مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

پریس ریلیز

اے ایم یو کے شعبہ حیوانیات میں بنگلہ دیشی اسکالر کے لیکچر کا اہتمام

علی گڑھ، 10 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ حیوانیات میں زولوجیکل سوسائٹی کے زیر اہتمام یونیورسٹی آف ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے شعبہ حیوانیات کی سپر نیومریری پروفیسر محترمہ حمیدہ خانم نے ”بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں گھونگھوں میں پائے جانے والے ہیلمِنٹھ پیراسائٹس اور ان کے ارتقائی مراحل: گھونگھوں میں ٹربیلاریا، سیسٹوڈ، نیماٹوڈ اور پینٹاسٹومِڈ کے نئے ریکارڈز“ موضوع پر ایک لیکچر دیا۔

اپنے خطاب میں انھوں نے پیراسائٹس کے تنوع اور ارتقائی حیاتیات کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔ اس کے بعد ایک تعاملی نشست ہوئی جس میں شرکاء نے مہمان مقرر سے مختلف سوالات کیے اور تبادلہ خیال کیا۔

مہمان مقرر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر قدسیہ تحسین، چیئرپرسن، شعبہ حیوانیات نے بتایا کہ 1906 میں قائم ہونے کے بعد سے یہ شعبہ تدریس و تحقیق کے میدان میں ایک ممتاز مرکز کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔ انہوں نے شعبہ کی تحقیقی دستیابیوں، بین الاقوامی اشتراک اور جدید حیاتیاتی علوم میں اس کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔ پروگرام کی نظامت اقراء سبحان نے کی، جبکہ پروفیسر یاسر حسن صدیقی نے کلمات تشکر ادا کئے۔

٭٭٭٭٭٭

این ایس ایس، اے ایم یو کی جانب سے ’مائی بھارت بجٹ کوئز‘ کے فاتحین میں انعامات تقسیم

علی گڑھ، 10 اپریل:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کی جانب سے ”مائی بھارت بجٹ کوئز“کے شرکاء کے لیے ایک اعزازی تقریب اور کاؤنسلنگ سیشن منعقد کیا گیا۔ طلبہ نے اس کوئز میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور مالیاتی امور کے بارے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

کوئز میں محمد عاکف، ارمان علی اور محمد عثمان غنی نے مشترکہ طور پر پہلا انعام حاصل کیا۔ دوسرا انعام محمد انس، گوپال بگھیل اور شب نور کو دیا گیا، جبکہ ثاقب، عمران احمد، مسکان بانو، پیہو سنگھ لودھی اور عارفہ کوثر نے تیسرا انعام حاصل کیا۔

این ایس ایس دفتر میں منعقدہ تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر سید احتشام اکبر، قائم مقام پرنسپل، احمدی اسکول نے اپنے خطاب میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی رہنمائی کی۔ مہمانِ اعزازی عبدالعتیق خان، ٹی جی ٹی، اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) نے بھی شرکاء کی حوصلہ افزائی کی۔

این ایس ایس کے قائم مقام پروگرام آفیسر ڈاکٹر عبدالجبّار نے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد طلبہ میں آگہی، اعتماد اور صحت مند مسابقتی جذبہ پیدا کرنا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ فریدی نے نتائج کا اعلان کیا اور طلبہ کو ایسی تعلیمی سرگرمیوں میں فعال شرکت کے لیے ترغیب دی۔ پروگرام کا انعقاد پروگرام آفیسر محمد عمران خان کی قیادت میں کیا گیا۔ پروگرام آفیسر ناہید اکبری نے کلمات تشکر ادا کیے جبکہ نظامت کے فرائض ذکرہ رحمان نے انجام دئے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں طلبہ کے لیے نئی سہولیات کا افتتاح

علی گڑھ، 10 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (ایف ایم ایس آر) کے تحت شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ کے بدست ایک نئے ریسیپشن روم اور ازسرِنو تزئین شدہ گرلز کامن روم کا افتتاح عمل میں آیا۔

