پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کا پیغام

 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

 

پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج آ چکے ہیں ۔ تمل ناڈو اور کیرالہ کو چھوڑ کر باقی تین ریاستوں مغربی بنگال، آسام اور پڈوچیری کے انتخابی نتائج ویسے ہی آئے جیسے بی جے پی چاہتی تھی ۔ جہاں تک تمل ناڈو کا تعلق ہے، تقریباً چھ دہائیوں بعد ایسا ہوا کہ ڈی ایم کے یا اے آئی اے ڈی ایم کے کے علاوہ کوئی اور پارٹی اقتدار کی دعویدار بنی ہے ۔1967 میں پہلی مرتبہ ڈی ایم کے اقتدار میں آئی تھی۔ پھر 1972 میں ایم جی را چندرن نے اس سے الگ ہو کر اے آئی اے ڈی ایم کے بنائی تھی ۔ 1967 سے 2021تک ڈی ایم کے سات بار اور انا ڈی ایم کے نے پانچ مرتبہ حکومت بنائی ہے ۔ 2026 میں یہ سلسلہ ٹوٹ گیا فلمی اداکار سے سیاستداں بنے چندرشیکھرن جوزف وجے نے اپنی نئی پارٹی ٹی وی کے کے ساتھ بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ وہ خود کو راما سوامی پیریار کی وراثت سے جوڑتے ہیں اور آئین ہند کو اپنی عقیدت کا دستاویز مانتے ہیں ۔ اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ یہاں صرف چہرہ بدلا ہے سیاسی نظریہ نہیں ۔ لیکن اسٹالن کی طرح وجے بی جے پی اور آر ایس ایس کے سخت مخالف نہیں ہیں ۔ شاید اسی لئے انہیں تمل ناڈو میں ملی کامیابی نے سب کو چونکا دیا ۔ کیرالہ میں بی جے پی کہیں مقابلہ میں نہیں تھی لیکن پھر بھی اسے تین سیٹوں پر کامیابی ملی ہے ۔ حالانکہ 2021اسمبلی انتخاب میں اسے ایک بھی سیٹ پر کامیابی نہیں ملی تھی ۔ یہاں کانگریس اتحاد کو جتانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔ بی جے پی چھوٹی جیت کے ذریعہ اسمبلی میں داخل ہونا چاہتی تھی تاکہ اپنا دائرہ بڑھا سکے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات بی جے پی آسام اور بنگال کی طرز پر ہی لڑے گی اور نتائج اس کی خواہش کے مطابق آئیں گے۔

 

2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ہریانہ اور مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے عام لوگوں کو چونکا دیا تھا ، کیونکہ ان دونوں ریاستوں میں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن چند ہی مہینوں بعد وہاں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کی۔ اس کے بعد 2025 میں دہلی اور بہار کے اسمبلی انتخابات بھی اس نے آسانی سے جیت لیے۔دراصل 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی کا 400 نشستیں جیتنے کا خواب ٹوٹ کر 240 پر رک جانے کے بعد، مودی اور امیت شاہ اس نتیجے سے مایوس ہو کر خاموش نہیں بیٹھے ۔ وہ اپنی حاصل کردہ 240 نشستوں کی حقیقت سے بھی بخوبی واقف تھے۔ انہیں احساس تھا کہ ان میں سے 70 سے زیادہ نشستیں ایسی تھیں جو الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل میں شامل وفادار انتظامی افسران کی چالاکیوں سے حاصل ہوئیں۔جس کے ثبوت راہل گاندھی نے میڈیا کے سامنے پیش کئے تھے لیکن انڈیا اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں نے اس پر توجہ نہیں دی ۔ 2024 کے پارلیمانی انتخاب میں خود مودی بھی وارانسی سے بمشکل جیت پائے تھے۔ 2019 میں وہ تقریباً پانچ لاکھ ووٹوں سے جیتے تھے، لیکن 2024 میں ان کی جیت کا فرق صرف ڈیڑھ لاکھ ووٹ رہ گیا۔

 

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مودی اور شاہ نے چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کے سہارے تیسری بار حکومت بنانے کے بعد یہ یقینی بنانے کی کوشش شروع کی کہ آئندہ لوک سبھا یا کسی بھی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں ایسا نتیجہ دوبارہ نہ آئے۔ الیکشن کمیشن، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سی بی آئی، کارپوریٹ میڈیا سمیت پورے نظام کو اقتدار کا حامی بنایا گیا یہاں تک کہ 2024 کے بعد عدلیہ بھی اس نظام کا حصہ بن گئی۔ انتخابات جیتنے کے لیے ایک کثیر جہتی منصوبہ بنایا گیا، جس کے تحت انتخابات سے پہلے عوامی فلاحی اسکیموں کے نام پر خواتین، نوجوانوں اور بزرگوں کے کھاتوں میں نقد رقم منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا، اور یہ عمل انتخابی مدت میں بھی جاری رکھا گیا۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے باوجود الیکشن کمیشن اور عدلیہ نے اس پر روک لگانے سے انکار کیا۔ جس سے یہ یقینی ہو گیا ہے کہ بی جے پی کسی بھی ریاست میں صرف وہاں ہارے گی جہاں وہ خود ہارنا چاہے گی۔جہاں بی جے پی اقتدار میں نہیں تھی، وہاں بھی اس نے ایسی اسکیمیں شروع کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ حکمت عملی ہریانہ اور مہاراشٹر کے بعد دہلی اور بہار میں بھی کامیاب رہی، اگرچہ دہلی میں ابھی تک ایسی کسی اسکیم پر عمل نہیں ہوا ہے۔

