حاجی حکم کا بندہ اور اشاروں کا غلام ہے : پروفیسر شکیل احمد قاسمی
پٹنہ(پریس ریلیز)عبادتوں میں روزہ، نماز سب لوگوں پر فرض ہے، صاحب نصاب پر زکوٰۃ کی فرضیت ہے، حج مالی اور جسمانی عبادت ہے، اس میں رقم بھی خرچ ہوتی ہے اور جسم کو بھی مشقت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عازمین حج جب اس عبادت کی ادائیگی کا خیال کرتے ہیں تو ان کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم الشان عبادت کی ادائیگی کے لئے جارہے ہیں وہ سیر و تفریخ یا مذہبی سیاحت کے جذبے سے نہیں بلکہ بندگی اور فریضہ کی ادائیگی کے جذبہ سے کعبۃ اللہ کی کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ فاران فاؤنڈیشن انڈیا کے چیرمین پروفیسر ڈاکٹر مولانا شکیل احمد قاسمی، سابق ممبر، بہار ریاستی حج کمیٹی، پٹنہ نے مدھوبنی میں گذشتہ دنوں عازمین حج کے تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔
جناب قاسمی نے کہا کہ عازمین حج اللہ کے مہمان ہیں، وہ حج کے دوران خالق حقیقی کی بے پناہ مہربانیوں کا مشاہدہ کریں گے۔عازمین کے لئے ضروری ہے کہ وہ حج کی پوری تیاری کریں اس کے لئے علماء، ائمہ اور گزشتہ سال حج پر تشریف لے جانے والے حاجی حضرات سے معلومات حاصل کریں۔ حج کے فرائض واحبات کو ذہن میں رکھیں۔ شریعت اور سنت کے مطابق حج کے فریضہ کو ادا کرنے کے ساتھ حج کے حقیقی پیغام کو اپنے ذہن میں بسانے کی کوشش کریں۔عازمیں حج تلبیہ لببیک کے ذریعہ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ بس ایک ذات ہے جو عبادت کے لائق ہے۔ جس کی عظمت تسلیم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کوئی فائدہ، نقصان پہنچانے والی ذات نہیں ہے۔عازمین حج احرام کی چادر لپیٹ کر اپنی ساری دنیاوی مشغولیتوں سے الگ ہوکر اپنے رب کی طرف یکسو ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی ساری حیثیت کو بھول کر صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ ہم بندہ ہیں اور کائنات کا مالک ہمارا رب ہے۔ یہ سارے احساسات حاجیوں کا سرمایہ ہوا کرتے ہیں۔ ان کاموں کو انجام دینے کے لئے اہتمام کے ساتھ تیاری کی ضرورت ہے۔ روزانہ پیدل چلنے کا اہتمام کریں اور مطالعہ پر زیادہ زور دیں۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران کعبۃ اللہ اور حرم پاک سے اپنا رشتہ مضبوط رکھیں اور زیادہ سے زیادہ وقت طواف میں لگائیں۔ حج کے ارکان کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کریں اور جب مدینہ منورہ کی طرف روانگی ہو تو اس بات کا خیال رکھتے ہوئے وقت گزاریں کہ وہاں محسن انسانیت آرام فرمارہے ہیں، زیارت مدینہ کے آداب کا پورا خیال رکھیں۔
Comments are closed.