پروفیسر نشاط فاطمہ نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نئی سہولیات تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد نوید خان، ڈین، فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، پروفیسر سلمیٰ احمد، چیئرپرسن، اور پروفیسر ولید انصاری سمیت دیگر اساتذہ اور عملہ کے اراکین موجود تھے۔

گرلز کامن روم کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے تاکہ طالبات کو زیادہ آرام دہ ماحول فراہم ہو، جبکہ ریسیپشن روم کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے جس سے شعبے کے اندر بہتر ہم آہنگی اور انتظامی کارکردگی کو فروغ مل سکے۔

اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ طلبہ پر مرکوز اس طرح کے اقدامات نہ صرف تعلیمی کارکردگی میں بہتری لاتے ہیں بلکہ طلبہ کی مجموعی فلاح و بہبود میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ تعلیم میں عالمی ہم آہنگی اور یوگ پر لیکچر کا اہتمام

علی گڑھ، 10 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ تعلیم نے ”وسودھیو کٹمبکم اور یوگ: عالمی ہم آہنگی کے لیے ایک متحدہ وژن“ موضوع پر ایک لیکچر کا اہتمام کیا جس میں اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔

یہ لیکچر پروفیسر سید طارق مرتضیٰ، ڈائریکٹر، اکھنڈ یوگ نے پیش کیا۔ شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن پروفیسر نکہت نسرین نے انھیں یادگاری نشان پیش کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر مرتضیٰ نے معاشرتی مسائل کی جڑ تک پہنچنے اور خود احتسابی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشرہ انسانی اقدار سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے ’ریفرنس آف لائف‘ کے تصور کو متعارف کراتے ہوئے لوگوں کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور اجتماعی فلاح کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے مغربی تصور ”سب سے زیادہ تندرست کی بقا“ کا موازنہ یوگ کے اصول ”انسانیت کے لئے سب سے زیادہ مفید کی بقا“ سے کرتے ہوئے کہا کہ یوگ انسانی تکالیف کو کم کرنے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے بھگوت گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے یوگ کے دو مقاصد بیان کیے: فرد کی نجات (کیولیہ) اور عالمی فلاح (وسودھیو کٹمبکم)۔

اس سے قبل ڈاکٹر عمران نے حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے فلسفیانہ اور روحانی نظریات کو تعلیم میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کلمات تشکر بھی ادا کیے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو میں قومی انڈرگریجویٹ پیتھالوجی کانفرنس 13 اپریل کو

علی گڑھ، 10 اپریل:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیتھالوجی کی جانب سے آئندہ 13 اپریل کو نیشنل پیتھالوجی ڈے کے موقع پر ”پیتھورائزون 2026“ کے عنوان سے ایک قومی انڈرگریجویٹ پیتھالوجی کانفرنس،انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن-میڈیکل اسٹوڈنٹس نیٹ ورک، جے این ایم سی برانچ کے اشتراک سے منعقد کی جائے گی۔

اس پروگرام کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے جس سے پیتھالوجی اور تحقیقی طریقہ کار سے متعلق طلبہ کے لئے بنیادی تصورات کو واضح کیا جا سکے اور نظریاتی علم اور کلینیکل اطلاق کے درمیان موجود خلا کو کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کے لیکچرز کے ذریعے تشخیصی سوچ کو فروغ دینا، کلینکو پیتھالوجیکل تعلق کو اجاگر کرنا اور بیماریوں کے اسباب و میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنا بھی اس کانفرنس کا اہم مقصد ہے۔

کانفرنس میں تشخیصی پیتھالوجی میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور ان کے مریضوں کی دیکھ بھال میں عملی اطلاق کو بھی اجاگر کیا جائے گا، تاکہ نوجوان میڈیکل طلبہ کو مؤثر کلینیکل فیصلہ سازی کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

٭٭٭٭٭٭

جے این ایم سی کے نیوز لیٹر کا اجرا

علی گڑھ، 10 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج سوسائٹی کی جانب سے شائع شدہ نیوز لیٹر ”جے این ایم سی ایکو“ کے پہلے شمارے کا وائس چانسلر دفتر میں منعقدہ ایک تقریب میں اجراء کیا گیا۔

