زبان، سیاست اور نظام: جموں و کشمیر میں اردو کے گرد جاری بحث، ریونیو اصلاحات یا لسانی سوال؟ جموں و کشمیر میں اردو کا مستقبل
ندیم خان // بارہمولہ کشمیر
رابطہ // 9596571542
جموں و کشمیر میں محکمہ مال کی بھرتیوں میں نئی تبدیلیاں اور اردو کا کردار: پالیسی، روایت اور مستقبل کا توازن
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
جموں و کشمیر میں ایک بظاہر معمولی نوعیت کی انتظامی تبدیلی نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک وسیع تر بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں پالیسی، شناخت، تاریخ اور مستقبل کے تقاضے ایک دوسرے سے جڑتے نظر آتے ہیں۔ محکمہ مال (Revenue Department) کی بھرتی کے قواعد میں مجوزہ ترمیم، جس کے تحت اردو زبان کی لازمی شرط کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اس وقت عوامی رائے کے لیے کھلی ہے۔ اس عمل نے مختلف سیاسی، سماجی اور فکری حلقوں میں سنجیدہ گفتگو کا آغاز کیا ہے، جو دراصل اس خطے کی پیچیدہ لسانی اور انتظامی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ 10 اپریل کو محکمہ مال نے نان گیزیٹڈ پوسٹوں کے لیے نئے بھرتی قواعد کا مسودہ جاری کیا اور 15 دن کے اندر اعتراضات طلب کیے۔ یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں شفافیت اور عوامی شمولیت کو اہمیت دے رہی ہے۔ مجوزہ تبدیلی کا بنیادی مقصد بھرتی کے عمل کو زیادہ جامع اور قابلِ رسائی بنانا بتایا جا رہا ہے، تاکہ مختلف تعلیمی اور لسانی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کو برابر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔حکومت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام محض ایک ابتدائی تجویز ہے اور اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ متعلقہ حکام کے مطابق اردو زبان کی حیثیت بدستور برقرار ہے اور اسے ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یہ ترمیم دراصل انتظامی اصلاحات کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے، جو جموں و کشمیر کی تنظیم نو کے بعد پیدا ہونے والے نئے تقاضوں کے مطابق نظام کو ہم آہنگ بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس دوران سیاسی سطح پر بھی بیانات سامنے آئے ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے اردو کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے خطے کی لسانی شناخت، ثقافتی ورثہ اور مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ قرار دیا۔ دوسری جانب حکومت کے نمائندوں نے وضاحت دی کہ اردو کو نہ تو نصاب سے خارج کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ریونیو سروسز سے ہٹانے کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے، بلکہ یہ صرف ایک نوٹیفکیشن ہے جس کے ذریعے عوامی آراء طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کا سرکاری ریکارڈ اور تعلیمی نصاب بڑی حد تک اردو زبان میں ہے، اس لیے اردو کو کسی بھی صورت ختم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اردو خطے کی ایک اہم زبان ہے اور اسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگر ہندی کو بھی تعلیمی اور سرکاری نظام میں شامل رکھتی ہے تو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم اردو کو بھی ساتھ برقرار رکھا جانا چاہیے کیونکہ ایک بڑی آبادی اردو ہی میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو ہندوستان کی ایک اہم زبان ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عمر عبداللہ کی حکومت زبان کے مسئلے پر عوامی جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح اور مثبت مؤقف اپنائے گی۔ جموں و کشمیر اردو فورم سے اس حوالے سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ماضی میں جموں و کشمیر کی سرکاری زبان فارسی تھی، لیکن بعد میں اردو کو ہی سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد محکمہ مال کا مکمل ریکارڈ اردو زبان میں درج کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی بنیاد پر محکمہ مال سے وابستہ تمام عملے کے لیے اردو پڑھنا اور لکھنا لازمی قرار دیا گیا، تاکہ وہ عوام کے مسائل کو آسانی سے سمجھ سکیں اور مؤثر طریقے سے حل کر سکیں۔ ان کے مطابق تحصیلدار اور پٹواری جیسے عہدوں کے لیے اردو کی شرط ختم کرنا دراصل اردو زبان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ فورم کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں محکمہ مال کا بیشتر ریکارڈ آج بھی اردو میں محفوظ ہے اور اسے کسی دوسری زبان، خصوصاً انگریزی میں مکمل طور پر منتقل کرنا ایک طویل اور مشکل عمل ہے جو جلد ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت پر بھروسہ ہے کہ وہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اردو زبان کو لازمی حیثیت برقرار رکھے گی۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں زمین اور ریونیو سے متعلق بیشتر ریکارڈ تاریخی طور پر اردو زبان میں محفوظ ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر اردو کی عملی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ انتظامی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر کے مختلف زبانوں میں منتقل کرنا ممکن ہو رہا ہے۔ اگر تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو اردو کو جموں و کشمیر میں ایک صدی سے زائد عرصے سے سرکاری حیثیت حاصل رہی ہے۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور میں اسے انتظامی زبان کے طور پر اپنایا گیا، جبکہ اس سے قبل فارسی صدیوں تک دفتری زبان کے طور پر رائج رہی۔ فارسی کے اثرات نے اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اردو ایک مضبوط دفتری اور رابطہ زبان کے طور پر ابھری۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو اس خطے کی کسی بڑی مقامی زبان سے براہ راست مماثلت نہیں رکھتی اور نہ ہی یہ اکثریت کی مادری زبان ہے۔ مردم شماری 2011 کے مطابق اس کے مادری بولنے والوں کی شرح بہت کم ہے، اس کے باوجود اردو نے ایک غیر جانبدار اور مشترکہ زبان کے طور پر اپنی جگہ بنائی۔ کشمیری، ڈوگری اور دیگر زبانوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے اردو ایک پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ سماجی سطح پر بھی اردو کو ایک باوقار زبان سمجھا جاتا ہے۔ وادی کشمیر میں مسلمان اور ہندو دونوں اسے وقار اور تہذیب کی زبان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو اردو سکھانے کو اہم سمجھتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ زبان تعلیم، روزگار اور وسیع تر ہندوستانی نظام سے جڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ 1990 کے بعد پیدا ہونے والی نسل میں بھی اردو کو ایک عملی زبان کے طور پر اپنانے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔لسانی تنوع کے حوالے سے بھی اردو کا کردار منفرد ہے۔ مختلف قبائلی اور ثقافتی گروہ جیسے گوجر، بلتی، درد، مون اور چانگپا اپنی زبانوں کو لکھنے کے لیے اردو کے فارسی و عربی رسم الخط کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح اردو نہ صرف ایک رابطہ زبان ہے بلکہ ایک تحریری ذریعہ بھی ہے جو مختلف ثقافتوں کو جوڑنے میں مدد دیتا ہے۔موجودہ بحث میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اگرچہ کچھ حلقے اردو کی شرط ختم ہونے سے ممکنہ انتظامی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن دیگر حلقوں کا ماننا ہے کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور کثیر لسانی رسائی کے نظام اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر اس پورے معاملے کو غیر جانبداری اور سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے انتظامی اور سماجی توازن کا سوال ہے۔ میری رائے میں حکومت کا یہ قدم، اگرچہ بظاہر ایک تکنیکی ترمیم ہے، لیکن اس کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی پالیسی میں تبدیلی کرتے وقت اس کے تاریخی اور عملی پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو کی لازمی شرط ختم کرنے کا مقصد اگر واقعی مواقع کو وسیع کرنا ہے تو یہ ایک مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے اردو کی عملی افادیت متاثر نہ ہو۔ مثال کے طور پر، نئے بھرتی ہونے والے افسران کے لیے اردو کی بنیادی تربیت کو لازمی یا ترجیحی بنایا جا سکتا ہے، تاکہ وہ موجودہ ریکارڈ اور نظام کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل ضرور آگے بڑھایا جانا چاہیے، لیکن یہ ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے مکمل ہونے تک اردو کی اہمیت برقرار رہے گی۔ اس لیے ایک متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جہاں نہ صرف جدید تقاضوں کو پورا کیا جائے بلکہ تاریخی تسلسل کو بھی برقرار رکھا جائے۔جموں و کشمیر جیسے متنوع خطے میں زبان کا مسئلہ ہمیشہ حساس رہا ہے۔ ایسے میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے تاکہ ترقی اور شناخت کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہے۔ محکمہ مال کی بھرتیوں میں مجوزہ تبدیلی بھی اسی توازن کی ایک کڑی ہے، جسے دانشمندی، شفافیت اور مشاورت کے ذریعے بہتر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔
***
Comments are closed.