امریکہ کے جیت کے دعوے حقیقت، فریب اور بدلتی عالمی سیاست!
(حافظ)افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
عالمی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب طاقت و بیانیہ اور حقیقت تینوں ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ جنگیں صرف میدانِ کارزارِ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ الفاظ دعووں اور تاثر کی دنیا میں بھی ان کا ایک الگ محاذ قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اصل کامیابی اور ظاہری فتح کے درمیان فرق واضح ہونا شروع ہوتا ہے۔ حالیہ ایران و امریکہ کشیدگی اور اس کے بعد ہونے والی عارضی جنگ بندی بھی اسی نوعیت کا ایک اہم موڑ ہے جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی سیاسی حرکیات کو متاثر کیا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ کا دو ہفتوں کث لئے رک جانا بظاہر ایک وقتی سکون کا پیغام لے کر آیا ہے۔ دنیا بھر میں جو اضطراب و بے چینی اور خدشات کی فضا قائم ہو چکی تھی اس میں قدرے کمی ضرور آئی ہے۔ لوگ سکھ کا سانس لے رہے ہیں، عالمی منڈیوں میں بھی کسی حد تک استحکام کی جھلک دکھائی دینے لگی ہے اور سفارتی حلقوں میں امید کی ایک ہلکی سی کرن نمودار ہوئی ہے۔ تاہم اس سکون کے پس منظر میں ایک گہری بے یقینی بھی موجود ہے کیونکہ خطے میں موجود بعض قوتیں اس جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل ہوتے دیکھنے کیلئے تیار نہیں۔ خصوصاً اسرائیل کی جانب سے مسلسل جارحانہ کارروائیاں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ جنگ ایران و امریکہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لبنان پر حالیہ حملے اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ امن کی راہ ابھی ہموار نہیں ہوئی۔ ایسے حالات میں دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک نازک پل کی مانند ہے جس کے نیچے کشیدگی کا دریا پوری شدت سے بہہ رہا ہے۔ اس جنگ بندی کو جہاں ایک طرف سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب اس کے مختلف معانی بھی اخذ کیے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ایک بڑی تعداد اسے ایران کی استقامت اور مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایران نے جس جرات و حوصلے کے ساتھ ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کیا اس نے نہ صرف اپنے حامیوں بلکہ غیر جانبدار مبصرین کو بھی متاثر کیا ہے۔ محدود وسائل، اقتصادی پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایران کا ڈٹے رہنا ایک ایسا عنصر ہے جس نے اس جنگ کے بیانیے کو یکسر تبدیل کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایران نے خود اپنی فتح کا باضابطہ اعلان نہیں کیا مگر دنیا کے مختلف خطوں میں اس کی مزاحمت کو ایک علامتی کامیابی کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ نے روایتی انداز اپناتے ہوئے اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ لیکن جب ان دعوؤں کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ امریکہ نے اس جنگ کا آغاز جن اہداف کے تحت کیا تھا ان میں سب سے نمایاں ایران میں سیاسی تبدیلی، عسکری طاقت کو کمزور کرنا اور جوہری پروگرام کو محدود کرنا شامل تھا۔ مگر جنگ بندی کے اس مرحلے پر ان میں سے کوئی بھی مقصد مکمل طور پر حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کا سیاسی نظام بدستور قائم ہے اس کی عسکری قوت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس نے اپنی دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کیا اور اس کا جوہری موقف بھی اپنی جگہ پر قائم ہے۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ امریکی قیادت کا رویہ۔ اس جنگ کے دوران امریکی صدر کے بیانات میں تضاد اور غیر یقینی کی کیفیت نمایاں رہی۔ کبھی سخت لہجہ اختیار کیا گیا تو کبھی مذاکرات کی بات کی گئی اور کبھی مکمل فتح کا اعلان کیا گیا۔ یہ طرزِ عمل ایک ایسی قیادت کی عکاسی کرتا ہے جو خود بھی اس جنگ کے نتائج کے بارے میں واضح نہیں تھی۔ ایران کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس جنگ نے ایک نظریاتی پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ایران نے بارہا یہ پیغام دیا کہ اس کی طاقت کسی ایک شخصیت یا قیادت تک محدود نہیں بلکہ ایک نظریہ اور مزاحمتی فکر پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانے کے باوجود اس کے نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کے برعکس اس واقعہ نے اس کے نظریاتی بیانیے کو مزید مضبوط کیا اور عالمی سطح پر اس کی شناخت کو ایک مزاحمتی قوت کے طور پر مستحکم کیا۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ اس پوری صورتحال میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ عالمی تجارت کی ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے اور اس پر کنٹرول ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی ترجیح رہا ہے۔ جنگ سے قبل اس راستے پر معمول کی آمد و رفت جاری تھی مگر کشیدگی کے بعد ایران کی اس پر گرفت کا تصور بھی عالمی معیشت کے لئے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا۔ یہ پہلو امریکہ کے لئے ایک سفارتی اور تزویراتی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ اس اہم گزرگاہ کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے میں ناکام رہا۔ مجموعی طور پر اگر اس جنگ اور اس کے بعد کی صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ایک عسکری تصادم نہیں تھا بلکہ ایک بیانیہ جاتی جنگ بھی تھی۔ ایک طرف امریکہ اپنی روایتی برتری اور طاقت کے اظہار کے ذریعے کامیابی کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایران اپنی استقامت و خودمختاری اور مزاحمت کے ذریعے ایک مختلف قسم کی کامیابی کی داستان رقم کر رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کے نتائج ہمیشہ فوری طور پر واضح نہیں ہوتے۔ بعض اوقات اصل اثرات برسوں بعد سامنے آتے ہیں، جب بیانیے، اتحاد اور عالمی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہوتی ہیں۔ موجودہ صورتحال بھی اسی نوعیت کی ہے جہاں وقتی دعوے اپنی جگہ مگر حقیقت کا فیصلہ وقت خود کرے گا۔ اس پس منظر میں یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا واقعی امریکہ اس جنگ میں فاتح رہا یا یہ ایک سیاسی بیانیہ ہے جس کے ذریعے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایران کی مزاحمت کیا واقعی ایک دیرپا کامیابی میں تبدیل ہو پائے گی یا نہیں۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس جنگ نے عالمی طاقت کے توازن، سفارتی حکمت عملیوں اور مزاحمت کی نئی تعریفیں متعین کر دی ہیں اور یہی اس پورے قضیے کا سب سے اہم پہلو ہے۔ کیوں کہ جنگ خواہ کسی بھی جواز کے ساتھ لڑی جائے خواہ اسے دفاع کا نام دیا جائے یا برتری کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے اپنے نتائج کے اعتبار سے کبھی بھی مکمل طور پر مثبت ثابت نہیں ہوتی۔ تاریخ کے ہر دور، خطے اور ہر بڑی طاقت کے تجربے میں یہ بات یکساں طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ جنگ کے ابتدائی نعروں اور دعوؤں کے برعکس اس کا اختتام اکثر بے یقینی و انتشار اور نقصان پر ہوتا ہے۔ یہ ایک تلخ مگر سچائی پر مبنی حقیقت ہے کہ جنگ کا آغاز ہمیشہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ نقشے بنائے جاتے ہیں، حکمتِ عملیاں ترتیب دی جاتی ہیں اور کامیابی کے امکانات کا حساب لگایا جاتا ہے لیکن جب یہی جنگ عملی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کا نظم و نسق اکثر ان منصوبوں سے نکل کر ایک ایسی بے قابو حقیقت میں ڈھل جاتا ہے جس پر کسی کا مکمل اختیار باقی نہیں رہتا۔ میدانِ جنگ میں صرف فوجیں نہیں لڑتیں بلکہ حالات و جذبات، ردعمل اور غیر متوقع عوامل بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور یہی عناصر جنگ کو ایک غیر یقینی اور خطرناک رخ دے دیتے ہیں۔ ایران و امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی جنگ بندی نے بھی اسی حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کیا کہ بڑی سے بڑی طاقت بھی جنگ کے نتائج کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتی۔ چند دنوں یا ہفتوں کی اس کشمکش نے یہ واضح کر دیا کہ ایک محدود تنازع بھی کس طرح پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ معیشتوں کا توازن بگڑ جاتا ہے، توانائی کے ذرائع غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں اور عالمی سطح پر ایک خوف و اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ وہ عام انسان اٹھاتا ہے جو نہ اس کے فیصلوں میں شامل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے مقاصد سے کوئی براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ایک عام شہری جو اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوتا ہے اچانک ایسے حالات کا شکار ہو جاتا ہے جہاں اس کی جان و مال گھر اس کا مستقبل سب کچھ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ بچے یتیم ہو جاتے ہیں، مائیں اپنے لختِ جگر کھو دیتی ہیں اور خاندان ہمیشہ کے لئے بکھر جاتے ہیں جس کا کوئی ازالہ ممکن نہیں اور یہی وہ حقیقت ہے جو جنگ کے ہر دعوے کو بے معنیٰ بنا دیتی ہے۔ مزید برآں جنگ صرف جسمانی تباہی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات نفسیاتی اور اخلاقی سطح پر بھی گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔ ایک معاشرہ جو مسلسل خوف عدم تحفظ اور تشدد کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے اس کی اقدار بھی متاثر ہوتی ہیں۔ برداشت مکالمہ اور رواداری جیسے عناصر کمزور پڑنے لگتے ہیں اور ان کی جگہ نفرت و انتقام اور شدت پسندی لے لیتی ہے۔ اس طرح جنگ نہ صرف حال کو تباہ کرتی ہے بلکہ مستقبل کو بھی غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ کا دائرہ کبھی محدود نہیں رہتا۔ ایک چنگاری جو بظاہر ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوتی ہے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے شعلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں ممالک ایک دوسرے سے معاشی و سیاسی اور تزویراتی طور پر جڑے ہوئے ہیں کسی بھی تنازع کے اثرات سرحدوں سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے۔ ان تمام حقائق کے پیشِ نظر یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ یہ وقتی طور پر کسی ایک فریق کو برتری کا احساس تو دلا سکتی ہے مگر دیرپا استحکام اور امن فراہم نہیں کر سکتی۔ اصل کامیابی اس میں نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے بلکہ اس میں ہے کہ کون زیادہ دانشمند، صبر و تحمل کا مظاہرہ اور اختلافات کو بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج کی مہذب دنیا میں جہاں علم و شعور اور رابطے کے ذرائع بے حد ترقی کر چکے ہیں یہ امید کی جاتی ہے کہ اقوام جنگ کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں گی۔ اختلاف رائے فطری امر ہے مگر اسے تصادم میں بدل دینا دانشمندی نہیں بلکہ کمزوری کی علامت ہے۔ طاقت کا اصل امتحان میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ وہ امن کو برقرار رکھ سکے اور تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کر سکے۔ لہٰذا! جنگ نہ تو کسی قوم کے لئے حقیقی کامیابی لاتی ہے اور نہ ہی دنیا کے لئے پائیدار امن بلکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو بظاہر طاقت کا اظہار معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت کمزوریوں، غلط فیصلوں اور غیر دانشمندانہ حکمتِ عملیوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تاریخ کے اس سبق کو سنجیدگی سے لیا جائے اور آنے والے وقت میں ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے جو انسانیت کو ایک بار پھر اسی اندھیری راہ پر لے جائیں۔ آخرکار انسانیت کی بقا و امن کا قیام اور آنے والی نسلوں کا محفوظ مستقبل اسی بات میں مضمر ہے کہ جنگ کو نہیں بلکہ امن کو ترجیح دی جائے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر باشعور ذہن کو اپنانا چاہیے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک بہتر اور مستحکم دنیا کی ضمانت بن سکتا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
Comments are closed.