عالم دین حضرت مولانا حکیم عبداللہ مغیثیؒ کا انتقال، ملی و سماجی حلقوں میں گہرا رنج و غم

پٹنہ،5/اپریل(پریس ریلیز)
معروف عالمِ دین، ملی و سماجی رہنما اور آل انڈیا ملی کونسل کے صدر حضرت مولانا حکیم عبداللہ مغیثیؒ کا کل بعد نمازِ عشاء انتقال پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی وفات کی خبر پھیلتے ہی علمی، دینی، ملی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی فضا قائم ہوگئی۔
آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ عالم ربانی، پیر طریقت اور قائد ملت حضرت مولانا حکیم محمد عبد اللہ مغیثی رحمہ اللہ کی وفات ملتِ اسلامیہ کے لیے جانکاہ حادثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی پوری زندگی تعلیم و اصلاح، تزکیہ و تربیت اور دینی خدمات میں گزری۔ تبلیغ، وعظ، تدریس، ملت کی دینی وتعلیمی ضروریات کی تکمیل، دینی وعصری اداروں کا قیام، ہندو مسلم کے درمیان آپسی ربط کا فروغ، نیز ملی کونسل اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم سے شعائرِ اسلام کے تحفظ کی جدوجہدیہ سب ان کی زندگی کا مشن رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا مغیثیؒ فکر و عمل کے تاجدار تھے اور ملت کی مؤثر رہنمائی کرتے رہے۔
آل انڈیا ملی کونسل بہار کے صدر حضرت مولانا محمد عالم قاسمی اور جنرل سکریٹری مولانا محمد نافع عارفی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مولانا حکیم عبداللہ مغیثیؒ ایک بلند پایہ عالم دین، مدبر، قائد اور مخلص ملی رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی اشاعت، ملی اتحاد کے فروغ، سماجی ہم آہنگی اور ملک میں امن و بھائی چارے کے قیام کے لیے وقف کر دی۔ مرحوم علمی میدان کے ساتھ ساتھ ملی مسائل کے حل، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، تعلیمی بیداری اور سماجی اصلاح کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے انہوں نے قومی سطح پر ملت کی رہنمائی کی اور حکمت و بصیرت کے ساتھ حساس مواقع پر قوم کی مؤثر نمائندگی انجام دی۔ ان کی شخصیت اعتدال، وسعتِ فکر اور سنجیدہ قیادت کا حسین امتزاج تھی، جس کے باعث وہ ہر مکتبِ فکر میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔مولانا مغیثیؒ نے مدارس، دینی اداروں اور سماجی تنظیموں کے درمیان ربط و تعاون کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور نئی نسل کو تعلیم، کردار سازی اور قومی ذمہ داریوں کے شعور سے آراستہ کیا۔ ان کی پوری زندگی اخلاص، سادگی، خدمتِ خلق اور اتحادِ امت کی روشن مثال رہی۔
آل انڈیا ملی کونسل کے سکریٹری جناب نجم الحسن نجمی اور معروف شیعہ عالمِ دین و نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار مولانا سید امانت حسین نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں حضرت مولانا کی موجودگی ملت کے لیے حوصلہ کا ذریعہ تھی۔ ان کی قیادت میں ملی کونسل مؤثر انداز میں خدمات انجام دے رہی تھی، تاہم ان کی وفات سے ملی کاموں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
آخر میں تمام حضرات نے مرحوم کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور عقیدت مندوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی ملی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ (آمین)نماز جنازہ وتدفین مورخہ 5اپریل 2026 کوبعد نماز ظہر اجرارہ،یوپی میں ہوئی۔

Comments are closed.