مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے فیکلٹی رکن نے ریسرچ میتھڈلوجی ورکشاپ میں لیکچر دیا
علی گڑھ، 9 اپریل: پیرا میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اسسٹنٹ پروفیسر (فزیوتھراپی) ڈاکٹر غفران جلیل نے شاردا یونیورسٹی، گریٹر نوئیڈا میں منعقدہ ریسرچ ڈیزائن اور ایویڈنس سنتھیسز سے متعلق ایک ورکشاپ میں لیکچر دیا۔
ڈاکٹر جلیل نے رِسک آف بائس ٹول 2 کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اس کے پانچ بنیادی شعبوں کی وضاحت کی اور رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائلز میں بائس (تعصب) کے جائزے کے دوران پیش آنے والی عملی مشکلات کو اجاگر کیا۔ انھوں نے مختلف مثالوں کے ذریعے تحقیقی طریقہ کار کو واضح کیا، جس سے شرکاء کو شواہد پر مبنی تحقیق کے طریقوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں اقلیتی خواتین کے لیے انٹرپرینیورشپ ٹریننگ پروگرام کا آغاز
علی گڑھ، 9 اپریل: وزارتِ اقلیتی امور کی ”پردھان منتری وراثت کا سمرودھن (پی ایم وِکاس) اسکیم“ کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ’لیڈرشپ اینڈ بیسک انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ‘ کے عنوان سے ایک تربیتی پروگرام کا آغاز اے بی کے یونین گرلز اسکول میں کیا گیا۔ اسے خصوصی طور پر اقلیتی خواتین کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد خواتین میں کاروباری صلاحیت، قیادت اور خود انحصاری کو فروغ دینا ہے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے کے لئے 241 شرکاء نے اندراج کرایا ہے جن کی ٹریننگ کا آغاز ہوچکا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان کی سرپرستی میں اس پروگرام کی نگرانی پروفیسر آسیہ چودھری (نوڈل آفیسر) کر رہی ہیں۔ پروفیسر آسیہ چودھری نے بتایا کہ ٹریننگ کے اگلے مرحلے کا آغاز مئی کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے اور پروگرام کی رسائی بڑھانے کے لیے مزید بیچ شروع کیے جائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں عالمی آٹزم بیداری ہفتہ کے تحت مختلف پروگراموں کا انعقاد
علی گڑھ، 9 اپریل: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سائیکیاٹری اور شعبہ پیڈیاٹرکس نے مشترکہ طور پر عالمی آٹزم ہفتہ (2 تا 8 اپریل) کے تحت مختلف پروگرام منعقد کئے جن کا مقصد آٹزم اسپیکٹرم بیماری میں مبتلا افراد کے لیے آگہی، قبولیت اور شمولیت کو فروغ دینا تھا۔
مرکزی تقریب لیکچر تھیٹر-1، جے این ایم سی میں منعقد ہوئی، جس میں پروفیسر محمد خالد (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن) اور پروفیسر انجم پرویز (پرنسپل و سی ایم ایس، جے این ایم سی) موجود تھے۔
اس موقع پر لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج، نئی دہلی کے چائلڈ سائیکیاٹرسٹ پروفیسر اوم سائی رمیش نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انہوں نے آٹزم کی وجوہات، ابتدائی شناخت، علاج اور اس سے متعلق پائے جانے والے غلط تصورات پر روشنی ڈالی اور اہم طبی معلومات فراہم کیں۔
پروفیسر زیباذکا ء الرّب نے شعبہ امراض اطفال کی جانب سے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔
ڈاکٹر محمد ریاض الدین، چیئرمین، شعبہ سائیکیاٹری نے اس سال کے موضوع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آٹزم سے متاثرہ افراد کے لیے ایک جامع اور معاون ماحول کی تشکیل نہایت ضروری ہے۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر فیصل شان نے کی، جس میں کاؤنسلرز، آکیوپیشنل تھیراپسٹس، طلبہ اور اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ ارلی انٹروینشن سینٹر (ڈی ای آئی سی)، جے این ایم سی نے آٹزم سے متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کے لیے ایک تعاملی نشست بھی منعقد کی۔ ڈاکٹر نوید الرحمٰن، ماہر نفسیات فردوس جہاں اور ٹیم کے دیگر اراکین نے شرکاء کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور قیمتی معلومات فراہم کیں۔
