِ خصوصی، اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے پالیسی سازی اور قومی تعمیر میں علمی مباحث کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات بصیرت افروز خیالات کو عملی پالیسیوں میں ڈھالنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، جو ایک جامع اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔
ہائبرڈ طرز پر منعقدہ اس سمینار میں پانچ تکنیکی نشستیں شامل تھیں، جنہوں نے فکری تبادلے کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ کانفرنس میں مختلف شعبہ جات جیسے کہ قانون، سماجی علوم اور بین الاقوامی تعلقات سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے مجموعی طور پر 41 تحقیقی مقالات پیش کیے، جو امبیڈکر کے وژن کی کثیر جہتی نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ نشستوں کی نظامت ڈاکٹر محمد ناصر، ڈاکٹر صائم فاروقی اور ڈاکٹر سید محمد یاور نے کی۔
سمینار کے دوران پائیدار اور جامع ترقی کے حصول کے لیے درکار عصری چیلنجوں اور پالیسی فریم ورک پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ماہرین نے سماجی مساوات، قانونی اصلاحات اور ترقی کے عالمی تناظر جیسے موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب کا اختتام علمی استفادہ اور باہمی تعاون کے عزم کے ساتھ ہوا، جس نے قومی اہمیت کے موضوعات پر تنقیدی مکالمے اور تحقیق کے فروغ کے تئیں اے ایم یو کے عزم کو مزید مستحکم کیا۔
٭٭٭٭٭٭
Comments are closed.