مستقل ملازمین کی ہڑتال سے جالے بلاک و انچل کا نظام متاثر،ریونیو ملازمین کے بعد پنچایت سکریٹری بھی ہڑتال پر، معاہداتی ملازمین کے سہارے چل رہا ہے دفتری کام

جالے:(محمد رفیع ساگر/بی این ایس)
بلاک و انچل دفتر میں مستقل ملازمین کی ہڑتال کے سبب سرکاری کام کاج بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ راجسو ملازمین کے بعد اب پنچایت سکریٹریوں کے بھی ہڑتال پر چلے جانے سے علاقائی سطح پر بیشتر انتظامی سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہو گئی ہیں۔
قائم مقام بی ڈی او منوج کمار نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں آواس اسسٹنٹ، صفائی ملازم، پنچایت کلرک، کسان صلاح کار اور پی آر ایس جیسے معاہداتی ملازمین کے سہارے ہی دفتری کام چلایا جا رہا ہے اور انہی کے ذریعے مختلف منصوبوں اور سرکاری ذمہ داریوں کو کسی طرح انجام دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ راجسو ملازمین کے ہڑتال پر جانے کے بعد سی او اور آر او کی اضافی ذمہ داری بھی قائم مقام بی ڈی او کو سونپی گئی تھی، جبکہ پنچایت سکریٹریوں کو پنچایتی راج کے ساتھ ساتھ راجسوا سے متعلق کاموں کی بھی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اب پنچایت سکریٹریوں کے بھی ہڑتال پر چلے جانے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
انچل میں اس وقت صرف پانچ انچل امین خدمات انجام دے رہے ہیں، جن کے پاس زمین کی پیمائش سے متعلق بڑی تعداد میں درخواستیں زیر التوا ہیں اور آئندہ تقریباً پندرہ دنوں تک کا کام پہلے سے طے ہو چکا ہے۔ ادھر محکمہ زراعت میں بھی عملے کی شدید کمی پائی جا رہی ہے۔ بی اے او پریم ناتھ سنگھ کے مطابق تیرہ کی جگہ صرف سات زرعی کوآرڈینیٹر کام کر رہے ہیں، جبکہ کسان صلاح کار بھی اکیس کے بجائے محض چودہ ہی ہیں۔
منریگا پی او رجنیش کمار نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں منریگا کے کام اپنے عروج پر ہوتے ہیں، لیکن 21 پنچایتوں کے لیے اکیس پی آر ایس کی جگہ صرف تیرہ ہی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ جے ای بھی سنگھواڑہ سے ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر مستقل ملازمین کی ہڑتال اور عملے کی کمی کے باعث بلاک اور انچل کی انتظامی مشینری شدید دباؤ میں ہے، جس کے نتیجے میں عام لوگوں کے کاموں میں تاخیر ہو رہی ہے۔

Comments are closed.