انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات): 38/ ملزمین کی پھانسی کی سزاؤں کے خلاف داخل اپیل پر گجرات ہائی کورٹ میں سماعت جاری
سینئر ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری کی بحث، جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی پیروی
احمد آباد8/ اپریل(پریس ریلیز) گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں خصوصی سیشن عدالت کی جانب سے 38/ ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ کی تصدیق کے لیئے گجرات حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل اپیل پر حتمی بحث گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے یومیہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کررہے ہیں، دو رکنی بینچ ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی سماعت کررہی ہے۔گذشتہ ایک ماہ سے مشہور کریمنل وکیل یوگ موہت چودھری سیشن عدالت سے پھانسی اور عمر قید کی سزا پانے والے عمران ابراہیم شیخ،محمد عثمان محمد انیس اگربتی والا،محمد سجا منصوری،عباس عمر سمیجا، محمد اسماعیل محمد اسحق منصوری،قیام الدین شرف الدین کپاڑیہ،احمد ابوبکر باوا، عالم زیب مشکور احمد آفریدی، رفیع الدین شرف الدین کپاڑیہ کے دفاع میں بحث کررہے ہیں، کل انہوں نے دوران بحث عدالت کو بتایاکہ اس مقدمہ میں کی گئی تفتیش پر آنکھ بند کرکے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ تفتیشی ایجنسی نے اس لوگوں کو گواہ بنایا ہے جنہیں بم دھماکوں کے تعلق سے پہلے سے معلوم تھا۔ایسے گواہوں کو اس مقدمہ میں ملزم ہونا چاہئے تھا لیکن آج وہ سرکاری گواہ بن کر بے قصور ملزمین کو پھانسی اور عمر قید دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوران بحث یوگ موہت چودھری نے تفتیشی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی خامیوں کی جانب بھی عدالت کی توجہ مبذول کرائی اسی کے ساتھ ساتھ سیشن عدالت کے جج کے ان تبصروں پر بھی روشنی ڈالی جو انہوں نے بغیر کسی حوالے کے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے۔ یوگ چودھری نے عدالت کو گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر بتایا کہ سیشن جج نے ملزمین کو سزا دیتے ہوئے گواہوں کے ایسے بیانات کا ذکر کیا ہے جو گواہوں نے عدالت میں کہا ہی نہیں، گواہوں کی گواہی کے دستاویزات کی مدد سے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی۔سینئر ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری نے سرکاری گواہوں کی گواہوں پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ تین انتہائی اہم سرکاری گواہان ایک ہی دن ایک ہی جیسا بیان پولس کے سامنے ملزمین کے خلاف دیا، یہ کیسے ممکن ہے؟ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری کی بحث جاری ہے،اگلے چند ایام میں یوگ موہت چودھری کی بحث کا اختتام ہوجائے گا، یوگ موہت چودھری کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ ناگامتھو قانونی نکات پر بحث کریں گے۔ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی خصوصی درخواست پر سینئر ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری اپنے معاونین کے ہمراہ احمد آباد میں خیمہ زن ہیں۔
آج کے دن کی بحث کے اختتام کے بعد یوگ چودھری نے کورٹ کی اجازت سے سابرمتی جیل، پٹنہ بیور جیل، بنگلور جیل، مدھیہ پردیش جیل میں قید ملزمین سے گفتگو کی جس کے دوران ملزمین یوگ چودھری اور ان کی ٹیم اور خصوصاً جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کا شکریہ ادا کیاجنہوں نے ان کے دفاع میں ملک کے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی ہیں۔
عیاں رہے کہ گجرات ہائی کورٹ 38/ ملزمین کی پھانسی اور 11/ ملزمین کو ملنے والی عمر قید کی سزاؤں پر یکجا سماعت کررہی ہے۔ابتک اس معاملے میں سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن، تجس باروت، ہردئے بوچ، مہر دیسائی بحث مکمل کرچکے ہیں۔اس مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کو جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے نچلی عدالت میں بھی قانونی امداد فراہم کی تھی اور ہائی کورٹ میں بھی بیشتر ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔ملزمین اور ان کے اہل خانہ کی درخواست پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے ملزمین کو ہائی کورٹ میں بھی قانونی امداد فراہم کی ہے۔نچلی عدالت نے زاہد قطب الدین شیخ،عمران ابراہیم شیخ، اقبال قاسم شیخ،شمش الدین شہا ب الدین شخ، غیاث الدین عبدالسلیم انصاری، عارف بھائی اقبال کاغذی، محمد عثمان اگر بتی والا، یونس محمد منصوری، عامل پرواز، شبلی عبدالکریم، صفدر حسین ناگوری، محمد ساجد منصوری، مفتی ابوالبشر، عباس عمر سمیجا، جاوید صغیر احمد، محمد اسماعیل عبدالرازق، افضل عثمانی، محمد عارف بدرالدین، آصف بشیر الدین، محمد عارف نسیم احمد، قیام الدین کاپڑیا، محمد سیف، ذیشان احمد، ضیاء الرحمن، محمد شکیل، محمد اکبر، فضل الرحمن، احمد ابو بکر باوا، شرف الدین ای ٹی سین الدین، سیف الرحمن، شادولی اے کریم،تنویر محمد اکبر، امین ایوب، مبین شکور، عالم زیب آفریدی اور توصیف خان صغیر احمد کو پھانی کی سزا دی تھی جبکہ ملزمین عتیق الرحمن، مہدی حسن،عمران احمد،محمد صادق، رفیع الدین شرف الدین کپاڑیہ،عنیق شفیق سید، محمد نوشاد، محمد انصار،محمد شفیق، محمد ابرار اورمحمد علی محرم علی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلے ایسا مقدمہ ہے جس میں 35/ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت 1164 سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیئے گئے۔گجرات سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں 56/ لوگوں کی موت جبکہ 246/ لوگ شدید زخمی ہو ئے تھے۔کل 78/ ملزمین کے خلاف خصوصی سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جس میں عدالت نے 29/ ملزمین کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا تھا جبکہ 49/ ملزمین کو قصور وار ٹہرایا تھا۔7015/ صفحات پر مشتمل سیشن عدالت کا فیصلہ ہے جبکہ اس مقدمہ کے کل دستاویزات 788690ہے۔
Comments are closed.