مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے شعبہ فلسفہ کے زیر اہتمام بین المذاہب مکالمہ اور ثقافتی تفہیم پر دو روزہ قومی سمینار کا آغاز

علی گڑھ، 8 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فلسفہ کے زیر اہتمام ”تنوع کا احترام: بین المذاہب مکالمہ اور ثقافتی تفہیم“ کے موضوع پر دو روزہ قومی سمینار کا آغاز ہوا، جس کا ہدف تکثیریت، ثقافت اور معاصر چیلنجوں پر غور و خوض اور تبادلہ خیال کرنا ہے۔

اپنے صدارتی کلمات میں مہمان خصوصی پروفیسر محمد گلریز، سابق وائس چانسلر، اے ایم یو نے تہذیبی ثقافتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مکالمے اور باہمی انحصار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افریقی تصور ”اوبنٹو“(میں ہوں کیونکہ ہم ہیں) کے حوالے سے کہا کہ مشترکہ انسانیت بامعنی روابط اور مکالمے کی بنیاد ہے۔

مہمانِ اعزازی پروفیسر ٹی این ستھیسن، ڈین، فیکلٹی آف آرٹس نے سمینار کے موضوع کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں تنقیدی فکر، باہمی احترام اور مختلف ثقافتی و مذہبی نقطہ نظر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر اشوک ووہرا، سابق سربراہ، شعبہ فلسفہ، دہلی یونیورسٹی نے ’تھیوفوبیا، ہندومت اور ہندوتوا‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا اور ہندومت کی جامع اور تکثیری روایت اور ہندوتوا کے محدود نظریاتی رجحانات کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ خوف اور شناخت کو عدم برداشت کو فروغ دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

پروفیسر طارق اسلام، سابق چیئرپرسن، شعبہ فلسفہ، اے ایم یو نے ’ثقافت اور بین المذاہب مکالمے کا تضاد‘ موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں بین المذاہب مکالمے کی پیچیدگیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمہ کو کھلا، تکثیری اور ثقافتی و علمی اختلافات کے حوالے سے حساس ہونا چاہیے۔ اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عامر ریاض نے امن، ہم آہنگی اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں اس موضوع کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اقبال کے مشہور ترانے ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘کا حوالہ دیتے ہوئے کثرت میں وحدت کے جذبے کو نمایاں کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر زید احمد صدیقی نے کی جبکہ ڈاکٹر سلمان صدیقی نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے پروفیسر ایم معصوم رضا کو آئی سی ایس ایس آر کا تحقیقی پروجیکٹ تفویض کیا گیا

علی گڑھ، 8 اپریل: شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے پروفیسر ایم معصوم رضا کو تعلیمی سال 2025–26 کے لیے  انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر) کی جانب سے ایک تحقیقی پروجیکٹ تفویض کیا گیا ہے، جس کا عنوان ہے: ”اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف 2030 کے حصول کے لیے لائبریری اور اس کی خدمات کی تشکیل نو: ہندوستان میں لائبریریوں کے موجودہ اور مستقبل کے کردار کا جائزہ“۔

اس تحقیق میں عالمی اقدامات اور آئی ایف ایل اے کی رہنما ہدایات کی روشنی میں لائبریریوں کے موجودہ طریق ہائے عمل کا جائزہ لیا جائے گا، اور سروے کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ لائبریریاں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں کس طرح کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اسٹریٹجک ایکشن پلان بھی تیار کیا جائے گا تاکہ لائبریریاں اور متعلقہ فریقین پائیدار ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے میں اپنے کردار کو مزید مضبوط بنا سکیں۔

پروفیسر رضا نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ خدمات کو اپنانے سے سماجی بہبود میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، قومی ترقی کو تقویت ملتی ہے اور باشعور و بااختیار معاشروں کی تشکیل میں مدد ملتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے پروفیسر، بین الاقوامی کانفرنس میں بطور پینلسٹ شریک ہوئے

علی گڑھ، 8 اپریل: شعبہ کامرس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے پروفیسر محمد شمیم نے دہلی یونیورسٹی کے مہاراجہ اگرسین کالج میں منعقدہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”ایس ٹی ای ایم، اے آئی اور ڈیٹا پر مبنی اختراع کے ذریعے ہندوستان کی ترقی کو بااختیار بنانا اور تجارت کی تشکیل نو“ میں بطور پینلسٹ شرکت کی۔

