مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
پریس ریلیز
 اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے زیر اہتمام ’ادبی تنقید بطور ادب‘ موضوع پر چندرہاس چودھری کا لیکچر
علی گڑھ، 12 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی نے ”ادبی تنقید بطور ادب“ کے موضوع پر فیکلٹی آف آرٹس میں مصنف، مدیر اور سمر انسٹی ٹیوٹ، آئیووا، امریکہ کے سابق مینٹور مسٹر چندرہاس چودھری کے توسیعی خطبہ کا اہتمام کیا۔
مسٹر چودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادبی تنقید خود بھی ادب کی ایک صورت سمجھی جا سکتی ہے۔ ان کا مرکزی مؤقف یہ تھا کہ دیگر اقسامِ تنقید کے برعکس، ادبی تنقید اسی وسیلے یعنی زبان میں کام کرتی ہے جس میں ادب تخلیق ہوتا ہے۔ یہی انفرادیت تنقید کو ادب کی ایک ذیلی صنف بناتی ہے، جو تصویریت، حسیّت، اختصارِ بلیغ، اور مابعد الطبیعیاتی غور و فکر سے بھرپور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تنقید کسی ادبی تخلیق کو وسیع تر ادبی روایت میں رکھتی ہے تو وہ خود بھی جذبہ اور ’رس بھاؤ‘ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
لیکچر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ادبی تنقید محض ایک ذہنی مشق نہیں بلکہ تخلیقی معنوں میں ادب کو اپنانے کا عمل ہے۔ مسٹر چودھری نے معروف ادیبوں جیسے جارج لوئیس بورخیس، رابندر ناتھ ٹیگور اور ورجینیا وولف کا حوالہ دیا اور جان ملٹن کی شاعری کی باریک بینی سے قرأت کے ذریعے یہ واضح کیا کہ مطالعہ خود بیک وقت ادب اور تنقید دونوں کو جنم دیتا ہے۔ لیکچر کے بعد ایک دلچسپ مباحثہ اور سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی۔
پروگرام کا آغاز شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر شاہینہ ترنم کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے مہمان مقرر کا تعارف کرایا۔
سر سید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے اور مسٹر چودھری کی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی بصیرت کی ستائش کی۔
سر سید ہاؤس میں ایک تعاملی نشست بھی منعقد ہوئی، جہاں طلبہ اور نوجوان مصنفین نے تخلیقی تحریر کے موضوع پر مسٹر چودھری سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے سوالات کے جوابات دیے، مفید مشورے پیش کیے اور طلبہ کی تخلیقات پر اپنی رائے دی۔
آخر میں مسٹر جنید نے اظہارِ تشکر کیا جبکہ مسٹر صائم رضا نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مہمان مقرر کے پرزنٹیشن اور تکنیکی امور کی ذمہ داری مسٹر مجیب الحق نے سنبھالی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ پیٹرولیم اسٹڈیز کے زیر اہتمام تدریس و تحقیق میں مصنوعی ذہانت پر قومی ورکشاپ کا اختتام
علی گڑھ، 12 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیٹرولیم اسٹڈیز کے زیر اہتمام تدریس و تحقیق میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر ایک ہفتہ طویل قومی ورکشاپ نیز فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔ اختتامی تقریب میں تعلیمی اداروں اور ٹکنالوجی کے مستقبل پر بصیرت افروز گفتگو ہوئی، جس میں جدت کو یونیورسٹی کی تاریخی روایت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا جشن منایا گیا۔
اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے ایسے علمی اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حاضرین کو اس نوعیت کے مزید مستقبل بین پروگراموں کے انعقاد کی ترغیب دی۔
مصنوعی ذہانت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے روزگار کے خاتمے کے خدشات کو مسترد کیا اور کمپیوٹر کے ابتدائی دور کی مثال دی، جب ایسے ہی خدشات ظاہر کیے گئے تھے، مگر بعد ازاں اس نے نئے مواقع پیدا کیے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ دور میں خصوصاً نوجوان نسل کے لیے بقا کا انحصار متعلقہ مہارتوں کے حصول پر ہے۔
پروفیسر خان نے مزید کہا کہ حکومتِ ہند کی مختلف ڈیجیٹل اسکیموں کے باوجود بہت سے افراد آگہی اور مہارت کی کمی کے باعث ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ انہوں نے پروجیکٹ پر مبنی تعلیم اور جدت پر مبنی پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔
پروفیسر محسن خان نے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں۔
شعبہ کے چیئرمین مسٹر اشرف متین نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اپنے ابتدائی کلمات میں انہوں نے جدید ٹکنالوجیز کو اپنانے سے متعلق عام خدشات، خصوصاً انسانی صلاحیت اور دیانت کے کھو جانے کے خوف کا ذکر کیا۔ انہوں نے ان خدشات کو دور کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں اور ٹکنالوجی کے بامعنی استعمال سے حاصل ہونے والی غیر معمولی دستیابیوں کو اجاگر کیا۔
انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل (آئی کیو اے سی) کے ڈائریکٹر پروفیسر عابد علی خان نے مضبوط ڈیٹا پلیٹ فارمز کی تشکیل میں اے آئی کی عملی افادیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرنا تعلیمی اداروں کی درجہ بندی اور عالمی مقام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اے ایم یو کے کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے اپنے خطاب میں اساتذہ کے لئے مسلسل سیکھنے اور طلبہ تک جدید علم کی مؤثر ترسیل کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے قبل بنیادی انسانی ذہانت اور اخلاقی بصیرت کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اے ایم یو کے فنانس آفیسر مسٹر نورالسلام نے کلاس روم سے باہر بھی اے آئی کی بڑھتی ہوئی اہمیت، خصوصاً مالیات اور ادارہ جاتی نظم و نسق میں اس کے انقلابی اثرات پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ میں شعبہ کے سابق چیئرمین اور ورکشاپ کے چیئر پروفیسر محمد کامل سمیت دیگر اساتذہ موجود رہے۔
آخر میں مسٹر اشرف متین نے اظہارِ تشکر کیا۔ ورکشاپ میں 200 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ’بقائے باہمی اور عالمی مذاہب‘ پر سیمینار کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا
علی گڑھ، 12 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سنّی دینیات اور ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ (ایچ ایم آئی)، حیدرآباد کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ”بقائے باہمی اور عالمی مذاہب“شعبہ کے سینٹرل ہال میں اختتامی نشست کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔
اختتامی اجلاس کی صدارت پدم شری پروفیسر اخترالواسع (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسلام انسانیت اور باہمی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے مذہبی آزادی سے متعلق قرآن کریم کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایمان مختلف کمیونٹیز کے درمیان بقائے باہمی اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔
مہمانِ خصوصی مولانا کلب راشد رضوی نے کہا کہ ضبطِ نفس اور خواہشات پر قابو پانا پرامن بقائے باہمی کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ اس سے دوسروں کے حقوق کا احترام پیدا ہوتا ہے۔
امارتِ شرعیہ، پٹنہ کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سیمینار کو ایک حساس اور اہم موضوع پر بامعنی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے معاشرے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تعمیری مکالمے اور اصلاحی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
سیمینار کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کنوینر اور سابق ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی، پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے بتایا کہ سیمینار میں کل آٹھ نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں چھ آف لائن اور دو آن لائن سیشن شامل تھے، جبکہ ملک بھر سے آئے شرکاء نے 98 تحقیقی مقالات پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ سیمینار کے مقالات کا ایک مجموعہ شائع کیا جا چکا ہے۔
اپنے خصوصی خطاب میں ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد حبیب اللہ نے کہا کہ اسلام اپنے بنیادی عقائد کو برقرار رکھتے ہوئے رواداری اور باہمی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ شعبہ کے چیئرمین اور سیمینار ڈائریکٹر پروفیسر محمد راشد نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد امن، ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ سماجی رویوں کو فروغ دینا ہے۔