٭٭٭٭٭٭
ایم یو کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے ماہرین نے مؤقر علمی کانفرنس میں اپنی اثر انگیز موجودگی درج کرائی
علی گڑھ، 9 اپریل: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پلاسٹک سرجری نے اتر پردیش اور اتراکھنڈ سوسائٹی آف پلاسٹک سرجنس کے زیر اہتمام 2 تا 5 اپریل، دہرہ دون میں منعقدہ کانفرنس سوپس کون 2026میں اپنی اثر انگیز موجودگی درج کرائی۔
شعبہ کے پروفیسر ایم فہد خرم نے بطور مدعو فیکلٹی کانفرنس میں شرکت کی، ایک سائنسی نشست کی صدارت کی اور مرحوم پروفیسر ایم ایچ خان کے نام سے منسوب باوقار اوریشن سیشن کا تعارف بھی پیش کیا۔
ایک اور قابلِ ذکر دستیابی یہ رہی کہ شعبے کے سابق طالب علم اور اس وقت کوکیلابین دھیرو بھائی امبانی اسپتال، ممبئی میں سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر قاضی غزوان کو اس سال کے اوریشن ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔
شعبے کے ریزیڈنٹس کی فعال شرکت بھی قابل ذکر رہی۔ ڈاکٹر کرتی شیکھر کو پوسٹر زمرے میں بیسٹ پرزنٹر قرار دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر فہد انصاری، ڈاکٹر سُربھی چاولہ اور ڈاکٹر کنن کوہلی نے بھی تحقیقی مقالے اور پوسٹرز پیش کیے۔ پروفیسر خرم کو سوسائٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ممبر بھی منتخب کیا گیا ہے، جو علاقائی سطح پر اس شعبے میں ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
ایک دیگر اہم پیش رفت کے طور پر اس شعبے کو دسمبر 2028 میں سوپس کون 2028 کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا، جو اے ایم یو کے لئے پلاسٹک سرجری کے میدان میں تعلیمی تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فلم کلب نے نئی دہلی میں منعقدہ فلم فیسٹیول ’اُدّیشیہ‘ میں دوسری پوزیشن حاصل کی
علی گڑھ، 9 اپریل: کلچرل ایجوکیشن سنٹر (سی ای سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فلم کلب نے نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں منعقدہ باوقار ’اُدّیشیہ‘ تقریب کے ’سوترادھار‘ زمرے میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ کامیابی فلم کلب کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے جس سے یونیورسٹی کی تخلیقی سرگرمیوں کو نمایاں کرنے اور عالمی سطح پر روابط کے نئے مواقع پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
اس فلم فیسٹیول میں رَیّان عارف نے یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔ ان کی فلم ’دی لاسٹ مائل‘مختلف انٹریز میں سے شارٹ لسٹ کی گئی اور نمائش کے لیے منتخب ہونے والی تین فلموں میں شامل رہی۔ اس فلم کو جیوری اور شرکاء نے کافی پسند کیا اور سراہا۔
ملک کے ممتاز اداروں کے ساتھ مقابلے میں فلم کلب کی رنر اَپ پوزیشن اس بات کی عکاس ہے کہ اے ایم یو میں تخلیقی سرگرمیاں مسلسل فروغ پارہی ہیں اور کلچرل ایجوکیشن سنٹر کی مؤثر سرپرستی جاری ہے۔
اس شرکت کے نتیجے میں کلب کو بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی اور بنگلور انٹرنیشنل شارٹ فلم فیسٹیول اور پی جی پی گلوبل شارٹ فلم فیسٹ میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔ اس کے علاوہ کئی بین الاقوامی تنظیموں نے عالمی سماجی اثرات سے متعلق منصوبوں میں کلب کے فلمسازوں کے ساتھ اشتراک و تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
