پکچر ابھی باقی ہے!
نوراللہ نور
کارِ زندگی کو کچھ دیر معطل کرنے، نظامِ کائنات کو درہم برہم کرنے اور معصوم زندگیوں کو لاشوں میں بدل دینے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان ضد اور انا کی جنگ آخرکار جنگ بندی پر آ کر رکی۔ وسائل کی فراوانی اور ایٹمی ہتھیاروں کی بہتات کے باوجود امریکہ، ایران کی پامردی کے سامنے پسپا ہوتا دکھائی دیا۔
مگر تجزیہ نگاروں اور ماہر مبصرین کے نقطۂ نظر سے جنگ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچی۔ سابقہ جنگیں اور امریکہ کی ماضی کی حکمتِ عملی اس بات کی شاہد ہیں کہ میزائلوں اور ایٹمی بموں سے اٹھنے والی چنگاریوں کے اندر بدلہ اور تسلط کی آگ ابھی سرد نہیں پڑی، بلکہ وقتی طور پر اس کی شدت کم ہوئی ہے۔
اس جنگ بندی کو حتمی امن کی پیش خیمہ سمجھنا جلد بازی ہوگی؛ اسے وقتی اور عارضی توقف کہنا زیادہ درست ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں۔ اول یہ کہ حتمی جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ اسے چند دنوں کے لیے موقوف کیا گیا ہے۔ ثانیاً ایران نے جہاں عسکری طاقت کے ذریعے امریکہ کو چیلنج کیا، وہیں سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی اسے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ ممکنہ طور پر اس رسوائی سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگ بندی کی طرف مائل ہوا۔
تعجب خیز امر یہ ہے کہ اس جنگ کی ثالثی ایسے فریق نے کی جو خود امریکہ کا قرض خواہ ہے اور اکثر اس کے مطالبات تسلیم کرتا رہا ہے، پھر بھی امریکہ نے اپنی ضد کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگ بندی قبول کی۔ اس کی وجہ امریکہ کا خوف نہیں بلکہ علاقائی دباؤ تھا جس نے اسے اس سطح تک آنے پر مجبور کیا۔ اس جنگ بندی کی دوسری بڑی وجہ وہ چہار طرفہ دباؤ ہے جسے امریکہ فی الحال برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔
مزید برآں سوشل میڈیا محاذ پر مشکلات کے بعد زمینی سطح پر بھی امریکہ کو چیلنجز کا سامنا رہا۔ تیل کی آمد و رفت، جو آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، ایران کی ممکنہ حکمت عملی نے عالمی سطح پر دباؤ میں اضافہ کیا۔ اس صورتِ حال نے امریکہ کی مشکلات کو مزید بڑھایا۔
اسی طرح ایران کی دس شرائط، امریکہ کا اندرونی خلفشار، کریڈٹ ریٹنگ میں انحطاط، عالمی منڈی میں گراوٹ اور معاشی دباؤ نے امریکی قیادت کو جنگ کے میدان سے نکل کر مصالحت کی میز تک آنے پر مجبور کیا۔ جنگ بندی کے باوجود اس کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے دیگر ممالک پر حملے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حالات ابھی مکمل طور پر پرسکون نہیں ہوئے — اور واقعی "پکچر ابھی باقی ہے”۔
Comments are closed.