جنگ بندی’ایران‘ کی عظیم فتح…

 

سچ تو مگر کہنے تو

 

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

9395381226

ایران۔اسرائیل امریکہ جنگ میں دو ہفتوں کا وقفہ۔دنیا نے راحت کی سانس لی،کیونکہ خود ساختہ سوپر پاور نے 7 اپریل کی شب کو ایران کے لئے قیامت کی رات قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو نہیں کھولاتو ہزاروں سالہ تہذیب اور تاریخ ایک ہی رات میں مٹ جائے گی۔ مگر جب نیم پاگل ٹرمپ نے اپنے دھمکی کو گیڈر بھپکی ثابت ہوئے دیکھا تو اسے اپنی عزت اور کرسی کو بچانے کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا کہ وہ پڑوسی ملک کے کارٹون وزیر اعظم کو آخری مہرہ کے طور پر استعمال کرے، اس کے ذریعہ دو ہفتوں کے لئے جنگ بندی کی تجویز پیش کروائے۔ ایک اطلاع کے مطابق شہباز شریف نے جنگ بندی کی مہلت سے متعلق جو ٹوئیٹ کیا ہے وہ در اصل امریکہ سے انہیں بھیجا گیا تاکہ وہ اسے اپنے نام سے دوبارہ ٹوئیٹ کرسکے۔ وقتی طور پر ہی سہی پڑوسی ملک کا مسلمہ نا اہل اور پاکستانی قوم پر مسلط کئے گئے وزیر اعظم کو ہیرو بنا دیا گیا۔ حالانکہ ٹرمپ چاہتا تو ہندوستانی وزیر اعظم کو واقعی وشو گرو بننے کا موقع مل سکتا تھا۔حالانکہ انہوں نے اسرائیل کو اپنا فادر لینڈ اور ٹرمپ کو اپنا خاص دوست کہا تھا، چونکہ شہباز شریف نے کبھی ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام پیش کرنے کی تجویز پیش کی تھی، شاید اسی لئے ٹرمپ نے اسے امن کا سفیر بننے کا موقع دیا۔ ٹرمپ جس کی عزت وقار طاقتور ملک کے طاقتور ترین صدر کی شبیہ خاک میں مل گئی۔ ایران کی عوام کے جذبہ جاہ و شہادت کو دیکھ کر حیران و پریشان ہوگیا۔ نیوکلیر بم کے استعمال کی دھمکی کے جواب میں شہادت کے جذبہ سے سرشار لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اپنی اہم تنصیبات کے قریب انسانی زنجیر بنائی، دنیا حیران تھی کہ کیسے لوگ ہیں جن سے موت ڈرتی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے سپاہی اپنی جان بچانے کے لئے تہہ خانوں میں پناہ لیتے ہیں اور ایرانی قوم میزائلوں اور بمباری کا سامنا کرنے نہتے میدان میں آجاتے ہیں۔ بقول علامہ اقبالؒ:

مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

جنگ بندی ابھی مستقل امن کی ضمانت نہیں بلکہ یہ دنیا کو راحت کی سانس لینے کا عارضی موقع دیا گیا ہے۔ اسے بلا شبہ ایران کی فتح عظیم تسلیم کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ایران نے اپنی شرائط پر جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔البتہ اس کے دس نکاتی امن منصوبہ میں میں اسرائیل میں قید 11 ہزار فلسطینی قیدیوں کی واپسی بھی شامل ہونی چاہئے تھی۔ کتنی عبرت کی بات ہے کہ وہ ٹرمپ جو آبنائے ہرمز کو چند گھنٹوں میں ایران سے آزاد کروانے کا دعوی کر رہا تھا، اب ایران کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو دو ملین ڈالرس ایران کو ٹول ٹیکس کے طور پر ادا کرنے ہوں گے۔ اس رقم کا ایک حصہ وہ عمان کو بھی دے گا کیوں کہ آبنائے ہرمز عمانی علاقے میں بھی شامل ہے۔ ٹیکس کی اس رقم کو ایران جنگ میں تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو میں خرچ کرے گا، 10 /اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے عہدیداروں کے درمیان جنگ بندی کو مستقبل بنانے اور قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان کی ثالثی سے مذاکرات ہوں گے۔