کلچرل ایجوکیشن سنٹر کے کوآرڈینیٹرپروفیسر محمد رضوان خان نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کامیابی کو یونیورسٹی کے لیے باعث فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کامیابیاں اے ایم یو کے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں اور یہ سی ای سی کے اس عزم کی توثیق کرتی ہیں کہ طلبہ کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے اور فنّی اظہار اور عالمی روابط کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں۔
یونیورسٹی فلم کلب کے صدر ڈاکٹر فاروق احمد ڈار نے بھی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی محنت اور لگن کو سراہا اور کہا کہ اس اعتراف سے طلبہ کو فلمسازی کے میدان میں مزید بہتر کارکردگی دکھانے کا حوصلہ ملے گا۔
یونیورسٹی فلم کلب کے سکریٹری سید ایان اقبال نے کہا کہ اس دستیابی نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کلب کے لیے نئی راہیں ہموار کی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ اناٹومی کے محققین کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت
علی گڑھ، 9 اپریل:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اناٹومی نے نِمس یونیورسٹی، جے پور میں منعقدہ ورلڈ کانگریس آف کلینیکل اناٹومسٹس ”سوکا کون 2026“ میں اپنی بھرپور علمی موجودگی درج کرائی۔
سوسائٹی آف کلینیکل اناٹومسٹس (ایس او سی اے) کی 14ویں بین الاقوامی کانفرنس کا موضوع تھا: اگلی نسل کے لئے کلینیکل اناٹومی کا امیجنگ اور آرٹیفیشیئل انٹلی جینس کے ساتھ انضمام۔ کانفرنس میں جس میں دنیا بھر سے ماہرین، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔
اے ایم یو کے اساتذہ اور طلبہ نے بطور مندوبین، مقررین اور سیشن جج حصہ لیا اور کلینیکل اناٹومی، امیجنگ اور ٹکنالوجی پر مبنی تعلیم و تحقیق میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
پروفیسر فرح غوث نے ایک سائنسی نشست کی صدارت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مدحت متقی (سینئر ریزیڈنٹ) کو ہسٹوپیتھالوجی پر ان کی پیشکش کے لیے بہترین مقالہ کے زمرے میں ایوارڈ ملا، جبکہ ڈاکٹر پربین (جونیئر ریذیڈنٹ) کو جیسٹیشنل ڈائیبیٹیز میلیٹس پر ان کے تحقیقی مقالے کے لیے بہترین مقالہ کا ایوارڈ دیا گیا۔ ڈاکٹر وِسوانی (جونیئر ریزیڈنٹ) کو فولیکیولو جینیسیس پر ان کی تحقیق کے لیے بہترین پوسٹر کے زمرے میں اعزاز سے نوازا گیا۔
کانفرنس نے ورکشاپ، سائنسی نشستوں اور پینل مباحثوں کے ذریعے بین الاقوامی علمی تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔
پروفیسر فضل الرحمن، چیئرپرسن، شعبہ اناٹومی نے شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابیوں سے عالمی سطح پر شعبہ کی علمی حیثیت مستحکم ہوئی ہے جو تدریس، تحقیق اور طبی خدمات میں مزید بہتری کی راہ ہموار کرے گی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں عالمی یومِ صحت کے موقع پر علمی و بیداری تقاریب کا اہتمام
علی گڑھ، 9 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں عالمی یومِ صحت کے موقع پر مختلف شعبوں کی جانب سے علمی و بیداری پروگراموں کا اہتمام کیا گیا۔
فیکلٹی آف یونانی میڈیسن میں شعبہ امراضِ جلد و زہراویہ نے آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے اشتراک سے”ایک دنیا، ایک قوم، ایک سائنس“ کے عنوان پر خصوصی پروگرام منعقد کیا۔ اتر پردیش اقلیتی کمیشن کی رکن مس انیتا جین نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی او ر سماجی ہم آہنگی اور جامع صحت عامہ کی اہمیت پر زور دیا۔ مہمان مقرر پروفیسر روبی انجم نے اپنے خطاب میں بیماری کی روک تھام، بین شعبہ جاتی تعاون اور سماجی شمولیت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے سکریٹری اور شعبہ کے سربراہ پروفیسر محمد محسن نے ہیلتھ سائنسز میں اشتراک و تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ’وسودھیو کٹمبکم‘ کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر شگفتہ علیم نے یونانی طب کے فروغ میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے کردار کا ذکر کیا، جبکہ پروفیسر ضمیر نے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔ پروگرام میں یونیورسٹی کے سابق طالب علم مسٹر صغیراحمد نے تحقیقی سرگرمیوں کے لیے مالی تعاون فراہم کیا۔ اس موقع پر ایم ڈی کے آخری سال کے طلبہ کے لیے الوداعی تقریب بھی منعقد کی گئی۔
دوسری جانب شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جے این میڈیکل کالج نے ’دی ہیلتھ اسکیپ‘ کے عنوان سے ایک مسابقتی علمی نمائش منعقد کی، جس کی صدارت پروفیسر عظمیٰ ارم نے کی جبکہ تنظیمی نگراں پروفیسر محمد اطہر انصاری تھے۔پروگرام میں ایم بی بی ایس، نرسنگ، ایم پی ایچ اور پوسٹ گریجویٹ کورسز کے پچاس سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔
نمائش میں صحت عامہ کے اہم مسائل جیسے اینٹی مائیکروبیئل ریسسٹینس، فضائی آلودگی، ذہنی صحت، کینسر کا بوجھ اور طرزِ زندگی سے متعلق امراض کو موضوع بنایا گیا۔ ڈاکٹر سیف اللہ خالد نے مہمانِ خصوصی اور جج کے طور پر خدمات انجام دیں، جبکہ ڈاکٹر محمد سلمان شاہ اور ڈاکٹر نعیمہ عثمان ججنگ پینل کے رکن تھے۔
انڈرگریجویٹ اور متعلقہ زمروں میں انیکا رُمان راہی، عامرہ عارف اور آرین پرتاپ سنگھ کو مشترکہ طور پر پہلا انعام دیا گیا، جبکہ فیضان اختر، شفا شمیم اور سمیرہ ساجد خان نے دوسرا مقام حاصل کیا۔ عائشہ رُفیدہ کو سوم انعام دیا گیا، جبکہ رخسار اعجاز اور بشریٰ عظمت کو حوصلہ افزائی انعامات دیے گئے۔
پوسٹ گریجویٹ زمرے میں ڈاکٹر یوراج سنگھ راج اور ڈاکٹر سوریہ پرکاش ریڈی نے پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ ڈاکٹر الفاتح محمد عامر قدوائی اور ڈاکٹر محمد عامر دوسرے نمبر پر رہے۔ تیسرا انعام مشترکہ طور سے ڈاکٹر سری راگ،ڈاکٹر شہالنَس، ڈاکٹر کامران اور ڈاکٹر علی حسن کو دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر ریا اور ڈاکٹر پرتیک کمار کو حوصلہ افزائی انعامات سے نوازا گیا۔
٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر عطاء اللہ فہد اے ایم یو میں شعبہ علم الامراض کے چیئرمین مقرر
علی گڑھ، 9 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ علم الامراض کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عطااللہ فہد کو شعبہ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار 8 اپریل 2026 سے آئندہ تین سال ہوگی۔
ڈاکٹر فہد ایک تجربہ کار معالج اور فیکلٹی ممبر ہیں جنہوں نے یونانی پیتھالوجی اور طبی تعلیم و تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اجمل خاں طبیہ کالج، اے ایم یو سے کلیات و علم الامراض میں ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس وقت گھٹنے کے آسٹیو آرتھرائٹس میں نیوٹروفِل-لیمفوسائٹ ریشو اور اس کی طبی اہمیت پر ریسرچ کر رہے ہیں۔
وہ اب تک 45 سے زائد تحقیقی مقالات اور متعدد مضامین معروف علمی و تحقیقی جرائد میں شائع کر چکے ہیں، جن میں انڈین جرنل آف ٹریڈیشنل نالج، جرنل آف نیچرل ریمیڈیز اور جرنل آف انڈین سسٹم ا ٓف میڈیسن شامل ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں ذیابیطس، التہابی امراض، یونانی تشخیصی اصول اور بیماریوں کے علاج میں انضمامی طریق ہائے کار شامل ہیں۔
ڈاکٹر فہد نے نصاب کی تیاری اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ماہیت الامراض کے عنوان پر 12 ہفتوں پر مشتمل سویم موکس آن لائن کورس ترتیب دیا ہے جس سے تقریباً ایک ہزار طلبہ استفادہ کرچکے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
Comments are closed.