تقریب کی صدارت پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کی۔ اس موقع پر فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد، جے این ایم سی کے پرنسپل و سی ایم ایس پروفیسر انجم پرویز اور دیگر اساتذہ بشمول پروفیسر نشاط افروز، پروفیسر شاہ محمد عباس وسیم، ڈاکٹر صفیہ حبیب اور ڈاکٹر جمیل احمد موجود تھے۔ اداریاتی ٹیم کے اراکین،ہمالی سنگھ (ایڈیٹر) اور انیکا رُمان راہی (جوائنٹ ایڈیٹر) بھی تقریب میں شامل ہوئے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں پروفیسر محسن خان نے ”جے این ایم سی ایکو“ کو طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، توانائی اور تعلیمی وابستگی کا مظہر قرار دیتے ہوئے اسے ایک لائق تحسین اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پلیٹ فارم نہ صرف ادارہ جاتی ماحول کو بہتر کرتے ہیں بلکہ اظہارِ خیال، باہمی تعاون اور اعلیٰ کارکردگی کی ثقافت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ یہ نیوز لیٹر جے این ایم سی میں طلبہ کی زندگی کی سرگرمیوں اور جوش و خروش کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں حاصل ہونے والی دستیابیوں، کیمپس کے پروگراموں اور طلبہ کی نمایاں کارکردگی کو بھی پیش کرے گا۔

ادارتی ٹیم نے بتایا کہ یہ نیوز لیٹر سہ ماہی بنیاد پر شائع کیا جائے گا، جس کے توسط سے طلبہ کو فن، ادب اور ثقافت جیسے شعبوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو میں کنزرویٹو ڈینٹسٹری و اینڈوڈونٹکس میں آبزروَر شپ پروگرام کے لیے درخواستیں طلب

علی گڑھ، 10 اپریل: ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج اینڈ ہاسپٹل، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کنزرویٹو ڈینٹسٹری و اینڈوڈونٹکس نے تین ماہ کے آبزروَر شپ پر مبنی کلینیکل ٹریننگ پروگرام میں داخلے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ یہ پروگرام یکم مئی 2026 سے شروع ہو کر 31 جولائی 2026 تک جاری رہے گا۔

اس کورس میں وہ امیدوار درخواست دینے کے اہل ہیں جنہوں نے ڈینٹل کونسل آف انڈیا سے تسلیم شدہ کسی ادارے سے بی ڈی ایس مکمل کیا ہو اور گزشتہ دو برسوں کے اندر اپنی انٹرن شپ مکمل کی ہو۔ اس پروگرام میں نشستوں کی تعدادتین ہے جسے بڑھا کر چار کیا جا سکتا ہے۔ داخلہ، پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ ٹریننگ فیس 75 ہزار روپے ہے جو داخلے کے وقت جمع کرنی ہوگی۔

اے ایم یو کی ویب سائٹ https://amu.ac.in/department/conservative-dentistry-endodontics/notice-and-circular سے درخواست فارم کو ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

شعبہ کے چیئرمین پروفیسر آر کے تیواری نے بتایا کہ درخواست فارم کو پُر کرکے مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ شعبہ کنزرویٹو ڈینٹسٹری و اینڈوڈونٹکس کے چیئرمین دفتر میں جمع کیا جاسکتا ہے یا سنگل پی ڈی ایف فائل کی شکل میں ای میل آئی ڈی chairperson.cd@amu.ac.in پر ارسال کیا جاسکتا ہے۔ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 21 اپریل 2026 مقرر ہے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ فلسفہ کے زیر اہتمام بین المذاہب مکالمے پر دو روزہ سیمینار کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا

علی گڑھ، 10 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فلسفہ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار ”تنوع کا احترام: بین المذاہب مکالمہ اور ثقافتی تفہیم“ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں مکالمہ، بقائے باہمی اور ثقافتی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

سیمینار میں مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے اسکالرز، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ سیمینار کے دوران متعدد تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے جن میں تحقیقی مقالات پیش کیے گئے اور علمی مباحث ہوئے۔

