فلسطینی اسیران:بین الاقوامی قانون اور عالمی ضمیر

 

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)

09422724040

┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

 

خاموشی بھی اک جرم ہے اس دور میں صاحب

جو بول نہیں سکتا وہ گواہی تو دے

 

عصرِ حاضر کی عالمی سیاست میں مسئلۂ فلسطین ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جس نے نہ صرف جغرافیائی حدود بلکہ انسانی ضمیر، اخلاقی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی معنویت کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ اسرائیلی قید میں موجود تقریباً گیارہ ہزار فلسطینیوں جن میں ڈھائی ہزار کے قریب معصوم بچّے بھی شامل ہیں کو نوّے دنوں کے اندر مرحلہ وار سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، تاہم اس نوعیت کی خبر محض ایک افواہ بھی ہو تو یہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

 

فلسطینی اسیران کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹس نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ Addameer اور Human Rights Watch کے مطابق اس وقت ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں ایک قابلِ ذکر تعداد ایسے افراد کی ہے جن پر باقاعدہ فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ ان میں سینکڑوں افراد کو Administrative Detention کے تحت حراست میں رکھا جاتا ہے، جو ایک ایسا قانونی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے، غیر معینہ مدت تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف شفاف عدالتی نظام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے، جس کے باعث اس مسئلے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت مزید توجہ کی متقاضی ہو جاتی ہے۔

 

بین الاقوامی انسانی قانون، خصوصاً جنیوا کنونشنز، جنگی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کے حقوق کے تحفّظ کی واضح ضمانت فراہم کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی حالت میں بنیادی انسانی اقدار کو پامال نہ کیا جائے۔ ان معاہدات کے مطابق کسی بھی قیدی کو منصفانہ ٹرائل کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی، جب کہ بچّوں، خواتین اور دیگر غیر جنگجو افراد کے ساتھ خصوصی رعایت اور تحفّظ برتنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، اجتماعی سزا یا اجتماعی قتل جیسے اقدامات کو صریحاً ممنوع قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ انسانی وقار کے بنیادی تصورات سے بھی متصادم ہیں۔ یہ تمام اصول اس امر کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیے گئے ہیں کہ حتیٰ کہ جنگ اور تنازع کی حالت میں بھی انصاف، انسانیت اور قانون کی بالادستی برقرار رہے۔

 

اگر واقعی ہزاروں افراد کو اجتماعی طور پر سزائے موت دینے جیسا اقدام زیرِ غور ہو، تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہوگا بلکہ اسے انسانیت کے خلاف جرم (Crime against Humanity) اور ممکنہ طور پر نسل کشی (Genocide) کے زمرے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس کی تعریف Genocide Convention میں بیان کی گئی ہے۔

 

بین الاقوامی انسانی قانون کے دائرے میں شہریوں اور زیرِ حراست افراد کے حقوق کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس ضمن میں Fourth Geneva Convention ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، جو دورانِ جنگ شہری آبادی کے تحفّظ کو یقینی بنانے پر زور دیتی ہے۔ مزید برآں، United Nations کے تحت منظور شدہ بچّوں کے حقوق سے متعلق معاہدات کے مطابق، کم سن افراد کی گرفتاری اور ان پر کسی بھی قسم کا تشدّد Convention on the Rights of the Child کی صریح خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی قانون میں اجتماعی سزا کو "Collective Punishment” کہا جاتا ہے، جسے واضح طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے اور یہ عمل جنگی جرم (War Crime) کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ تمام اصول اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی تنازع میں بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری ناگزیر ہے، اور ان کی خلاف ورزی عالمی سطح پر قانونی و اخلاقی مواخذے کا سبب بن سکتی ہے۔

 

گزشتہ برسوں میں غزّہ پر ہونے والی مسلسل بمباری نے اس علاقے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ رہائشی عمارتیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے، مساجد اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح مغربی کنارہ میں بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ یہودی آبادکاروں کی جانب سے مقامی فلسطینیوں پر حملے، املاک کی تباہی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں ان واقعات کو منظم جبر اور نسلی امتیاز کی مثال قرار دیتی ہیں۔

 

غزّہ کی موجودہ انسانی صورتحال محض ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ ایک گہرا انسانی المیہ بن چکی ہے۔ اس حوالے سے UNRWA اور OCHA کی رپورٹس نہایت تشویشناک تصویر پیش کرتی ہیں، جن کے مطابق لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بنیادی ضروریاتِ زندگی تک رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ پینے کے صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت نے روزمرّہ زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد میں بدل دیا ہے، جب کہ صحت کا نظام تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور ہسپتال محدود وسائل کے ساتھ غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ انسانی بحران کس حد تک سنگین ہو چکا ہے اور فوری عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔

 