ایران کے خلاف جنگ اسرائیل اور امریکہ نے چھیڑی تھی۔ ایران کے کئی اہم سرکردہ شخصیات شہید ہوئے، جن میں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای شامل ہیں۔ اسرائیل کو بھی زبردست نقصانات ہوئے۔ اسرائیل کے کئی شہر بالخصوص تل ابیب کھنڈر بن گیا۔ عمومی طور پر ایران کو زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ کیوں کہ اس نہتے ملک پر امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر یلغار کر رہے تھے۔ جنگ تو سہ رخی تھی مگر متاثر عرب ممالک ہوئے۔ ان کی معیشت تباہ ہوگئی، ایک عام اندازے کے مطابق عرب ممالک کو لگ بھگ 194بلین ڈالرس کا نقصان ہوا۔ لبنان میں 1447ہلاکتیں اور تقریبا 5 ہزار افراد زخمی ہوئے اور 8 لاکھ 50 ہزار افراد بے گھر ہوئے، عراق میں 109،بحرین میں 3، متحدہ عرب امارات میں 12، عمان میں 3، سعودی عرب میں 2، افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیل میں 3600 افراد جن میں 16 سو شہری ہیں، ہلاک ہوئے اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ 32 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، 25 ہاسپٹلس مکمل طور پر تباہ ہوئے۔اسرائیل میں ہلاک ہونے والی تعداد چھپائی جارہی ہے البتہ کم از 7 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب میں امریکی اڈوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق امریکہ کو 2 بلین ڈالرس کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے طیارے، ہیلی کاپٹرس، وارننگ راڈارس کو ایران نے کافی نقصان پہنچایا۔ ایران کی ناقابل یقین فوجی طاقت اور اس سے زیادہ اپنے دشمن کو نیست و نابود کرنے کے جذبہ سے امریکی فوج پریشان تھی اور انہوں نے ٹرمپ کے اس فیصلے کی مخالفت کی کہ ایران سے زمین پر مقابلہ کیا جائے۔ امریکی فوجی سربراہ جنرل رینڈی جورج کو احکام نہ ماننے پر برطرف کردیا۔ رینڈی جورج نے اپنے بیان میں کہا کہ پاگل شخص امریکی فوج کو تباہی کے دھانے میں دھکیل رہا ہے۔ امریکی فوجی عہدیداروں کا یہ اندازہ ہے کہ امریکہ لاکھ طاقتور ملک سہی، بھلے ہی اس کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں تاہم وہ ایرانی فوج سے زمینی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی سے اتفاق در اصل امریکہ کی بہت بڑی شکست ہے۔ اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ کو اس قسم کی رسوائی سے دوچار ہونا پڑا۔ ویتنام کی جنگ میں اسے کراری شکست ہوئی تھی۔ ویتنام کی جنگ ساڑھے 19 برس تک چلتی رہی۔ اسی جنگ میں امریکہ نے محمد علی کلے کو ویتنام کے خلاف لڑنے کے لئے کہا تھا مگر محمد علی نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کے خلاف نہیں لڑے گا جس پر محمد علی کلے سے ان کا ورلڈ باکسنگ چمپئن شپ ٹائیٹل چھین لیا گیا اور انہیں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ محمد علی کلے نے اپنے ضمیر کی آواز پر جیل گوارہ کیا مگر امریکی حکومت کے فرعونی احکام ماننے سے انکار کیا۔ جس کی وجہ سے وہ ساری دنیا کے مظلوم عوام کے ہر دلعزیز ہو گئے تھے۔ ویتنام کی جنگ 1955ء سے 1975ء تک چلتی رہی، امریکہ نے ساؤتھ ویتنام کو عسکری تربیت دی تھی، ہتھیار فراہم کئے تاکہ کمیونسٹ اقتدار سے وہ مقابلہ کرسکے مگر اسے شکست ہوئی۔ آخر 1973ء میں اس نے اپنی فوج واپس بلالی۔ ویتنام کے دونوں حصے آخر ایک کمیونسٹ اقتدار کے تحت ایک ہوگئے۔ اسی سال امریکہ نے کنیڈا میں بھی دخل اندازی کی تھی۔ وہاں سے بھی اسے نامراد ہوکر لوٹنا پڑا۔ اس جنگ میں دونوں جانب سے لگ بھگ 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں گیارہ لاکھ شمالی ویتنامی شہری شامل ہیں، 2.5 لاکھ امریکی شہری ہلاک ہوئے ان 58 ہزار سے زائد امریکی سپاہی تھے۔ 1812ء میں بھی برطانیہ کے خلاف امریکہ کو شکست ہوئی تھی، برطانوی فوج نے واشنگٹن ڈی سی پر قبضہ کرلیا تھا اور وائٹ ہاؤس کو آگ لگا دی تھی۔ 1941ء میں فلیپائینی آئی لینڈ میں بھی اس کا ایسے ہی حشر ہوا تھا۔ حالیہ عرصے میں اسے سب سے زیادہ شرمندگی اور شکست کا سامنا افغانستان میں ہوا۔ 2001ء سے 2021ء کے درمیان اس کے 2.5 ہزار سپاہی ہلاک، 20 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ 2003ء سے 2011ء کے درمیان عراق میں اگرچہ کہ اس نے تباہی مچائی، صدام حسین کا تختہ الٹا مگر 4.5 ہزار امریکی سپاہیوں کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا، 32 ہزار سپاہی زخمی ہوئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ افغانستان، ایران، عراق کے خلاف امریکہ اور اس کے حلیف قدرتی وسائل پر قبضے کے لئے دہشت گردی کے صفائی کے نام پر بربریت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے رہے۔ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو واقعی سبق سکھایا، اس جنگ نے ان عرب ممالک کو خواب غفلت سے جگایا جو امریکہ کو اپنا محافظ و نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ سعودی وزیر دفاع نے کیا خوب کہا ہے کہ 36 برس سے وہ اس مغالطے میں رہے کہ امریکہ ان کی حفاظت کر رہا ہے، در اصل عرب ممالک امریکہ کو تحفظ فراہم کر رہے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عرب ممالک کو آرام، آسائش کا عادی بناکر ایک دوسرے سے خوف دلاکر امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک انہیں اپنے ہتھیار فروخت کرتے رہے اور حفاظت کے نام پر عرب سرزمین پر اپنے اڈے قائم کرکے وہاں جاسوسی کی مراکز بھی قائم کئے، عرب حکمرانوں کی نقل و حرکت اور ان کی کمزوریوں پر نظر رکھی تاکہ وقت ضرورت انہیں بلیک میل کرکے ان سے کھربوں ڈالرس بطور تاوان حاصل کیا جاسکے۔ حالیہ جنگ سے اگر عرب ممالک سبق نہ لے تو ان سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں۔ وہ اپنے وسائل، اپنی طاقت کو متحد کرکے اپنے محاذ خود قائم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دیکھ لیا کہ جب برا وقت آیا تو امریکہ نے عرب ملکوں کو تحفظ فراہم کرنے بجائے اسرائیل کو تحفظ فراہم کیا۔