اختتامی اجلاس کے مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد رضوان خان، کوآرڈینیٹر کلچرل ایجوکیشن سینٹر اور سابق چیئرپرسن، شعبہ انگریزی تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سننے کی صلاحیت بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے اور اصل مسئلہ تنوع نہیں بلکہ معاشرے کی اس کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ جینے میں ناکامی ہے۔ انہوں نے ادب، مذہب اور ثقافتی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کے قیمتی سبق فراہم کرتے ہیں۔

اس سے قبل شعبہ فلسفہ کے چیئرپرسن ڈاکٹر عامر ریاض نے سیمینار کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سیمینار میں آف لائن اور آن لائن نشستوں کے دوران تحقیقی مقالات پیش کیے گئے، جو علمی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے مقررین، سیشن چیئرز اور شرکاء کی خدمات کو سراہا۔ اختتامی کلمات میں ڈاکٹر عقیل احمد نے یونیورسٹی کے مختلف اداروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی، لسانی اور مذہبی پہلو مل کر تنوع اور مکالمے کے اس موضوع کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

سیمینار کی قراردادیں ڈاکٹر بودھیندر کمار نے پیش کیں، جن میں مباحث کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے تنوع کے ساتھ مثبت اور تعمیری انداز میں تعامل اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں اور انہیں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بھیجا جائے گا۔ آخر میں آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر شاہد الحق نے اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ سنّی دینیات کے زیر اہتمام ’بقائے باہم اور مذاہبِ عالم‘کے عنوان پر دو روزہ قومی سیمینار کا آغاز

علی گڑھ، 10 اپریل:گلوبلائزیشن نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے،اس کے باوجود مذہبی عدم برداشت، انتہا پسندی اور تہذیبی تصادم جیسے سنگین خطرات بھی دنیا کو درپیش ہیں۔ ان حالات میں تکثیری معاشروں خصوصاً ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک میں پرامن بقائے باہمی محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ملکی استحکام اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔اور اس مشن کا عَلم تعلیم یافتہ طبقے کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔اسی احساس کے پیش نظر، شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ،حیدرآباد کے اشتراک سے دو روزہ قومی سیمینار ’بقائے باہم اور مذاہب عالم‘کے عنوان پر منعقد کیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد مذاہب عالم میں ان مشترکہ مثبت اقدار کو فروغ دینا ہے جو انسانیت نوازی اور احترام باہمی میں معاون ثابت ہوسکیں۔

سیمینار کا آغاز یونیورسٹی بوائز پولی ٹیکنک آڈیٹوریم میں ہوا۔ افتتاحی نشست کی صدارت پروفیسر وحید اللہ ملتانی کی۔انہوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسلام مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ اپنی عبادت کوللہیت کے ساتھ انسانوں کی خدمت اور ان کی راحت کا ذریعہ بنائیں۔اپنے اخلاق بلند کریں اور دوسروں کو خود پر ترجیح دیں، اس میں کسی فرقے اور مذہب کی تفریق نہ کریں۔

کنوینر سیمینار،سابق ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ شعبہئ سنی دینیات میں اسلام، ہندومت، یہودیت، عیسائیت اور بدھ مت کا کورس پڑھایا جاتا ہے۔بقائے باہم پر سیمینار کرنا ہماری نصابی ضرورت بھی ہے اور ملک کے تکثیری سماج کو بہتر بنانے کی ایک مخلصانہ جد و جہد بھی ہے۔مذاہب میں امن و آشتی کی جو تعلیم دی گئی ہے وہ کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام انسانوں کو اس کا فیض پہنچے اوراحترام انسانیت کا درس ہر طبقے کو ملے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت جنگ و جدال کا نہیں بلکہ بقائے باہم کا ہے،آپسی اتحاد اور مذہبی مکالمے کا ہے،مذاہب کے نمائندوں کو چاہئے کہ وہ کثرت سے ایسے پروگرام کریں جو ملک سے نفرت کی فضا کو دور کرے اور پرامن بقائے باہم کو یقینی بنائے۔

