یارِ مہرباں — بقلم ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

 

محمد نفیس خان ندوی

 

پھر چھیڑا حسنؔ نے اپنا قصہ

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی—علم و ادب کی دنیا کا وہ روشن مینار جن سے اہل علم اپنے فہم کی جہتیں متعین کرتے ہیں، اور اہل ادب اپنے ذوق کی تکمیل کا سامان بہم حاصل کرتے ہیں،۔ قرآن و حدیث اور تاریخ و فلسفہ تاریخ کے اس بے باک شارح کی آرا سے کبھی اتفاق اور کبھی اختلاف ضرور ہوتا ہے کہ صاحب فکر کی راہ کبھی تیزگام بھی ہوتی ہے اور کبھی لڑکھڑاتے قدموں جیسی محسوس بھی ہوتی ہے مگر ان کی زبان و بیان کی شگفتگی، اسلوب کی دل آویزی اور عبارت کی موسیقیت پر دو رائے نہیں۔ ان کی نثر کا جمال ایسا ہے کہ مخالف بھی اعتراف کیے بغیر نہیں رہتا، اور موافق اس کے سحر سے نکل نہیں پاتا۔

 

ڈاکٹر صاحب جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں، اس کے ساتھ علمی ذمہ داری، فکری وقار اور ادبی نزاکت کو پوری سنجیدگی کے ساتھ نبھاتے ہیں۔ علمی مباحث ہوں یا فکری استفسارات، تاریخ کا فلسفہ ہو یا فلسفے کی تاریخ، قرآنیات میں تدبر ہو یا احادیثِ نبویہ کی عصری تعبیر—ان کا اسلوب ہمیشہ ذہنی رفعت، فکری بلندی اور ادبی چاشنی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسا تاثر اور حرارت محسوس ہوتی ہے جو قاری کی فکر و احساس دونوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے اور پھر غور و فکر کی راہیں گھلنے لگتی ہیں..

 

لیکن جب ان کی تحریر کا مرکز وہ شخصیت ہو جس کے ساتھ انہوں نے عمر عزیز کی قیمتی ساعتیں گزاری ہوں، جس کے ساتھ علمی مجالس کی روشنی اور روحانی صحبتوں کی لطافتیں ساجھا کی ہوں، جو محض دوست نہیں بلکہ دل کا محرم اور رفیق مخلص رہا ہو—تو ان کا قلم ایک نئے وقار، نئی لطافت اور نئی حرارت سے آشنا ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لفظوں پر محبت و احترام کی لطیف تہہ اتر آئی ہو اور بیان میں رفاقت اور جدائی کی ملی جلی خوشبو رچ بس گئی ہو۔

 

یارِ مہرباں یعنی مولانا جعفر مسعود حسنی ندوی کا دلنشیں تذکرہ —یعنی وہ ہستی جو علم کی پاسبان، ادب کی امین، اور اخلاقِ کریمانہ کی مجسم تصویر تھی۔ لہجے میں نرمی، فکر میں گہرائی، گفتگو میں وقار اور شخصیت میں ایک دلنشین جاذبیت۔ ان کی ذات میں جلال علمی بھی تھا اور جمالِ انسانی بھی؛ وہ دلوں کو چھوتے تھے اور ذہنوں کو روشن کرتے تھے، محبتیں بانٹنے والا انسان یا یوں کہیے محبت کے خمیر سے گوندھا ہوا انسان!

 

ڈاکٹر صاحب جب ایسے بلند قامت رفیق کی یاد تازہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ قلم ماضی کے بند دریچوں پر دستک دے رہا ہے اور یادوں کے دھندلے دھندلے پیکر کو نئی روشنی سے منور کر رہا ہے۔

 

یہ محض ایک دوست کی یاد نہیں، بلکہ ایک عالم ربانی، ایک صاحبِ طرز ادیب اور ایک بے مثال انسان کے حق میں خلوص سے بھری گواہی ہے—ایسی گواہی جو اعتراف محبت اور روحانی وقار سے معمور ہے۔

 

یہ کتاب کسی خانقاہ نشین، کسی آزاد منش یا کسی صوفی کے تجربات کا بیان نہیں؛ یہ ایک ایسی دلآویز اور اثر انگیز تحریر ہے جس میں ایک مخلص دوست نے اپنے بے تکلف رفیق کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو محبت، درد اور اپنائیت کے ساتھ رقم کیا ہے۔

 

یہ محض سوانحی خاکہ نہیں، بلکہ دوستی کی سچائی، یادوں کی حرارت اور قلبی وابستگی کا خوبصورت مرقع ہے۔

 

مصنف نے نہایت مہارت سے اس عالم و ادیب کی شخصیت—اس کی علمی خدمات، ادبی کاوشیں، اخلاقی اوصاف اور ذاتی عادات—کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ قاری اس کی ہمہ گیر شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اسلوب شگفتہ بھی ہے اور رواں بھی؛ واقعات محض بیان نہیں کیے گئے، بلکہ اس انداز میں پیش کیے گئے ہیں کہ ہر منظر آنکھوں کے سامنے جاگ اٹھتا ہے۔

 

البتہ محبت و عقیدت میں ڈوبی ہوئی یہ تحریر کہیں کہیں یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ تجزیے کی خشک لکیر دھندلی پڑ رہی ہے مگر….. مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی محبت اور اسی بےساختہ جذبات نگاری نے اس تذکرے کو اصل قوت بخشی ہے۔ یہی رنگِ محبت اسے محض ایک تجزیہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ ایک دلآویز، زندگی سے بھری یادگار بنا دیتا ہے۔

سچ پوچھیے تو ڈاکٹر صاحب نے صرف اپنے احساسات و تجربات کو قلم بند نہیں کیا، بلکہ ہر اس دل کی ترجمانی کی ہے جس نے کبھی مولانا جعفر صاحب کو دیکھا یا سنا ہے، اُن کی محفل میں بیٹھا ہے یا چند قدم بھی اُن کے ساتھ چلنے کا موقع پایا ہے۔

 

اس تذکرہ میں وہی سچائی، وہی محبت اور وہی دل آویزی سانس لے رہی ہے جو اہل دل کے تذکروں کا خاصہ ہے۔

 

ڈاکٹر صاحب ہر اس فرد کی جانب سے شکریہ کے مستحق ہیں جس کے دل میں جعفر صاحب کی یادیں اب بھی تازہ ہیں اور جو اپنی دعاؤں میں اس محسن کے احسانات کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں..

Comments are closed.