مغربی کنارے کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سنجیدہ تحفّظات کا اظہار کیا ہے۔ Amnesty International نے بعض پالیسیوں اور عملی اقدامات کو "Apartheid-like system” سے تعبیر کیا ہے، جس سے مراد ایسا نظام ہے جس میں ایک مخصوص گروہ کو منظم طور پر دوسرے پر فوقیت حاصل ہو۔ مزید برآں، United Nations کے مختلف ادارے اور قراردادیں اسرائیلی بستیوں (Settlements) کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دے چکی ہیں، کیونکہ یہ مقبوضہ علاقوں میں آبادی کے توازن کو تبدیل کرنے اور مقامی باشندوں کے حقوق کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ یہ تمام حقائق اس خطے میں جاری تنازع کی قانونی اور اخلاقی پیچیدگی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

 

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ایسے سنگین الزامات سامنے آتے ہیں تو عالمی برادری کا ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟ بدقسمتی سے اکثر اوقات سیاسی مفادات، معاشی وابستگیاں اور سفارتی مصلحتیں انسانی حقوق پر غالب آ جاتی ہیں۔ ابراہام معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی فلسطینی مسئلہ پسِ منظر میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تناظر میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بعض ریاستیں اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے تحت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

 

خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال میں Abraham Accords ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئے، جن کے تحت United Arab Emirates، Bahrain اور Morocco نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اگرچہ اس اقدام کو بعض حلقوں میں علاقائی استحکام اور تعاون کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا، تاہم ناقدین کے نزدیک اس کے نتیجے میں فلسطینی کاز کو نقصان پہنچا اور مسئلۂ فلسطین کی مرکزی حیثیت کمزور پڑ گئی۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور ترجیحات کی تبدیلی کی عکاس ہے، جہاں سیاسی و معاشی مفادات بعض اوقات دیرینہ تنازعات پر غالب آ جاتے ہیں۔

 

یہ بھی نہایت اہم ہے کہ اس طرح کے سنگین دعوؤں کی تحقیق اور تصدیق کی جائے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں اطلاعات تیزی سے پھیلتی ہیں، مگر ان کی صداقت ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی۔ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے معتبر ذرائع، بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس، اور آزاد صحافتی تحقیق کو مدنظر رکھنا ایک علمی و اخلاقی تقاضا ہے۔

 

موجودہ ڈیجیٹل دور میں جنگی اور تنازعات سے متعلق معلومات کی ترسیل نہایت تیز ہو چکی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں اکثر Disinformation یعنی گمراہ کن یا غیر مصدقہ معلومات کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تصدیق معتبر اور مستند ذرائع سے کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس ضمن میں BBC، Al Jazeera اور Reuters جیسے بین الاقوامی ادارے نسبتاً قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں، جو تحقیق، تصدیق اور پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں کے تحت معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ احتیاط نہ صرف علمی دیانت کا تقاضا ہے بلکہ پیچیدہ عالمی مسائل کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

 

بین الاقوامی سطح پر احتساب کے لیے مختلف قانونی ادارے موجود ہیں جو جنگی جرائم اور ریاستی تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں International Criminal Court کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین الزامات کی تحقیقات کرے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ دوسری جانب International Court of Justice ریاستوں کے مابین تنازعات کا فیصلہ کرنے والا ایک اعلیٰ عدالتی فورم ہے، جو بین الاقوامی قانون کی روشنی میں مقدمات کا جائزہ لیتا ہے۔ ان اداروں کی موجودگی اس امر کی عکاس ہے کہ عالمی سطح پر انصاف کے قیام کے لیے باقاعدہ قانونی ڈھانچہ موجود ہے، اگرچہ اس کے مؤثر اطلاق کا انحصار اکثر بین الاقوامی سیاسی ارادوں پر بھی ہوتا ہے۔

 

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو

 

اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا۔ ایسے نازک موڑ پر خاموشی اختیار کرنا محض غیر جانب داری نہیں بلکہ بالواسطہ طور پر ظلم کی تائید کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں اور صاحبِ ضمیر افراد پر یہ اخلاقی اور انسانی ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور مؤثر کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے، انسانی حقوق کی ہر قسم کی خلاف ورزی کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے، اور متاثرین کے لیے انسانی امداد کے ساتھ ساتھ قانونی معاونت بھی فراہم کی جائے۔ یہی وہ عملی اقدامات ہیں جو نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں بلکہ انسانی وقار کے تحفّظ کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ہر دور میں خاموش رہنے والے بھی کسی نہ کسی درجے میں ذمّہ دار ٹھہرائے گئے ہیں۔ آج کا وقت بھی ایک ایسا ہی امتحان ہے جہاں اصول، انصاف اور انسانیت کی بنیاد پر موقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ مسئلۂ فلسطین محض ایک سیاسی تنازع نہیں، بلکہ یہ انسانی وقار، آزادی اور انصاف کی جنگ ہے۔ اگر دنیا نے اس موقع پر اپنی ذمّہ داری پوری نہ کی تو آنے والی نسلیں اسے ایک اور سیاہ باب کے طور پر یاد کریں گی، جہاں طاقتور کی مرضی قانون بن گئی اور کمزور کی آواز دب کر رہ گئی۔

 

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

Comments are closed.