اس موقع پر ریورنڈ فادر کرسٹی ابراہم، ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ، مہمان اعزازی کے طور پر شریک رہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہب کی تعلیم لوگوں کو جوڑنے کی ہے،بقائے باہم کی ہے،محبت کی ہے،انصاف کی ہے اور رحمت کی ہے۔ان اصولوں کی بنیاد پر ہمیں انسانی معاشرے کو از سر نو تشکیل دیناچاہئے۔

ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی نے تمہیدی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت اہم،حساس اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔مختلف مذاہب کی تعلیمات میں موجود بقائے باہم،رواداری اور انسانی ہم آہنگی کے عناصر کو اہل قلم نے علم و تحقیق کے ساتھ واضح کیا ہے۔یہ سیمینار عالمی سطح پرانسانیت کی بقا،معاشرتی استحکام اور پر امن زندگی کا انحصار،باہمی احترام کا پیغام دے گا۔

صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر محمد راشد نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار ملک کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لئے بقائے باہم کا درس ہوگا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم اشرف نے انجام دئے، اور ڈاکٹرریحان اخترنے کلمات تشکر پیش کئے۔

اس موقع پر فیکلٹی آف تھیالوجی کے ترجمان مجلہ ’دراساتِ دینیہ‘ کے تازہ شمارے کے ساتھ ساتھ رواں سیمینار کے مجموعہ مقالات کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ یہ مجموعہ کم و بیش۰۰۶/ صفحات پر مشتمل ہے۔ مقالات کا ایک حصہ شعبہ سنی دینیات کی تھیالوجکل سوسائٹی کے ترجمان مجلہ ”الدین“ میں خصوصی شمارہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو زیر طبع ہے۔

سیمینار میں پروفیسر نسیم احمد غازی،پروفیسر وبھا شرما،پروفیسر لطیف الرحمن کاظمی،ڈاکٹر اشہد جمال ندوی،ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی،مولانا ثناء الہدیٰ کے علاوہ ڈاکٹر شائستہ پروین،ڈاکٹر محمد ناصر،ڈاکٹر محمد عاصم،ڈاکٹر حبیب الرحمن اور کثیر تعداد میں یونیورسٹی و بیرون یونیورسٹی سے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز موجود رہے۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو نے دسویں جماعت کے نتائج کا اعلان کیا، اتکرش جادون پہلے مقام پر رہے، میرٹ فہرست میں طالبات نمایاں

علی گڑھ، 10 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ بورڈ امتحان 2026 (دسویں جماعت) میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول کے اتکرش جادون نے 500 میں سے 497 نمبر حاصل کر کے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ نتائج کا اعلان جمعہ کو کنٹرولر امتحانات کی جانب سے کیا گیا۔

انوشکا شرما (اے ایم یو گرلز اسکول) نے 494 نمبر حاصل کر کے دوسری پوزیشن، جبکہ کلثوم حیدر اور ذوبیہ احمد (اے ایم یو گرلز اسکول) نے 493 نمبروں کے ساتھ مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ان کے علاوہ عرشیہ خان (اے ایم یو گرلز اسکول) اور سچن رانا (ایس ٹی ایس اسکول) مشترکہ طور پر 492 نمبر وں کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے، جب کہ پاکھی آریہ اور شیخ صفوہ نعمانی (اے ایم یو گرلز اسکول) نے 491 نمبرات کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ اس سال میرٹ فہرست میں طالبات کی نمایاں برتری دیکھنے میں آئی۔

وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی محنت اور شاندار کارکردگی کو سراہا اور ان کے مستقبل کی کامیابیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے بھی طلبہ کو ان کے قابلِ تحسین نتائج، محنت اور استقامت پر مبارکباد پیش کی۔

کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے بتایا کہ اس امتحان میں 1,392 امیدواروں نے شرکت کی، جن میں سے 1,299 طلبہ کامیاب قرار پائے۔

ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن پروفیسر قدسیہ تحسین نے بھی طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور اے ایم یو اسکولوں کے اساتذہ کی محنت اور لگن کو سراہا، جن کی مسلسل رہنمائی اور تعاون سے یہ شاندار تعلیمی نتائج ممکن ہوئے۔

٭٭٭٭٭٭

(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

 

Comments are closed.