پینل مباحثے کے دوران پروفیسر شمیم نے کاروباری کارکردگی میں بہتری، باخبر فیصلہ سازی اور پائیدار ترقی کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی حکمت عملیوں کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی ترقی سے مؤثرطور سے فائدہ اٹھانے اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جامعات اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

یہ دو روزہ کانفرنس انڈین کامرس اینڈ الائیڈ سائنسز ایسوسی ایشن اور انڈین اکنامک ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

٭٭٭٭٭٭

این آر ایس سی نے اے ایم یو انٹر ہال بیڈمنٹن ٹورنامنٹ جیتا

علی گڑھ، 8 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے نان ریزیڈنٹ اسٹوڈنٹس سینٹر (این آر ایس سی) نے تعلیمی سیشن 2025–26 میں منعقدہ انٹر ہال بیڈمنٹن چیمپئن شپ کا خطاب اپنے نام کیا۔ فائنل مقابلے میں این آر ایس سی نے سلیمان ہال کو یکطرفہ مقابلے میں 2–0 سے شکست دی۔

بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے این آر ایس سی کی ٹیم نے مقابلے کے آغاز ہی سے اپنی برتری قائم رکھی اور سلیمان ہال کو واپسی کا کوئی موقع نہیں دیا۔

اوپن سنگلز کے فائنل میں سید جون عباس نے محمد امان کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 21-15، 21-12 سے یہ مقابلہ جیتا۔ دوسری طرف اوپن ڈبلز کے فائنل میں ایک سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا، جہاں امان انصاری اور عامر عبید کی جوڑی نے عبداللہ اور جون کو 30-25سے ہرایا۔

فائنل مقابلے کے موقع پر پروفیسر ایم نوید خان، پراکٹر،اے ایم یو، بطور مہمانِ خصوصی اور پروفیسر یوسف الزماں خاں، سکریٹری گیمز کمیٹی، بطور مہمانِ اعزازی موجود تھے۔ معزز مہمانوں نے کھلاڑیوں میں صحت مند مقابلے کے جذبہ کو سراہا اور چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ تحفظی و سماجی طب نے عالمی یومِ صحت پر بیداری سرگرمیوں کا اہتمام کیا

علی گڑھ، 8 اپریل: شعبہ تحفظی و سماجی طب، اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے عالمی یوم صحت کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا،جن میں ایم ڈی اسکالرز کے درمیان گروپ مباحثے، شجرکاری مہم اور غیر تدریسی عملے کے لیے صحت سے متعلق بیداری سرگرمیاں شامل تھیں۔

ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری نے انسانی، نباتاتی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی اور شجرکاری مہم میں بھی حصہ لیا۔

پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف، ڈین فیکلٹی آف یونانی میڈیسن نے کہا کہ خاص طور سے کمزور اور محروم طبقات کے لئے صحت کی سہولیات تک رسائی محدود ہے، جسے دور کیا جانا چاہئے۔ اجمل خاں طبیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے بیماریوں سے متعلق آگہی بڑھانے اور ان سے جڑے سماجی تعصبات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شعبے کی چیئرپرسن پروفیسر روبی انجم نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے صحت سے متعلق عام غلط فہمیوں کا ذکر کیا اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے طریقوں اور ان سے بچاؤ کے اقدامات کو واضح کیا۔

فیکلٹی ممبران اور ایم ڈی اسکالرز نے موضوع سے متعلق مباحثوں میں سرگرمی سے حصہ لیا اور مختلف شعبوں میں غیر تدریسی عملے کو بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات و خطرات اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے بیداری مہم بھی چلائی۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کی ممتاز سابق طالبہ اور سینئر رہنما محسنہ قدوائی کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

علی گڑھ، 8 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے ویمنس کالج، اے ایم یو کی ممتاز سابق طالبہ اور ملک کی نامور پارلیمنٹیرین محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملک کی خدمت کی۔

اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہونے والی محسنہ قدوائی نے اے ایم یو سے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کیا اور بعد ازاں قومی سطح پر اہم عہدوں تک پہنچیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی کابینہ میں بطور مرکزی وزیر خدمات انجام دیں اور صحت، دیہی ترقی، شہری ترقی اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم قلمدان سنبھالے۔ وہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی رکن رہیں اور انڈین نیشنل کانگریس میں متعدد اہم تنظیمی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔

اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی رہنما تھیں جن کی زندگی عوامی خدمت، جامع ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے وقف رہی۔

پروفیسر خاتون نے کہا کہ محسنہ قدوائی کا اے ایم یو سے تعلق ہمیشہ مضبوط رہا اور وہ اس ادارے سے اپنی وابستگی کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ کیمپس کا دورہ کیا اور ویمنس کالج کی طالبات سے ملاقات کر کے انھیں اپنے تجربات سے مستفید کیا، ساتھ ہی طالبات کو اعتماد اور دیانت کے ساتھ قیادت کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ محسنہ قدوائی نے سال 2012 میں یوم سر سید کی تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے طلبہ کو سائنسی اور معقول فکر اپنانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔

پروفیسر خاتون نے مزید کہا کہ محسنہ قدوائی اکثر اے ایم یو میں اپنے زمانہ طالب علمی کو محبت سے یاد کرتی تھیں اور اپنی شخصیت اور اقدار کی تشکیل کا سہرا اسی ادارے کو دیتی تھیں۔ اے ایم یو سے ان کی وابستگی اس وقت بھی برقرار رہی جب انہوں نے یونیورسٹی کورٹ کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔

پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں نے بھی محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک معزز قومی رہنما تھیں جن کی قومی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کی زندگی بالخصوص ان طالبات کے لیے مشعلِ راہ ہے جو عوامی زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

اے ایم یو برادری نے مرحومہ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو میں اورل اینڈ میکسیلوفیشیئل سرجری میں کلینیکل ٹریننگ پروگرام کا اعلان

علی گڑھ، 8 اپریل: ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اورل اینڈ میکسیلوفیشیئل سرجری میں تین ماہ پر مشتمل کلینیکل ٹریننگ پروگرام کے اگلے بیچ کا آغاز یکم مئی 2026 سے ہوگا۔

شعبہ کے چیئرپرسن پروفیسر سجاد عبدالرحمن نے بتایا کہ بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی ڈگری رکھنے والے وہ امیدوار، جنہوں نے ڈینٹل کونسل آف انڈیا سے منظور شدہ اداروں سے تعلیم حاصل کی ہو اور درخواست کے وقت تک گزشتہ دو برس کے اندر اپنی انٹرن شپ مکمل کر چکے ہوں، اس پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

درخواست فارم اے ایم یو کی ویب سائٹ  https://www.amu.ac.in  پر دستیاب ہے۔

خواہشمند امیدوار فارم کو مکمل طور سے پُر کرکے 25 اپریل 2026 تک ای میل آئی ڈی  sajjadar1979@gmail.com  یا  chairperson.om@amu.ac.in  پر ارسال کریں۔

اس پروگرام کے لیے مجموعی طور پر تین امیدواروں کا انتخاب پہلے آؤ، پہلے پاؤ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اور داخلے کے وقت انہیں 50 ہزار روپے بطور فیس ادا کرنی ہوگی۔

٭٭٭٭٭٭

مختلف علمی و ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل اے ایم یو لٹریری فیسٹیول کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا

علی گڑھ، 8 اپریل: کلچرل ایجوکیشن سینٹر (سی ای سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے یونیورسٹی ڈیبیٹنگ اینڈ لٹریری کلب (یوڈی ایل سی) کے زیراہتمام تین دنوں تک جاری رہنے والا اے ایم یو لٹریری فیسٹیول مختلف ورکشاپس، پینل مباحثوں، مقابلوں اور انٹرایکٹیو سیشنز کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔

اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی علی گڑھ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین مسٹر کلدیپ مینا تھے، جبکہ مہمان اعزازی کے طور پر انجینئر نواب ثاقب ابراہیم شریک ہوئے۔ کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد رضوان خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اپنے خطاب میں مسٹر کلدیپ مینا نے اے ایم یو کے پرجوش علمی ماحول اور لٹریری فیسٹیول کی وسعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں علمی و فکری مکالمے کی مضبوط روایت کی عکاس ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے استقامت، محنت اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے جذبے کو اپنا شعاربنائیں۔