پروگرام میں پروفیسر وحید اللہ قاسمی (ایچ ایم آئی)، ڈاکٹر ونے کمار (جے این یو) اور کے جی پوسنگ لنگ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر شعبہ کی تھیالوجیکل سوسائٹی کی جانب سے شائع ہونے والے جریدے ”الدین“ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔
نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ناصر نے انجام دئے جبکہ ڈاکٹر محمد عاصم خان نے اظہارِ تشکر کیا۔
سیمینار میں یونیورسٹی اور باہر سے بڑی تعداد میں اساتذہ، محققین اور طلبہ نے شرکت کی، جن میں مولانا فضل الرحیم مجددی، پروفیسر عبیداللہ فہد فلاحی، پروفیسر لطیف الرحمن کاظمی، ڈاکٹر شائستہ پروین اور ڈاکٹر حبیب الرحمن شامل تھے۔
سیمینار کے انعقاد میں اسسٹنٹ کنوینر ڈاکٹر ندیم اشرف اور ڈاکٹر ریحان اختر، کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد عاصم خان اور ڈاکٹر محمد ناصر نے اہم کردار ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں بی ایس سی اور بی اے پروگراموں کے داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہوئے
علی گڑھ، 12 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے بیچلر آف سائنس (بی ایس سی)، بی ایس سی ایگریکلچر، بیچلر آف آرٹس (بی اے) اور بی اے فارین لینگویجز کورس میں داخلے کے لیے ملک بھر کے مختلف مراکز پر داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کئے۔
بی ایس سی اور بی ایس سی ایگریکلچر کے لیے صبح کے سیشن میں ہونے والے امتحان میں کل 9,339 درخواست دہندگان میں سے 7,828 امیدوار شریک ہوئے۔ یہ امتحانات علی گڑھ، لکھنؤ، کولکاتا، سری نگر، پٹنہ، کوژی کوڈ، امپھال اور کھاناپارہ (گوہاٹی) سمیت مختلف مراکز پر منعقد ہوئے۔
بی اے اور بی اے فارین لینگویجز پروگراموں کے لیے 6,264 امیدواروں نے درخواست دی تھی، جن کے داخلہ امتحانات دوپہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد ہوئے۔
کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے امتحانات کے پُرامن اور منظم انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام مراکز پر امتحانات خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ سینئر اساتذہ کو مبصرین کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ علی گڑھ سے باہر کے مراکز پر نگراں مقرر کیے گئے تھے تاکہ بہتر تال میل کو یقینی بنایا جا سکے۔ امتحان میں شریک طلبہ اور ان کے والدین کی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی کیمپس میں اہم مقامات پر نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کے خصوصی امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے تھے۔
٭٭٭٭٭٭
 سر ضیاء الدین ہال اور امبیڈکر ہال، اے ایم یو میں جاری انٹر ہال ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں داخل
علی گڑھ، 12 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں جاری انٹر ہال ہاکی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل مرحلے کا اختتام ہو گیا، جس میں سر ضیاء الدین ہال اور امبیڈکر ہال نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنائی۔ یہ مقابلے گیمز کمیٹی کی نگرانی میں منعقد ہوئے اور ان میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شعبہ سول انجینئرنگ کے ہاکی کلب کے صدر پروفیسر محمد مسرور عالم نے شرکت کی۔
پہلے سیمی فائنل میں سر ضیاء الدین ہال نے سخت مقابلے کے بعد سرسید ہال (ساؤتھ) کو 1-0 سے شکست دی، جب کہ دوسرے سیمی فائنل میں امبیڈکر ہال نے یکطرفہ مقابلے میں وی ایم ہال کو 3-0سے ہرایا اور فائنل میں رسائی حاصل کی۔
مسٹر انیس الرحمن خاں (ہاکی کوچ و ڈپٹی ڈائریکٹر، گیمز کمیٹی) اور مسٹر ارشد محمود (اسسٹنٹ ڈائریکٹر) کی نگرانی میں یہ مقابلے منعقد ہوئے۔ ٹورنامنٹ کے آرگنائزنگ سکریٹری ہاکی کلب کے کپتان مسٹر زید خان ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
(دفتر رابطہ عامہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

Comments are closed.