 

نقد رقم کی منتقلی کے علاوہ، جیت کو یقینی بنانے کے لیے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے نام پر ایک نئی اسکیم بھی شروع کی گئی، جس کا آغاز دہلی سے ہوا اور بعد میں بہار میں بھی نافذ کیا گیا۔ دونوں ریاستوں میں اس کے تحت من مانے طریقے سے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے، جس سے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو آسانی سے جیت حاصل ہو گئی۔دہلی اور بہار کے بعد اس طریقہ کار کو دیگر ریاستوں میں بھی نافذ کیا گیا، جہاں90 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے۔ مغربی بنگال میں تمام دستاویز ہونے کے باوجود معمولی اسپیلنگ یا ٹائپنگ مسٹیک کی وجہ سے 32 لاکھ لوگوں کو ووٹ دینے سے روک دیا گیا جس میں 65 ایسے مسلم سرکاری ملازمین کے نام بھی ہٹا دیئے گئے جو الیکشن ڈیوٹی میں لگے ہوئے تھے ۔اس سے اوسطً ہر سیٹ پر 17ہزار ووٹ کم ہو گئے ۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا عدلیہ نے کوئی فیصلہ دینے کے بجائے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اب الیکشن میں وقت کم رہ گیا ہے یہ لوگ اگلی مرتبہ ووٹ دے دیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں اور بی جے پی حامی افسران کی بڑے پیمانے پر تعیناتی بھی کی گئی ۔ جیہوں نے غیر بی جے پی ووٹروں کو ووٹ دینے سے روکنے کا کام کیا جس سے بی جے پی کو فائدہ ہوا ۔پہلی مرتبہ اس طرح کی شکایت رامپور کے ضمنی انتخاب میں سامنے آئی تھی لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔

 

یہ صحیح ہے کہ بنگال میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والی ممتا بنرجی کو عوامی ناراضگی کا سامنا تھا، لیکن ووٹر لسٹ کی متنازعہ تبدیلیوں نے ان کی پارٹی کے لیے مقابلہ مزید مشکل بنا دیا۔ ممتا بنرجی یہ اندازہ لگانے میں بھی ناکام رہیں کہ بنگال کی عزت ، بنگالی اور غیر بنگالی کا نریٹو بی جے پی کو روکنے میں کامیاب ہوگا ۔ آسام میں اس طرح کی سوچ ایک دہائی پہلے ہی غلط ثابت ہو چکی ہے آسام میں بی جے پی نے مسلسل تیسری بار جیت حاصل کی اور زیادہ اکثریت سے حکومت میں واپس آئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں اپنائی گئی حکمت عملی وہاں کامیاب رہی۔ اس کے علاوہ ریاست ہوئی متنازعہ سیٹوں کی حلقہ بندی کا فائدہ بھی بی جے پی کو ملا ہے ۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہئے ان میں سے آسام ،بنگال اور کیرالہ میں مسلمان قابل ذکر تعداد میں رہتے ہیں ۔ بنگال کی 142 مسلم آبادی والی سیٹوں میں سے 72 بی جے پی ،64 ٹی ایم سی اور 2 کانگریس نے جیتی ہیں ۔ وہیں آسام کی 22 مسلم اکثریت والی سیٹوں میں سے 18 کانگریس اور دو اے آئی یو ڈی ایف کو ملی ہیں ۔ اسی طرح کیرالہ میں 44 مسلم اکثریتی سیٹوں میں سے 21 انڈین نیشنل مسلم لیگ اور 14 پر کانگریس کو کامیابی ملی ہے ۔ تمل ناڈو میں بھی مسلمانوں نے ڈی ایم کے اور وجے کی پارٹی کو ووٹ دیا ہے ۔ ان اعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ بنگال میں مسلمانوں نے ٹی ایم سی کے ساتھ بی جے پی کو بھی ووٹ دیا ہے ۔ وہیں آسام اور بنگال میں کانگریس کے جیتے ہوئے 21 ممبران اسمبلی میں سے 20 مسلمان ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ گوگوئی جو اپر آسام سے آتے ہیں وہ اپنے علاقے میں بھی کانگریس کو کوئی کامیابی نہیں دلا پائے ۔ ان نتائج نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ کوئی بھی پارٹی مسلمانوں کو نظر انداز کرکے کامیاب نہیں ہو سکتی ۔

 

بہر حال بنگال ، آسام میں بی جے پی نے جن ہتھکنڈوں کو اپنا کر من چاہے نتائج حاصل کئے ہیں ان کی آڑ لے کر اپوزیشن جماعتوں کو عوام سے دور رہ کر سیاست کرنے کی اپنی کمزوری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ ان کا مقابلہ ایک ایسی مضبوط انتخابی مشینری سے ہے جو جیت کے لیے کسی اخلاقی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتی۔ اگلے سال اتر پردیش، گجرات، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا، منی پور اور ہماچل پردیش میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ۔ ان ریاستوں میں بھی بی جے پی آسام اور بنگال کی طرز پر ہی الیکشن لڑے گی ۔ اب اپوزیشن کو طے کرنا ہے کہ وہ بی جے پی کا مقابلہ کیسے کرے گی؟اگر حزب اختلاف کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو نہ ان کا وجود بچے گا اور نہ جمہوریت ۔

Comments are closed.