مہمانِ اعزازی انجینئر نواب ثاقب ابراہیم نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہیں ایسے پروگراموں میں فعال شرکت کی ترغیب دی جو ان کی ابلاغی صلاحیتوں اور فکری نشوونما کو فروغ دیتے ہیں۔

اس سے قبل پروفیسر محمد رضوان خان نے فیسٹیول کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام مکالمے اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے ساتھ ایک انٹرایکٹیو فیڈبیک سیشن بھی منعقد کیا تاکہ آئندہ کے پروگراموں میں مزید بہتری کے لیے تجاویز حاصل کی جاسکیں۔

فیسٹیول کی تفصیلی رپورٹ سکریٹری سید فہیم احمد اور جوائنٹ سکریٹری آمنہ عاصم نے پیش کی، جس میں اہم سرگرمیوں اور دستیابیوں کا احاطہ کیا گیا۔

تقریب میں نیوز لیٹر”دی لِٹ لیٹر“کا رسمِ اجرا بھی عمل میں آیا، جس کی ادارت عالیہ اکبر، زینب فائزہ اسلام اور راحت العین نے کی ہے۔

تقسیم انعامات کی تقریب میں مختلف مقابلوں کے فاتحین کو اعزازات سے نوازا گیا۔

کنونشنل ڈیبیٹ میں ارپت چوہان نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ ہانیہ خان دوسرے اور اسجد احمد تیسرے نمبر پر رہے۔ پرفارمنس پوئٹری میں انکِت کمار پہلے، محمد عمار دوسرے اور ارتقا سمیر تیسرے مقام پر رہے۔ فی البدیہہ تقریری مقابلہ میں اسجد احمد نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ کامنہ بیگ دوسرے اور دانیا حسن تیسرے نمبر پر رہیں۔

پارلیمانی ڈیبیٹ میں صدف اقبال، تنزیلہ رحمن اور محمد حاشر کی ٹیم فاتح رہی، جبکہ عرشی، اسجد احمد اور عبدالمالک کی ٹیم دوسرے مقام پر رہی۔

کوئز مقابلہ میں محمد بلال رئیس اور محمد حسن اللہ خان نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ درفشاں سلطانہ اور نائلہ صدیقی دوسرے اور ابان صدیقی اور عارش شاہ محسن تیسرے مقام پر رہے۔ بیت بازی کے مقابلے میں رفعہ فاطمہ، عدبہ فاطمہ اور فاطمہ پر مشتمل ٹیم فیض نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ محمد عروج چشتی، ابو عمیر اور محمد سہیل پر ٹیم مؤمن دوسرے مقام پر رہی۔

آکسفورڈ ڈیبیٹ میں محمد عتیب، عبداللہ اور ترنجیت کی ٹیم فاتح قرار پائی، جبکہ مریم شکیل، محمد آرین طارق اور اسمرتی رمن سنگھ دوسرے مقام پر رہے۔ صحافتی تحریر کے مقابلے میں حجاب عائشہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ اُشنا معراج اور رحمت اللہ صدیق خان بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ تخلیقی تحریر نویسی میں کامنہ بیگ پہلے، عبدالمالک دوسرے اور اقبال اللہ خان تیسرے مقام پر رہے۔ کتاب پر تبصرہ کے مقابلے میں روزی بیگم نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ عروبہ ارشاد اور وریشہ رفیع بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر رہیں۔

اس موقع پر یو ڈی ایل سی کے مینٹور پروفیسر محمد اکرم اور ڈاکٹر غفران احمد نے بھی خطاب کیا، جبکہ کلب کے صدر ڈاکٹر منصور عالم صدیقی نے فیسٹیول کی کامیاب تنظیم کے لیے تمام شرکاء اور منتظمین کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔

استقبالیہ کلمات سید اقصیٰ نے پیش کیے، جبکہ پروگرام کی نظامت کے فرائض زنیرہ حبیب علوی اور مریم خان نے انجام دئے۔ شکریہ کے کلمات محمد عارب خان نے ادا کئے۔

تقریب کا اختتام طلبہ کے مشاعرے کے ساتھ ہوا، جس نے لٹریری فیسٹیول 2026 کو ایک یادگار اور بامعنی اختتام عطا کیا۔

٭٭٭٭٭٭

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

Comments are closed.