شکاگو یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر رابرٹ پیپ کا کہنا ہے:”اگر وہ 10 نکاتی امن منصوبہ درست ہے جسے ڈونالڈ ٹرمپ نے قبول کیا ہے تو اسے امریکہ کے لیے ایک بہت بڑی اسٹریٹجک شکست قرار دیا جا سکتا ہے۔ جنگ ویتنام کے بعد یہ امریکہ کی سب سے بڑی ناکامی ہوگی۔ اس جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی، دنیا کے افق پر اقتدار کے چوتھے مرکز کا ظہور ہو چکا ہے اور وہ ہے’ایران‘۔جنگ کے دوران بعض عناصر سوشیل میڈیا کے ذریعہ اور بعض مساجد کے ممبروں کے ذریعہ مسلمانوں کو شیعہ اور سنی فرقوں میں مزید تقسیم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اور بار بار یہ بات یاد دلانے کی کوشش کرتے رہے کہ ایران نے کب کس کا ساتھ نہیں دیا تھا؟ اور اب وہ عرب ممالک پر حملے کر رہا ہے۔

یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عام مسلمان ایران کے ساتھ اس لئے کھڑا ہوگیا کہ ایران کے سامنے اسرائیل اور اس کا کرم فرما امریکہ تھا۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، ایران نے جنگ کے آغاز سے پہلے ہی یہ واضح کردیا تھا کہ عرب ممالک کے ساتھ اس کا کوئی جھگڑا نہیں، عرب ممالک میں امریکی اڈے ہیں وہ اس کا نشانہ ہیں۔ چونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان 10 ہزار میل کا فاصلہ ہے اور ایران کے پاس اتنے طویل فاصلے تک نشانہ لگانے والے میزائل نہیں ہیں اور خود امریکہ اور اسرائیل عرب ممالک میں قائم اپنے اڈوں سے ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں تو وہ امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا رہا۔ سعودی عرب کے بارے میں یہ بات عام ہوئی کہ اس نے مکہ مکرمہ میں بھی امریکہ کو ایک اڈہ فراہم کیا ہے جو حرم شریف سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ فیصلہ غلط ہے۔ ایران نے یہ کہہ دیا ہے کہ حرمین شریفین کے محافظ ہیں۔ امریکی اڈوں کے نہیں۔ بہرحال! دو ہفتوں کی مہلت ہر ایک کے لئے اپنے اپنے موقف کا جائزہ لینے کے لئے کافی ہیں۔ دنیا کو کافی نقصان ہوچکا ہے۔ معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ دنیا کے محفوظ ترین ممالک سمجھے جانے والے ممالک جو دنیا بھر کے امیر ترین افراد کے سیاحت اورعیش و عشرت کا مرکز بنے ہوئے تھے اب محفوظ نہیں ہیں۔ شاید! یہ اللہ رب العزت کا عتاب بھی ہے کہ توحید کی بنیاد پر جن ممالک کی پہچان ہے وہاں مشرکانہ رسومات انجام دی جارہی ہیں۔ شرک کے اڈے، سرکاری سرپرستی میں قائم ہونے لگے ہیں۔ شراب، جوا، عیاشی عام ہوگئی ہے۔ اللہ رب العزت نے حاجیوں کے قافلوں کو لوٹنے والوں کو دنیا کے دولتمند ترین قوم بنا دیا تھا۔ وہ تو عزت، دولت، شہرت دے کر آزماتا ہے جو آزمائش میں ناکام رہتا ہے اس سے سب کچھ چھین لیتا ہے۔

Comments are closed.